×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اپنے زمانے کے امام کی معرفت!

مرداد 13, 1393 560

رسول اللہ (ص) نے فرمایا:{من مات و لم یعرف امام زمانه مات میتة جاهلیة}۔ (1)   «اگر کوئی اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر دنیا سے

رخصت ہوجائے، وہ دوران جاہلیت کی موت مرا ہے۔»
یہ حدیث سنی اور شیعہ کی منابع میں متفق علیہ ہے۔ اب اگر کوئی کہے کہ یہ حدیث درست نہیں ہے تو وہ جھوٹا ہے۔
اگر کوئی کہے کہ یہ حدیث رسول اللہ (ص) کے زمانے کے لئے ہے تو وہ بھی جھوٹا ہے کیوں کہ ہر زمانے کے لوگوں پر اپنے امام کی معرفت حاصل کرنا لازم ہے۔
اور اگر کہے کہ حدیث صحیح بھی ہے اور آفاقی بھی اور ابدی بھی ہے تو یہ بتانا پڑے گا کہ اس کا امام زمانہ کون ہے؟ آپ کا امام کون ہے؟؟؟
اب جبکہ امام (ع) کا ہونا ضروری ہے تو منکرین کو مہدی بتائیں کہ ان کے زمانے کا امام کون ہے؟۔۔۔ وہ امام کون ہے جس کو اگر وہ نہ پہچانیں تو جاہلیت کی موت مریں گے؟ جاہلیت یعنی دوران جاہلیت اور زمانۂ شرک۔
حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
"اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن بھی باقی ہو خداوند متعال اس ایک دن کو اتنا طویل کرے گا کہ حضرت مہدی (عج) ظہور فرمائیں اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں جیسے کہ یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی"۔ (2)
یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال ہفتہ وحدت کے ایام میں – ایک طرف سے وحدت و اتحاد بین المسلمین پر کاری ضربیں لگائی گئیں اور استعمار و استکبار کی خوب خوب خدمت کی گئی۔ امہ کے مختلف فرقوں، مکاتب اور مذاہب کے کثیر علماء نے ایک نہایت اہم اور عالمی اہمیت کی حامل قرارداد منظور کرلی۔ وہ یہ کہ:
«کسی بھی اسلامی فرقے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسرے اسلامی فرقوں کے پیروکاروں کی تکفیر کریں اور یہ کام غلط ناروا اور ناجائز ہے».
ہاں البتہ وہ فرقے جو غلو جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں یا اپنے اعمال کے ذریعے دشمن کی خدمت کررہے ہیں اور مسلمانوں اور دین مبین کو نقصان پہنچاتے ہیں یا فرقے نہیں ہیں بلکہ دشمنوں کے ہاتھوں بنے ہوئے ادارے ہیں، ان کا حساب اصلی اور حقیقی اسلامی فرقوں سے الگ ہے"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ الوهم المكنون فى الردّ على ابن خلدون ، ابوالعباس بن عبدالمۆمن، مغربى۔ کنزالعمال ج 1 ص 103۔ مسند ابی یعلی ج 13 ص 366۔
2۔ مسند احمد حنبل ج1ص99 و سنن ابن ماجہ ج2ص929۔

Login to post comments