×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ظہور اور عقول کی ترقی

مرداد 14, 1393 449

انسان عقلی پہلو، مساوات اور اخلاق کے سلسلے میں وسیع راستہ طے کرچکا ہے اور بے شک انسان کی علمی، سائنسی نیز اخلاقی

اور انسانی حوالے سے ترقی اور پیشرفت میں انبیاء (ع) اور اصول وحی کے آموزگاروں کا کردار بہت ہے؛ اور چونکہ حضرت مہدی (عج) خاتم الاولیاء اور آخری سفیر (ص) کے آخری ولی ہیں، اسی لئے وہ اپنے ظہور کے زمانے میں انسانوں کو اخلاق و علم و سائنس و فن اور برابری اور مساوات اور مقام و مرتبت کے لحاظ سے اعلی ترین رتبے تک پہنچا دیں گے۔
امام محمد باقر (ع) نے فرمایا: جب ہمارے قائم (عج) قیام کریں گے بندگان خدا کے سروں پر ہاتھ پھیریں گے اور ان کی عقل کو مرکوز اور یکسو کردیں گے اور ان کی عقلی قوتوں کو کمال تک پہنچائیں گے۔ (1)
امام مہدی (ع) کی حکومت میں کئی عوامل ہیں جو اخلاقی برائیوں کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اور اخلاقی پیشرفت کا سبب بنیں گے؛ ان عوامل میں سے بعض، کچھ یوں ہیں:
امام حسن (ع) نے فرمایا:
آخرالزمان میں خدا ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جن کی وجہ سے کوئی بھی منحرف و فاسد شخص نہ رہے گا مگر یہ کہ ہدایت پائے گا۔ (3)   
لوگوں کے ارادے اور ان کی آگہی کا امام (ع) کی حکومت تک پہنچنے میں اہم کردار ہے کیونکہ وہ عالمی حکومت معرض وجود میں لانا چاہتے ہیں اور عالمی حکومت کے لئے پہلے سے تیار اور آمادہ اور قابل قدر افرادی قوت کی ضرورت ہے اور اس قوت کو معرض وجود میں لانے کے لئے افراد معاشرہ کی آگہی کی سطح بلند کرنا اور انہیں فکری و روحی لحاظ سے تیار کرنا پڑتا ہے تا کہ امام زمانہ کے الہی پروگرام پر عملدرآمد ہوسکے۔  کیونکہ معجزے کا کردار جزوی ہی ہوگا حقانیت کے اثبات کے لئے ورنہ تو دنیا کا انتظام انسانی فطرت اور معمولات کے عین مطابق ہوگا۔ (4)  
ارشاد رسول (ص):
"تم میں سب سے زیادہ با ایمان وہ ہے جو سب سے زیادہ صاحب شناخت و معرفت ہو"۔ (5)
ارشاد امیر (ع):
"مہدی (عج) بدکار قاضیوں (ججوں) کو برخاست کریں گے ۔۔۔ ستمگر حکمرانوں کو معزول کریں گے اور زمین کو ہر نادرست اور خائن سے پاک کریں گے"۔ (6)
حوالہ جات:
1۔ مكیال المكارم، ج 1، ص 144؛ كافی، ج 1، ص 25۔   
2۔ مكارم شیرازی، حكومت جهانی مهدی، ص 276۔  
3۔ حرّ عاملی، اثباة الهداة، ج 3، ص 524۔  
4۔ حكومت جهانی حضرت مهدی، ج 11 ص 82۔
5۔ جامع الاخبار، ص 36۔  
6۔ بحارالانوار، ج 51، ص 120۔  
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

Login to post comments