×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

عالمة غیر معلمة حضرت زینب (س)

مرداد 17, 1393 509

قال علی ابن الحسین علیہما السلام:”‌ انت بحمد اللہ عالمة غیر معلمة فہمة غیر مفہمة“[1] امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے هیں کہ

بحمد اللہ میری پھوپھی (زینب سلام علیہا) عالمہ غیرمعلمہ هیں اور ایسی دانہ کہ آپ کو کسی نے پڑھایا نهیں هے۔
زینب سلام علیہا کی حشمت و عظمت کے لئے یهی کافی تھا کہ انھیں خالق حکیم نے علم لدنی ودانش وہبی سے سرفراز فرمایا تھا اور عزیزان گرامی آج کی مجلس کا عنوان هے ”‌زینب کربلا سے شام تک “ زینب ایک فرد نهیں بلکہ اپنے مقدس وجود میں ایک عظیم کائنات سمیٹے هوئے هیں ایک ایسی عظیم کائنات جس میں عقل و شعور کی شمعیں اپنی مقدس کرنوں سے کاشانہ انسانیت کے دروبام کو روشن کئے هوئے هیں اور جس کے مینار عظمت پر کردار سازی کا پر چم لہراتا هوا نظر آتا هے زینب کے مقدس وجود میں دنیائے بشریت کی تمام عظمتیں اور پاکیز ہ رفعتیں سمٹ کر اپنے آثار نمایاں کرتی هوئی نظر آتی هیں زینب کا دوسری عام خواتینوں پر قیاس کرنا یقینا ناانصافی هے کیونکہ امتیاز وانفردی حیثیت اور تشخص هی کے سائے میں ان کی قدآور شخصیت کے بنیادی خدو خال نمایاں هو سکتے هیں اور یہ کہنا قطعاً مبالغہ نهیں کہ زینب ایک هوتے هوئے بھی کئی ایک تھیں زینب نے کربلا کی سرزمین پر کسب کمال میں وہ مقام حاصل کیا جس کی سرحدیں دائرہ امکان میں آنے والے ہر کمال سے آگے نکل گئیں اور زینب کی شخصیت تاریخ بشریت کی کردار ساز ہستیوں میں ایک عظیم و منفرد مثال بن گئی ہم فضیلتوں کمالات اور امتیازی خصوصیات کی دنیا پر نظر ڈالتے هیں تو زینب کی نظیر ہمیں کهیں نظر نهیں آتی اور اس کی وجہ یهی هے کہ زینب جیسا کہ میں نے بیان کیا هے کہ اپنے وجود میں ایک عظیم کائنات سمیٹے هوئے جس کی مثال عام خواتین میں نهیں مل سکتی هے اور یہ بات یہ ایک مسلم حقیقت بن چکی هے کہ انسانی صفات کو جس زاویے پر پرکھا جائے زینب کا نام اپنی امتیازی خصوصیت کے ساتھ سامنے آتا هے جس میں وجود انسانی کے ممکنہ پہلوؤں کی خوبصورت تصویر اپنی معنوی قدروں کے ساتھ نمایاںدکھا ئی دیتی هے۔صلوات
جناب زینب ان تمام صفات کے ساتھ ساتھ فصاحت و بلاغت کی عظیم دولت و نعمت سے بھی بہر مند تھی زینب بنت علی تاریخ اسلام کے مثبت اور انقلاب آفریں کردار کا دوسرا نام هے صنف نازک کی فطری ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور بنی نوع آدم علیہ السلام کو حقیقت کی پاکیز ہ راہ دکھانے میں جہاں مریم و آسیہ وہاجرہ و خدیجہ اور طیب وطاہر صدیقہ طاہر ہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہم کی عبقری شخصیت اپنے مقدس کردار کی روشنی میں ہمیشہ جبین تاریخ کی زینت بن کر نمونہ عمل ثابت هوئی هیں وہاں زینب بھی اپنے عظیم باپ کی زینت بنکر انقلاب کربلا کا پرچم اٹھائے هوئے آواز حق و باطل سچ و جھوٹ ایمان و کفر اور عدل وظلم کے درمیان حد فاصل کے طور پر پہچانی جاتی هیں زینب نے اپنے عظیم کردار سے آمریت کو بے نقاب کیا ظلم و استبداد کی قلعی کھول دی دنیا کے زوال پزیر حسن وجمال پر قربان هونے والوں کو آخرت کی ابدیت نواز حقیقت کا پاکیزہ چہرہ دیکھا یا صبرو استقامت کا کوہ گراں بنکر علی علیہ السلام کی بیٹی نے ایسا کردار پیش کیا جس سے ارباب ظلم و جود کو شرمندگی اور ندامت کے سوا کچھ نہ مل سکا زینب کو علی و فاطمہ علیہما السلام کے معصوم کردار ورثے میں ملے امام حسن علیہ السلام کا حسن و تدبیر جہاں زینب کے احساس عظمت کی بنیاد بنا وہاں امام حسین علیہ السلام کا عزم واستقلال علی علیہ السلام کی بیٹی کے صبر و استقامت کی روح بن گیا ، تاریخ اسلام میں زینب نے ایک منفرد مقام پایا اور ایساعظیم کارنامہ سرانجام دیا جو رہتی دنیاتک دنیائے انسانیت کے لئے مشعل راہ واسوہ حسنہ بن گیا۔صلوات
زینب بنت علی(ع)تاریخ اسلام میں اپنی مخصوص انفرادیت کی حامل هے اور واقعہ کربلا میں آپ کے صبر شجاعانہ جہاد نے امام حسین علیہ السلام کے مقدس مشن کو تکمیل یقینی بنایا آپ نے دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کا تحفظ وپاسداری میں اپناکردار اس طرح ادا کیا کہ جیسے ابوطالب(ع)رسول اللہ (ص)کی پرورش میں اپنے بھتیجے کے تحفظ کے لئے اپنی اولاد کو نچھا ور کرنا پسند کرتے تھے کیونکہ ایک هی ہدف تھا کہ محمد بچ جائے وارث اسلام بچ جائے بالکل اسی طرح زینب کاحال هے کہ اسلام بچ جائے دین بچ جائے چاهے کوئی بھی قربانی دینی پڑے اسی لئے تاریخ میں زینب کی قربانی کی مثال نهیں ملتی یہ شجاع کی بیٹی هے جس کی شجاعت کا لوہا بڑے بڑوں نے مانا تھا ۔
اس شجاعت کے پیکر کی ولادت باسعادت کے موقع پر جب اسم مبارک کی بات آئی تو تاریخ گواہ هے کہ سیدہ زینب کی ولادت ہجرت کے پانچویں سال میں جمادی الا ولیٰ کی پانچ تاریخ کو هوئی اور آپ اپنے بھائی حسین علیہ السلام کے ایک سال بعد متولد هوئیں جس وقت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اس گوہر نایاب کو اپنے ہاتھوں پر اٹھائے هوئے دل کے اندر اس کی آنے والی زندگی کے چمن کو سجائے رسول اللہ (ص)کی خدمت میں حاضر هوئیں اورعرض کی کہ اے بابا اس بچی کا نام تجویز فرمائیں ،روایت کی گئی کہ جس وقت جناب زینب بنت علی ابن ابیطالب علیہم السلام کی ولادت با سعادت هو ئی تو رسول اللہ(ص)کو ولادت کی خبر دی گئی آپ بہ نفس نفیس فاطمہ الزہرا علیہا السلام کے گھر تشریف لائے اور فاطمہ زہرا سے فرمایا اے میری بیٹی ،اپنی تازہ مولودہ بچی کو مجھے دو پس جب کہ شہزادی نے زینب بنت علی علیہمالسلام کو رسول اکرم (ص)کے سامنے پیش کیا تو رسول اللہ (ص)نے زینب کو اپنی آغوش میں لیکر بحکم خدااس بچی کانام زینب رکھا اس لئے کہ زینب کے معنی هیں باپ کی زینت جس طرح عربی زبان میں ”‌زین “معنی زینت اور ”‌اب“معنی باپ کے هیں یعنی باپ کی زینت هیں ،اپنے سینہ اقدس سے لگا لیا اور اپنا رخسار مبارک زینب بنت علی(ع) کے رخسار مبارک پر رکھ کر بلند آواز سے اتنا گریہ کیا کہ آپ کے آنسوں آپ کی ریش مبارک پر جاری هو گئے فاطمہ زہرا نے فرمایا اے بابا جان آپ کے رونے کا کیا سبب هے اے بابا آپ کی دونوں آنکھوں کو اللہ نے رلایا نهیں هے ؟تو رسول اللہ (ص) نے فرمایا اے میری بیٹی فاطمہ آگاہ هو جاؤ کہ یہ بچی تمہارے اور میرے بعدبلاؤں میں مبتلاهوگی اور اس پر طرح طرح کے مصائب پڑیں گے پس یہ سن کر فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہانے بھی گریہ کیا اور پھر فرمایا اے بابا جان جو شخص میری اس بیٹی اور اس کے مصائب پر بکاکرے گا تو اس کو کیا ثواب ملے گا ؟ تورسول اللہ نے فرمایا اے میرے جگر کے ٹکڑے اور اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ، جو شخص زینب کے مصائب پر گریہ کنا هوگا تو اس کے گریہ کا ثواب اس شخص کے ثواب کے مانند هوگا جو زینب کے دونوں بھائیوں پر گریہ کرنے کا هے۔ صلوات[2]
