×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ولادت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

مرداد 13, 1393 402

کائنات ہست وبود میں خدا تعالیٰ نے بے حد و حساب عنایات واحسانات فرمائے ہیں۔ انسان پر لاتعداد انعامات و مہربانیاں فرمائی ہیں اور اسی طرح

ہمیشہ فرماتا رہے گا کیونکہ وہ رحیم وکریم ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہزاروں نعمتیں دیں لیکن کبھی کسی پر احسان نہیں جتلایا، اس ذات رؤف الرحیم نے ہمیں پوری کائنات میں شرف و بزرگی کا تاج پہنایا اور احسنِ تقویم کے سانچے میں ڈھال کر رشکِ ملائک بنایا ہمیں ماں باپ، بہن بھائی اور بچوں جیسی نعمتوں سے نوازا۔ غرضیکہ ہزاروں ایسی عنایات جو ہمارے تصور سے ماورا ہیں اس نے ہمیں عطا فرمائیں لیکن بطور خاص کسی نعمت اور احسان کا ذکر نہیں کیا اس لئے کہ وہ تو اتنا سخی ہے کہ اسے کوئی مانے یا نہ مانے وہ سب کو اپنے کرم سے نوازتا ہے اور کسی پر اپنے احسان کو نہیں جتلاتا لیکن ایک نعمت عظمیٰ ایسی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جب حریم کبریائی سے اسے بنی نوع انسان کی طرف بھیجا اور امت مسلمہ کو اس نعمت سے سرفراز کیا تو اس پر احسان جتلاتے ہوئے فرمایا۔
یوں تو انسانی تاریخ میں بہت سے اہم دن آئے اور گذر گئے ، لیکن پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا دن وہ عظیم دن ہے جسے انسان چاہتے ہوئے بھی نہیں بھلا سکتا۔ اس دن الله کے آخری نبی اس دنیا میں تشریف لائے ۔ اس دن اس دنیامیں اس عظیم انسان نے قدم رکھا جس کی زیارت کے تمام انبیاء مشتاق تھے۔ اس دن دنیا میں وہ تشر یف لائے جن کے بارے میں انبیاء ما سبق نے اپنے اوصیاء کو وصیت فرمائی تھی کہ اگر وہ آپ کے سامنے آ گئے تو انھیں ہمارا سلام کہنا۔ مسلمانوں کی فضیلت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ انہیں وہ عظیم سعادت نصیب ہوئی جس کی تمنا لئے ہوئے بہت سے انبیاء اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ چونکہ الله نے ہمیں یہ عظیم سعادت عطا فرمائی ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم آپ کی امت کا جز بنے رہیں اور آپ کی تعلیمات کی قدر کرتے ہوئے ان پر عمل کریں ۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے وہ دن ایک خوشی کا دن ہے جب محسن انسانیت ، خاتم النبیّین ، رحمت دو عالم ، آقادو عالم اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعمت اور اس دنیا میںآمد اس قدر عظمت کا باعث ہے کہ اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی بھی نعمت نہیں کر سکتی ہے ۔ آپ قاسم نعمت ہیں اور ساری عطائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے ہی ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ ولادت میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہے ۔ شیعہ آپ کی ولادت 17/ ربیع الاول کو مانتے ہیں اور سنی آپ کی ولادت کے سلسلہ میں بارہ ربیع الاول کے قائل ہیں ۔ اسی طرح آپ کی ولادت کے دن میں بھی مسلمانوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ آپ کی ولادت جمعہ کے روز ہوئی اور اہل سنت کہتے ہیں کہ جس دن آپ کی ولادت ہوئی وہ پیر کا دن تھا۔
