×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام زمانہ (عج) کا دارالحکومت

مرداد 14, 1393 476

سوال یہ ہے کہ کوفیوں نے امیر المومنین، امام حسن اور امام حسین (ع) کے ساتھ بےوفائی کی اس کے باوجود امام زمانہ کوفہ کو ہی

کیوں دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ کوفہ عسکری و تزویری لحاظ سے اہم ہے جس کی وجہ سے امام زمانہ (عج) ظہور کے بعد کوفہ جانا چاہتے ہیں؟
جواب:
قرآنی آیات اور احادیث نبوی کے پیش نظر، مہدویت کا مسئلہ مسلمات اور متواترات میں سے ہے اور دین مبین اسلام کے مسلّمات میں شمار ہوتا ہے۔
مذہب امامیہ نے اس مسئلے کی تشریح کا دوسروں کی نسبت زیادہ اہتمام کیا ہے کیونکہ ہمارے ائمہ (ع) نے اس کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور ہر موقع و مناسبت سے امام مہدی (عج) کے ظہور اور عالمی حکومت عدل کے قیام کی وضاحت فرمائی ہے۔ چنانچہ مذہب امامیہ میں امام زمانہ (عج) کے انقلاب اور عالمی حکومت عدل کی جزئیات و تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے وارد ہونے والی روایات و احادیث بہت زیادہ ہیں اور صرف اس فنّ کے متخصصین ہی صحیح اور ضعیف احادیث کی تشخیص کرسکتے ہیں چنانچہ ہر حدیث کو دیکھتے ہی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ ظہور اور قیام حکومت کی کیفیت اور تفصیلات یہی ہیں جو اس حدیث میں مذکور ہیں۔
روایات کی تفصیلات کے ضمن میں امام (ع) کے دارالحکومت کے عنوان سے کوفہ کا نام لیا گیا ہے اور اگر کہا جائے کہ کوفیوں کی بےوفائیوں کے باوجود اس شہر کو کیوں دارالحکومت قرار دیا گیا ہے؟
جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ:
1۔ اللہ کی مشیت ہے کہ عالمی حکومت کا مرکز کوفہ ہو اور خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور ائمہ طاہرین (ع) نے جس عالمی حکومت کے قیام کی بشارت دی ہے۔ خداوند متعال نے اس کا آغاز کو مکہ سے اور امام (عج) کی حکومت کا قیام کوفہ قرار دیا ہے۔
2۔ ایک خاص زمانے میں کوفیوں کی بےوفائی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مستقبل میں بھی ـ جس کا تعین ممکن نہیں ہے ـ کوفہ کے عوام پھر بھی بےوفائی جیسی صفت سے متصف ہوں!؛ حضرت امیر اور امام حسن و امام حسین (ع) کے زمانے میں کوفیوں کی بےوفائی کی وجہ سے کوفہ بےاعتبار نہیں ہوتا کیونکہ ائمہ (ع) سے منقولہ روایات میں کوفہ اور اہل کوفہ کو ممدوح قرار دیا گیا ہے:
"عبداللہ بن ولید کہتے ہیں: ہم (آخری مروانی حکمران) مروان کے دور میں امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امام (ع) نے فرمایا: کہاں کے رہنے والے ہو؟ ہم نے جواب دیا: ہم کوفہ کے باشندے ہیں۔ امام (ع) نے فرمایا:
"سرزمینوں میں سے کوئی سرزمین نہیں ہے اور شہروں میں سے کوئی شہر نہیں ہے جو اہل کوفہ کی مانند ہم سے محبت کرے (یعنی کوفہ والے ـ ہم سے ـ دوسرے تمام شہروں سے محبت کرتے ہیں)۔۔۔ (1)
حوالہ جات:
1۔سفینة البحار، محدث قمی، ج 7، ص 544، به نقل از المناقب، دار الاسو، چ سوم، 1422.
اگر ہم اس روایت کو اسی زمانے سے مخصوص قرار دیں تو بھی نتیجہ یہ ہے کہ ایک خاص زمانے کی بےوفائی کی بنا پر اس شہر کے لوگ ابد تک بےوفا ہی ہوں؛ بلکہ امام صادق (ع) کے زمانے میں ـ جو وقت کے لحاظ سے بےوفائی کے ایام سے قریب تر تھا ـ امام (ع) نے کوفہ اور اہل کوفہ کی تعریف کی ہے۔
امام صادق (ع) نے فرمایا:
"ہماری ولایت تمام شہروں کے سامنے پیش کی گئی اور کوفہ کے سوا کسی شہر نے اسے قبول نہ کیا"۔ (2)
پس کسی خاص زمانے میں کسی خاص گروہ کی بےوفائی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس شہر کے لوگ ہمیشہ کے لئے بےوفا ہونگے۔
3۔ کوفہ ایک مقدس مقام ہے اور شاید اسی تقدس کے لحاظ سے خداوند متعال نے اس شہر کو عالم کے واحد نجات دہندہ کی حکومت کا دارالحکومت قرار دیا ہے۔ اور اللہ کا یہ ارادہ بعض دوسری مصلحتوں پر استوار ہو جن کا علم صرف خدا کے پاس ہے اور ان مصلحتوں کا اس شہر کے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کئی احادیث و روایات شہر کوفہ کے تقدس پر دلالت کرتی ہیں:
امام صادق (ع) نے فرمایا:
"کوفہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغت ہے جس میں نوح و ابراہیم اور سیدالاوصیاء حضرت امیر المۆمنین (علیہم السلام) کی قبور واقع ہوئی ہیں"۔ (3)
"کوفہ میں ایک درہم کی خیرات دوسرے شہروں میں 100 درہم خیرات کے برابر ہے اور کوفہ میں دو رکعت نماز 100 رکعتوں کے برابر ہے"۔ (4)
4۔ امام مہدی (عج) کی حکومت عالمی حکومت ہے اور جب وہ کوفہ کو اپنی حکومت کا مرکز اور دارالحکومت قرار دیں گے، تو اس کا تعلق صرف کوفیوں سے نہ ہوگا بلکہ امام (عج) کی حکومت کا مرکز پوری دنیا میں قائم حکومت کا دارالحکومت ہوگا۔
"خداوند متعال نے سرزمینوں میں سے چار کو پسند فرمایا:
{وَالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ * وَطُورِ سِینِینَ * وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِینِ}۔ (5)
"تین" مدینہ ہے، "زیتون" بیت المقدس ہے، "طور سینین" کوفہ ہے اور تین مدینه است و زیتون بیت المقدس، طور سنین كوفه و "بلد الامین" مکہ ہے۔ (6) (ختم شد)
حوالہ جات:
2۔ بصائر الدرجات ص 96۔
3۔ بحوالہ فرحة الغری ـ سید ابن طاؤس ـ ص 98۔
4۔ كامل الزیارات۔ باب هشتم فضیلت نماز خواندن در مسجد كوفه ۔ ح 2۔
5۔ سورہ تین (95) آیات 1 تا 3۔
6۔ سفینة البحار، ج 7، ص 543 ـ تفسیر الاصفی ج 2 الفیض الكاشانی ص 1457۔ خصال شیخ صدوق ص 225۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments