×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

لقب "قائم" عاشورا کو خدا کی طرف سے!

مرداد 15, 1393 385

حضرت ولی عصر (عج) کے اعلی اور پرشکوہ القاب میں سے ایک "قائم" ہے جو امام زمانہ (عج) کے القاب خاصہ میں سے ہے اور دوسرے

معصومین پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا اور خاص قسم کے راز و رمز کا حامل اور حیرت انگیز حالات اور حیران کن و پرشکوہ ایام کی یادآوری کراتا ہے۔
بعض روایات میں تصریح ہوئی ہے کہ اس افتخار آفرین لقب کا مبدء عاشورا ہے اور روز عاشورا امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد یہ لقب ذات لایزال الہی نے انہیں عطا کیا ہے۔
چوتھی صدی ہجری کے شیعہ عالم دین محمد بن جریر طبری (الامامی) ابو حمزہ ثمالی روایت کرتے ہیں کہ میں (ابو حمزہ) نے امام باقر (ع) سے عرض کیا:
اے فرزند رسول خدا (ص)! علی (ع) کیونکر امیرالمومنین کہلائے حالانکہ ان سے قبل کوئی بھی اس نام سے موسوم نہیں ہوا اور ان کے بعد بھی کسی کو امیرالمومنین کہنا جائز نہیں ہے؟
امام (ع) نے فرمایا: وہ علم کا منبع اور مرکز ہیں، ان ہی سے علم اخذ ہوتا تھا اور ان کے سوا کسی سے اخذ نہیں ہوتا تھا۔
میں نے عرض کیا: اے فرزند رسول خدا (ص): کیا آپ سب قائم بالحق نہیں ہیں؟ پھر کیوں صرف ولی عصر (عج) کو قائم کہا گیا ہے؟
فرمایا: جب میرے جد امجد امام حسین (عج) شہید کئے گئے تو فرشتوں کی آہ و فغاں کی صدائیں بلند ہوئیں اور سب نے اللہ تعالی سے عرض کیا:
"بار خدایا! دشمنوں نے تیرے برگزیدہ اور تیرے برگزیدہ کے فرزند اور تیری بیش بہا ترین اور بہترین مخلوق کو قتل کردیا، کیا تو نے سے درگذر فرمائے گا؟
خداوند متعال نے انہیں وحی بھیجی کہ اے میرے فرشتو پرسکون ہوجاؤ، میری عزت و جلال کی قسم! میں قطعی طور پر ان سے انتقام لوں گا گوکہ یہ انتقام کچھ عرصہ بعد ہی کیوں نہ ہو۔
اس کے بعد ان کی آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا اور امام حسین (ع) کے فرزندوں میں سے 9 امام یکے بعد دیگرے انہیں دکھا دیئے جس کی وجہ سے فرشتے مسرور و شادمان ہوئے اور دیکھا کہ ایک بزرگوار کھڑے ہوکر نماز بجا لارہے ہیں۔ خداوند متعال نے فرمایا:
"میں اس قائم (ایستادہ مرد) کے ذریعے حسین (ع) کے قاتلوں سے انتقام لونگا۔ (1)
شیخ طوسی نے بھی محمد بن حمران سے روایت کی ہے کہ امام صادق (ع) نے فرمایا:
"جب امام حسین (ع) کی شہادت کا واقعہ رونما ہوا تو فرشتوں نے خداوند متعال سے رو رو کر فریاد کی کہ: بار خدایا! کیا امام حسین (ع) کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جائے گا جو تیرے برگزیدہ اور تیرے برگزیدہ کے فرزند ہیں؟
خداوند متعال نے حضرت قائم کا سایہ حالت قیام میں ان کے لئے مجسم کیا اور فرمایا: میں اس قائم کے توسط سے حسین (ع) پر ظلم روا رکھنے والوں سے انتقام لونگا"۔ (2)
ان دو روایات سے لقب "قائم" کی مناسبت کے علاوہ امام حسین (ع) اور امام عصر (عج) کے درمیان ربط و تعلق کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ بے شک لقب قائم امام حسین (ع) کی برکت سے امام عصر (عج) کو عطا ہوا اور امام مہدی "قائم آل محمد" (عج) کہلائے۔
رسول اللہ (ص) نے البتہ اس سے قبل یہ لقب امام مہدی (عج) کے لئے استعمال کیا تھا اور فرمایا تھا:
"جس نے میری ذریت میں قائم کا انکار کیا وہ جاہلیت کی موت مرا"۔ (3)
تاہم رسول اللہ (ص) کے توسط سے اس لقب کا استعمال شاید اس عہد کا حصہ ہے جو خدا اور رسول خدا (ص) کے درمیان ہے۔
قابل توجہ نکتہ یہ کہ انتقام الہی پوری دنیا میں قیام عدل کے واسطے سے انجام پذیر ہوگا، جب صالحین کی حکومت قائم ہوگی اور ظالمین کو شکست ہوگی جو کہ بجائے خود رحمت الہیہ کا بےانتہا عظیم مظاہرہ ہوگا اور پوری دنیا میں کوئی بھی اس حکومت کی برکتوں سے محروم نہ رہے گا۔ نیز انہیں قائم کہا جاتا ہے کیونکہ وہ حق کے لئے قیام کریں گے اور عدل الہی کو دنیا میں قائم و نافذ کریں گے۔
حوالہ جات:
1۔ دلائل الامامه ، محمدبن جریر طبری،452۔
2۔ الکافی ، ج 1،ص465۔
3۔ منتخب الاثر، ص625۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments