×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امیرالمومنین(ع) کی رجعت اور شیطان کی موت

مرداد 11, 1393 747

{قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِی إِلَى یَوْمِ یُبْعَثُونَ * قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِینَ * إِلَى یَومِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ}۔ (1) "اس نے کہا اے میرے مالک! تو پھر مجھے تو مہلت

دیدے اس دن تک کہ جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے * کہا تو مہلت دیئے جانے والوں میں سے ہے * مقررہ وقت والے دن تک"۔
علامہ طباطبائی (رح) لکھتے ہیں: "۔۔۔ مقررہ وقت والا دن وہ دن ہے جب خدا انسانی معاشرے کی اصلاح کرےگا، فساد کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکےگا، اس کے بعد کوئی خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کرےگا اور وہ ابلیس کی عمر کا آخری دن ہے"۔ (2)
امام صادق(ع) نے فرمایا:
"ابلیس نے قیامت تک کی مہلت مانگی لیکن خدا نے مسترد کردی اور فرمایا: تجھے مقررہ وقت والے دن تک مہلت دی گئی"، جب وہ معینہ دن آئےگا، ابلیس ـ اور آدم(ع) سے اس روز تک ـ اس کی پیروی کرنے والے سب ظاہر ہونگے۔۔۔"۔ اور امیرالمومنین(ع) بھی لوٹ کر آئیں گے اور یہ ان کی آخری رجعت ہوگی؛ راوی نے کہا: کیا امیرالمومنین(ع) کئی بار رجعت فرمائیں گے؟ فرمایا: ہاں!۔۔۔ پس جب امیرالمومنین(ع) کی آخری رجعت کا دن آن پہنچےگا اور وہ اپنے اصحاب کے ہمراہ آئیں گے اور شیطان بھی اپنے اصحاب کے ہمراہ آئےگا؛ اور کوفہ کے قریب فرات کے کنارے ان کا آمنا سامنا ہوگا تو ان کے درمیان ایسا کشت وخون ہوگا جو اس سے قبل واقع نہ ہوا ہوگا"۔
امام صادق(ع) نے فرمایا: "گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت امیر(ع) کے اصحاب سو قدم پیچھے آئیں گے حتی کہ ان میں سے بعض کے پاؤں فرات کے پانی میں داخل ہونگے۔ پس آسمان سے بادل کا ایک ٹکڑا اتر آئےگا جو فرشتوں سے بھرا ہوا ہوگا اور رسول اللہ(ص) ـ جن کے ہاتھ میں نور کی تلوار ہوگی ـ بادل سے آگے آگے آئیں گے، شیطان کی نظر آنحضرت(ص) پر پڑےگی، تو پسپا ہوجائےگا اور اس کے اصحاب کہیں گے: اب جو تو کامیاب ہوچکا ہے تو کہاں جارہا ہے؟
شیطان کہےگا: جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں تم نہیں دیکھ رہے ہو، میں جہانوں کے پروردگار سے خوفزدہ ہوں۔
پس رسول اللہ(ص) اس کا تعاقب اس کو آلیں گے اور اپنے ہتھیار سے اس کے دو کندھوں کے درمیان وار کریں گے جس کے بعد وہ اور اس کے تمام اصحاب ہلاک ہونگے۔
اس کے بعد لوگ خدا کی یکتائی پر ایمان لاکر اس کی پرستش کریں گے اور کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک قرار نہیں دیں گے۔ [اس روایت کے مطابق] حضرت امیر(ع) چوالیس ہزار سال حکومت کریں گے؛ پس اس وقت دو سرسبز و شاداب باغ ـ جن کی طرف سورہ رحمن میں اشارہ ہوا ہے (3) کوفہ کے دو اطراف سے ـ ایک دوسرے سے آملیں گے"۔ (4)
..............
1۔ سورہ ص آیت 79 تا 81۔
2۔ المیزان ج 12، ص 168۔
3۔ سورہ رحمن آیت 62۔
4۔ علامہ مجلسی (رح) بحارج 53، ص 42۔ حق الیقین ص 341۔

Login to post comments