×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

گناہگاروں کی آسائش کا فلسفہ

مرداد 16, 1393 462

ایک سوال جو شاید آپ کو درپیش آتا ہو یہ ہے کہ بعض کافر اورگناہگا افراد کیوں کر دنیا میں اچھی اور خوشحال زندگی گذارتے ہیں ؟ یا یہ کہ

کیوں بہت سے مواقع پر کفار اور گناہگار مسلمان اور فاسق ، مومنین اور متقین سے بہتر حالت میں ہیں ؟ کیوں بہت سے معاشرے جوکلی طور پر خدا اور پیغمبر کے منکر ہیں ، زیادہ رفاہ و آسائش سے بہرہ مند ہیں ؟ کبھی اس سے بڑھ کر یہ سوال پیش آتا ہے اور بطور طعنہ کہا جاتا ہے کہ تمام عذاب اور مسائل مسلمانوں کےلئے ہی کیوں ہیں ؟ جبکہ کفار آرام و آسائش سے ہیں اور یورپی ممالک کہ جن کے پاس ایمان نام کی کوئی چیز نہیں ہے وہ ہم مسلمانوں سے زیادہ آرام و سکون سے زندگی گذار رہے ہیں ۔
البتہ اس پہلے اعتراض کا جواب واضح ہے ۔ بہت سے کفار اور گناہگار افراد ، خاص طور پر افریقہ ، ایشیاء اور جنوبی امریکہ میں مادی لحاظ سے مناسب حالات میں ‍ زندگی نہیں گذار رہے ہیں جبکہ مسلمان اور حتی بہت سے مومنین بھی ایسے ہیں جو خوشحالی اور عشرت میں زندگی گذار رہے ہیں ۔ اور تاریخ پر طائرانہ نظر ڈالنے سے بھی ہمیں یہ ملتا ہے کہ بہت سے مومنین اور حتی پیغمبروں ، جیسے حضرت داؤد ، سلیمان اور یوسف علیھم السلام ، کے پاس بھی بہت زیادہ دولت وثروت تھی لیکن وہ اپنی اصلی دولت کو، خدا پر ایمان قرار دیتے تھے ۔
لیکن ایک مجموعی جواب کے طورپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ خداوند عالم نے دنیوی نعمتوں کو سب کے اختیار میں دیا ہے خواہ مومن ہو یا کافر ، لیکن ایمان اور عمل صالح کی جزا عالم آخرت میں مومنین کے لئے ہی ہے ۔ خداوند عالم سورۂ اسراء کی آیت 18 میں فرماتا ہے جو شخص بھی دنیا کا طلبگار ہے ہم اس کے لئے جلد ہی جو چاہتے ہیں دے دیتے ہیں پھر اس کے بعد اس کےلئے جہنم ہے جس میں وہ ذلت و رسوائی کے ساتھ داخل ہوگا ۔ اور جو شخص آخرت کا چاہنے والا ہے اور اس کے لئے ویسی ہی سعی بھی کرتا ہے اور صاحب ایمان بھی ہے تو اس کی سعی یقینا مقبول قراردی جائے گی ۔
اصولی طورپر اس دنیا کا نظام ، انتخاب واختیار کی بنیاد پر قائم ہے ۔ وہ جو قرآن کی تعبیر میں اپنے کانوں اور آنکھوں کو بند کرلیتا ہے تو اسے زور وزبردستی اور جبری طور پر خدا اور حق و کمالات کی جانب نہیں بلایا جاسکتا ۔ اسی بناء پر خداوند عالم ان افراد کو "استدراج" یعنی تدریجی سزا یا عذاب استدراج کی سنت میں گرفتار کردیتا ہے ۔ استدراج کی نوبت اس وقت آتی ہے جب انسان ، اسلام اور وحی کی تعلیمات کامنکر ہوجائے اور تمام معجزات اور دلائل کے باوجود گمراہی اور کفر کاراستہ اختیار کرلے اور حق اور مسلمات کا منکر ہوجائے ۔سورۂ قلم کی آیت 44 میں خداوند عالم ، کفارکے بارے میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے ۔ " تو اب مجھے ، میری بات کے جھٹلانے والوں کے ہمراہ چھوڑدو ، ہم عنقریب انہیں اس طرح سے گرفتار کریں گے کہ انہیں اندازہ بھی نہ ہوگا اور ہم تو اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ ہماری تدبیر مظبوط ہے" ۔ درحقیقت ان کے لئے بدترین عذاب ، یہی آسائشیں اور امکانات ہیں کہ جسے وہ نعمت سمجھ رہے ہیں وہ دھیرے دھیرے عذاب الہی کی جانب بڑھ رہے ہیں لیکن اس طرف متوجہ نہیں ہیں ۔
