×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ظہور کے بعد ظالموں کی رجعت

مرداد 13, 1393 403

متعدد روایات میں منقول ہے کہ ہر معصوم (ع) کے زمانے کے ظالمین اور بدکار لوگ اسی امام کے زمانے میں رجعت کرکے واپس آئیں گے۔

علامہ مجلسی (رح) فرماتے ہیں: بعض مومنین اور بعض کفار اور نواصب و مخالفین کی رجعت کے بارے میں منقولہ روایات متواتر ہیں اور ان کا انکار دین و تشیع سے خروج کے زمرے میں آتا ہے۔ (1) نیز ان روایات میں آیا ہے کہ مومنین اپنا انتقام ظالموں سے لیں گے اور انہیں ہلاک کردیں گے۔ ذیل میں بعض نمونوں کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے:
1۔ سعد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ امام صادق (ع) نے فرمایا: "ہر امام (ع) جس صدی میں بھی تھا اس کے زمانے کے نیک اور بد لوگ لوٹ کر آئیں گے تاکہ خداوند متعال مومنین کو کافرین پر غلبہ عطا کرے گا اور مومنین ان سے انتقام لیں گے"۔ (2)
2۔ امام محمد باقر (ع) نے آیت کریمہ {إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِم مِّن السَّمَاء آیَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِینَ} (3) (اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ایک نشانی ایسی اتاریں کہ زبردستی ان کی گردنیں اس کے سامنے جھک جائیں)، کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اس آیت میں "نشانی" کا مصداق امیرالمومنین (ع) ہیں جن کے سامنے بنوامیہ کی گردنیں خوار ہوکر جھک جائیں گی، جو زوال کے وقت ظہور فرمائیں گے تا کہ لوگ انہیں حسب و نسب سے پہچان لیں پس بنی امیہ کو ہلاک کردیں حتی اگر امویوں میں سے کوئی شخص درخت کے اوٹ میں چھپ جائے تو درخت بولنے لگے گا اور کہے گا کہ یہ بنی امیہ میں سے ایک مرد ہے جو یہاں چھپا ہوا ہے اس کو قتل کرو"۔ (4)
حوالہ جات:
1۔ مجلسی، بحار ج 53، ص 118۔  
2۔ بحارالانوار ج53، ص42۔  
3۔ سورہ شعراء (26) آیت 4۔
4۔ بحار الانوار، ج53، ص110۔109۔  
3۔ حدیث مفضل کے نام سے مشہور حدیث ـ جس کو شیخ حسن بن سلیمان نے بصائر الدرجات میں بھی نقل کیا ہے ـ میں جب امام صادق (ع) نے مکہ میں حضرت ولی عصر (عج) کے مکہ مکرمہ میں ظہور اور وہاں سے کوفہ کی طرف سفر کو بیان فرمایا تو مفضل نے پوچھا: اے میرے سید! حضرت صاحب الامر (عج) وہاں سے کس طرف نکلیں گے؟ تو امام (ع) نے فرمایا: میرے جد (ص) کے شہر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہونگے۔ اس روایت کے تسلسل میں امام (ع) فرماتے ہیں: امام عصر (عج) اہل بیت رسول (ص) پر ظلم کرنے والے افراد کو اللہ کے اذن سے زندہ کریں گے اور ان سے اہل بیت (ع) کا انتقام لیں گے۔
اس کے بعد فرمایا: اس کے بعد امام حسین (ع) اپنے اصحاب اور 12000 صدیقین کے ہمراہ ظہور کریں گریں گے اور کوئی بھی رجعت اس زیادہ خوش کن نہ ہوگی، اس کے بعد صدیق اکبر حضرت امیرالمومنین (ع) باہر آئیں گے اور ان کے بعد باہر آئیں گے سیدالاکبر محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ان تمام افراد کے ساتھ جو آپ (ص) پر ایمان لائے ہیں مہاجرین و انصار میں سے، اور وہ جو آپ (ص) کی راہ میں جہاد کرکے شہید ہوئے ہیں، اور زندہ کریں گے ان لوگوں کی ایک جماعت کو جو آپ (ص) کو جھٹلاتے تھے اور آپ (ص) کی حقیقت میں شک کرتے تھے نیز لوٹائیں گے ائمہ (ع) کو یکے بعد دیگرے صاحب الامر (عج) تک تا کہ سب خوش ہوجائیں اور ان لوگوں کو بھی لوٹائیں گے جنہوں نے ان سے دوری کی تا کہ آخرت سے قبل ہی دنیا کی خواری اور ذلت کا مزہ چکھ لیں"۔ (5)
اس روایت اور مشابہ روایات سے تین نتائج حاصل ہوتے ہیں:
اولاً: اپنے زمانے کے كفار، نواصب اور مخالفین اور مخالفین دنیا میں لوٹائے جائیں گے؛  
ثانیاً: یہ ظالمین جب دیکھیں گے اس حکومت کو اہل بیت (ع) کے ہاتھوں میں، جس کو وہ انہیں نہیں پہنچنے دیتے تھے، محزون و مغموم ہونگے اور دنیاوی ذلت و خواری اور عذاب میں مبتلا ہونگے؛
ثالثاً: یہ ظالمین و ستمگر ائمہ اطہار (علیہم السلام) اور مومنین کے ہاتھ ان سے انتقام لیں گے اور اپنے ظالمانہ اقدامات کے بدلے سزا پائیں گے اور ہلاک ہونگے پس ان کی روح قبض ہوگی اور دنیا سے چلے جائیں گے لیکن ان کی موت طبعی نہ ہوگی بلکہ ہلاک کئے جائیں گے۔
حوالہ جات:
5۔ بحار الانوار ج 53 ص 16۔

Login to post comments