×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام مہدی (عج) اور ابن تیمیہ کے شبہات

مرداد 16, 1393 562

ابن تیمیہ کے خیال میں امام مہدی (عج) امام مجتبی (ع) کی نسل سے ہیں اور امام حسین (ع) کی نسل سے نہیں ہیں! بےشک ابن تیمیہ

سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ اس نے منابع حدیث میں اس حقیقت کا مشاہدہ نہ کیا ہوگا کہ حضرت مہدی موعود (عج) امام حسن (ع) کی نسل سے ہیں یا امام حسین (ع) سے!۔
ابن تیمیہ ابن جریر طبری کے حوالے سے لکھتا ہے کہ گویا امام حسن عسکری (ع) مقطوع النسل ہوئے ہیں جو ایک جھوٹا دعوی ہے اور تاریخ طبری میں ابن تیمیہ کے دعوے کی سند موجود نہیں ہے۔
ابن تیمیہ کا کہنا ہے:
"علی (ع) سے مروی ہے کہ وہ حسن (ع) کا بیٹا ہے"، نہ کہ حسین (ع) کا"۔ (1)
مخالفین نے شیعہ عقائد کے خلاف بعض روایات کو امیرالمومنین (ع) اور ائمہ معصومین (ع) سے منسوب کیا ہے جس کا مقصد واضح ہے۔
ابن تیمیہ کی دستاویز بننے والی روایت کچھ یوں ہے:
"ابن اسحق سے روایت ہے کہ علی (ع) نے اپنے بیٹے حسن (ع) کی طرف دیکھا اور فرمایا: "میرا یہ بیٹا سید ہے جس طرح کہ رسول اللہ (ص) نے اس کو سید کا نام دیا ہے اور اس کی صلب سے ایک مرد آئے گا جو تمہارے نبی (ص) کا ہم نام ہوگا جو اخلاق میں نبی (ص) کے مشابہ ہوگا اور خلقت میں آپ (ص) کے مشابہ نہ ہوگا۔۔۔"۔ (2)
حدیث کا نقادانہ جائزہ:
اولاً. یہ حدیث ضعیف اور مرسل ہے اور چونکہ ابو داؤد کہتا ہے کہ "حُدِثتُ عن هارون بن مغیرة"، (یہ حدیث میرے لئے ہارون بن مغیرہ سے نقل ہوئی ہے)؛ وہ یہ نہیں کہتا کہ حدیث کا راوی کون ہے یعنی ایک سند نامعلوم ہے اور یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ راوی ثقہ ہے یا غیر ثقہ! چنانچہ اس لحاظ سے یہ مرسل ہے۔
ابن تیمیہ اور سنی علماء کی روش یہ ہے کہ وہ مرسل حدیث پر ـ جس کا ایک حلقہ مفقود ہو ـ عمل نہیں کرتے چنانچہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اس حدیث مرسل کو کیوں قابل قبول گردانا ہے!
ثانیاً. حدیث کا راوی ابن اسحق ہے جبکہ مشہور سنی عالم ابن حجر (اور دیگر علماء) کا کہنا ہے کہ:
"امیرالمومنین (ع) کی شہادت کے روز ابن حجر کی عمر سات برس تھی کیونکہ خلافت عثمان میں دو سال باقی تھے جب وہ پیدا ہوا"۔ (3) سوال یہ ہے کہ سات سالہ بچہ کیونکر امیرالمومنین (ع) سے حدیث نقل کرسکتا ہے؟
ثالثاً. جزری شافعی (متوفیٰ 833) نے لکھا ہے:
"ابی داؤد کا نسخہ میرے سامنے ہے جس میں منقول ہے کہ امیرالمومنین (ع) نے اپنے بیٹے حسین (ع) کی طرف دیکھا اور ۔۔۔"۔ (4)
..........................
1۔ منهاج السنة، جلد 4، صفحه 95۔
2۔ سنن أبی داود، جلد 2، صفحه 311، حدیث 4290۔ ابن اثیر۔ جامع الاصول ج 11 ص 49۔ متقی هندی کنزالعمال ج 13 ص 647.  پر نقل کی ہے۔
3۔ تهذیب التهذیب لابن حجر العسقلانی، ج8، ص56۔ تهذیب الكمال للمزی، ج22، ص103۔
