×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

’’۱۸ ذی الحجہ ‘‘امیرا لمومنینؑ حضرت علی ؑ کے تاریخ ولایت

مهر 21, 1393 542

مشیت خداوندی یہی تھی کہ واقعۂ غدیر ہر طورتروتازہ رہے،یہی وجہ تھی کہ۔بنا بریں اس موضوع کی وضاحت سے متعلق

آیات نازل فرمائیںتاکہ امت اسلامی ہر صبح وشام ترتیل وتلاوت کے ذریعہ مصداق آیات کو قلب ونظر میں جگہ دے کر واقعۂ غدیر کے درخشاں اثرات کی تجدید کرتی رہے اور جو کچھ دین الٰہی نے خلافت کبریٰ سے متعلق واجب قرار دیا ہے ،فکر ونظر کے راستے قلب وجگر کا نصب العین بنا سکے ۔
ان آیات کریمہ میں سورئہ مائدہ کی آیت ہے  :{یا ایّھا الرّسُول بَلِّغْ مَا اُنزِلَ اِلَیکَ منْ ربِّک وَاِنْ لمْ تَفعَلْ فَما بلَّغتَ رِسَالَتَہٗ وَاللہُ یَعصِمُکَ مِنَ النَّاس}   ’’اے رسول ؐ!جو کچھ تمھارے پروردگار کی طرف سے حکم تم پر نازل کیا گیا ہے ،پہونچا دو ،اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو (سمجھ لوکہ)تم نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پہونچایا (اور تم ڈرو نہیں)خدا تم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا‘‘۔
یہ آیۂ شریفہ حجۃ الوداع کے سال بتاریخ ۱۸؍ذی الحجہ  ۱۰ھ  ؁ نازل ہوئی ۔رسول اکرمؐ غدیر خم میں پہونچ چکے تھے ،دن کی پانچ ساعتیں گزری تھیں،اتنے میں جبرئیل نازل ہوئے اور کہا:اے محمدؐ! خدا وند عالم بعد تحفۂ درود فرماتا ہے کہ اے رسولؐ ! جو کچھ علی ؑ کے متعلق پیغام ربّ نازل کیا جا چکا ہے اس کی تبلیغ فرما دیجئے،اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا کار رسالت انجام ہی نہیں دیا ۔اس درمیان میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کا قافلہ قریب جحفہ پہونچ چکا تھا ،رسولؐ نے آگے بڑھ جانے والوں کو پیچھے پلٹنے کا اور پیچھے رہ جانے والوں کے انتظار کا حکم دیا تاکہ لوگوں کے درمیان علی ؑ کو بلند کر کے حکم پروردگار کی تبلیغ کی جاسکے ،جبرئیل نے رسول اکرمؐ کو آگاہ کر دیا کہ خداوند عالم آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مندرجہ بالا تفصیل علمائے شیعہ کے نزدیک متفقہ ومسلم ہے  البتہ ہم یہاں احادیث اہل سنت کے ذریعے استدلال واحتجاج  بیان کرتے ہیں؟۔۔۔۔   ۱۔حافظ ابو جعفر محمد بن جریرطبری متوفیٰ ۳۱۰ھ؁  نے کتاب الولایۃ میں زید بن ارقم سے تخریج کی ہے کہ جب رسول خدا ؐحجۃ الوداع سے واپس ہوتے ہوئے غدیر خم پہونچے تو ظہر کا ہنگام ،ہوا گرم تھی۔آنحضرتؐ کے حکم سے اس جگہ کے کانٹے صاف کر کے نماز جماعت کا اعلان کیا گیا۔ہم سب جمع ہوئے تو رسول اللہ ؐنے خطبہ ارشاد فرمایا:’’خدا نے یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ جو حکم آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا جا چکا ہے ،اسے پہونچا دیجئے اگر ایسا نہ کیا تو گویا کار رسالت ہی انجام نہ دیا ،خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔اور جبرئیل نے مجھے حکم ربّ پہونچایا ہے کہ اسی جگہ پر کالے گورے کو آگاہ کر دوں کہ علی بن ابی طالب ؑمیرا بھائی ،وصی اور میرا جانشین ہے ،میرے بعد لوگوں کا امام ہے ۔میں نے جبرئیل سے درخواست کی کہ خدا مجھے اس امر کی انجام دہی سے معاف رکھے ،کیوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تقویٰ شعار افراد کم اور موذی وملامت کرنے والے زیادہ ہیں جو علی ؑ سے میری شدید وابستگی پر ملامت کریں گے ،اسی توجہ کی بنا پر ان بدخواہوںنے مجھے اُذُنْ (کان)کہنا شروع کردیاہے ،خدا نے مجھے اس طعن کی خبر دی ہے : {وَمِنْہُم الّذین یُوذُونَ النَّبی وَ یَقُولُونَ ہُوَ اُذُنٌ قُلْ اُذُنُ خَیرٌ لَکُم}(ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیںجو پیغمبر کو اذیت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کان ہے ،تم کہہ دو کہ کان تمھارے حق میں بہتر ہے )اگر میں چاہوں تو ان کی نشان دہی کر دوں ،مگر پردہ پوشی ہی میں کرامت ہے ،خدا نے بہر حال مجھے تبلیغ کا حکم دیا ہے۔ لہذااے لوگو! اچھی طرح سمجھ لو کہ خدا نے علی ؑ کو تمھارے لئے ولی وامام کی حیثیت سے نصب فرمایاہے ،اور اس کے حکم کی بجاآوری سب پر واجب ہے ،اس کا حکم نافذ اور قول رائج ہے،اس کا مخالف ملعون اور اس کی تصدیق کرنے والا مستوجب رحمت ہے ،سن لواور اطاعت کا عہد کرو کہ خدا تمھارا مولا اور علی ؑ تمھارا امام ہے ۔پھر اس کے بعد اس کے صلب سیمیرے فرزندوںمیں قیامت تک امامت برقرارہے،کوئی حلال نہیں مگر وہی جسے خدا اور رسول ؐنے حلال قرار دیا ہے اور کوئی حرام نہیں مگر صرف وہی جسے خدا ورسولؐ نے حرام قرار دیا ،تمام علوم کو خدا نے اس کی ذات میں احصاء اور منتقل کردیا ہے اب اس سے منھ نہ موڑو ،اس کے حکم سے سرتابی نہ کرو کیوں کہ وہی تمھاری حق کی طرف رہنمائی کرے گا اور حق پر عمل کرے گا خداوند عالم منکر ولایت کی نہ توبہ قبول کرے گا اور نہ بخشے گا ۔اسے ابدآثار دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔وہ میرے بعد تمام لوگوں سے افضل ہے جب تک رزق نازل ہو رہا ہے اور مخلوق باقی ہے اس کا مخالف ملعون ہے اور میرا یہ قول بواسطہ جبرئیل خدا کا حکم ہے ۔اب ہر نفس کو غور کرنا چاہئے کہ وہ کل قیامت کے لئے کیا بھیج رہا ہے۔ محکمات قرآن کی پیروی کرو ،متشابہ کے چکر میں نہ پڑو۔صرف اسی کی بیان کردہ تفسیر صحیح ہے جس کا بازو میرے ہاتھ میں ہے اور جسے بلند کر کے متعارف کرایا ہے،جس کا میں مولیٰ ہوں اس کا یہ علی ؑمولا ہے ،اس کی ولایت خدا کی طرف سے مجھ پر نازل ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خبردار! میں نے اپنی ذمہ داری نبھادی۔خبردار!وضاحت طلب باتوں کی میں نے توضیح کردی۔مومنین کی سرداری صرف اسی کوزیب دیتی ہے ۔پھر علی ؑکو اس قدر بلند کیا کہ علی ؑ کے پائوںنبی ؐکے گھٹنو تک آگئے اور فرمایا:یہ میرا بھائی ،میرا وصی اور میرے علوم کا حامل ہے ،جو بھی مجھ پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے یہ میراجانشین ہے ،خدایا! اس کے دوست کو دوست اور اس کے دشمن کو دشمن رکھ،اس کے منکر پر لعنت کر،اس کے حق کا انکار کرنے والے پر غضب ناک ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے خدا تونے اعلان ولایت علی ؑ پر آیت اتاری{  الیوم اکملت لکم دینَکم}’’آج میں نے تمھارا دین کامل کر دیا ‘‘۔اس کی امامت کی وجہ سے ۔اب جو بھی اس کی اور اس کے صلب سے اماموں کی امامت نہ مانے اس کے تمام اعمال اکارت ہیںکہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ،یقیناابلیس نے آدم کو جنت سے نکلوایامحض ان کے صفوۃ اللہ ہونے کے حسد میں ۔اس لئے اب تم کبھی حسد نہ کرنا ورنہ تمھارے اعمال اکارت اور قدم پھسل جائیںگے، علی ؑ ہی کے لئے سورئہ عصر نازل ہوا ہے ۔قسم ہے عصر کی تمام انسان گھاٹے میں ہیں(ایمان وعمل صالح کا مصداق سلمان وعلی ؑہیں)۔
ااے لوگو!ایمان لائو خدا ورسولؐ پر اور اس نور پر جو نازل کیا گیا ہے۔خدا کا وہ نور میرے بارے میں ہے پھر علی ؑ کے بارے میں اور اس کی نسل میں قائم مہدی تک ۔۔۔۔۔۔۔۲۔حافظ بن ابی حاتم ابو محمد حنظلی رازی متوفیٰ۳۲۷ھ  ؁ابوسعید خدری سے تخریج روایت کر کے اس آیت کے غدیر خم میں علی ؑکے بارے میں نازل ہونے کی نشاندہی کی ہے ۔(حوالہ : ۔در منثور ج؍ص؍۲۹۸،فتح القدیر،کشف الغمہ ص؍۹۴(ج؍۱ص؍۳۲۶))۔۔۔۔۔۔۔۳۔حافظ عبداللہ محاملی  متوفیٰ۳۳۰ھ؁نے یہی بات کہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۴۔حافظ ابوبکر فارسی شیرازی نے کتاب’’ مانزل من القرآن فی امیر المومنینؑ‘‘ میںیہی لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور ابن عباس کا قول نقل کیا ہے :جب خدا نے رسولؐ کو حکم دیا کہ علی ؑکو اپنا جانشین مقرر کریں تو آپ ؐنے عرض کی:خدایا ! میری قوم جاہلی عہد سے قریب ہے ۔پھر حج تمام کیا اور پلٹتے ہوئے غدیر خم پہونچے تو خدا نے آیت نازل فرمائی :یا ایّہا الرّسول بلّغ مااُنزِل الیک من رَّبِک   ۔   پھر آپ نے علی کاـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبازو پکڑ کرلوگوں کے سامنے فرمایا:اے لوگو!کیا میں مومنین کے نفسوں پر ان سے زیادہ بااختیار نہیں ہوں۔سب نے کہا :ہاں اے رسول خدا ؐ!فرمایا:اے خدا!جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولاہیں۔خدایا!اس کے دوست کو دوست اور دشمن کو دشمن رکھ                                                        
۔اس کے مددگاروں کی مدد کر ،جو اس کو چھوڑدے تو بھی اسے چھوڑ دے ،اس کے ناصر کی نصرت کر ،اس کے دوست کو دوست رکھ اور اس کے دشمن پر غضبناک ہو۔ابن عباس کہتے ہیں خدا کی قسم !پوری امت کی گردن پر ولایت واجب قرار دے دی گئی۔ اس کے بعد حسان نے اشعار پڑھے:  ینادیہم یوم الغد یر بینہم ۔اور زید بن علی سے روایت ہے کہ جب جبریل ولایت کا امر لے کر نازل ہوئے تو نبی کا سینہ تنگ ہونے لگا،آپ نے فرمایا:میری قوم جاہلیت سے بہت نزدیک ہے ۔اس وقت آیت اُتری۔(حوالہ : الکشف والبیان تفسیر سورئہ مائدہ آیت ۶)۔۔۔۔۔۔۔۔۶۔ابواسحاق نیشابوری تفسیر الکشف والبیان میں امام باقرؑ سے آیت کا مطلب لکھتے ہیں:بلّغ ما انزل الیک من ربّک فی فضل علی ۔جو کچھ فضیلت علی ؑ کے متعلق آپ کے پاس حکم رب نازل ہو چکا ہے اسے پہونچا دیجئے۔اس وقت آپ نے علی کا ہاتھ پکڑکر فرمایا:من کنت مولاہ ۔(۲)آگے لکھتے ہیں :مجھے خبر دی ابو محمد عبداللہ بن محمد قاینی ،ابوالحسین محمد بن عثمان نصیبی ،ابوبکر محمد بن حسن سبیعی ،علی بن محمد الدہان وحسین بن ابراہیم جصاص۔حسین بن حکیم ۔حسن بن حسین ،حبان ،کلبی ،ابوصالح ابن عباس سے متذکرہ مفہوم کی نشان دہی کی ہے          ۔(حوالہ: العمدۃص؍۴۹(ص؍۱۰۰)؛الطرائف(ج؍۱ص؍۱۵۲حدیث۲۳۴)؛کشف الغمہ ص؍۹۴(ج؍۱ص؍۳۲۵؛مجمع البیان ج؍۲ص؍۲۲۳(ج؍۳ص؍۳۴۴)،مناقب آل ابی طالب ج؍۱ص؍۵۲۶(ج؍۳ص؍۲۹))۔۔۔۔۔۔۔۷۔حافظ ابونعیم اصفہانی مانزل من القرآن فی علی میں ابوبکر خلاد،محمد بن عثمان ابن ابی شیبہ، ابراہیم بن محمد میمون ،علی بن عابس ،ابوالجحاف واعمش ان دونوںنے عطیہ سے ۔( حوالہ : مانزل من القرآن فی علی (ص؍۸۶)؛خصائص الوحی المبین (ص؍۵۳ حدیث ۲۱))۔۔۔۔۔۔۸۔ابوالحسن واحدی نیشابوری         :   اسباب النزول میں ابوسعید محمد بن علی صفا ،حسن بن احمد مخلدی ،محمد  بن حمدون بن خالد،محمد بن ابراہیم حلوانی۔ حسن بن حماد سجادہ۔علی بن       
      عابس۔  [ حوالہ : اسباب النزول ص ۱۵۰( ص۱۳۵) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
                                               [ زیر نظر:  سید شمع محمد رضوی ،مدیرقر آن و عترت فائونڈیشن ]   
 ۔۔۔۔۔۔سلسلہ جاری۔۔۔۔۔۔   [ رابطہ کیجئے: ۱۱ جلدی الغدیر بہ زبان اردو: قرآن و عترت فاونڈیشن: ایران 00989191600338     
         ہندوستان [07352758474] [09833105026.mumbai.].[08521260415.houza.elmia.aytullah.khamnai.bhikpur]

Last modified on دوشنبه, 21 مهر 1393 10:46
Login to post comments