×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام (عج) کی معرفت

مرداد 16, 1393 383

حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:{من مات ولم یعرف امام زمانه مات میتة الجاهلیة}۔ جو مرے اورمرنے سے قبل ہی اپنے

زمانے کے امام کو نہ پہچانے وہ جاہلیت و شرک کی موت مرا ہے۔ (1)
اب سوال یہ ہے کہ اس شناخت و معرفت کی نوعیت کیا ہے اور ہمارے یقین و اعتقاد کی تشکیل میں کیا کردار ادا کرتی ہے؟
جوابا کہا جاسکتا ہے:
1۔ شناخت و معرفت امام
شناخت سے مراد ظاہری اور معمولی بھی ہوسکتی ہے۔ چونکہ دین مبین کی استواری اور کمال وجود امام سے وابستہ ہے، ضروری ہے کہ قوم و قبیلے اور دوسری خصوصیات کے حوالے سے امام کو پوری طرح جانا پہچانا ہونا چاہئے۔
نیز یہ شناخت و معرفت معنوی بھی ہوسکتی ہے۔ معنوی شناخت نیز امام کے وجود کی حقیقت کی معرفت، میں امام کے مقام و رتبے کی عظمت اور الہی ولایت کی پہچان، امام کی راہ و روش و اخلاق کی شناخت اور اللہ کی بندگی اور عبودیت میں امام کی سیرت کو نمونہ عمل قرار دینے، سے عبارت ہوسکتی ہے۔
اس قسم کی شناخت میں امام (ع) کے دیدار و ملاقات کی ضرورت نہیں ہے بلکہ عقلی اور نقلی دلائل سے امام کے بارے میں معرفت و شناخت حاصل کی جاسکتی ہے۔ پس یہ جو کہا جاتا ہے کہ اس امام کی معرفت ممکن نہیں ہے جو آنکھوں سے اوجھل ہو، بےمعنی ہے۔ کتنے ہیں وہ افراد جنہوں نے امام معصوم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان کی کرامات کا ادراک کیا، لیکن پھر بھی کافر و گمراہ رہے اور  امام کو تنہا چھوڑ دیا و آخرت کی روسیاہی خرید لی۔ تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہی یہی تھی کہ ائمہ معصومین (ع) کی دعوت تشنۂ لبیک رہ گئی اور ان کی زیادہ تر عمر قید و بند یا پھر جلاوطنی میں گذری بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ستم یہ کہ تمام ائمہ (علیہم السلام) کو امت کی بے حسی کی بنا پر شہید کیا گیا اور آخری ذخیرہ الہی کو بھی شہید کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی گئی لیکن یہ کوششیں اللہ تعالی نے امام (عج) کو غائب کرکے ناکام بنادی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ الوهم المكنون فى الردّ على ابن خلدون ، ابوالعباس بن عبدالمومن، مغربى۔ بحار الانوار ج 51 ص 160۔

Login to post comments