4۔ اشمل المناقب، ص165 و 168۔
واضح رہے کہ ابو داؤد کا جو نسخہ ساتویں اور آٹھویں ہجری میں جزری شافعی کے پاس تھا وہی ابن تیمیہ کے زمانے میں بھی تھا، اس میں حدیث یہی تھی کہ "امیرالمومنین (ع) نے امام حسین (ع) کی طرف دیکھا اور۔۔۔"۔ نامور سنی عالم "ابو صالح" نے بھی لکھا ہے کہ روایت میں امام حسن (ع) کا نہیں بلکہ امام حسین (ع) کا نام تھا"۔
رابعاًً: سنی منابع میں متعدد بار منقول ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:
"مہدی (عج) میرے بیٹے حسین (ع) کی نسل سے ہیں"؛ صرف ایک روایت دیکھئے:
"حذیفہ بن یمان سے مروی ہے: ہمیں رسول اللہ (ص) نے خطبہ دیا ۔۔۔۔ اور فرمایا: اگر دنیا کی عمر میں صرف ایک دن ہی باقی ہو خدا اس کو اس قدر طویل کرے گا کہ میری نسل سے ایک مرد کو مبعوث فرمائے جس کا نام میرا نام ہے؛ پس سلمان فارسی (ع) اٹھے اور عرض کیا: اے رسول خدا (ص)! وہ آپ کے کس بیٹے کی نسل سے ہوگا؛ فرمایا: میرے اس بیٹے کی نسل سے اور ہاتھ اپنے بیٹے حسین (ع) پر رکھا"۔ (5)
خامساًً: بنی العباس کے دور میں محمد بن عبداللہ بن حسن مثنیٰ نے "مہدی کہلوا کر" عباسیوں کے خلاف قیام کیا تھا؛ چنانچہ ممکن ہے کہ ان کے حامیوں نے اس حدیث میں تصرف کیا ہو یا پھر منصور دوانیقی نے ـ جس کا نام محمد بن عبداللہ اور لقب مہدی تھا ـ یہ تصرف اپنے حق میں کیا ہو، جس نے اپنے خلاف خروج کرنے والوں سے کہا:
"جس مہدی کی بشارت رسول خدا (ص) نے دی ہے وہ میں ہوں"۔
سادساًً: اگر رسول اللہ (ص) نے بالفرض فرمایا بھی ہو کہ امام مہدی (عج) امام حسن (ع) کی نسل سے ہیں تو درست ہے کیونکہ امام مہدی (عج) "حَسَنِیُ الأُمِّ وَ حُسَینِیُ الأَبِ"؛ یعنی والدہ کی طرف سے امام حسن (ع) اور والد کی طرف سے امام حسین (ع) کے فرزند ہیں کیونکہ امام سجاد (ع) کی زوجہ فاطمہ بنت حسن (ع) ہیں اور امام باقر (ع) کے بعد آنے والے ا‏ئمہ (ع) سب "حَسَنِیُ الأُمِّ وَ حُسَینِیُ الأَبِ" ہیں۔ قرآن نے حضرت عیسی (ع) کو اسحق و یعقوب (ع) کی نسل سے قرار دیا ہے (6) حالانکہ حضرت عیسی (ع) کی والدہ ان کی نسل سے ہیں۔
اور پھر رسول اللہ (ص) نے خود امام حسن اور امام حسن (ع) کو اپنے فرزند قرار دیا ہے:
ابن حجر ترمذی سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (ص) نے فرمایا:
{هذان ابنای وابنا ابنتی..."۔ (7)
"حسن اور حسین (ع) میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں..."۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5۔ المنار المنیب لإبن قیم الجوزی، ص148ـ القول المختصر لإبن حجر، ص377ـ فرائد السمطین للحموینی، ج2، ص325ـ سیره الحلبیة، ج1، ص193ـ ینابیع المودة لذوی  القربى للقندوزی، ج2، ص210۔
6۔ سورہ انعام (6) آیت 85۔
7۔ الاصابة فی تمییز الصحابة، ابن حجر العسقلانی، ج 2 ص 61۔
پاسخ های استاد حسینی قزوینی۔

Login to post comments