عفت اور پاکدامنی خواتین کے لیے سب سے زیادہ قیمتی گوہر ہے۔ جناب زینب (س) ایک طرف سے درس عفت کو مکتب علی (ع) سے حاصل کیا کہ فرمایا: مَا الْمُجاهِدُ الشَّهیدُ فی سَبیلِ اللّه‏ِ بِاَعْظَمَ اَجْرا مِمَّنْ قَدَرَ فَعَفَّ یَكادُ الْعَفیفُ اَنْ یَكُونَ مَلَكا مِنَ الْمَلائِكَةِ (25) راہ خدا میں شہید مجاہد کا ثواب اس شخص سے زیادہ نہیں ہے جو قادر ہونے کے بعد عفت اور حیا سے کام لیتا ہے قریب ہے کہ عفت دار شخص فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہو جائے۔
اور دوسری طرف سے خود جناب زینب (س) کی ذاتی شرم و حیا اس بات کی متقاضی تھی کہ آپ عفت اور پاکدامنی کے بلند ترین مقام پر فائز ہوں۔ اس لیے کہ حیا کا بہترین ثمرہ عفت اور پاکدامنی ہے۔ جیساکہ علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: سَبَبُ العِفَّةِ اَلْحَیا(30) عفت اور پاکدامنی کا سبب حیا ہے۔
اور دوسری جگہ فرمایا: عَلی قَدْرِ الحَیاءِ تَكُونُ العفَّة(26) جتنی انسان میں حیا ہو گی اتنی اس میں عفت اور پاکدامنی ہو گی۔
جناب زینب (س) کی خاندانی تربیت اور ذاتی حیا اس بات کا باعث بنی کہ آپ نے سخترین شرائط میں بھی عفت اور پاکدامنی کا دامن نہیں چھوڑا۔ کربلا سے شام تک کا سفر میں جو آپ کے لیے سب سے زیادہ سخت مرحلہ تھا آپ نے عفت و پاکدامنی کی ایسی جلوہ نمائی کی تاریخ دھنگ رہ گئی۔ مورخین لکھتے ہیں: وَهِیَ تَسْتُرُ وَجْهَها بِكَفِّها لاَِنَّ قِناعَها اُخِذَ مِنْها (27) آپ اپنے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے چھپایا کرتی تھیں چونکہ آپ کی روسری کو چھین لیا گیا تھا۔
یہ آپ کی شرم و حیا کی دلیل ہے کہ آپ نے اپنے بھائی کے قاتل شمر جیسے ملعون کو بلا کر یہ کہنا گوارا کر لیا کہ اگر ممکن ہو تو ہمیں اس دروازے سے شام میں داخل کرنا جس میں لوگوں کو ہجوم کم ہو۔ اور شہدا کے سروں کو خواتین سے دور آگے لے جاو تاکہ لوگ انہیں دیکھنے میں مشغول رہیں اور ہمارے اوپر ان کی نگاہیں نہ پڑیں۔ لیکن اس ملعون نے ایک بھی نہ سنی اور سب سے زیادہ ہجوم والے دروازے سے لے کر گیا۔
جناب زینب کی کنیزی کا دم بھرنے والی خواتین ذرہ سوچیں کہ کیا جناب زینب نے جن شرائط میں پردہ کی لاج رکھی اگر ہم ان کی جگہ ہوتی تو کیا کرتیں۔ جناب زینب نے اپنے چادر چھنوا کر قیامت تک اپنے چاہنے والی خواتین کی چادروں کی ضمانت کر دی۔ اب اگر معمولی معمولی بہانے لے کر کوئی خاتون بے پردہ ہو جاتی ہے بے حیائی کا مظاہرہ کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کنیز جناب زینب ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو کل قیامت میں جناب زینب کو کیا منہ دکھائی گی؟