گویندہ : کلمہ استدراج ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کے معنی گناہگاروں کو نعمتیں دے کر تدریجا غفلت میں ڈال دینا یا انہیں ڈھیل دینا ہے ۔اس طرح سے کہ خدا کی مادی نعمتوں میں ڈوبا ہوا انسان ، خدا ، معنوی کمالات ، استغفار اور شکر کی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ گناہ میں مبتلا ہوتا جاتا ہے ۔
لغت میں ”‌استدراج“ کے دومعانی ہیں: ایک یہ کہ کسی چیز کو تدریجاً اور آہستہ آہستہ لینا (کیونکہ یہ لفظ ”‌درجہ“ سے اخذ کیا ہے ) اسی طرح جب کسی چیز کو تدریجاً اور مرحلہ بہ مرحلہ لیں یا گرفتار کریں تو اس عمل کو استدراج کہتے ہیں) استدراج کا دوسرا معنی ہے لپیٹنا اور تہ کرنا ۔ جس طرح کاغذوں کے ایک پلندے کو لپیٹتے ہیں (یہ دونوں معانی ایک کلی اور جامع مفہوم ”‌انجام تدریجی“) کی ہی ترجمانی کرتے ہیں ۔
حدیث میں ہے کہ شیعب پیغمبر (ع) کے زمانے میں ایک کافر اور فاسق و فاجر شخص ان کے حضور میں آیا اور کہا کہ شعیب تم نے جس عمل کو بھی گناہ کا نام دیا ہے ہم ، ان سب کے مرتکب ہوئے ہیں لیکن ہم پر تو کوئی بلا نازل نہیں ہوئی اس سے تو پتہ چلتا ہےکہ خدا ہمیں بہت چاہتا ہے ۔ شعیب پیغمبر نے خدا سے کہا کہ یہ بندہ تواس طرح سے کہہ رہا ہے ۔ تو جناب شعیب (ع) کو وحی ہوئی کہ اس سے کہہ دو کہ ہم جو اس کے کسی کام میں کوئی مشکل پیدا نہیں کررہے ہیں تو یہی بدترین بلاہے کیوں کہ ہم نہیں چاہتے کہ وہ ہم سے توبہ کرسکے اور ہمارا شکر کرسکے۔ ‘‘
استدراجی سزا“ کے بارے میں آیات قرآن اور احادیث میں بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اس کی توضیح یہ ہے کہ خدا گنہگاروں اور منہ زور سرکشوں کو ایک سنت کے مطابق فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ نعمتوں کے دروازے ان پر کھول دیتا ہے تو وہ زیادہ سرکشی دکھاتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کو ضرورت سے زیادہ اکٹھا کر لیتے ہیں ۔ اس کے دو مقاصد ہوتے ہیں یا تو یہ نعمتیں ان کی اصلاح اور سیدھے راستے پر آنے کا سبب بن جاتی ہیں اور اس موقع پر ان کی سزا دردناک مرحلہ پر پہنچ جاتی ہے کیونکہ جب وہ خدا کی بے شمار نعمتوں اور عنایتوں میں غرق ہوجاتے ہیں تو خدا ان سے وہ تمام نعمتیں چھین لیتا ہے اور زندگی کی بساط لپیٹ دیتا ہے ایسی سزا بہت ہی سخت ہے ۔
البتہ یہ معنی اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ صرف لفظ استدراج میں پنہاں نہیں ہے ۔
بہر حال استدراج سے متعلق آیت میں تمام گنہگاروں کے لئے تنبیہ ہے کہ وہ عذاب الٰہی کی تاخیر کو اپنی پاکیزگی اور راستی یا پروردگار کی کمزوری پر محمول نہ کریں اور وہ عنایات اور نعمتیں جن میں وہ غرق ہیں انھیں خدا سے اپنے تقرب سے تعبیر نہ کریں ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو کامیابیاں اور نعمتیں انھیں ملتی ہیں ۔ پروردگار کی استدراجی سزا کا پیش خیمہ ہوتی ہیں ۔ خدا انھیں اپنی نعمتوں میں محو کردیتا ہے اور انھیں مہلت دیتا ہے انھیں بلند سے بلندتر کرتا ہے لیکن آخر کار انھیں اس طرح زمین پر پٹختا ہے کہ ان کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے ۔ اور ان کے تمام کاروبار زندگی اور تاریخ کو لپیٹ دیتا ہے ۔
