×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام غائب کیونکر مومنین کا سہارا ہوسکتے ہیں؟

مرداد 13, 1393 434

امام (عج) خود بھی فرماتے ہیں: "لوگ میرے وجود سے بادل کے پیچھے سورج کی مانند، فائدہ اٹھاتے ہیں میں روئے زمین کے لوگوں کے لئے

سکون و امان کا سبب ہوں جس طرح کہ ستارے اہل آسمان کے لئے امن و امان کا سبب ہیں"۔ (3)
اس تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اولا غیبت کے زمانے میں انسان اور جہان شدت کے ساتھ ولی عصر (عج) کے وجود کے محتاج ہیں کیونکہ تمام الہی فیوضات ان کے ذریعے دوسروں تک پہنچتے ہیں:
"ان کی بقاء سے دنیا باقی ہے اور ان کی برکت سے مخلوقات رزق پاتے ہیں اور ان کے وجود سے زمین و آسمان استوار ہیں"۔ (4)
ثانیاً: امام (عج) کی غائبانہ نگرانی اور حمایت شیعیان آل رسول(ص) اور مسلمین کی روح و قلب کو تسکین اور تقویت پہنچتی ہے؛ جیسا کہ امام (عج) کے کلام میں اشارہ ہوا۔
چنانچہ اس امام حیّ و حاضر پر ایمان ـ جو مظلومین کا ملجا اور دین و شریعت کے محافظ ہیں ـ ان کے پیروکاروں اور منتظرین کی تسکین و قوت قلب کا سبب ہے اور ان کو مایوسی سے نجات دلاتا ہے۔ یہ اعتقاد ظلم و ستم کے سامنے شیعیان آل رسول (ص) کی استقامت اور عدل و انصاف طلبی کی روح کی تقویت اور دشمن کے مقابلے میں ان کی بےمثل مزاحمت کے اسباب فراہم کرتا ہے۔
اسی اعتقاد کے بموجب شیعیان آل رسول (ص) ہمیشہ اپنے آپ کو ایک نہایت طاقتور مرکز سے پیوستہ پاتے ہیں ایسا مرکز جو آخرکار بنی نوع انسان کے روشن انجام کا تعین کرے گا چنانچہ وہ پوری شاداب اور نشاط کے ساتھ ہر قسم کے ایثار و جانفشانی کے لئے تیار رہتے ہیں اور مطلوبہ عالمی معاشرے کی تشکیل کے لئے سعی پیہم کرتے ہیں۔
چنانچہ امام غا‏ئب (عج) کے متعدد فوائد کے علاوہ، اہم ترین فائدہ یہ ہے کہ ان کا وجود ذیجود مومنین اور منتظرین کی امید کا موجب ہے اور عدل کے قیام کے لئے جدوجہد کا محرک ہے؛ اسی تفکر نے ہی شیعہ معاشروں کو زندہ ترین معاشروں میں تبدیل کیا ہے اور ان معاشروں کی بقاء کی ضمانت دی ہے۔
امام صادق (ع) نے فرمایا:
"اہم یہ ہے کہ اپنے زمانے کے امام کو پہچان لو پس جب تم انہیں پہچان لو، ظہور کا تقدم یا تأخر تمہیں کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا"۔ (5)
...........
3۔ كمال الدین و تمام النعمه، شیخ صدوق، ص 485۔
4۔ مفاتیح الجنان، دعای عدلیه۔
5۔ الغیبه نعمانی، ص 351۔

Login to post comments