×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

نبوت کی نشانیاں

مرداد 13, 1393 436

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد محترم جناب حضرت عبداللہ بن عبد المطلب آپ کی ولادت سے چھ ماہ قبل وفات پا چکے تھے اور آپ کی

پرورش آپ کے دادا حضرت عبد المطلب نے کی ۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ مدت ایک بدوی قبیلہ کے ساتھ بسر کی جیسا عرب کا رواج تھا۔ اس کا مقصد بچوں کو فصیح عربی زبان سکھانا اور کھلی آب و ہوا میں صحت مند طریقے سے پرورش کرنا تھا۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت حلیمہ بنت عبداللہ اورحضرت ثوبیہ (درست تلفظ: ثُوَیبہ) نے دودھ پلایا۔ چھ سال کی عمر میں آپ کی والدہ اور آٹھ سال کی عمر میں آپ کے دادا بھی وفات پا گئے ۔ اس کے بعد آپ کی پرورش کی ذمہ داری آپ کے چچا اور بنو ہاشم کے نئے سردار حضرت ابوطالب نے سرانجام دی ۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضر ت ابوطالب کے ساتھ شام کا تجارتی سفر بھی اختیار کیا اور تجارت کے امور سے واقفیت حاصل کی ۔ اس سفر کے دوران بحیرا نامی ایک عیسائی راہب نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں کچھ ایسی نشانیاں دیکھیں جو ایک آنے والے پیغمبر کے بارے میں قدیم آسمانی کتب میں لکھی تھیں ۔ اس نے حضرت ابو طالب کو بتایا۔۔ نبوت کے اظہار سے قبل ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا حضرت ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹا کر اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کو ثابت کر دیا، جسکی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرب قبائل میں صادق اور امین کے القابات سے پہچانے جانے لگے تھے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بچپن عام بچوں کی طرح کھیل کود میں نہیں گذر رہا تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نبوت کی نشانیاں شروع سے موجود تھیں، آپ نبی بھی تھے ۔ اس قسم کا ایک واقعہ اس وقت بھی پیش آیا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بدوی قبیلہ میں اپنی دایہ کے پاس تھے ۔ وہاں حبشہ کے کچھ عیسائیوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بغور دیکھا اور کچھ سوالات کیے یہاں تک کہ نبوت کی نشانیاں پائیں اور پھر کہنے لگے کہ ہم اس بچے کو پکڑ کر اپنی سرزمین میں لے جائیں گے ۔ اس واقعہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مکہ لوٹا دیا گیا۔

Login to post comments