×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

دجال کا تعارف بعض احادیث کی روشنی میں

مرداد 14, 1393 827

امیرالمومنین (ع) نے فرمایا "دجال صائد بن الصید" ہے جو اصفہان کے ایک گاؤں یہودیہ سے خروج کرے گا۔ (1) دجال اسلام کا خطرناک ترین دشمن

ہے جس کی مثال تاریخ ادیان میں نہیں ملتی۔
دجال لغوی لحاظ سے "جھوٹا"، "حیلہ پرور"، اور "مکار" شخص کو کہتے ہیں اور روایات کے مطابق اسی دن خروج کرے گا جس دن آسمان سے مہیب صدا سنائی دے گی کہ "حق علی اور اولاد علی (ع) کی جانب ہے"، اور دجال اس کے بعد آواز دے گا جس کو جن و انس سن لیں گے اور وہ کہے گا: "اے میرے دوستو میں وہی ہوں جس نے تم کو پیدا کیا ہے اور میں ہی تمہارا پروردگار ہوں اور تمام امور پر قادر اور توانا ہوں" اور اس کا یہی اعلان بہت سوں کی حیرت اور شک و تردد کا سبب بنے گا۔ (2)
رسول خدا (ص) سے منقولہ روایت میں ہے کہ "دجال کے اکثر پیروکار، اعراب اور عورتوں، پر مشتمل ہونگے"۔ (3)
شیعہ روایات کے مطابق دجال ایک شخص کا نام ہے جو یہودی ہے اور اس کے پیروکار ناصبی اور دشمنان اہل بیت (ع) ہونگے۔
بعض سنی روایات کے مطابق دجال مصر میں سکونت پذیر ہے اور اس کا نام عبداللہ بن ساعد ہے۔
امیرالمومنین (ع) سے روایات ہے کہ دجال شام میں "عقبۃ افیق" کے مقام پر جمعہ سے تین گھنٹے بعد اس شخصیت کے ہاتھوں مارا جائے گا جس کے اقتدا میں حضرت عیسی (ع) نماز بجا لائیں گے۔ (4) اور دوسری روایت کے مطابق عیسی (ع) کے ہاتھوں جبل الدخان کے مقام پر مارا جائے گا۔ (5)
بعض مفسرین کے مطابق دجال ایک معینہ شخص نہیں بلکہ دین اور توحید کے خلاف ایک ثقافتی، معاشی اور سیاسی قوت کا نام ہے اور یہ کہ مغربی تہذیب صنعتی ٹیکنالوجی، ایرواسپیس اور سائنس کے مختلف شعبوں میں ترقی کرکے سطحی اور سادہ لوح انسانوں کو مسحور و مرعوب کرے گی اور ان کے ذہنوں پر مسلط ہوجائے گی۔
مغرب نے صوتی، تصویری اور ابلاغی نیٹ ورکس کے ذریعے دنیا بھر میں فساد و فحشاء کی ترویج شروع کررکھی ہے اور تکفیریوں اور وہابیوں کی درندگیوں کو دستاویز بنا کر دنیا والوں کو قائل کیا جارہا ہے کہ اسلام ایک تشدد پسند دین ہے اور مسلمان خونخوار اور دہشت گرد ہیں اور یوں اپنے آپ کو نجات دہندہ کے طور پر متعارف کرا رہا ہے اور یوں انہوں نے پوری انسانی معاشروں میں اس طرح کے افکار کو فروغ دے کر دجال کے ظہور کو ثابت کرچکے ہیں۔ بالفاظ دیگر آج کی مغربی تہذیب دجال ہی کی عملی تصویر ہے۔
حوالہ جات:
1۔ بحارالانوار ج 52 ص 193 و 194۔
2۔ وہی ماخذ ص 194۔
3۔ وہی ماخذ ص 197۔
4۔ وہی ماخذ ص 194۔
5۔ وہی ماخذ ص 198۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments