×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

فراخی انتظار میں ہے

مرداد 10, 1393 391

آپ نے انتظار کی فضلیت کے بارے میں بہت کچھ پڑھا اور سنا ہوگا لیکن شاید یہ نکتہ آپ کے لئے تازہ ہو کہ عصر غیبت میں انتظار فَرَج اور بہتری

و فراخی کے لئے چشم براہ رہنا، بذات خود، منتظرین کے لئے فراخی اور بہتری اور نجات و رستگاری کا سبب ہے اسی بنا پر شیعیان آل رسول (ص) کو غیبت کی طوالت سے گلہ و شکایت کرنے کے بجائے اچھا منتظر بننے کی کوشش کرنی چاہئے۔ تا کہ یہی انتظار عصر غیبت میں ان کے لئے فراخی اور بہتری کے اسباب فراہم کرے۔
اس موضوع کی وضاحت کے لئے چند روایات کا جائزہ لیتے ہیں:
ابوبصیر کہتے ہیں: میں نے امام صادق (ع) سے عرض کیا: آپ پر فدا ہوجاؤں، یہ گشائش اور فراخی کب ہوگی؟ فرمایا: "اے ابا بصیر! کیا تم ان لوگوں میں سے ہو جو اہل دنیا ہیں؟ جو بھی اس امر کی معرفت حاصل کرے اپنے انتظار کے بموجب اس کو فراخی اور آسودگی حاصل ہوتی ہے"۔ (1)
حسن بن جہم نے امام رضا (ع) سے پوچھا کہ یہ آسودگی اور کشادگی کب آئے گی؟ تو امام (ع) نے فرمایا: "کیا تم نہیں جانتے کہ اس فراخی اور کشادگی کا انتظار بذات خود فراخی کا جزء ہے؟ حسن بن جہم نے کہا: میں نہیں جانتا مگر یہ کہ آپ مجھے تعلیم دیں! چنانچہ امام (ع) نے فرمایا: ہاں! فراخی کا انتظار بذات خود فراخی میں سے ہے" (2)
اسی بنا پر ہی بہت سی روایات میں تاکید ہوئی ہے کہ حقیقی منتظرین کے لئے فرق نہیں پڑتا کہ وہ ظہور کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں یا نہ دیکھیں کیونکہ وہ عصرت غیبت میں بھی امام زمانہ (عج) کی خدمت میں ہیں؛ جیسا کہ امام صادق (ع) نے فرمایا: "اگر کو اس امر کے انتظار میں ہی دنیا سے رخصت ہوجائے اس شخص کی مانند ہے جو امام زمانہ (عج) کے ساتھ ان کے خیمے میں رہا ہو"۔ (3)
حوالہ جات:
1۔ كلینی، الكافی، ج1، ص371، ح3۔
2۔ شیخ طوسی، كتاب الغیبـة، ص276۔
3۔ بحارالانوار، ج52، ص126، ح18۔
اس سلسلے میں امام رضا (ع) سے ایک روایت اور ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: "کس قدر خوبصورت ہے صبر و انتظارِ فرج کیا تم نے خداوند متعال کا یہ ارشاد نہیں سنا ہے کہ {وَارْتَقِبُواْ إِنِّی مَعَكُمْ رَقِیبٌ} (4) اور {فَانتَظِرُواْ إِنِّی مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِینَ} (5)، پس صبر سے کام لو، فرج و کشادگی ناامیدی کے بعد آئے گی اور تمہارے اسلاف تم سے زیادہ صبر کرنے والے تھے"۔ (6)
امام معصوم (ع) کی غیبت کے زمانے میں امور میں کشادگی کے انتظار کے دیگر اسرار میں سے ایک "اپنے آپ کو ان کے لئے وقف کرنے" سے عبارت ہے۔
یہ بات عبدالحمید الواسطی سے امام محمد باقر (ع) کے ارشاد میں بخوبی قابل ادراک ہے۔ جب عبدالحمید نے دوران انتظار کی طرف اشارہ کیا تو امام (ع) نے فرمایا: اے عبدالحمید! کیا تم گمان کرتے ہو کہ جو شخص اپنے آپ کو خداوند عز و جل کے لئے وقف کرتا ہے خداوند متعال اس کے لئے کوئی کشادگی اور آسودگی قرار نہیں دیتا؟ ہاں! اللہ کی قسم! قطعاً و یقیناً خداوند اس کے لئے فرج و کشادگی قرار دیتا ہے۔ خداوند متعال رحمت نازل فرمائے اس بندے پر جو اپنے آپ کو ہمارے لئے وقف کرے۔ خدا رحمت نازل کرے اس بندے پر جو ہمارے امر کو زندہ رکھے"۔ (7)
اسی روایت کے تسلسل میں عبدالحمید امام باقر (ع) سے پوچھتے ہیں: "اگر میں امام قائم (ع) کا ظہور پانے سے قبل ہی دنیا سے رخصت ہوجاؤں تو کیا ہوگا؟" اور امام (ع) انہیں ایک بشارت اور مجموعی طور پر حقیقی منتظرین کو نوید سناتے ہیں اور فرماتے ہیں: "تم میں سے جو بھی کہے کہ "اگر میں قائم آل محمد (ص) تو ان کی مدد کرتا"، ایسا فرد اس شخص کی مانند ہے جو تلوار اٹھا کر امام (عج) کے سامنے ان کے دشمنوں سے لڑے، بلکہ (اس سے بھی بالاتر) اس شخص کی طرح ہے جو امام (عج) کے رکاب میں جام شہادت نوش کرے"۔ (8)
حوالہ جات:
1۔ كلینی، الكافی، ج1، ص371، ح3۔
2۔ شیخ طوسی، كتاب الغیبـة، ص276۔
3۔ بحارالانوار، ج52، ص126، ح18۔
4۔ سورة هود (11)، آیة 93۔ ترجمہ: تو پھر انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔
5۔ سورة اعراف (7)، آیة 71۔ ترجمہ: اور انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔
6۔ بحارالانوار، ج 52، ص129۔
7۔ صدوق، كمالالدّین و تمام النعمة، باب 55، ح2
8۔ وہی ماخذ۔
منبع: ماهنامه موعود شماره 104۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments