×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

غیبت کے زمانے میں دین کا تحفظ

مرداد 16, 1393 533

اگر امام کا فریضہ شریعت کا تحریف و نقصان سے تحفظ ہے، تو اس وقت امام (عج) کیونکر نقصان و تحریف سے دین کا تحفظ کرتے ہیں؟

کیا فقہاء خطاء نہیں کرتے ہیں؟
کتب کلام میں امام (عج) کے حافظ شریعت ہونے کی دو قسمیں ہیں:
1۔ مراد شریعت اور قرآن و سنت سے واردہ احکام کا تحفظ ہے تا کہ عصر شریعت سے روز قیامت تک باقی رہے۔
2۔ تحفظ شریعت سے مراد تشریح و تفسیر ہے؛ جس کا پیشگی فرض یہ ہے کہ "تمام احکام شریعت مسلمانوں کے لئے بیان نہیں ہوئے ہیں" بلکہ رسول اللہ (ص) نے ضرورت کے مطابق احکام بیان فرمائے ہیں اور باقی ماندہ احکام کو امام (ع) بیان کریں گے۔ (1)
سوال کے پہلے حصے میں امام زمانہ (عج) کے توسط سے شریعت کے تحفظ کی کیفیت بیان کی گئی ہے اور دوسرے حصے میں پوچھا گیا ہے کہ فقہاء کے اختلاف رائے کے باوجود دین کا تحفظ کیونکہ انجام پاتا ہے؟
بے شک نبی اکرم (ص) کے مشن کو امام (ع) ہی جاری رکھتا اور ان کے فرائض کو امام ہی انجام دیتا ہے۔ درج ذیل فرائض ان فرائض میں شامل ہیں:
1۔ کتاب اللہ کی تفسیر اور اس کے مقاصد و اہداف کی تشریخ اور اس کے اسرار  و رموز واضح کرنا؛
2۔ بیان احکام؛
3۔ سوالات و شبہات کا جواب۔
4۔ دین کا تحریف وغیرہ سے تحفظ...
امام کو سونپے گئے فرائض میں ـ ہر قسم کے دستبرد اور تحریف سے ـ دین کا تحفظ بھی شامل ہے۔ بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ یہ تحفظ آخری حجت الہی کی غیبت کے دور میں کیونکر انجام پاتا ہے؟
سوال کے دونوں حصوں کے جواب میں کیا جاسکتا ہے کہ یہ فریضہ دو صورتوں میں انجام پاتا ہے:
1۔ پردہ غیبت سے ولایت باطنی (ولایت تکوینی)؛
2۔ نائبین کے توسط سے ولایت کا نفاذ اور دین کا تحفظ۔
نائبین بھی دو قسم کے ہیں:
الف۔ نائبین خاص؛
ب۔ نائبین عام۔
وضاحت: غیبت کے زمانے میں حضرت حجت (عج) کی ولایت سورج کی افادیت کی مانند ہے جب وہ بادلوں میں چھپا ہوا ہو۔ یہ حقیقت بھی متعدد روایات میں بیان ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ سدید الدین الحمصی، المنقذ من التقلید، ج 2، ص 136 ص 136۔
جابر بن عبداللہ انصاری رسول خدا (ص) سے پوچھتے ہیں کہ غیبت کے زمانے میں مومنین حجت (عج) سے کیونکر فیضیاب ہوسکیں گے؟ اور رسول خدا (ص) نے فرمایا: ہاں! اس خدا کی قسم جس نے مجھے مبعوث فرمایا، لوگ اس سے فیضیاب ہونگے اور اس کی ولایت کی نور سے مستفید ہونگے جس طرح کہ لوگ بادلوں میں چھپے ہوئے سورج سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ (2)
اگرچہ ہم نفاذ ولایت کی جزئیات سے بےخبر ہیں لیکن یقینی طور پر یہ ولایت نافذ ہے اور آخری حجت الہی (عج) اپنے فرائض پر عملدرآمد کرتے اور دین کا تحفظ کرتے ہیں۔ ان فرائض کی انجام دہی کے لئے ظاہری موجودگی ضروری نہیں ہے جیسا کہ امیرالمومنین (عج) نے فرمایا:
"زمین کبھی بھی حجت الہی سے خالی نہیں ہے جو خدا کے لئے واضح برہان کے ساتھ قیام کرے ـ یا آشکار اور جانی پہچانی صورت میں یا یا ہراساں اور نہاں ـ تا کہ اللہ کی حجت باطل نہ ہو اور اس کی نشانیوں کا خاتمہ نہ ہو۔ (3)
یہاں تک نتیجہ یہ ہوگا کہ سنت الہیہ دین کی بقاء پر استوار ہے اور یہ سنت الہیہ آخری حجت (عج) کی غیبت کے زمانے میں اس کی ولایت باطنی کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ دین کے تحفظ کا دوسرا حصہ نائبین خاص کے ذریعے انجام پاتا ہے۔
غیبت صغری کے زمانے میں ـ جو ستر سال (سنہ 260 ہجری سے 329 ہجری) تک جاری رہی ـ امام (عج) اپنے نائبین خاص کے ذریعے عوام سے مرتبط تھے اور ان ہی کے ذریعے عوام کے سوالات کا جواب دیتے تھے لیکن غیبت صغری غیبت کبری پر منتج ہوئی اور یہ ارتباط و اتصال عادل فقہاء و علماء کے ذریعے برقرار ہوا؛ جیسا کہ امام زمانہ (عج) نے اپنے خط میں تحریر فرمایا: "اور حوادث واقعہ میں ہماری احادیث کے راویوں سے رجوع کرو پس وہ تم پر میری حجت ہیں اور میں ان پر اللہ کی حجت ہوں۔۔۔"۔ (4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ بحار الانوار، ج 52، 93۔
3۔ نهج البلاغه، حکمت 147۔
4۔ طبرسی، الاحتجاج، ج 2، ص 282۔
امام ہادی (ع) نے فرمایا: ہمارے قائم کی غیبت کے زمانے میں علماء کی ایک جماعت لوگوں کو ان (قائم) کی امامت کی دعوت دیتے ہیں اور ربانی حجتوں کے ذریعے دین کا تحفظ کرتے ہیں تا کہ ضعیف النفس مومنین کو شیطانی وساوس اور پیروان ابلیس کو نواصب کی فریبکاریوں سے محفوظ رکھیں۔ اگر یہ علماء نہ ہوں تو سب دین خدا سے منحرف ہونگے۔ جس طرح کہ کشتی بان کشتی کی پتوار سنبھالے ہوئے ہے، علماء شیعیان اہل بیت (ع) کے دلوں کو مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں اور ان کے انحراف کا سد باب کرتے ہیں۔ وہ علماء اللہ کے ہاں بہت اعلی مرتبے کے مالک ہیں۔ (5)
البتہ ان نائبین عام، کے لئے بعض شرائط قرار دی گئی ہیں جو کچھ یوں ہیں:
فقہاء میں سے جو خود دار اور نفس کو پلیدیوں سے بچانے والا ہو؛ حافظ دین ہو؛ ہوائے نفس کا مخالف ہو اور اوامر الہیہ کہ تابع و مطیع ہو، عوام کو چاہئے کہ اس کی تقلید کریں۔ (6) اس طرح کے نائبین کبھی بھی دین کی پاسبانی اور دین و شریعت کے نفاذ میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔
خلاصہ یہ کہ بعثت رسول (ص) سے قیامت تک رسول اللہ (ص)، ان کے بعد ا‏ئمہ طاہرین (ع) اور ان کی غیبت صغری میں نائبین خاص اور غیبت کبری میں نائبین عام تمام تر تحریفات کا مقابلہ کرکے دین کا تحفظ کرتے ہیں اور یہ دین محفوظ رہے گا حتی کہ ظہور حضرت مہدی (عج) کے ساتھ احیاء کا عمل معصوم کی موجودگی میں ویسا ہی انجام پائے جس طرح کہ خداوند متعال نے مقدر و مقرر فرمایا ہے اور روئے زمین پر حکومت عدل بپا کریں گے اور اس کو قسط و عدل سے بھر دیں گے جس طرح کہ یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہے۔
ممکن ہے ابھی تک یہ سوال اذہان میں باقی ہو کہ فقہاء کی آراء میں اختلاف کے باوجود دین کے تحفظ کا فریضہ کیونکر انجام پاتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ:
1۔ فقہاء دین کے اصول اور مسلمات میں اختلاف نہیں رکھتے اور واجبات کے وجوب اور محرمات کی حرمت میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے؛
2۔ تمام فقہاء استنباط احکام میں قرآن، سنت، اجماع اور عقل کو منبع قرار دیتے ہیں۔
3۔ شیعہ کے ہاں وہ اجماع حجت ہے جس میں امام معصوم (ع) موجود ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5۔ طبرسی، الاحتجاج، ج 2، ص 502، انتشارات اسوه، 1413، چ اول۔
6۔ وہی ماخذ، ص 264۔ وسائل الشیعه، ج 27، از مجموعه 30 جلدی، ص 131۔

Login to post comments