×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

کیا ظہور جمعہ کے روز نہ ہوگا؟

مرداد 11, 1393 414

روایت میں ہے کہ صبح و شام منتظَرِ قائم کے منتظر رہو؛ کیا اس حکم کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ظہور جمعہ کے بغیر کسی اور دن کو ہوگا؟

جواب:
حضرت مہدی (عجل اللہ فَرَجَہ الشریف) ذخیرہ الہی اور اللہ کے اسرار حکیمانہ میں سے ہیں۔ ان کی غیبت اور ظہور کے بھی اپنے اسرار ہیں۔ کوئی بھی مفکر غائر ابھی تک ان اسرار کا ادراک نہیں کرسکا ہے اور ان کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوسکا ہے؛ البتہ سب نے اہل بیت (علیہ السلام) کے کلام میں تحقیق کرکے ان اسرار کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور ہم بھی اسی روش سے استفادہ کرکے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں:
1۔ ظہور مہدی (عجل اللہ فَرَجَہ الشریف) کے سلسلے میں واردہ روایات میں قطعی طور پر وقت ظہور کا تعین نہیں ہوا ہے البتہ بعض روایات میں جمعہ کا ذکر ہے اور بعض میں دوسرے ایام کا۔ مثال کے طور پر:
الف۔ امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: "ہمارے اہل بیت (علیہم السلام) کے قائم روزہ جمعہ ظہور و قیام کریں گے"۔ (1)
ب۔ امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: "ہمارے قائم (سلام اللہ علیہ) عاشورا کے دن ـ جو حسین بن علی (علیہ السلام) کا یوم شہادت ہے ـ ظہور کریں گے"۔ (2)
ج۔ امام محمد باقر (علیہ السلام) سے نقل کیا گیا ہے: ہمارے قائم عاشورا کے دن بروز شنبہ ظہور کریں گے"۔  (3)
حوالہ جات:
1۔ شیخ صدوق، خصال، ج 2، ص 394، باب 7، ح 101، بحارالانوار ج 52 ص 279۔
2۔ شیخ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی، كتاب غیبت، ص 150۔
3۔ علامہ محمد باقر مجلسی، بحارالانوار، ج 52، ص 285، موسسه الوفاء، بیروت۔ برهان المتقی: ص 145 ، 6 ح ‍ 14 بحوالہ معجم احادیث المہدی (عج) شیخ علی الکورانی العاملی ج 3 ص 295۔
د۔ بعض روایات میں جمعہ کا ذکر تو ہے لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ امام (عج) نماز عشاء کے بعد مکہ میں ظہور کریں گے۔    (4)
نیز ایک روایت میں ہے کہ امام (عج) نوروز کے دن تین رمضان المبارک کو ظہور فرمائیں گے۔ (5)
دوسری طرف سے شب و روز انتظار کے بارے میں بھی بعض روایات وارد ہوئی ہیں جیسا کہ امام صادق (ع) نے فرمایا:
"صبح و شام ظہور فَرَج کے منتظر رہو"۔ (6)
3۔ دعائے عہد میں التجا کی جاتی ہے:
"بار خدایا! ہم نے اسی روز کی صبح کو اپنے امام کے ساتھ عہد کی تجدید کی ہے اور ہر روز ـ جو ہم اس کے بعد جیئیں گے ـ ان کے ساتھ عہد کرتے ہیں"۔ (8)  
پس نمونے کے طور پر منقولہ مندرجہ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انتظار ظہور صرف روز جمعہ تک محدود نہیں ہے بلکہ دوسرے ایام میں بھی انتظار ظہور واجب ہے لیکن شب و روز انتظار کرنے کی روایات یا ہر روز تجدید عہد کے عنوان سے دعائے عہد کی تلاوت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکن ہے کہ ظہور جمعہ کے بغیر دوسرے ایام میں بھی ہوسکتا ہے اور جس دن دعائے عد کی تلاوت کی جاتی ہے اگر ظہور اسی دن ہوا تو وہ شخص اصحاب امام عصر (عج) میں شمار ہوگا۔
مزید معلومات کے لئے رجوع کریں:
1۔ علامہ مجلسی، مهدی موعود، ج 2؛
2۔ نوری طبرسی ، نجم الثاقب، ج 2؛  
3۔ خادمی شیرازی، نشانه های ظهور۔
حوالہ جات:
4۔ عقد الدرر ص 145۔ السیوطی، الحاوی: ج 2 ص 71۔ برهان المتقی: ص 141۔ لوائح السفارینی: ج 2 ص 11۔
5۔ شیخ علی الکورانی، معجم الاحادیث امام مهدی، ج 1، ص 453۔
6۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج 52، ص 133، موسسه الوفاء، بیروت، و مكیال المكارم، ج 2، ص 157، امام صادق ـ علیه السّلام ـ: شب و روز اپنے مولا کے منتظر رہو۔
 8۔ قمی، شیخ عباس، مفتاح الجنان، دعای عهد۔

Login to post comments