×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حضرت زینب(س) کی ولادت با سعادت

مرداد 17, 1393 474

حضرت زینب سلام اللہ علیہا امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اور سیدہ کونین فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی بیٹی ہیں۔ آپ نے

5 جمادی الاولی، ہجرت کے پانچویں یا چھٹے سال مدینہ منورہ میں دنیا میں قدم رکھا۔
اگر چہ پانچ سال کی عمر میں ماں کی عطوفت سے محروم ہو گئیں لیکن شرافت و طہارت کے گرانبہا گوہر اسی مختصر مدت میں آغوش مادری سے حاصل کر لیے تھے۔ آپ نے اپنی بابرکت زندگی میں بے انتہا مشکلات اور مصائب کی تحمل کیا۔ واقعہ کربلا میں آپ پر ٹوٹنے والے مصائب اور مشکلات کےطوفان اس بات کے واضح ثبوت ہیں۔ ان تمام سخت اور تلخ مراحل میں آپ نے تمام خواتین عالم کو صبر و بردباری کے ساتھ ساتھ حیا اور عفت کا درس دیا(1)۔
آپ کے القاب
آپ کو ام کلثوم کبریٰ، صدیقہ صغریٰ، محدثہ، عالمہ، فہیمہ کے القاب دئے گئے۔ آپ ایک عابدہ، زاہدہ، عارفہ، خطیبہ اور عفیفہ خاتون تھیں۔ نبوی نسب اور علوی و فاطمی تربیت نے آپ کی شخصیت کو کمال کی اس منزل پر پہنچا دیا کہ آپ ’’ عقیلہ بنی ہاشم‘‘ کے نام سے معروف ہو گئیں۔
نامگذاری کے مراسم
عام طور پر یہی مرسوم ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کے نام انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کے بعد آپ کے والدین نے نامگذاری کی ذمہ داری کو آپ کے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر چھوڑ دیا۔ پیغمبر اکرم(ص) ان دنوں میں سفر پر تھے۔ سفر سے لوٹنے کے بعد ولادت کی خبر سنتے ہی اپنی لخت جگر فاطمہ زہرا(س) کے گھر تشریف لائے۔ نومولود کو اپنی آغوش میں لیا بوسہ کیا کہ اتنے میں جبرئیل نازل ہو گئے اور زینب(زین+اب) نام کو اس نومولود کے لیے انتخاب کیا(2)۔
اس عظیم خاتون نے ایک بے مثال زندگی گزارنے کے بعد 15 رجب سن 62 ہجری کو اس دارفانی سے دار ابدی کی طرف سفر کیا لیکن دنیا والوں کو ایسے ایسے الہی معارف سے روشناس کرا گئیں جن سے ایک معمولی خاتون پردہ نہیں اٹھا سکتی ہے۔ ہم یہاں پر صرف آپ کے عفت، پاکدامنی ، حیا اور شرافت کے صرف چند گوشوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ان خواتین کے لیےتربیت کے میدان میں بے بہا گوہر ہیں جو آپ کی غلامی کا دم بھرتی ہیں اور آپ کے پیروکار ہونے پر فخر محسوس کرتی ہیں۔

Login to post comments