×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

منتظرین کے فرائض

مرداد 11, 1393 498

بعض روایات میں منتظرین کے فرائض بیان ہوئے ہیں (1) جن کو ملحوظ رکھ کر ہم حقیقی منتظرین بن سکتے ہیں اور امام زمانہ (عج) ہمیں

لائق توجہ قرار دیں گے۔
مومنین کے بعض فرائض کچھ یوں ہیں:
1۔ پرہیز گاری:
زمانہ غیبت میں مومنین کا ایک اہم فریضہ خودسازی اور تقوی ہے؛ کیونکہ ایک متقی امام کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے کے لئے پارسائی کی ضرورت ہے (2) امام صادق (ع) نے فرمایا: "امام مہدی (عج) کے اصحاب میں شمار ہونے کا شوق رکھنے والے کو ان کا منتظر رہنا چاہئے اور تقوی و پارسائی اختیار کرنی چاہئے اور پرہیزگارانہ کردار ادا کرنا چاہئے"۔ (3)
2۔ فرض شناسی:
دینداری اور فرض شناسی بھی امام زمانہ (عج) کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کا وسیلہ ہے۔ غیبت کے زمانے میں اللہ کے احکام کا پابند ہونا چاہئے؛ کیونکہ عصر غیبت میں ہم زیادہ آسیب پذیر یا زد پذیر اور آفتوں کا شکار ہیں اور انہیں مستحکم پشت پناہی کی ضرورت ہے اور یہ پشت پناہی دینی اعتقادات کی تقویت اور دین کی پاسداری سے عبارت ہے۔ فرائض الہیہ کی پابندی کے ذریعے معاشرتی آفتوں کا سد باب کیا جاسکتا ہے۔
امام صادق (ع) نے فرمایا: "صاحب الامر (عج) کے لئے ایک طویل غیبت ہے۔ اس دوران سب کو تقوی اختیار کرنا چاہئے اور دین کا دامن تھامنا چاہئے"۔ (4)
3۔ انتظارِ فَرَج:
مومنین کا ایک فریضہ انتظارِ فَرَج ہے؛ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: "میری امت کا بہترین عمل اللہ تعالی کی جانب سے فَرَج اور فراخی کا انتظار ہے"۔ (5)
ایک مصلح کا انتظار انسان کو نیک اعمال اور مصلحانہ امور پر آمادہ کرتا ہے۔
4۔ اصلاح معاشرہ:
جیسا کہ تقوی اختیار کرنا اور خودسازی کرنا ایک مومن کا فرض ہے، یہ بھی اس کا فرض ہے کہ معاشرتی برائیوں کے خلاف جدوجہد کرے۔ یہ تصور غلط مفہوم انتظار میں ایک تحریف ہے کہ غیبت کے زمانے میں ناانصافیوں اور ظلم کے مقابلے میں خاموش رہنا چاہئے؛ کیونکہ اسلام کے نزدیک ہر مسلمان کا فرض ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے استفادہ کرکے صالحین اور خدا پرست معاشرے کے قیام کے لئے کوشش کرے یعنی اس ہدف کے لئے کوشاں رہے جو درحقیقت امام زمانہ (عج) کا ہدف اور مشن ہے۔
5۔ امام کی شناخت:
اسلام میں اپنے زمانے کے امام کی معرفت بہت اہم ہے جس کے بموجب انسان فرائض کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور انسان کا عمل امام (عج) کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرتا ہے۔ رسول اللہ (ص) اور ائمہ طاہرین (ع) نے فرمایا: "جو اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جاہلیت و شرک کی موت مرا ہے"۔ (6)
حوالہ جات:
1۔ بحارالانوار، ج 52، ص 122؛ منتهی الامال، ص 555۔
2۔ بحارالانوار، ج 52، ص 366۔
3۔ بحارالانوار، ص 140۔
4۔ بحارالانوار، ص 135۔
5۔ بحارالانوار، ج 51، ص 44۔
6۔ نجم الثاقب، ص 613۔

Login to post comments