امیرالمومنین حضرت علی (علیہ السلام) نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں ۔
وہ شخص کہ جسے خدا بے بہا نعمات اور وسائل دے اور وہ اسے استدراجی سزا نہ سمجھے تو وہ خطرے کی نشانی سے غافل ہے ۔“(1)
نیز حضرت علی (علیہ السلام) سے کتاب ”‌روضہ کافی“ میں نقل ہوا ہے آپ نےفرمایا: ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں کوئی چیز حق سے زیادہ پوشیدہ اور باطل سے زیادہ ظاہرو آشکار اور خدا اور اس کے رسول پر جھوٹ بولنے سے زیادہ نہیں ہوگی ۔“
یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:
”‌اس زمانے میں کچھ افراد ایسے ہوں گے کہ صرف قرآن کی ایک آیت سن کر (اس کی تحریف کریں گے) اور خدا کے دین سے نکل جائیں گے اور ہمیشہ وہ ایک حاکم کے دین کی طرف اور ایک شخص کی دوستی سے دوسرے کی دوستی کی طرف اور ایک حکمراں کی اطاعت سے دوسرے حکمراں کی اطاعت کی طرف اور ایک کے عہد و پیمان سے دوسرے کی طرف منتقل ہوتے رہیں گے اور آخر کار ایسے راستے سے کہ جس کی طرف ان کی توجہ نہیں ، پروردگار کی استدراجی سزا میں گرفتار ہوجائیں گے ۔
فرزند رسول خدا حضرت امام حسین (ع) استدراج کی تعریف میں فرماتے ہیں " استدراج کا معنی یہ ہےکہ خدا اپنی نعمت کو اپنے بندے پر انڈیل دیتا ہے اور دوسری طرف ، اس سے شکر کی نعمت کو سلب کرلیتا ہے ۔ اس بناء پر استدراج کے آثار ونتائج میں سے ایک ناشکری ہے البتہ اس امر پر توجہ دینا چاہئے کہ جو کوئی خدا کی نعمت سے بہرہ مند ہواور وہ خدا کا شکرگذار بھی ہو توایسا شخص استدراج کا مصداق نہیں ہے ۔ حضرت امام صادق (ع) کے ایک صحابی نے عرض کی ، میں نے خدا سے مال طلب کیا تھا اس نے مجھے روزی عطاکی ، میں نے خداسے بیٹا مانگا اس نے وہ بھی مجھے عطا کیا ، گھر کی طلب کی وہ بھی مرحمت فرمایا اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ استدراج یا تدریجی عذاب نہ ہو ، امام صادق (ع) نے فرمایا اگر یہ تمام نعمتیں، تمہاری جانب سے شکر کے ساتھ مل رہیں ہیں تو یہ استدراج میں شامل نہیں ہے ۔
اکثر افراد نعمت کو، پیسے اور سلامتی کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتے جبکہ یہ سوچ صحیح نہیں ہے بلکہ مال و ثروت کے مقابلے میں، انسان کا عکس العمل اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہ نعمت ہے یا نہیں ۔ وہ شخص جو مال و ثروت اور اپنی سلامتی کو، رضائے الہی اور خدمت خلق میں صرف کرتا ہے اور شکر خدا بھی بجا لاتا ہے تو یقینی طور پر وہ نعمت الہی سے بہرہ مند ہے لیکن اگر یہی مال اور سلامتی غرور اور اسراف کا سبب بن جائے تو وہ نہ صرف نعمت نہیں ہے بلکہ عذاب بھی بن سکتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں بہت سے ایسے فقیرو نادار لوگ ہوتے ہیں جو اپنی فقیری و غربت کے سبب نا شکری اور کفرکی بات زبان پر لاتے ہیں اور جہنمی ہوجاتے ہیں ۔
قرآنی اصطلاحات میں سے ایک " بلاء حسن " بھی ہے سورۂ انفال کی آیت 17 میں ارشاد ہوتا ہے " ولیبلی المومنین منہ بلاء حسنا " تاکہ صاحبان ایمان پر خوب اچھی طرح احسان کردے کہ وہ سب کی سننے والا اور سب کا حال جاننے والا ہے ۔ بلا کے معنی آزمائش اور آزمانے کے ہیں ۔ امتحان کا جو فلسفہ ہے اس میں اسی بات پر تاکید ہے کہ انسان ان آزمائشوں میں اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرسکتا اور اپنی استعداد کو اجاگر کرنے کے ساتھ ہی کمالات کی اعلی منازل کو طے کرسکتا ہے ۔ درحقیقت الہی آزمائشیں ، محض استعدادوں اور صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لئے نہیں ہوتیں بلکہ نئی صلاحیتیوں اور توانائیوں کے ظہور اور ان میں اضافے کا سبب ہوتی ہیں ۔ چنانچہ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابیطالب (ع) فرماتے ہیں : بلا و آزمائش ، ستمگر کے لئے ادب ، سزا اور تنبیبہ ہے جبکہ مومنین اور پیغمبروں کے لئے آزمائش ، درجات اور مرتبے میں بلندی کے لئے ہے ۔
 سختیاں اور گرفتاریاں ، ترقی وکمال کا پیش خیمہ ہیں ۔ قرآن کریم سورۂ بلد کی آیت چار میں ارشاد فرمارہا ہے ہم نے انسان کو سختی اور مشقت میں رہنے والا بنایا ہے ۔ اس بناء پر انسان کو چاہئے کہ مشقتوں اور مصائب کو برداشت کرے اور سختیوں کے مقابلے میں استقامت کرے تاکہ کمال تک رسائی حاصل کرسکے ۔ حضرت امام صادق (ع) فرماتے ہیں مخلوقات کے درمیان سب سے شدید بلاؤں میں پہلے انبیاء علیھم السلام اور پھر ان کے اوصیاء اور اس کے بعد انبیاء و اوصیاء جیسے کمالات کے حامل انسان گرفتار ہوتے ہیں ۔ مومن کو اس کی نیکیوں کی مقدار کےبرابر آزمائش میں ڈالا جاتا ہے جو کوئی اپنے دین و ایمان میں پختہ اور نیک عمل ہوگا اس کی بلائیں بھی شدید ہیں کیوں کہ خداوند عالم نے دنیا کو، مومن کے لئے جزا ، اور کافر کے لئے سزا اور عذاب کا وسیلہ قرار نہیں دیا ہے ۔ اسی بناء پر جنہیں معرفت الہی کے مراتب حاصل ہیں ان کے لئے وہ چیز جو عام انسانون کے نقطۂ نگاہ سے سخت اور ناقابل تحمل ہے ، ان کے لئے شیریں اور پسندیدہ ہے ۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ یہ سختیاں اسے خدا سے نزدیک کردیں گی ۔ دنیا کی مصیبتیں نہ صرف ان کو خدا سے دور نہیں کرتیں بلکہ وہ ان مصیبتوں کو برداشت کرکے دنیا میں بھی معنوی لذتیں حاصل کرتے ہیں اور آخرت میں بھی معنوی اجر وپاداش کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔
 بعض مومنین کی آزمائش اور ابتلاء اس بناء پر ہے تاکہ ان کے دلوں سے زنگ دور ہوجائے اور وہ بہشت کے اعلیٰ مقام کے مستحق اور لائق قرار پاسکیں ۔ حضرت امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں خداوند عالم کیوں کہ اپنے بندوں کو چاہتا اور ان سے محبت کرتا ہے اس لئے ان پر مصیبتیں اور بلائیں نازل کرتا ہے اور جب یہ بندہ خدا کو اس عالم میں پکارتا ہے تو خدا فرماتا ہے لبیک اے میرے بندے بیشک اگر میں چاہوں تو تیری دعا جلدی بھی قبول کرلوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ اسے آخرت کے لئے ذخیرہ کردوں کہ جو تیرے لئے بہتر ہے ۔ امام محمد باقر(ع) اس دنیا میں مومنین کی گرفتاریوں کے بارے میں فرماتے ہیں :خداوندعالم اپنے مومن بندے کی ، رنج وبلا کے ذریعے دلجوئی کرتا ہے ۔جس طرح سے کہ ایک انسان کسی سفر سے ہدیہ لیکر آتا ہے تو اس کے ذریعے سے اپنے گھر والوں کی دلجوئی کرتا ہے اور خدا مومن کو دنیا سے دور رکھتا ہے جس طرح سے کہ طبیب بیمار کو بعض کھانے اور پینے والی چیزوں سے پرہیز کرنے اور دوری اختیار کرنےکو کہتا ہے ۔ ( ختم شد  )

Login to post comments