مورخین کا کہنا ہے کہ جس دن آنحضرت کی ولادت ہوئی اس روز دنیا میں کچھ تبدیلیاں اور تغییرات رونما ہوئے جیسے قصر کسریٰ کے کنگورے ٹوٹ گئے اور ان میں شگاف پیداہو گئے ،دریائے ساوہ خشک ہو گیا ،فارس کا آتشکدہ جو مدتوں سے روشن تھا خاموش ہو گیا ،دنیا بھر کے بادشاہ اور سلاطین اس روز حیران و پریشان ہو گئے تھے ،بتوں کا سرنگوں ہوجانا ،جادوگروں کا جادو اس دن بے اثر ہو گیا تھا ،ساری کائنات میں "لا الٰہ الا اللہ" کا شور اور جس وقت آپ پیدا ہوئے ساری کائنات آپ کے نور سے منور ہو گئی اور فرمایا: لا الٰہ الا اللہ اور ساری کائنات نے ان کے ساتھ کہا لا الٰہ الا اللہ ۔
لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُومِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ یَتْلُواْ عَلَیْهِمْ آیَاتِهِ وَیُزَكِّیهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِی ضَلَالٍ مُّبِینٍO
(سورۃ آل عمران 3 : 164)
ترجمہ : ’’بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہیں میں سے عظمت والا رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے‘‘۔
درج بالا آیہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ :
امت مسلمہ پر میرا یہ احسان، انعام اور لطف وکرم ہے کہ میں نے اپنے محبوب کو تمہاری ہی جانوں میں سے تمہارے لئے پیدا کیا۔ تمہاری تقدیریں بدلنے، بگڑے ہوئے حالات سنوارنے اور شرف وتکریم سے نوازنے کیلئے تاکہ تمہیں ذلت وگمراہی کے گڑھے سے اٹھا کر عظمت وشرفِ انسانیت سے ہمکنار کر دیا جائے۔ لوگو! آگاہ ہو جاؤ کہ میرے کارخانہ قدرت میں اس سے بڑھ کر کوئی نعمت تھی ہی نہیں۔ جب میں نے وہی محبوب تمہیں دے دیا جس کی خاطر میں کائنات کو عدم سے وجود میں لایا اور اس کو انواع واقسام کی نعمتوں سے مالا مال کر دیا تو ضروری تھا کہ میں رب العالمین ہوتے ہوئے بھی اس عظیم نعمت کا احسان جتلاؤں ایسا نہ ہو کہ امت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے بھی عام نعمت سمجھتے ہوئے اس کی قدرومنزلت سے بے نیازی کا مظاہرہ کرنے لگے۔
قرآن مجید پیغمبراسلام (ص)کے سلسلے میں فرماتا ہے :
وكذلك جعلناكم امة وسطاً لتكونوا شهداء علی النّاس ویكون الرسول علیكم شهیداً 2
اور اسی طرح ہم نے تم کو درمیانی امت قرار دیا ہے تاکہ تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو اور پیغمبر تمھارے اعمال کے گواہ رہیں ۔
اس آیت کے دو معنی ہیں :ایک ظاہری معنی جسے تمام افراد سمجھ سکتے ہیں،وہ یہ ہے کہ امت اسلامیہ کو دوسری امتوں کے لئے سرمشق قرار دیا گیا ہے تاکہ دوسری اقوام اس کی پیروی کریں اور پیغمبر اسلام (ص) بھی امت اسلامیہ کے لئے نمونہ عمل ہیں ۔لیکن اس کے ایک دوسرے معنی بھی ھیں جسے ائمہ معصومین علیہم السلام نے بیان فرمایا ہے اور شیعہ مفسرین خصوصاً علامہ طباطبائی نے اس آیت کریمہ کے ذیل میں مفصل بحث کی ہے اور ان روایات سے استفادہ کیا ہے ۔وہ معنی یہ ہے کہ امت اسلامیہ قیامت کےدن دوسری امتوں کے اعمال کی گواہ ہے اور چونکہ ساری امت والے اس عمل گواہی کی لیاقت نہیں رکھتے لہذا یہ امر ائمہ علیہم السلام سے مخصوص ہے ،سنی اور شیعہ دونوں کی روایات میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے ۔
بہر حال آیت کا مفہوم یہ ہے کہ پروردگار عالم نے ائمہ طاہرین کو خلق کیا تاکہ وہ قیامت کے دن لوگوں کے اعمال کی شہادت دیں اور پیغمبر اکرم(ص) کو ان کے اعمال پر گواہ قرار دیا گیا ۔اور چونکہ گواہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسی دنیا میں تمام امت کے اعمال سے باخبر ہو تاکہ قیامت کے دن شہادت دے سکے ،لہذا ضروری ہے کہ ائمہ علیہم السلام اس عالم وجود پر پوری طرح سے احاطہ اور اشراف رکھتے ہوں تاکہ امت کے اعمال سے مطلع رہیں ،یہی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ انسانوں کے دل میں چھپے ہوئے اسرار سے بھی واقف ہوں تاکہ قیامت کےدن اعمال کی کیفیت کی بھی گواہی دے سکیں ۔ ان تمام اوصاف کے حامل افراد کو واسطہ فیض کہتے ہیں ،بہ الفاظ دیگر انھیں ولایت تکوینی حاصل ہوتی ہے ۔
اس لئےآ یت کے معنی یہ ہوں گے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام اس کائنات کے لئے واسطہ فیض ہیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے لئے واسطہ فیض ہیں ۔اس معنی کے پیش نظر ان روایات کا مطلب بھی واضح ہو جاتا ہے کہ جن میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و لہ وسلم کو عقل کل ،نور مطلق یا اول ما خلق اللہ بتایا گیا ہے ۔
اب یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا فرض ہے کہ وہ ساری عمر اس نعمت کے حصول پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور خوشی منائے جیسا کہ اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے۔
قُلْ بِفَضْلِ اللّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْیَفْرَحُواْ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُونَO
(یونس10 : 58)
ترجمہ : ’’آپ فرما دیں کہ اللہ کے فضل سے اس کی رحمت سے (جو اُن پر نازل ہوئی) اس پر ان کو خوش ہونا چاہئے یہ تو ان چیزوں سے جو وہ جمع کر رہے ہیں کہیں بڑھ کر ہے‘‘۔
قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ ساری آ یات و روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ائمہ معصومین علیہم السلام اس دنیا میں واسطہ فیض ہیں ،چنانچہ اس دنیا میں جتنی بھی نعمتیں پائی جاتی ہیں ،چاہے وہ ظاہری ہوں جیسے عقل ،سلامتی ،امنیت ،روزی وغیرہ یا باطنی نعمتیں ہوں جیسے علم ،قدرت ، اسلام وغیرہ یہ سب انھیں کے وسیلے سے ہیں ۔یہ ذوات مقدسہ اس کائنات کے رموز خلقت سے واقف اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ان مقدس ذوات کے لئے واسطہ فیض ہیں ۔اور ہر وہ ظاہری و باطنی نعمتیں جو انھیں ملتی ہیں وہ سب نحضرت کے وسیلہ سے ملتی ہیں کیوں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و لہ وسلم ان نعمتوں کے لئے علت کی حیثیت رکھتے ہیں ۔یہ ہے اس آیت کا مفہوم جس میں ارشاد ہوتا ہے :"وكذلك جعلناكم امةً وسطاً لتكونوا شهداء علی النّاس ویكون الرسول علیكم شهیداً اور یہ روایت جو ائمہ اطہار سے منقول ہے کہ "جو کچھ بھی ہم کہتے ہیں یا جو بھی ہمارے پاس ہے وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و لہ وسلم سے ہے اور جو بھی نحضرت نے فرمایا یا ان کے پاس موجود ہے وہ خداوند عالم کا عطیہ ہے "
جب ہم اپنی زندگی میں حاصل ہونے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں تو وجود محمدی صلی اللہ علیہ ولہ وسلم کی نعمت عطا ہونے پر سب سے بڑھ کر خوشی منائی جائے اور اس خوشی کے اظہار کا بہترین موقع ماہ ربیع الاوّل ہے ۔
شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

Login to post comments