×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قبور سے تبرک کے بارے میں سنی علماء کی آراء

مرداد 11, 1393 473

یہاں یہ سوال پیش آسکتا ہے کہ کیا تبرک جوئی کی سنت جو رسول اللہ (ص) کے صحابہ کی سیرت میں واضح طور پر جاری تھی، اہل سنت

کے علماء کے نزدیک بھی قابل قبول ہے یا نہیں؟ کیا علمائے اہل سنت نے اس سنت کی حدود میں رائے بھی دی ہے یا پھر صحابہ کی روش کو ہی صحیح سمجھتے ہیں اور ان ہی کے عمل کی حدود میں اس سنت کے قائل ہیں؟ ا
ان سوالات کے جواب میں کہنا چاہئے کہ: اس سنت کو رد کرنے اور تبرک و توسل کے خلاف لڑنے والے وہابیوں کے سوا اہل سنت کے چار فقہی پیشواؤں اور اسلامی مذاہب کے کسی بھی عالم نے نہ صرف اس سنت کی مخالفت نہیں کی ہے بلکہ اپنے فعل و قول اور تحریروں میں اس سنت کی تائید کرتے آئے ہیں؛ ذیل میں چند نمونے ملاحظہ ہوں:
1۔ حنابلہ کے امام احمد بن حنبل کے بیٹے عبداللہ کا کہنا ہے: میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ رسول اللہ (ص) کے منبر کو مسّ کرنا یا تبرک (برکت کے حصول) کی نیت سے اس کو مس کرنے، اور اس کو چومنے اور قبر شریف کو چومنے اور مس کرنے اور اس سے متبرک ہونے یا ثواب کی نیت سے اس کو چومنے کا حکم کیا ہے؟" تو انھوں نے جواب دیا: ان اعمال میں کوئی حرج نہیں ہے"۔ (1)
2۔ رملی شافعی کہتے ہیں: "قبر نبی (ص) یا علماء اور اولیاء کی قبور سے سے تبرّک جائز ہے اور ان کو چومنے میں کوئی حرج نہیں ہے"۔ (2)
3۔ محب الدین طبری شافعی کہتے ہیں: "قبر کو چومنا اور اس پر ہاتھ رکھنا جائز ہے اور علماء اور صالحین کی سیرت اور عمل اسی سنت پر استوار ہے"۔ (3)
حوالہ جات:
1۔ الجامع فی العلل و معرفة الرجال، ج2، ص32۔
2۔ کنز المطالب، ص219 مناقب خوارزمى، ص 252۔
3۔ وفاء الوفا، ج1، ص69۔
4۔ تاریخی لحاظ سے ثابت ہے کہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور حمزہ سیدالشہداء (ع) ہی کی قبور سے نہیں بلکہ پورے شہر مدینہ سے تبرک کی نیت سے مٹی اٹھاتے تھے اور روایات میں بھی ہے کہ مدینہ کی خاک ہر درد کی دوا اور ہر بیماری کی شفا ہے اور جذام (کوڑھ) اور صداع (درد سر) سے حفاظت کا سبب ہے۔ (1)
رسول اللہ (ص) اور آپ (ص) کے صحابہ کی قبور سے تبرک کے سلسلے میں مسلمانوں کی سیرت کے علاوہ، تبرک اور حصول برکت کا مسئلہ ایک سنت اور سیرت متشرعہ کے عنوان سے، نہ صرف رسول اللہ (ص) اور آل رسول (ص) کی قبور سے، موجود رہا ہے بلکہ علماء اور دانشوروں کی قبور سے تبرک کے حوالے سے مسلمانوں کے عمل میں بھی یہ مسئلہ جاری و ساری رہا ہے؛ جیسے:
1۔ سُبکی کہتے ہیں: سمرقند کے عوام نے بخاری کی قبر سے اس قدر خاک اٹھائی کہ قبر ظاہر ہوگئی اور صورت حال یہ تھی کہ لوگوں کو روکنا محال تھا چنانچہ ایک ضریح جیسی چیز اس پر رکھی گئی۔ (2)
3۔ محمد بن مومل ـ جو بخاری اور مسلم کا استاد اور اصطلاحی طور پر شیخ الاسلام بھی تھے ـ اور ابن خزیمہ کے شاگرد تھے، کہتے ہیں: میں اپنے استاد ابن خزیمہ سمیت بعض اساتذہ کے ہمراہ طوس میں علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) کی قبر کی زیارت کے لئے گیا۔ میرے استاد ابن خزیمہ نے بقعہ متبرکہ کے سامنے اس قدر تعظیم و تواضع و خاکساری کا مظاہرہ کیا ہے ہم سب حیرت میں ڈوب گئے۔ (3)
4۔ حنابلہ کے بزرگ عالم ابو علی خلال، کا کہنا ہے: مجھ پر جب بھی کوئی مشکل عارض ہوتی ہے (بغداد کے محلے کاظمیہ میں) حضرت موسی بن جعفر (علیہ السلام) کی قبر سے متوسل ہوجاتا ہوں اور خداوند متعال میری وہ مشکل آسان کردیتا ہے۔ (4)
5۔ محمد بن ادریس شافعی، ابوحنیفہ کی قبر سے اور احمد بن حنبل محمد بن ادریس شافعی کی قبر سے توسل کیا کرتے تھے۔ (5)
6۔ مسلمان ابو ایوب انصاری کی قبر سے متوسل ہوتے تھے اور بارش کی استسقاء (طلب باران) کے لئے ان کی قبر کا سہارا لیتے تھے۔ (6)
حوالہ جات:
1۔ وفاء الوفا، ج1، ص544
2۔ سیر اعلام النبلاء، ج12، ص467
3۔ البدایة و النهایه، ج14، ص136
4۔ تهذیب التهذیب، ج7، ص339
5۔ مناقب ابی حنیفه، ج2، ص199
6۔ مستدرک حاکم، ج3، ص

Login to post comments