×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شہادت امام رضا علیہ السلام کے اہم نکات

مرداد 13, 1393 480

" اے ابا صلت! کل میں اس فاسق و فاجر شخص (مامون عباسی) کے پاس جاتا ہوں جب میں اس کے پاس سے باہر آؤں تو دیکھنا اگر میں نے اپنا

سر عبا میں چھپا رکھا ہو تو مجھ سے بات نہ کرنا اور جان لو کہ اس شخص نے مجھے مسموم کردیا ہے۔ "
ابوصلت ہروی کہتے ہیں: میں امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ (ع) نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: اے ابا صلت! ہارون کی قبر پر بنے ہوئے قبے میں جا کر چار اطراف سے تھوڑی سے مٹی جمع کرکے لاؤ۔
میں گیا اور مٹی اکٹھی کرکے لایا۔
امام (ع) نے مٹی کو سونگھا اور فرمایا: یہ لوگ مجھے ہارون کے پیچھے دفن کرنا چاہتے ہیں لیکن وہاں ایک بہت بڑا پتھر ظاہر ہوگا اور اگر پورے خراسان کے کدال بھی لائیں تو اس کو اکھاڑ نہیں سکیں گے اور ہارون کے سر اور پاؤں کی جانب بھی پتھر ظاہر ہوگا۔
اس کے بعد بعد آپ (ع) قبر ہارون کے سامنے قبلہ کی جانب کی مٹی کو سونگھا تو فرمایا یہ میری تدفین کا مقام ہے۔
فرمایا: اے ابا صلت! جب میری قبر تیار ہوجائے تو ایک نمی پیدا ہوگی اور میں تمہیں ایک دعا سکھاتا ہوں وہ پڑھ لو تو قبر پانی سے بھر جائے گی۔ اس پانی میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں ظاہر ہونگی۔ میں تمہیں ایک روٹی دیتا ہوں یہ روٹی ان مچھلیوں کے لے توڑ کر پانی میں ڈال دو تو وہ روٹی کو کھا لیں گی اور اس کے بعد ایک بڑی مچھلی ظاہر ہوگی جو ان چھوٹی مچھلیوں کو نگل لے گی اور پھر غائب ہوجائے گی۔ اس وقت تم پانی پر ہاتھ رکھو اور یہ دعا پڑھ لو جو میں تمہیں سکھاتا ہوں تو پانی غائب ہوجائے گا۔ تم یہ سارے افعال مأمون کی موجودگی میں انجام دو۔
فرمایا: اے ابا صلت! کل میں اس فاسق و فاجر شخص (مامون عباسی) کے پاس جاتا ہوں جب میں اس کے پاس سے باہر آؤں تو دیکھنا اگر میں نے اپنا سر عبا میں چھپا رکھا ہو تو مجھ سے بات نہ کرنا اور جان لو کہ اس شخص نے مجھے مسموم کردیا ہے۔
اباصلت کہتے ہیں: دوسرے روز امام رضا علیہ السلام اپنی محراب میں منتظر رہے۔ تھوڑی دیر بعد مأمون نے اپنا غلام بھیجا اور امام (ع) کو بلوایا۔ امام مامون کی مجلس میں داخل ہوئے میں بھی آپ (ع) کے پیچھے پیچھے تھا۔ مامون کے سامنے کھجوروں اور دوسرے پھلوں کا ایک طبق رکھا ہوا تھا۔ مامون کے اپنے ہاتھ میں انگور کا ایک خوشہ تھا جس میں سے اس نے زیادہ تر انگور کھا لئے تھے اور کچھ دانے باقی تھے۔
مامون نے امام (ع) کو آتے دیکھا تو اٹھا اور امام سے گلے ملا اور آپ (ع) کے ماتھے کو بوسہ دیا اور اپنے پہلو میں بٹھا دیا اور اس کے بعد انگور کا خوشہ آپ (ع) کو پیش کرتے ہوئے کہا: میں نے اس سے بہتر انگور نہیں دیکھا۔
امام (ع) نے فرمایا: شاید کہ جنت کا انگور بہتر ہو!
مامون نے کہا: یہ انگور تناول فرمائیں۔
امام (ع) نے فرمایا: مجھے انگور کھانے سے معذور رکھ لو۔
مامون نے کہا: آپ کے پاس یہ انگور کھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، کیا آپ ہم پر الزام لگانا چاہتے ہیں، اس کے بعد انگور کا خوشہ اٹھایا اور اس میں سے کچھ دانے کھا لئے اور خوشہ امام (ع) کو پیش کیا۔
امام علیہ السلام نے انگور کے تین دانے کھا لئے اور خوشہ طبق میں رکھ کر قورا اٹھے۔
مامون نے کہا: کہاں جارہے ہیں؟
امام نے فرمایا: وہیں جارہا ہوں جہاں تم نے مجھے روانہ کیا۔
اس کے بعد امام نے عبا اپنے سر پر ڈال دی اور گھر تشریف لے آئے اور مجھے حکم دیا کہ دروازہ بند کردوں۔ اور اس کے بعد بستر پر پڑ گئے۔
امام محمد تقی الجواد علیہ السلام والد کی بالین پر
اباصلت کہتے ہیں: میں گھر کے درمیانی حصے میں پریشانی کی حالت میں مغموم کھڑا تھا کہ میں نے ایک خوبصورت نوجوان کو اپنے سامنے کھڑا ہوا دیکھا جو امام رضا علیہ السلام کے شبیہ ترین تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا: آپ کہاں سے داخل ہوئے؟
فرمایا: جو مجھے مدینہ منورہ سے یہاں تک لایا اسی نے مجھے بند دروازے سے داخل کیا۔
میں نے عرض کیا: آپ کون ہیں؟
فرمایا: میں تم پر اللہ کی حجت ہوں، اے ابا صلت! میں محمد بن علی الجواد ہوں۔
اس کے بعد آپ (ع) اپنے والد بزرگوار کی طرف چلے گئے اور مجھے اپنے پاس بلایا۔ جب امام رضا علیہ السلام کی نظر امام جواد پر پڑی تو آپ (ع) نے اپنے فرزند دلبند کو گلے لگایا اور ماتھے پر بوسہ دیا۔ حضرت جواد علیہ السلام امام رضا علیہ السلام کے بدن پر گر سے گئے اور والد ماجد کو چوما اور اس کے بعد باپ بیٹے میں آہستہ سے بات چیت شروع ہوئی جو میں نہیں سن سکا۔ اس دوران باپ بیٹے کے درمیان اسرار و رموز کا تبادلہ ہوا اور یہ سلسلہ جاری رہا حتی کہ امام رضا علیہ السلام کی روح عالم قدس کی بلندیوں کی جانب پرواز کر گئی۔
ابوصلت کہتے ہیں:
امام جواد علیہ السلام نے فرمایا: اے اباصلت! اس خزانے (یا گودام ) کے اندر جاؤ اور غسل کے لوازمات اور پانی لاؤ۔
میں نے عرض کیا: وہاں اس قسم کے لوازمات نہیں ہیں۔
امام (ع) نے فرمایا: جو کہتا ہوں وہی کرو۔
میں خزانے کے اندر داخل ہوا اور دیکھا کہ سارے لوازمات حاضر ہیں۔ میں ان اشیاء کو اٹھا کر لایا اور اپنا دامن کمر تک چڑھا کر باندھ لیا تا کہ امام (ع) کے غسل میں شرکت کروں۔
امام (ع) نے فرمایا: اے ابا صلت! ہٹ جاؤ کیونکہ جو غسل میں میری مدد کرے گا وہ تمہارے سوا کوئی اور ہے۔ اس کے بعد امام جواد علیہ السلام نے امام رضا علیہ السلام کے جسم اطہر کو غسل دیا۔
اس کے بعد فرمایا: خزانے میں رکھی ہوئی زنبیل میں سے کفن اور حنوط کا سامان لاؤ۔
میں خزانے میں داخل ہوا اور ایک زنبیل رکھی ہوئی پائی جو اس وقت تک مجھے نظر نہیں آئی تھی؛ اور کفن و حنوط و کافور اٹھا کر لایا۔
امام جواد علیہ السلام نے والد ماجد کو کفن دیا اور آپ (ع) پر نماز پڑھی اور فرمایا: تابوت لاؤ۔
میں نے عرض کیا: تابوت نجار کی دکان سے لاؤں؟
فرمایا: خزانے میں تابوت موجود ہے۔
میں اندر گیا اور وہاں سے تابوت باہر لایا۔
امام جواد علیہ السلام نے والد کا جسم اطہر تابوت میں رکھا اور خود نماز کے لئے کھڑے ہوگئے۔
تابوت آسمانوں کی جانب پرواز کرگیا
ابوصلت ہروی کہتے ہیں:
ابھی امام جواد علیہ السلام کی نماز ختم نہیں ہوئی تھی کہ میں نے دیکھا گھر کی چھت میں شگاف پڑ گیا اور تابوت اس شگاف سے نکل کر آسمان کی جانب پرواز کرگیا۔
میں نے امام (ع) سے عرض کیا: یابن رسول اللہ (ص)! ابھی مامون آئے گا اور پوچھے گا کہ امام رضا علیہ السلام کا جسم اطہر کہاں ہے؟
