×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ظہور امام (عج) اور ہمارے اعمال

مرداد 14, 1393 467

انتظار ظہور کی بہترین روش کیا ہے؟ کیا ہمارے گناہ امام (عج) کے ظہور میں تاخیر کا سبب ہوسکتے ہیں؟ غیبت کے زمانے میں

حضرت مہدی (عج) کا انتظار مسلمانوں کا اہم ترین فریضہ ہے: انتظار لغت میں مراقب و نگران ہونے، امور میں غور کرنے اور چشم براہ ہونے کے معنی میں آیا ہے۔ (1) منتظر ایک پرامید، وسیع القلب، اور ایک محبوب الہی پر عقیدہ و ایمان رکھنے والا شخص ہے جو اس کے فراق میں جلتا ہے اور اس موعود کے لئے ماحول فراہم کرتا ہے جس کا وہ انتظار کررہا ہے؛ وہ اپنے مولا کا منتظر ہے اور جس قدر اس کا انتظار شدید ہوگا، ظہور کے لئے اس کی تیاری کی کوشش بھی اتنی ہی شدید ہوگی یعنی وہ گناہ سے پرہیز اور تزکیہ نفس اور مذموم صفات سے دوری نیز اچھی صفات سے متصف ہونے کی اتنی ہی کوشش کرے گا۔
امام صادق (ع) نے فرمایا:
"جو امام قائم (عج) کا صحابی و مددگار بننا چاہے اس کو منتظر رہنا چاہئے اور گناہوں سے پرہیز اور اخلاق کے محاسن پر عمل کرنا چاہئے۔ وہ منتظر ہے؛ پس اگر وہ مرجائے اور اس کی موت کے بعد امام مہدی (عج) ظہور فرمائیں اس کو اس شخص کا اجر و ثواب ملے گا جس نے آپ (عج) کے دور حکومت کا ادراک کیا ہو"۔ (2)
حقیقی منتظر وہ ہے جو اپنے فرائض پر عمل کرے اور اس کے فرائض کچھ یوں ہیں:
1۔ امام (عج) کی معرفت منتظر کا سب سے پہلا فریضہ ہے کیونکہ رسول اللہ (ص) کا فرمان ہے کہ "جو مرے اور اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے وہ جاہلیت و شرک کی موت مرا ہے"۔ (3)
2۔ امام صادق (ع) کے ارشاد کے مطابق "اپنے امام (عج) کے فراق سے محزون ہو"۔ (4)
3۔ دعائے ندبہ اور دعائے عہد سمیت امام (عج) کے لئے وارد ہونے والی دعائیں پڑھنا۔ (5)
4۔ اصلاح معاشرہ اور امر و نہی کے احیاء کی کوشش کرنا۔ (6)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ التحقیق فی كلمات القرآن، حسن مصطفوی، ج 12، ص 166۔
2۔ معجم احادیث المهدی ج 3 ص 417۔
3۔ بحار الانوار، ج 8، ص 368، ج 32، ص 321 و 333، ینابیع المودہ حنفی قندوزی، ج 3، ص 327.
4۔ كمال الدین شیخ صدوق، ص 371۔
5۔ بحار الانوار، ج 110، ص 380۔
6۔ میزان الحكمه، ج 4، ص 531۔
مومنین فرائض پر عمل کریں تو وہ بری الذمہ ہونگے لیکن ان کے اس عمل کی وجہ سے قطعی طور پر ظہور وقوع پذیر نہیں ہوتا کیونکہ اگرچہ ظہور قطعی ربانی حکم ہے لیکن بعض شرطوں سے مشروط ہے:
1۔ فکری و علمی و ثقافتی تیاری:
انسان کی فکری سطح اس قدر بلند ہو کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کریں کہ جغرافیہ، قوم، رنگ اور نسل انسانوں کے الگ الگ ہونے کا جواز نہیں ہے۔
2۔ معاشرتی تیاری:
دنیا کے لوگ موجودہ نظاموں کے ظلم و ستم سے اکتا جائیں اور یک پہلو مادی زندگی کی تلخی کو محسوس کریں، مسائل کے حل سے مایوس ہوجائیں اور ادراک کریں کہ صرف عالم انسانیت کے نجات دہندہ کی حکومت ان کے مسائل حل کرسکتی ہے۔
امام صادق (ع) نے فرمایا: جب تک معاشروں کے تمام طبقات حکومت نہ کریں امام (عج) ظہور نہیں کریں گے تا کہ کوئی نہ کہہ سکے کہ "اگر ہم بر سر اقتدار آتے عدل و انصاف کے مطابق عمل کرتے!۔ (7)
3۔ فنی و مواصلاتی تیاری:
جدید مصنوعات کی موجودگی نہ صرف ایک عالمی حکومت عدل کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہیں بلکہ شاید ان کی غیر موجودگی میں اس عظیم ہدف کا حصول ممکن ہی نہ ہو کیونکہ معجزہ ایک آسمانی دین کی حقانیت کے لئے ضروری ہے لیکن ایک معاشرے کے دائمی انتظام کے لئے نہیں ہے۔ (8)
4۔ فردی تیاری:
عالمی حکومت کے لئے سب سے زیادہ تیار اور قابل قدر افرادی قوت کی ضرورت ہے تا کہ مطلوبہ عظیم اصلاحات کو سرانجام دے سکے اور اس کے لئے فکری اور روحانی آمادگی اور آگہی کی ضرورت ہے۔ (9)
5۔ عسکری تیاری:
مسلمانوں کو ہمیشہ جہاد کے جذبے اور عسکری لحاظ سے تیاری کا اہتمام جاری رکھنا چاہئے تا کہ حق کا طلیعہ طلوع ہوتے ہیں مہدی (عج) کے رکاب میں لڑنے والے مجاہدین سے جاملیں؛ چنانچہ امام صادق (ع) منتظرین کو دعوت دیتے ہیں کہ ہمیشہ طاقتور اور مسلح رہیں اور امام (عج) کے انتظار کے دور کو مکمل تیاری کے ساتھ بسر کریں۔ (10)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
7۔ بحار الانوار، ج 52، ص 244.
8۔ حكومت جهانی حضرت مهدی (عج)، مكارم شیرازی، ص 82۔
9۔ همان۔
10۔ محمد رضا حكیمی، خورشید مغرب، چاپ 23، ص 274۔
امام زمانہ (ع) کے ظہور کے لئے دوسرے رمز و راز بھی بیان ہوئے ہیں جن سے صرف خداوند متعال ہی واقف و آگاہ ہے۔
امام صادق (ع) فرماتے ہیں: حضرت مہدی (عج) اس وقت ظہور نہیں فرمائیں گے جب تک کفار اور منافقین کی صلب میں ودیعت، مومن افراد کے نطفے، خارج ہوجائیں۔ (11) ظاہر ہے کہ گناہ خدا کے غضب کا سبب ہے اور رسول اللہ (ع) کے فرمان کے مطابق "گناہ نعمتوں کو دگرگون کردیتے ہیں"۔ (12) چنانچہ گناہوں کی وجہ سے اس عظیم نعمت کا ظہور بھی موخر ہوسکتا ہے۔
امیرالمومنین (ع) فرماتے ہیں: اشک خشک نہیں ہوتے مگر قساوت قلبی کی وجہ سے اور قلوب قسی نہیں ہوتے مگر گناہوں کی کثرت کی وجہ سے۔ (13) امام صادق (ع) فرماتے ہیں: جب کوئی گناہ کرتا ہے اس کے دل میں ایک سیاہ دھبہ معرض وجود میں آتا ہے؛ اگر توجہ کرے تو وہ سیاہ دھبہ صاف ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر گناہ کو دہرائے تو وہ سیاہ دھبہ بڑا ہوجاتا ہے اور اس کے بعد وہ فلاح نہیں پاتا۔ (14)
پس انسان اپنے گناہ کے تناسب سے انتظار فَرَج کے دائرے سے خارج ہوتا ہے اور اگر اگر اپنی گمراہان سیر کو جاری رکھے جس قدر وہ منحرف تر ہوگا صراط انتظار و انسانیت سے دور تر ہوگا؛ علاوہ ازیں بعض روایات کے مطابق ظہور کا وقت ان امور میں سے ہے جس میں پس و پیش ہونے کا امکان ہے (15) چنانچہ خیال رہنا چاہئے کہ اگر ہم ضروری آمادگیوں کی طرف گامزن نہ ہوئے، قیام مہدی (عج) کے لئے ماحول فراہم نہ کریں ممکن ہے کہ ظہور مہدی (عج) موخر ہوجائے۔ یعنی ہمارے گناہ اس کو موخر کرسکتے ہیں جیسا کہ ہمارے نیک اعمال تعجیل فَرَج کا سبب بن سکتے ہیں۔
..............
11۔ دادگستر جهان، امینی، ص 243؛ اثبات الهداة، ج 7، ص 105۔
12۔ مستدرك الوسایل محدث نوری، ج 12، ص 334۔
13۔ بحار الانوار، ج 70، ص 55.  
14۔ كلینی، اصول كافی، ج 2، ص 271.
15۔ مكیال المكارم، ص 410۔

Login to post comments