زینب اس باعظمت خاتون کا نام هے جن کا طفولیت فضیلتوں کے ایسے پاکیزہ ماحول میں گذرا هے جو اپنی تمام جہتوں سے کمالات میں گھرا هوا تھا جس کی طفولیت پر نبوت و امامت کاسایہ ہر وقت موجود تھا اور اس پر ہر سمت نورانی اقدار محیط تھیں رسول اسلام (ص)نے انھیں اپنی روحانی عنایتوں سے نوازا اور اپنے اخلاق کریمہ سے زینب کی فکری تربیت کی بنیادیں مضبوط و مستحکم کیں نبوت کے بعد امامت کے وارث مولائے کائنات نے انھیں علم و حکمت کی غذا سے سیر کیا عصمت کبریٰ فاطمہ زہرا نے انھیں فضیلتوں اور کمالات کی ایسی گھٹی پلائی جس سے زینب کی تطهیر و تزکیہ نفس کا سامان فراہم هوگیا اسی کے ساتھ ساتھ حسنین شریفین نے انھیں بچپن هی سے اپنی شفقت آمیز مرافقت کا شرف بخشا یہ تھی زینب کے پاکیزہ تربیت کی وہ پختا بنیادیں جن سے اس مخدومہ اعلیٰ کا عہد طفولیت تکامل انسانی کی ایک مثال بن گیا. صلوات [3]
وہ زینب جو قرة عین المرتضیٰ جو علی مرتضیٰ کی آنکھوں کی ٹھنڈک هو جو علی مرتضیٰ کی آنکھوں کانور هو وہ زینب جو علی مرتضیٰ کی قربانیوں کو منزل تکمیل تک پہنچانے والی هو وہ زینب جو”‌عقیلة القریش“هو جو قریش کی عقیلہ و فاضلہ هو وہ زینب جو امین اللہ هو اللہ کی امانتدار هو گھر لٹ جائے سر سے چادر چھن جائے بے گھر هو جائے لیکن اللہ کی امانت اسلام پر حرف نہ آئے، قرآن پر حرف نہ آئے،انسانیت بچ جائے، خدا کی تسبیح و تہلیل کی امانتداری میں خیانتداری نہ پیدا هو، وہ هے زینب جو ”‌آیة من آیات اللہ“آیات خدا میں ہم اہلبیت خدا هیں ہم اللہ کی نشانیوں میں سے ہم اللہ کی ایک نشانی هیں وہ زینب جومظلومہ وحیدہ بے مثل مظلومہ جس کی وضاحت آپ کے مصائب میں هوگی جو مظلوموں میں سے ایک مظلومہ ”‌ملیکة الدنیا“وہ زینب جو جہان کی ملکہ هے جو ہماری عبادتوں کی ضامن هے جو ہماری زینب اس بلند پائے کی بی بی کا نام جس کا احترام وہ کرتا جس کا احترام انبیاء ما سبق نے کیا هے جس کو جبرائیل نے لوریاں سنائی هیں کیو نکہ یہ بی بی زینب ثانی زہرا سلام اللہ علیہا هے اور زہرا کا حترام وہ کرتا تھا جس کا احترام ایک لاکھ چو بیس ہزار انبیاء کرتے تھے میں جملہ حوالہ کررہا هو ں اگر بیدار هو کر آپ نے غور کیا تو بہت محظوظ هو نگے جس رحمة للعالمین کے احترام میں ایک لاکھ انبیاء کھڑے هوتے هو ئے نظر آئے عیسیٰ نے انجیل میں نام محمد دیکھا احترام رحمة للعالمین میں کھڑے هوگئے موسیٰ نے توریت میں دیکھا ایک بار اس نبی کے اوپر درود پڑھنے لگے تو مددکے لئے پکارا احترام محمد میں سفینہ ساحل پہ جا کے کھڑاهوگیا (یعنی رک گیا )عزیزوں غور نهیں کیا جس رحمت للعالمین کے احترام میں ایک کم ایک لا کھ چوبیس ہزار انبیا ء کا، کارواں کھڑا هو جائے تووہ رحمت للعالمین بھی تو کسی کے احترا م میں کھڑا هوتا هو گا اب تاریخ بتاتی هے کہ جب بھی فاطمہ سلام اللہ علیہا محمد (ص) کے پاس آئیں محمد کھڑے هو گئے تو اب مجھے کہنے دیجیئے کہ یہ کیسے هو سکتا هے کہ استاد کھڑا هو اور شاگرد بیٹھا رهے سردار کھڑا هو سپاهی بیٹھے رهیں تو اب بات واضح هو گئی کہ محمد(ص)اکیلے نهیں فاطمہ کے احترام میں کھڑے هوئے بلکہ یوں کہہ دوں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کا کارواں احترام فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہامیں کھڑا هوااب زینب هیں ثانی زہرا اگران کے تابوت و ان کے حرم کے سامنے احترام میں اگر شیعہ کھڑا هو جائے تو سمجھ لنیا کہ وہ سنت پیغمبر ادا کررہا هے ۔صلوات

Login to post comments