Print this page

حضرت مریم (سلام اللہ علیہا) کی عظمت

مرداد 13, 1393 444
Rate this item
(0 votes)

قرآن میں مریم کا نام 34 بار آیا ہے اور قرآن کی ایک سورہ (انیسویں سورہ) کا نام مریم ہے جس کی 16 میں سے 36 آیتوں میں

حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ولادت کی کہانی اور ان کی زندگی کے ایک حصے اور اس کی دعوت کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کہ حضرت مسیح کی پیدائش ہو جائے فرشتوں نے خدا کی طرف سے حضرت مریم (سلام اللہ علیہا) کو ان کی پیدائش کی بشارت دی تھی اور حضرت عیسی (ع) کی شخصیت اور کردار کو متعارف کرایا، ہم سورہ آل عمران کی آیت 45 میں پڑھتے ہیں کہ :
"إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِكَةُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللّهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِیحُ عِیسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیهًا فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ"
ترجمہ :"جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسی ابن مریم ہوگا، وہ دنیا اور آخرت میں آبرومند ہوگا اور مقرّب لوگوں میں سے ہوگا۔"
خدا نے سورہ مریم میں، حضرت مریم کے بچہ جنم دینے کے واقعات کو یوں بیان کیا ہے: "بچے کی پیدائش کے درد نے اسے ایک کھجور کے درخت کے تنے کی طرف کھینچ لیا، انہوں نے درد اور پریشانی کی حالت میں کہا: " کاش اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور مکمل طور پر سب لوگ مجھے بھول گئے ہوتے " ۔ اس دوران اس کی ٹانگ کے نیچے سے کسی نے اس کو پکارا اور کہا کہ اداس مت ہو، تمہارا رب نے تمہارے پاؤں تلے ایک ندی ڈال دی ہے اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاو تاکہ آپ کے لیے نئے اور پکے کھجور گر جائیں۔"(1)
ان آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جب حضرت مریم بچہ جنم دینے کے قریب تھی تب  بہت اداس ہوگئی تھی، اس حد تک کہ انہوں نے آرزو کی کہ کاش اس سے پہلے وہ مرگئی ہوتی کیونکہ ایک لڑکی کے لیے جو زاہد اور عبادت کرنے والی تھی بہت مشکل تھا کہ دوسرے لوگ اس پر عصمت فروشی کا الزام لگائیں۔ خاص طور پر اگر وہ لڑکی ایک ایسے خاندان سے ہو جو عصمت اور عفت میں مشہور ہو۔(2)
خدا نے معجزے کے ذریعے اس کے پاؤں تلے ایک ندی کو جاری کر دیا اور ساتھ ہی اس کے پاس بھی ایک سوکھا ہوا کھجور کا درخت تھا جو خدا نے معجزے کے ذریعے ہرا کر دیا چنانچہ اسی لمحے میں وہ سبز ہوگیا اور اس کے پتّے باہر آ گئے اور اس نے تازہ پھل بھی دیا جس کو جب حضرت مریم نے ہلا دیا تو اس کے پھل گر گئے اور انہوں نے ان پھل کو کھا لیا۔ (3)
لیکن اس بات کے بارے میں کہ خدا نے اس سے پہلے کہ حضرت مریم خدا سے کچھ مانگ لے ان کے معجزے کے ذریعے سب کچھ دے دیا (4)،
ہم کو ایسی توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ خدا کی غیبی امداد کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی موجود ہوں اور پورا ہوجائیں، بلکہ دنیا آزمائش اور کمالات حاصل کرنے کی جگہ ہے اور یہ بس مصائب اور مشکلات کو سہنے سے ہوجائے گا۔ کائنات کا قدرتی عمل ایسا رکھا گیا ہے کہ ہر چیز کوشش اور محنت سے حاصل ہوتی ہے۔(5) اس کے علاوہ یہ کہ خدا نے مشکل حالات میں، ایک سوکھا ہوا کھجور کے درخت سے، حضرت مریم (س) کو پکا کھجور، عطا کیا وہ خود مائدہ آسمانی اور خدا کی طرف سے لطف اور رحمت ہے۔
حوالہ جات:
(1) مریم، آیت 23۔25
(2) طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ج14، ص43، اسلامی پبلی کیشنز، قم، پانچوین اشاعت، 1374ش
(3) ایضا،
(4) عروسی حویزی، عبد علی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، تحقیق: رسولی محلاتی، سید ہاشم، ج3، ص33، اسماعیلیان پبلی کیشنز، قم، چوتھی اشاعت، 1415ق
(5) آل عمران، 37

Login to post comments