فرمایا:  پرواز تابوت به سوی آسمان
هنوز نمازش تمام نشده بود که ناگهان دیدم سقف شکافته شد و تابوت از آن شکاف به طرف آسمان رفت. گفتم:« یا ابن رسول الله! الان مأمون می آید و می گوید بدن مبارک حضرت رضا چه شد؟»
فرمود: فکرمندی کی کوئی بات نہیں! امام کا جسم اطہر ابھی واپس لوٹ کر آتا ہے۔ اے ابا صلت! کوئی بھی پیغمبر شرق و غرب عالم میں دنیا سے رخصت نہیں ہوتا مگر یہ کہ اللہ تعالی اس کی اور اس کے وصی کی روح و جسم کو ایک دوسرے سے ملا دیتا ہے۔ خواہ اس کا وصی غربِ عالم میں ہی دنیا سے رخصت کیوں نہ ہوا ہو۔
اسی اثناء میں چھت میں ایک بار پھر شگاف پڑ گیا اور تابوت اپنی جگہ لوٹ کر آیا۔
اس کے بعد امام جواد علیہ السلام نے والد ماجد کا جسم اطہر تابوت سے نکال کر پہلے کی سی حالت میں بستر میں قرار دیا۔ گویا نہ تو اس کو غسل دیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی تکفین ہوئی ہے۔
اس کے بعد امام جواد علیہ السلام نے فرمایا: اے ابا صلت! اٹھو اور مامون کے لئے دروازہ کھولو۔
ابوصلت کہتے ہیں:
میں نے دروازہ کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مامون اپنے غلاموں کے ہمراہ اشکبار آنکھوں اور پھٹے ہوئے گریبانوں کے ساتھ داخل ہوئے۔ مامون سر پیٹ پیٹ کر امام (ع) کے سر مطہر کی جانب بیٹ گیا اور تجہیز و تکفین کا حکم جاری کیا۔
امام رضا علیہ السلام نے جو جو مجھ سے ارشاد فرمایا تھا وہ سب وقوع پذیر ہوا۔
مامون نے کہا: امام رضا زندہ تھے تو ہم نے ان سے بے شمار کرامات دیکھیں اور اب وفات کے بعد بھی وہ ہمیں کرامات دکھا رہے ہیں۔
مامون کے وزیرنے کہا: آپ سمجھ گئے کہ حضرت رضا نے آپ کو کیا دکھایا؟
مامون نے کہا: نہیں۔
وزیر نے کہا: امام رضا (ع) نے ہمیں ان چھوٹی مچھلیوں اور اس بڑی مچھلی کے ذریعے بتایا کہ "تم بنو عباس کی سلطنت شہنشاہوں کی کثرت اور درازیِ مدت کے باوجود ان چھوٹی مچھلیوں کی مانند ہے کہ جب تمہارا اجل آن پہنچے تو خداوند متعال ہم میں سے ایک مرد تم پر مسلط فرمائے گا اور وہ تم سب کو نیست و نابود کرے گا۔
مامون نے کہا: سچ کہہ رہے ہو۔
اس کے بعد مامون نے مجھ سے پوچھا: وہ کونسی دعا تھی جو تم نے پڑھ لی؟
میں نے کہا: خدا کی قسم! میں وہ دعا اسی وقت بھول گیا اور میں حقیقتاً وہ دعا بھول گیا تھا۔
لیکن مامون نے مجھے قیدخانے میں ڈال دیا۔
امام جواد علیہ السلام کے ہاتھوں ابوصلت کی رہائی
ابوصلت کہتے ہیں:
مامون نے مجھے قید کردیا اور میں ایک سال تک قیدخانے میں رہا۔ میں بہت دل تنگ ہوگیا تھا اور ایک رات صبح تک دعا میں گذار دی اور اللہ کو محمد و آل محمد (ص) کا واسطہ دیا کہ اچانک امام جواد علیہ السلام جیلخانے میں داخل ہوئے اور فرمایا اے اباصلت! کیا یہاں رہ رہ کو تھک گئے ہو؟
میں نے عرض کیا: خدا کی قسم! ہاں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: اٹھو اور پھر میرے پیروں سے زنجیر کھول دی اور مجھے جیلخانے سے باہر لے گئے۔ جیل کے محافظین مجھے دیکھ رہے تھے لیکن کچھ کہنے کی ہمت سے  عاری تھے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: اب تم خدا کی امان میں ہو اور جان لو کہ اس کے بعد مامون تم تک نہیں پہنچ سکے گا۔
ابوصلت یہ روایت سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے بعد آج تک میں نے مامون کو نہیں دیکھا۔
حوالہ:
بحار الانوار، ج 49، ص 300، ح 10. از عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 242.

Last modified on دوشنبه, 13 مرداد 1393 12:06
Login to post comments