Print this page

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رجعت

مرداد 13, 1393 508
Rate this item
(0 votes)

ابوخالد کابلی نے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام سجاد (علیہ السلام) نے آیت کریمہ {إِنَّ الَّذِی فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ}۔ (1) کی

تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: {یرجع إلیكم نبیكم صلى الله علیه وآله}۔ (2) یعنی تمہارے نبی تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں مذکورہ لفظ "معاد" سے مراد روز موعود اور روز رجعت ہے اور یہ وہی دن ہے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) رجعت فرمائیں گے۔ ظاہر ہے کہ {یرجع إلیكم نبیكم} سے مراد یہ نہیں ہے کہ لوگ اس دنیا سے آخرت میں منتقل ہونگے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) وہیں ان کی طرف آئیں گے اور ان سے ملاقات کریں گے کیونکہ اس صورت میں عبارت یوں ہونے چاہئے تھی: {ترجعون الى نبیكم} (یعنی تم اپنے نبی کی طرف لوٹو گے)۔ علاوہ ازیں امام سجاد (علیہ السلام) نے اس واقعے میں "رجوع" سے تعبیر کیا ہے اور چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا وصال ہوچکا ہے لہذا رجوع سے مراد موت کے بعد دنیا میں واپسی ہی ہوگی۔ پس جو وہابی وغیرہ کہتے ہیں کہ رجوع کا عقیدہ (افسانوی شخصیت) ابن سبا وغیرہ کا بنا بنایا ہے، ان سے کہنا چاہئے کہ رجعت کا تفکر اسلام کے طلوع کے ساتھ ہی ابھرا تھا گو کہ ابتداء میں مسلمانوں کے درمیان یہ تفکر زیادہ جانا پہچانا نہ تھا اور اپنے لئے مناسب جگہ نہ پاسکا تھا اور بعد کے ادوار میں مباحث کی پیشرفت اور کتب کی تالیف کے بعد اس تفکر کو بھی نشو و نما ملی۔
حوالہ جات:
1. سوره قصص (28) آیه 85۔ ترجمہ: "بلاشبہ وہ جس نے قرآن پہنچانے کا فریضہ آپ کے ذمے عائد کیا، وہی آپ کو واپسی کی منزل پر دوبارہ لائے گا"۔
2. بحار الانوار  علامہ محمد باقر مجلیس ج 53 ص 56۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments