×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

رجعت کی کیفیت

مرداد 13, 1393 520

روایات سے ائمہ (ع) کی رجعت و حکومت کی تفصیلی معلومات موصول نہیں ہوئیں؛ تاہم امر قطعی یہ ہے کہ وہ رجعت فرمائیں گے۔

وارد ہوا ہے کہ ظہور قائم (عج) کے 19 سال بعد ائمہ (ع) کی رجعت امام حسین (ع) کی رجعت سے شروع ہوگی جن کے بعد امیرالمومنین (ع) اور ان کے بعد رسول خدا (ص) تشریف لائیں گے۔ لیکن یہ کہ ـ کیا سارے ائمہ (ع) امام زمانہ (عج) کے زمانے میں ترتیب سے واپس آکر یکے بعد دیگرے دنیا سے رخصت ہونگے نیز ان کی حکومت کی تفصیل ـ پر مشتمل قطعی روایت موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم روایات سے ظاہر ہے کہ رجعت درحقیقت امام زمانہ (عج) کے قیام کا تسلسل ہے۔ صرف ایک روایت میں امیرالمومنین (ع) کی حکومت کا اجمالی خدوخال بیان ہوا ہے۔
1۔ امام محمد باقر (ع) نے فرمایا: قیام قائم (عج) کے 19 سال بعد امام حسین (ع) رجعت کریں گے اور اپنے اور اپنے اصحاب کا خون طلب کریں گے، وہ اپنے دشمنوں کو ہلاک اور اسیر کریں گے حتی کہ امیرالمومنین (ع) رجعت فرمائیں"۔ (1)
2۔ "سب سے پہلے امام حسین (ع) رجوع کریں گے"۔ (2)
3۔ مفضل بن عمر کی روایت میں ہے کہ امام صادق (ع) نے فرمایا: "۔۔۔ پس امام حسین اپنے اصحاب اور 12 ہزار صدیقین کے ہمراہ ظاہر ہونگے اور کوئی رجعت اس سے زیادہ حسین و مسرور کن نہ ہوگی۔ ان کے بعد صدیق الاکبر حضرت امیرالمومنین (ع) باہر آئیں گے ان کے بعد باہر آئیں گے سید اکبر رسول اللہ (ص) ان تمام لوگوں کے ہمراہ جو ادیان پر ایمان لائے ہیں اور مہاجرین و انصار کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو مختلف جنگوں میں جام شہادت نوش کرگئے ہیں۔۔۔"۔ (3)
حوالہ جات:
1۔ مجلسی، بحار ج 53، ص 101۔
2۔ مجلسی، بحار ج 53، ص 64۔
3۔ مجلسی، حق الیقین ص 668۔ بحار الانوار ج 53 ص 16۔
4۔ امیرالمومنین (ع) کی حکومت کے بارے میں روایت میں مذکور ہے کہ تمام انبیاء (ع) اور مومنین ان کے زمانے میں واپس آئے گے اور حضرت رسول (ص) حکومت کا پرچم ان کے سپرد کریں گے اور ۔۔۔"۔ (4)
مذکورہ روایت سے صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ ا‏ئمہ معصومین (ع) کی رجعت امام قائم (عج) کے دور میں شروع ہوگی؛ چنانچہ ان کی حکومت حضرت قائم (عج) کی حکومت کی عالمی حکومت عدل کا تسلسل ہے اور صرف امیرالمومنین (ع) کی عالمی حکومت میں انبیاء اور سارے مومنین رجعت کریں گے اور حکومت امیرالمومنین (ع) کی ہوگی۔
علامہ محمد باقر مجلسی (رح) فرماتے ہیں:
"۔۔۔ ان رجعتوں کی خصوصیت ہم پر ظاہر نہیں ہے کیا حضرت قائم (عج) کے ظہور کے ساتھ ہی یہ رجعتیں شروع ہونگی یا ان کے بعد رجعت کا آغاز ہوگا! اور بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ائمہ (ع) اپنی امامت کی ترتیب سے رجعت کریں گے اور شیخ حسن بن سلیمان کی رائے یہ ہے کہ ہر امام کی امامت کا ایک دور ہے اور ہر امام کے مہدی ہونے کا اپنا دور ہے اور امام زمانہ (عج) ظہور کریں گے تو یہ ان کی امامت کا دور ہوگا اور اپنے آباء و اجداد کے بعد ایک بار پھر رجعت کریں گے اور اسی بنا پر انھوں نے تاویل کی ہے اس حدیث کی جس میں تاکید ہوئی ہے کہ "ہم بارہ اماموں میں سے بارہ ہی مہدی ہیں" اور یہ قول اگرچہ بعید از صواب نہیں ہے لیکن بہتر ہے کہ رجعت کا اقرار کیا جائے اور اس کی تفصیل کو علم معصومین (‏ع) کی طرف لوٹایا جائے"۔ (5)
چنانچہ جیسا کہ علامہ مجلسی نے کہا ہے، احتیاط یہ ہے کہ ائمہ (ع) کی رجعت و حکومت کی تفصیل کو ائمہ معصومین (ع) کے علم پر چھوڑ دیا جائے۔
ایک سوال: رجعت کے بعد دنیا میں ائمہ (ع) کی بقاء اور ان کے انتقال کی کیفیت کیا ہے؟
ہر امام (ع) کی حکومت کی مدت کے بارے میں روایات میں وضاحت نہیں ہوئی ہے صرف ایک روایت میں کہ حضرت امام حسین (ع) اس قدر حکومت کریں گے کہ ان کی بھنویں آنکھوں پر لٹک آئیں گی۔ (6)
اس بارے میں بھی کوئی موثق روایت وارد نہیں ہوئی ہے کہ ائمہ (ع) کی قیامت منتقلی کی کیفیت کیا ہوگی لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی فطری عمر گذار کر طبیعی موت پر دنیا سے رخصت ہونگے۔ (ختم شد)
حوالہ جات:
4۔ مجلسی، بحار ج 53، ص70.
5۔ مجلسی، حق الیقین ص 262۔261.
6۔ مجلسی، حق الیقین ص252۔

Login to post comments