×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حضرت علی علیه السلام کی جنگیں

مرداد 13, 1393 879

جنگ نہروان یا قرآن کو نیزہ پر بلند کرنے کا نتیجہ: ابوسفیان کے بیٹے کی غلط سیاست اور اس کی دوسری عقل عمروعاص کی وجہ سے بہت

زیادہ تلخ اور غم انگیز واقعات رونماہوئے، اس کی پلاننگ بنانے والا پہلے ہی دن سے اس کے برے آثار سے آگاہ تھا اور اپنی کامیابی کے لئے حکمیت کے مسئلہ پر اسے مکمل اطمینان تھا اس سیاست کو سمجھنے کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ اس بدترین سیاست کی وجہ سے دشمن نے اپنی آرزو حاصل کی، جو نتیجہ اس سلسلہ میں نکلا ہے اس میں  سے درج ذیل چیزوں کا نام لے سکتے ہیں:
1۔ شام پر معاویہ کا قبضہ ہوگیا اور اس کے تمام سردار اور اس علاقہ میں اس کے نمائندے صدق دل سے اس کے مطیع وفرماں بردارہوگئے اور اگر کسی وجہ یا غرض کی بنا پر حضرت علی علیہ السلام سے دل لگائے ہوئے تھے تو ان کو چھوڑ کر معاویہ سے ملحق ہوگئے۔
2۔ امام علیہ السلام جو کامیابی کی آخری منزل پر تھے اس سے بہت دورہوگئے اور پھر کامیابی حاصل کرنا کوئی آسان کام نھیں تھا، کیونکہ امام علیہ السلام کی فوج میں جہاد کرنے کا جذبہ ختم ہو گیا تھا اور اب لوگوں کے اندر شہادت کا جوش و جذبہ نہیںتھا۔
3۔معاویہ کی برباد ہوتی ہوئی فوج دوبارہ زندہ ہوگئی،اور وہ پھر سے جوان ہوگئی اور عراق کے لوگوں کی روح کو کمزور کرنے کے لئے اس نے لوٹ مار اور غارت گری شروع کردی تاکہ اس علاقے کا امن وچین ختم ہوجائے اور مرکزی حکومت کو کمزور اعلان کردے،
4۔ ان تمام چیزوں سے بدتریہ کہ عراق کے لوگ دو گروہ میں بٹ گئے ایک گروہ نے حکمیت کو قبول کیااور دوسرے نے اسے کفر اور گناہ سے تعبیر کیا اور امام علیہ السلام کے لئے ضروری سمجھا کہ وہ اس کام سے توبہ کریں ورنہ اطاعت کی ریسمان گردن سے کھول دیں گے اور ان سے معاویہ کی طرح جنگ کے لئے آمادہ ہوجائیں گے۔
5۔ایسی فکر رکھنے کے باوجود، حکمیت کے مخالفین جو ایک وقت امام کے طرفدار اورچاہنے والے تھے اور امام علیہ السلام نے اس گروہ کے دباو کی وجہ سے اپنی مرضی اور اپنے نظریے کے برخلاف حکمیت کو قبول کیا تھا حضرت کے کوفہ میں آنے کے بعدہی ان لوگوں نے حکومت وقت کی مخالفت کرنے والوں کے عنوان سے شہر چھوڑدیا اور کوفہ سے دومیل کی دوری پر پڑاو ڈالا، ابھی جنگ صفین کے برے اثرات ختم نہ ہوئے تھے کہ ایک بدترین جنگ بنام ”‌نہروان“ رونما ہوگئی اور یہ سرکش گروہ اگرچہ ظاہری طور پر نابود ہو گیا لیکن اس گروہ کے باقی لوگ اطراف وجوانب میں لوگوں کو آمادہ کرنے لگے جس کی وجہ سے 19 رمضان   40  ہجری کو علی علیہ السلام خوارج کی اسی سازش کی بنا پر اور محراب عبادت میں شھیدہوگئے۔
جی ہاں، امام علیہ السلام نے اپنی حکومت کے زمانے میں تین بہت سخت جنگوں کا سامنا کیا جو تاریخ اسلام میں بے مثال ہیں:
پہلی جنگ میں عہد وپیمان توڑنے والے طلحہ وزبیر نے ام المومنین کی شخصیت سے جو کہ رسول اسلام کی شخصیت کی طرح تھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خونین جنگ کھڑی کی مگر شکست کھانی پڑی۔
دوسری جنگ میں مد مقابل ابوسفیان کا بیٹا معاویہ تھا جس نے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا بہانہ بنایا اور سرکشی کے ذریعے مرکزی حکومت اور امام منصوص اور مہاجرین و انصار کے ذریعے چنے گئے خلیفہ کی مخالفت کی اور حق وعدالت کے راستے سے منحرف ہوگیا۔
تیسری جنگ میں جنگ کرنے والے امام علیہ السلام کے قدیمی ساتھی تھے جن کی پیشانیوں پر عبادتوں کی کثرت سے سجدوں کے نشان تھے اور ان کی تلاوتوں کی آواز ہر طرف گونج رہی تھی اس گروہ سے جنگ پہلی دوجنگوں سے زیادہ مشکل تھی،مگر امام علیہ السلام نے کئی مہینہ صبر تحمل، تقریروں اور بااثر شخصیتوں کے بھیجنے کے بعد بھی جب ان کی اصلاح سے مایوس ہوگئے اور جب وہ لوگ اسلحوں کے ساتھ میدان جنگ میں آئے تو ان کے ساتھ جنگ کی اور خود آپ کی تعبیر کے مطابق ”‌فتنہ کی آنکھ کو جڑ سے نکال دیا“ امام علیہ السلام کے علاوہ کسی کے اندر اتنی ہمت نہ تھی کہ ان مقدس نما افراد کے ساتھ جنگ کرتا لیکن حضرت علی علیہ السلام کا اسلام کے ساتھ سابقہ اور پیغمبر اسلام(ص) کے زمانے میں جنگ کے میدان میں آپ کی ہجرت اور ایثار اور پوری زندگی میں زہد و تقویٰ اور مناظرہ کے میدان میں علم ودانش سے سرشار اور بہترین منطقی دلیل وغیرہ جیسی صلاحیتوں نے آپ کو وہ قدرت عطا کی تھی کہ جس کے ذریعے آپ نے فساد کو جڑ سے اکھاڑدیا۔
تاریخ اسلام میں یہ تینوں گروہ ناکثین(عہد وپیمان توڑنے والے) اور قاسطین(ظالم و ستمگر اور حق سے دور ھونے والے)اور مارقین(گمراہ اور دین سے خارج ہونے والے افراد) کے نام سے مشہور ہیں۔یہ تینوں نام پیغمبر کے زمانے میں رکھے گئے تھے خود رسول اسلام(ص) نے ان تینوں گروہوں کے اس طرح سے صفات بیان کئے تھے اور علی علیہ السلام اور دوسرے لوگوں سے کہا تھا کہ علی ان تینوں گروہ سے جنگ کریں گے، پیغمبر اسلام(ص) کا یہ کام خونی جنگ اور غیب کی خبر دیتاہےجسے اسلامی محدثین نے حدیث کی کتابوں میں مختلف مناسبتوں سے یاد کیا ہے نمونہ کے طورپر یہاں ان میں سے ایک کو ذکر کررہے ہیں علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
 ” امرنی رسول اللّٰہ(ص) بقتال الناکثین والقاسطین و المارقین“ [1]
 پیغمبر اسلام(ص) نے مجھے حکم دیا کہ ناکثین، قاسطین اور مارقین کے ساتھ جنگ کروں۔
ابن کثیر متوفی 774  ہجری نے اپنی تاریخ میں اس حدیث کے کچھ حصے کو نقل کیا ہے وہ لکھتاہے کہ پیغمبر اسلام(ص) ام سلمہ کے گھر میں داخل ہوئے اور کچھ دیر بعد علی علیه السلام بھی آگئے پیغمبر(ص)نے اپنی بیوی کی طرف رخ کرکے کہا:
”‌یا امَّة َ سلمة ھذا واللّٰہ قاتلُ النّاکثین والقاسطین والمارقین من بعدی “ [2]یعنی،اے ام سلمہ، یہ علی، ناکثین، قاسطین اور مارقین سے میرے بعد جنگ کرے گا۔
تاریخ اور حدیث کی کتابوں سے رجوع کرنے پر یہ حدیث صحیح اور محکم ثابت ہوئی ہے اسی وجہ سے یہاں پر مختصر کررہے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ محقق بزرگوار علامہ امینی نے اپنی کتاب ” الغدیر“ میں اس حدیث کے متعلق بیان کیا ہے اور اس کی سند اور حوالے وغیرہ کو جمع کیا ھے۔[3]
مارقین کی تاریخ شاہد ے کہ یہ لوگ ہمیشہ اپنے زمانے کی حکومتوں سے لڑتے تھے اور کسی کی حکومت کو قبول نہیں کیانہ حاکم کو رسمی طور پر پہچانتے تھے اور نہ حکومت ہی سے کوئی واسطہ رکھتے تھے حاکم عادل اور حاکم منحرف، مثل علی علیہ السلام اور معاویہ ان کی نظروں میں برابر تھے اور ان لوگوں کا یزید ومروان کے ساتھ رویہ اور عمربن عبد العزیز کے ساتھ رویہ برابر تھا۔
خوارج کی بنیاد
  خوارج کا وجود پیغمبر اسلام(ص) کے زمانے سے مرتبط ہے یہ گروہ پیغمبر کے زمانے میں اپنی فکر اور نظریہ پیش کرتا تھا اور ایسی باتیں کرتا تھا کہ وجدان اسے تسلیم نھیں کرسکتا اور لڑائی جھگڑا ان سے ظاہر ہوتاتھا درج ذیل موارد اسی موضوع سے متعلق ہیں:
پیغمبر اسلام(ص) نے جنگ “ حنین “ سے حاصل ہوئے مال غنیمت کو مصلحت کی بنا پر تقسیم کردیا اور مشرکوں میں سے جو نئے مسلمان ہوئے تھے ان کے دلوں کو اسلام کی طرف کرنے کے لئے جو بہت سالوں سے اسلام سے جنگ کررہے تھے زیادہ مال غنیمت دیا،اس وقت حرقوص بن زہیر نے اعتراض کیااور غیر مہذب طور سے پیغمبر سے کہا، عدالت سے کام لیجیئے۔
اس کی غیر مہذب گفتگو نے پیغمبر اسلام(ص) کو ناراض کردیا اور اس کا جواب دیا، لعنت ہو تجھ پر اگر عدالت ہمارے پاس نہ ہوگی تو پھر کہاں ہوگی؟ عمر نے اس وقت درخواست کی کہ اسے قتل کردیں، لیکن پیغمبر نے اس کی درخواست قبول نہیں کی اور ان کے بھیانک نتیجے کے بارے میں کہا، اسے چھوڑدو کیونکہ اس کی پیروی کرنے والے ایسے ہوں گے جو دینی امور میں حد سے زیادہ تحقیق وجستجو کرنے والے ہوں گے اور بالکل اسی طرح کہ جس طرح سے تیر کمان سے خارج ہوتا ہے وہ دین سے خارج ھوجائیں گے۔ [4]
بخاری نے اپنی کتاب ”‌مولفة القلوب“میں  اس واقعہ کو تفصیل سے لکھا ہے وہ لکھتے ہیں:
پیغمبر نے اس کے اور اس کے دوستوں کے بارے میں یہ کہاہے ”‌ یمرقون من الدین ما یمرقُ السَّھمُ من الرّمیَّةِ “[5]
پیغمبر نے لفظ ”‌مرق“ استعمال کیا ہے جس کے معنی پھینکنے کے ہیں کیونکہ یہ گروہ دین کے سمجھنے میں اس قدر ٹیڑھی راھوں پر چلے گئے کہ دین کی حقیقت سے دور ھوگئے اور مسلمانوں کے درمیان مارقین “ کے نام سے مشہور ہوگئے۔[6]
اعتراض کرنے والاحرقوص کے لئے سزاوار یہ تھا کہ شیخین کی خلافت کے زمانے میں خاموشی کو ختم کردیتا اور ان دونوں خلیفہ کے چنے جانے اور ان کی سیرت پر اعتراض کرتا، لیکن تاریخ نے اس سلسلے میں اس کا کوئی رد عمل نقل نھیں کیا ہے،صرف ابن اثیر نے ” کامل “ میں تحریر کیاہے کہ اہواز کی فتح کے بعد حرقوص خلیفہ کی طرف سے اسلامی فوج کا سردار معین تھا اور عمر نے اہواز اورورق کے بعد جو اسے خط لکھا اس کی عبارت بھی ذکر کی ہے [7]
طبری نقل کرتےہیں کہ 35 ہجری میں حرقوص بصریوں پر حملہ کرکے، عثمان کی حکومت میں مدینہ آگیا اور مصر اور کوفہ کے لوگوں کے ساتھ خلیفہ کے خلاف سازشیں کرنے لگا۔[8]
اس کے بعد سے تاریخ میں اس کے نام ونشان کا پتہ نھیں ملتا اور اس وقت جب حضرت علی علیه السلام نے چاہا کہ ابوموسیٰ کو فیصلہ کرنے کے لئے بھیجیں،تو اس وقت اچانک حرقوص زرعہ بن نوح طائی کے ساتھ امام کے پاس آیا اور دونوں کے درمیان سخت بحث ومباحثہ ہوا جسےہم ذکر کررہے ہیں۔
حرقوص:وہ غلطیاں جو تم نے انجام دی ہیں اس کے لئے توبہ کرو اور حکمین کو قبول نہ کرو اورہمیں دشمن سے جنگ کرنے کے لئے میدان میں روانہ کرو تاکہ ان کے ساتھ جنگ کریں اور شہید ہوجائیں۔
 امام علیہ السلام: جب حکمین کا مسئلہ طے ہورہا تھا اس وقت میں نے اس کے بارے میں تم کو بتایا تھا لیکن تم نے میری مخالفت کی اور اب جب کہ ہم نے عہد وپیمان کرلیا ہے تو مجھ سے واپس جانے کی درخواست کررہے ہو؟ خداوندعالم فرماتاہے ” وَاوفو بعھد اللّٰہ اذاعا ھدتم ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلاً انّ اللّٰہ یعلم ماتفعلون“(نحل 91) یعنی خدا کے عہدوپیمان، جب تم نے وعدہ کرلیا ہے تو اس کو وفا کرو اور جو تم نے قسمیں کھائی ہیں ان کو نہ توڑو،جب کہ تم نے اپنی قسموں پر خدا کو ضامن قراردیا ہے اور جوکچھ بھی تم کرتے ہو خدا اس سے باخبرہے۔

Login to post comments