×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ظہور مہدی (عج) کی آمد پر رونما ہونے والے واقعات

مرداد 15, 1393 454

امت مسلمہ ظہور کی آمد پر جنگوں اور فتنوں اور خانہ جنگیوں اور بیرونی افواج (مغربیوں اور رومیوں) کی مداخلت کی وجہ سے عدم

استحکام اور ضعف کا شکار ہوگی۔ جس کے نتیجے میں متحارب سیاسی جماعتیں ایک ہی وقت خروج کریں گی جیسے:
1۔ سفیانی کا خروج (علائم حتمیہ میں سے)۔ یہ شخص امام (عج) کے اہم ترین دشمنوں میں شمار ہوتا ہے اور مغرب کا حمایت یافتہ ہے۔
2۔ یمانی کا خروج (علائم حتمیہ میں سے)۔ یمانی امام عصر (عج) کے ناصر و مددگار ہیں۔
3۔ ایران سے خراسانی کا خروج۔ سید خراسانی امام کے حامی و مددگار ہیں۔
جب ہم مشرق وسطی کے ممالک کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں اور ان کے سیاسی اور عسکری حالات کا مطالعہ کرتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ ظہور کی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہوچکی ہیں اور ابتدائی علامت کے طور پر سیاسی قوتوں کا ظہور قابل مشاہدہ ہے۔ ہم رقیب جماعتوں اور تفکرات کو بھی محسوس کرتے ہیں جو ظہور کے واقعات سے تعلق رکھتے ہیں:
پہلا تفکر: امام (عج) کے اصحاب و انصار جو یمانی اور خراسانی ہیں۔ بہت سے مومنین کا خیال ہے کہ یمن میں اور حوثیوں کے خلاف جنگ سمیت اس ملک کے موجودہ واقعات، یمانی کے خروج کی تمہیدات میں شمار ہوتے ہیں۔ نیز حوثیوں کے خلاف جنگ میں آل سعود کی مداخلت اور ایران کی طرف سے حوثیوں کی اخلاقی حمایت آنے والے واقعات کے لئے مناسب ماحول فراہم کرنے کا آغاز ہے۔
دوسرا تفکر: سفیانی کی سرکردگی میں امام کے دشمن، یہودیوں اور مغرب کے حلیف اور اہل بیت (ع) اور ان کے پیروکاروں کے شدید دشمن ہیں۔ چنانچہ ہم اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ عراق کے واقعات (اور صدام کے زوال) کے بعد علاقے میں اہل تشیع کے خلاف بعثیوں اور تکفیریوں کے درمیان ایک عہد و پیمان معرض وجود میں آیا ہے [ادھر شام میں تکفیریوں کے دل دہلا دینے والے جرائم اور خونخواری کی داستانیں اور ملک شام کے کئی شہروں کی مکمل ویرانی اور صہیونیوں، مغربیوں، ترکوں، خائن عرب حکمرانوں اور تکفیریوں کی ہم پیمانی، مصر کے حالات اور فلسطین و قبلہ اول پر صہیونیوں کا قبضہ سب کے سامنے ہے] اور ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ سفیانی کے خروج کے لئے مناسب ماحول فراہم کیا جاچکا ہے اور سفیانی و اموی تفکر شام و عراق اور حجاز میں ایک بار پھر انگڑائی لے چکا ہے۔ اور عنقریب یہ علاقہ اہم اور متعدد جنگوں اور واقعات کا میدان بننے والا ہے اور یہ حقائق پورے علاقے میں عدم استحکام کی اس پیشنگوئی کے اثبات کے لئے کافی ہیں جو معصومین (ع) کی احادیث کے ضمن میں دی گئی ہے۔ بے شک عدم استحکام کی یہ لہر سرزمین حجاز سمیت پورے علاقے کو متاثر کرے گی۔ یہ صورت حال ظہور سے قبل کے حالات کی غمازی کرتی ہے۔

Login to post comments