×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام مہدیؑ کے اصحاب میں صرف 50 خواتین! کیوں؟

مرداد 11, 1393 479

قیام امام مہدی (ع) میں شریک خواتین کی تعداد کے بارے میں واردہ روایات مختلف ہیں:امام محمد باقر سے مروی ہے: "امام عصر (ع) کو مدد

پہنچانے والی خواتین کی تعدد 50 ہے"۔ (1)
رسول اللہ (ص) سے منقولہ روایت کے مطابق "حضرت عیسی نازل ہونگے اور امام (ع) کو مدد پہنچانے والے افراد میں آٹھ سو نیک مرد اور چار سو نیک عورتیں شامل ہیں"۔ (2) اور امام صادق (ع) سے منقولہ روایت میں ان خواتین کی تعداد تیرہ ہے۔ (3)، تاہم روایات میں اختلاف کے باعث صحیح تعداد بیان کرنا ممکن نہیں ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا امام مہدی (ع) کی تحریک میں شریک خواتین کی تعداد کی قلت کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اسلام میں بھی عورت کو امتیازی نگاہ سے دیکھا گیا ہے؟
مسئلہ قیام میں خواتین کا کردار
قیام و انقلاب امام زمانہ (عج) کے لحاظ سے، عورت کو اسلام ہی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسلام انسانیت کے لحاظ سے مرد اور عورت کے درمیان فرق کا قائل نہیں ہے اور اس حوالے سے دونوں کے لئے یکسان حقوق کا قائل ہے۔
بہرصورت مرد اور عورت کے فرائض، اور حقوق ان کی فطرت و جبلتوں کے اختلاف کی بنا پر مختلف ہیں تاہم یہ اختلاف بھی مرد کی طرح، معنوی کمال کے حصول کی راہ میں، عورت کے سامنے رکاوٹ نہیں بنتا جس طرح کہ صدر اول میں بھی خواتین نے مردوں کے دوش بدوش شرک و نفاق کے خلاف جہاد میں حصہ لیا اور کئی خواتین اس راہ میں شہید بھی ہوئیں تاہم چونکہ جنگ کی سخت اور تشدد آمیز فطرت کے باعث خواتین زخمیوں کی تیمارداری اور علاج معالجے میں مصروف ہوتی تھیں۔
حوالہ جات:
1۔ الغیبة، محمد بن ابراهیم فعحانی، ص 279، كتابفروشی صدوق، 360 هـ۔ق و نیر تفسیر عیاشی، ج 1، ص 84، موسسه الاعلمی للمطبوعات، بیروت، 1411 هـ۔ق۔
2۔ فردوس الاخبار، ابوشباع شیرویه، ج 5، ص 515، دارالكتب العلمیه، بیروت و كنزالعمّال، متقی هندی، ج 14، ص 338، موسسه الرساله، بیروت، 975 هـ۔ق۔
3۔ دلائل الامامه، ابوجعفر محمد بن جریر بن رستم طبری، ص 259، كتابفروشی رضی، قم و اثبات الهداة، محمد بن حسن حر عاملی، ج 3، ص 75، چاپخانه علمیه، قم، 1104 هـ۔ق۔
امام زمان (‏عج) کا انقلاب بھی ایک جہادی انقلاب ہے حتی کہ بعض احادیث میں امام (عج) کی سپاہ کو "سپاہ غضب" کا نام دیا گیا ہے۔ (4)، چنانچہ اس انقلاب میں بھی خواتین کا کردار ایک وسیع کردار نہیں ہوسکتا۔
یہ دشوار حالات نہ صرف خواتین کے کردار نیز ان کی ذمہ داریوں کو محدود کرتے ہیں۔ اسی بنا پر امام صادق علیہ السلام نے وضاحت فرمائی ہے کہ اس قیام و انقلاب میں خواتین کا کردار علاج معالجے اور تیمار داری تک محدود ہے"۔ (5)
یہی احتمال معدودے چند خواتین کی تعداد کے حوالے سے بھی دیا جاسکتا ہے جو امام (عج) کے اصحاب کے عنوان سے کردار ادا کریں گی؛ شاید یہ خواتین ماضی کی پاکیزہ اور بزرگ خواتین ہوں جن میں سے بعض کے نام بھی حدیث میں ذکر ہوئے ہیں؛ (6) جن میں یزیدی والی ابن زیاد کے ہاتھوں شہادت پانے والے جناب رشید ہجری کی بیٹی "قنواء"، رسول اللہ (ص) کی خادمہ "ام ایمن"، امام حسن کی صحابیہ "حبابہ والبیہ"، جناب شہید عمار یاسر کی شہیدہ والدہ "سمیہ"، "زبیدہ"، "ام خالد الاحمسیہ"، "ام سعید الحنفیہ"، "صبانہ الماشطہ" اور "ام خالد الجہنیہ" کے نام پر تصریح ہوئی ہے۔ (7)
حدیث:
امام صادق (ع) اپنے آباء و اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ امیر المومنین (ع) نے فرمایا:
{المنتظر لامرنا كالمتشحط بدمه فی سبیل الله}۔ (8)
"ہمارے امر و حکومت کا منتظر اس شخص کی مانند ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرکے اپنے خون میں تڑپا ہو"۔
حوالہ جات:
4۔ غیبة نعمانی، باب 20۔
5۔ ر۔ك۔ دلائل الامامه، ص 259 و اثبات الهداة، ج 3، ص 75۔
6۔ وہی ماخذ۔
7۔ معجم أحادیث الامام المهدی (ع) ـ الشیخ علی الكورانی العاملی ج 4 ص 14۔
8۔ شیخ صدوق، كمال الدین وتمام النعمة، ص 645، موسسة النشر الاسلامی (التابعة) لجامعة المدرسین بقم المشرفة۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

Login to post comments