×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

فقہ اور فقہاء شیعہ کا تشخص اور تعارف

مرداد 17, 1393 497

فقہ کا حتمی مقصد ، دنیا اور آخرت میں انسانوں کو کامیابی اور نجات سے ہمکنار کرنا ہے ۔ اس سے قبل ہم نے فقہ شیعہ کے بعض مراحل

کا جائزہ لیا تھا اور چند نامور اور عظیم فقہا جیسے کلینی ، جنید اسکافی ، شیخ مفید ، شیخ طوسی اور شیخ ادریس حلی سے آشنا ہوئے تھے۔ اس پروگرام میں ہم فقہ میں رونما ہونے والے تغیر و تبدل اور چند شیعہ فقہا کے بارے میں آپ کو بتائیں گے ۔
فقہی مراحل میں سے ایک مرحلے میں فقہا نے یہ کوشش کی کہ فقہ شیعہ کے لئے بنیادی قواعد و اصول قائم کریں تاکہ فقہ شیعہ کا مستقل تشخص قائم ہو۔ جن فقہا نے اس کے لئے قدم اٹھایا ان میں "شمس الدین محمد بن مکی عاملی " جو "شہید اول" کے نام سے معروف ہیں ، کا نام قابل ذکر ہے ۔ مکی عاملی عظیم فقہاء شیعہ میں سے ہیں ۔ آپ 720 ہجری قمری میں جبل عامل لبنان کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ عاملی نے کچھ عرصہ عراق کے شہر حلہ کے حوزۂ علمیہ کے نامور علماء اور اساتذہ سے کسب فیض کیا اور اپنی انتھک کوششوں اور جہد مسلسل کے ذریعے 34 سال میں درجۂ اجتہاد پر فائز ہوگئے ۔ انہوں نے اپنے دور کے جید علماء سے ، حدیث ، اور روایتی ، فقہی ، ادبی ، تفسیری اور کلامی منابع نقل کرنے اورانہیں پڑھانے کی اجازت حاصل کی ۔ مکی عاملی کو جبل عامل کے حوزۂ علمیہ یا دینی و علمی مرکز کا بانی جانا جاتا ہے ۔ یہ وہ علمی و دینی مرکز ہے جس سے بعد میں فقہ امامیہ اور شیعہ افکار کو عروج حاصل ہوا ۔ شہید اول نے اپنی بابرکت عمر میں دسیوں علمی آثار چھوڑے ہیں کہ جن میں زیادہ تر فقہی ہیں اور ان کے درمیان کلام وعقائد اور اخلاق سے متعلق بھی کتابیں موجود ہیں ۔ کئی صدیاں گذر جانے کے باوجود ابھی بھی شمس الدین عاملی کے فقہی نظریات ، مکتب شیعہ کے بزرگ علماء کے فقہی آراء و نظریات کا سرچشمہ ہیں۔ فقہ شیعہ کو مستقل حیثیت اور تشخص دیئے  جانے کا آپ کا اقدام ، اس بات کا با‏عث بنا کہ آپ کی تالیفات و تصنیفات آپ سے قبل کے مصنفین کی کتابوں سےممتاز قرار پائے چنانچہ ان کے بعد کے دانشوروں نے ڈیرھ سو برس تک آپ کے نظریات کی پیروی کی اور اپنے کام کی بنیاد ، ان کی تالیفات و تصنیفات کی شرح پر مرکوز رکھی ۔ شہید اول ( رح ) ایک عمر تک علمی اور عملی جدو جہد انجام دینے کے بعد دمشق میں اس دور کے حکمرانوں کے توسط گرفتار کئے گئے اور ایک سال قید کی مصیبتیں برداشت کرنے کے بعد 786  ہجری قمری میں شہید کردیئے گئے ۔
فقہ شیعہ کا دوسرا دور، فقہ صفوی کا ہے جو دسویں صدی ہجری سے بارہویں صدی ہجری قمری تک جاری رہا ۔ فقہ صفوی متعدد رجحانات کی حامل ہے جن میں فقہ محقق ثانی ہے ۔ " شیخ علی بن عبد العالی کرکی " محقق ثانی سے معروف ہیں ۔ آپ ان عظیم شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے فقہ شیعہ کو مستغنی کیا ۔ شیخ کرکی ، جبل عامل کے عظیم فقیہ اور فقہاء شیعہ کے اکابرین میں سے ہیں ۔ انہوں نے شام و عراق میں اپنی تعلیم مکمل کی اور پھر شاہ طہماسب اول کے زمانے میں ایران تشریف لائے اور ایران میں انہیں "شیخ الاسلامی" کا منصب سونپا گیا ۔ محقق ثانی کے ایران آنے اور قزوین اور پھر اصفہان میں حوزہ علمیہ کی بنیاد ڈالے جانے اور فقہ میں ممتاز شاگردوں کی تربیت اور پرورش اس بات کا باعث بنی کہ پہلی بار ایران کو فقہ شیعہ کی مرکزیت حاصل ہوئی ۔ محقق ثانی کا اہم کردار دو نکتے میں خلاصہ ہوتا ہے اول تو یہ کہ انہوں نے ٹھوس اور مظبوط فقہی دلائل اور استدلال قائم کئے اور دوسری جانب فقہ میں حکومتی مسائل جیسے حدود ، اختیارات ، نماز جمعہ ، خراج اور دیگر فقہی مسائل پر توجہ کی ۔ فقہ میں ان کی معروف کتاب" جامع المقاصد " ہے کہ جو علامہ حلی کی کتاب قواعد پر شرح ہے ۔ محقق ثانی نے اپنے بعد کے زمانے کے فقہاء پر بہت زیادہ اثرات مرتب کئے ۔ ان محققین میں سے جو کرکی سے متاثر نظر آتے ہیں ان میں " میر داماد " کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔
سید محمد باقر ، جو محمد داماد استرآبادی کے فرزند ہیں ، "میر داماد" سے معروف ہیں اور آپ عہد صفوی کے ممتاز اور عظیم علماء و حکماء میں سے ہیں ۔سید محمد باقر 960 ہجری میں پیدا ہوئے ۔ میر داماد کا سلسلۂ نسب امام حسین (ع) سے ملتا ہے۔ اس لحاظ سے کہ وہ ایک شریف اور بافضل و کمال گھرانے میں پرورش پائے ، اسی بچپن سے ہی ان میں علم کے حصول کا شوق پایا جاتا تھا ۔ انہوں نے دینی علوم کا آغاز بچپن میں ایران  کے شہر مشہد مقدس سے کیا اور وہاں کے اساتذہ اور فضلاء سے کسب علم کیا ۔ ہرات میں میر داماد کا تعلیمی دور، اعلی تعلیم کے حصول اور علمی صلاحیتوں سے سرشار ہونے کا دور تھا ۔ اور اسی دور کے بعد سے آپ کو عالمی ممتاز شخصیت کے طور پر جانا گیا اور علم معقولات و منقولات میں آپ کا شمار عظیم علماء میں ہونے لگا۔ میرداماد کے زمانے میں اصفہان کا حوزۂ علمیہ ، سرچشمۂ حکمت تھا اس طرح سے کہ دنیا کے اطراف واکناف سے لوگ حصول علم کے لئے اصفہان آنے لگے ۔بلا شبہ اصفہان کے حوزۂ علمیہ کا یہ امتیاز، میر داماد جیسی اس دور کی ممتاز شخصیات کا مرہون منت ہے ۔ میر داماد اپنے بعد کے افکار پر دو طریقے سے اثرانداز ہوئے ۔ ایک طرف تو ان کی سو جلدوں اور رسالوں سے زیادہ تالیفات و تصنیفات ہیں اور دوسری طرف انہوں نے بہت سے ایسے شاگردوں کی تربیت کی جن میں سے ہر کسی نے اپنے قیمتی آثار چھوڑے ہیں جیسے کہ ملاصدرا، کہ جنہوں نے اپنے بعد فلسفیانہ افکار پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں ۔ میر داماد 1040 ہجری قمری میں انتقال کر گئے ۔ اس عظیم فقیہ کامزار ، نجف میں حضرت علی (ع) کے جوار میں ہے۔
 صفوی دور میں فقہ شیعہ کا ایک اور رجحان ، مقدس اردبیلی کی فقہ ہے ۔ احمد بن محمد اردبیلی جو مقدس اردبیلی سے معروف ہیں ، صفوی دور کے عظیم فقہاء میں سے تھے ۔ وہ اگرچہ فقہی بنیادوں میں کوئی تبدیلی نہیں لائے تاہم ان کی روش مکمل طور پر مستقل اور خاص تھی ۔ ان کے آثار کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ ماضی کے فقہاء کے نظریات پر توجہ دیئے بغیر صرف اجتہاد ، تجزیوں اور اپنی فکر پر بھروسہ کرتے تھے۔ علمی بحثوں میں ان کی شجاعت ایک طرف ، تو دوسری طرف ان کی علمی تحقیقات اس بات کا باعث بنیں کہ ان کے بعد بہت سے فقہاء نے ان کی ہی روش کو اپنایا ۔ اور وہ " اتباع المقدس " کے نام سے مشہور ہوئے ۔
علم اصول فقہ کا نیادور " وحید بہبہانی جیسے فقہاء کے وجود میں آنے کے ساتھ کمال کی سمت گامزن رہا اور اس طرح سے اجتہاد اصولی کا احیاء ہوا ۔ وحید بہبہانی 1117  قمری میں اصفہان میں پیدا ہوئے ۔یہ شیعہ عالم دین ، ان نابغہ علماء میں سے تھے جن کو فقہ واصول میں تبحر حاصل تھا اور انہوں نے بارہویں صدی ہجری میں اپنی وسیع علمی کوششوں کے ذریعے فقہ کے اصولوں کو نئی تبدیلیوں سے آراستہ کیا اور اخباریوں ، جو اجتہاد کو قبول نہیں کرتے تھے ، کے اصولوں کا مقابلہ کیا ۔ انہوں نے اپنی کوششوں کے ذریعے ، فقہ شیعہ کو ایک بار پھر جدید فقہی اور قانونی مکتب کی صورت میں استوار اور ہم آہنگ کیا۔وحید بہبانی کی اہم کامیابی اس کے علاوہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے ایسے باعظمت فقہاء کی تربیت کی ہے کہ جنہوں نے اپنے فقہی اور اصولی بنیادوں پر مبنی قیمتی آثار کی تخلیق کے ذریعے ، وحید بہبہانی کے کارناموں کو مزید مستحکم کرنے میں شایان شان مدد کی ہے ۔ آیۃ اللہ بہبہانی نےصرف ایسے 30 سے زائد شاگردوں کی تربیت کی جو اجتہاد کے اعلی مرتبے پر فائز ہوئے ۔اس کے علاوہ انہوں نےفقہ و اصول میں 70  سے زائد کتابیں تحریر کیں ۔ اس گرانقدر شیعہ عالم کی 1205 ہجری قمری میں وفات ہوگئی ۔ وحید بہبہانی کامرقد کربلامیں ہے ۔ وحید بہبہانی کی وفات کے بعد ان کے شاگرد " سید مہدی بحرالعلوم " نے شیعوں کے مسائل و مشکلات کے حل کے لئے شیعہ مرجعیت اور قیادت کو سنبھالا ۔بحرالعلوم  1154  قمری ہجری میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے مقدمات صرف و نحو ، ادب ، منطق ، فقہ اور اصول کو اپنی بے مثال کوششوں سے اپنے والد اور دیگر فضلاء اور دانشوروں سے چار سال سے کم عرصے میں حاصل کرلیا ۔ اپنے بلوغ کے اوائل میں ہی اپنے والد اور اسی طرح وحید بہبہانی اور صاحب حدائق ، شیخ یوسف بحرانی کے درس خارج میں شرکت کی اور ان بزرگوں سے شایان شان استفادہ کیا اور پانچ برسوں تک وسیع اور عمیق درس و بحث اور سطح کا مرحلہ طے کرنے کے بعد درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے ۔ وحید بہبہانی کو، ان کی علمی و معنوی عظمت و منزلت کے سبب شیعہ علماء میں بہت زیادہ احترام حاصل ہے ۔ بحرالعلوم کی اصول فقہ میں بہت زیادہ تالیفات ہیں ۔ فقہ میں ان کا ایک منظومہ بھی ہے ۔ اس شیعہ عالم دین کے آراء و نظریات، بہت سے فقہاء کی توجہ اور عنایت کا سبب بنے ہیں مثال کے طور پر فقہ میں ان کی ایک گرانبہا کتاب "مصابیح " ہے جو عبادات و معاملات کے سلسلے میں لکھی گئی ہے ۔ 1212  ہجری قمری ، ماہ رجب میں 57 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا ان کی قبر  نجف میں مسجد طوسی میں ، شیخ طوسی کی قبر کے کنارے ہے ۔ ( ختم شد )

Login to post comments