×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سفیانی ظہور کی دوسری حتمی علامت

مرداد 15, 1393 605

روایات کے مطابق یمانی کے بعد سفیانی دوسری حتمی علامت ہے جو ظہور سے (چھ یا نو مہینے) قبل رونما ہوگی اور وہ خروج کرے گا۔

امام صادق(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ "ظہور سے قبل پانچ حتمی نشانیاں نمودار ہونگی یمانی، سفیانی، سمانی چیخ یا ندا، نفس زکیّہ کا قتل اور بیداء کے مقام پر دہنس جانا"۔ (1)
امام صادق(ع) نے فرمایا: امر قائم(عج) خدا کی طرف سے حتمی ہے، اور اس کا خروج ماہ رجب میں ہوگا"۔ (2)
سفیانی سے پہلے شیصبانی (3) کا خروج
امام صادق(ع) نے فرمایا: "سفیانی ہرگز خروج نہیں کرےگا جب تک شیصبانی سرزمین کوفہ میں خروج نہ کرے"۔ (4) "اس کے سپاہی زمین سے ابلنے والے پانی کی طرح، چیونٹیوں اور ٹڈیوں کی مانند اس کے گرد جمع ہونگے اور تمہاری جمعیت کو قتل کرینگے۔ شیصبانی کے خروج کے بعد سفیانی کے خروج اور اس کے بعد قائم(ع) کے قیام کے منتظر رہو"۔ (5)
عراق، سفیانی کا واحد نشانہ
امام صادق(ع) نے فرمایا: "سفیانی کے سامنے ابقع اور اشہب کو قتل کرنے کے بعد عراق کے سوا کوئی ہدف نہ ہوگا۔ سفیانی نے قرقیسیا کے مقام پر اپنے جیسے ایک لاکھ ستمگروں کو قتل کیا ہوگا اور اس کے بعد ستر ہزار افراد پر مشتمل لشکر سرزمین عراق کی طرف روانہ کرے گا وہ کوفیوں کو قتل کرےگا، سولی چڑھائے گا اور قید کرتا ہے۔
اس وقت بعض پرچم خراسان سے تیزرفتاری کے ساتھ حرکت کرتے ہیں جن کے درمیان امام مہدی (عج) کے بعض اصحاب بھی ہونگے۔ اس کے بعد کوفہ کا ایک شیعہ بعض بےبس افراد کے ساتھ مل کر قیام کرے گا لیکن وہ کوفہ اور حیرہ کے درمیان سفیانی کے کمانڈر کے ہاتھوں قتل کیا جائے گا"۔ (6)
امام باقر(ع) نے فرمایا: "سفیانی کا واحد نشانہ اور اس کا غضب اور حرص ہمارے شیعوں کی طرف متوجہ ہے"۔ (7)
امیرالمومنین(ع) نے فرمایا: "سفیانی کی سپاہ خراسانیوں کی تلاش میں نکلےگی، جہاں بھی شیعیان رسول(ص) میں سے کسی کو پائےگی قتل کرےگی"۔ (8)
عمار یاسر کی سند سے منقول ہے کہ سفیانی کی سپاہ رات کے اندھیرے کی طرح پیشقدمی کرےگی جس کا سامنے کرےگی اس کو توڑ کر رکھےگی، حتی کہ کوفہ میں داخل ہوگی، شیعیان رسول(ص) کو قتل کرے گی، وہ ہر جگہ خراسانیوں کی تلاش میں ہوگی"۔ (9)
حوالے جات:
1۔ بحارالانوار ج 52 ص 204۔
2۔ وہی ماخذ۔
3۔ شَیصبان کے مختلف معانی ہیں منجملہ: شیطان یا جنات کی ایک جماعت کا سربراہ وغیرہ۔ (ابن منظور، لسان العرب، ج 7، ص 111)۔
4۔ بحارالانوار ج 52 ص 250۔
5۔ الغیبـة، نعمانی، ص302۔ بحارالانوار ج 52 ص 250
6۔ الغیبـة، ص280۔
7۔ الغیبـة، ص301۔
8۔ سلمی، عقدالدّرر، ص87۔
9۔ مروزی، الفتن، ج1، ص303، ح882۔
بقلم: علی اکبر مهدی پور
 ترجمہ: ف۔ح۔مہدوی

Login to post comments