×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

کتاب غدیر کے سلسلے میں تحقیقی سفر،اورخدمات

مهر 21, 1393 618

تحقیقی سفر اور اس کی مشکلات :  علامہ امینی ؒنے ۱۳۸۰ھ؁ میں ہندوستان کی اسلامی میراث اور وہاں کے کتب خانوں میں موجود فکری

آثار سے استفادہ کرنے کے لئے ہندوستان کا سفر کیا ۔ اسی مقصد کے حصول کے لئے وہ وہاں چار مہینے مقیم رہے ، کبھی کبھی بعض کتب خانوں میں شب و روز کسی تھکن کے احساس کے بغیر رہ جاتے تھے ، اس جد و جہد میں انہوںنے گذشتہ لوگوں کی علمی میراث سے استفادہ کیا ، ان کو اپنی صحت و سلامتی کی بھی فکر نہیں تھی ۔وہ کتب خانے میں ہمیشہ رہے اور کتب خانے کے کام کے آخری لمحے تک ہندوستان میںمقیم رہے ، پھر اپنے وطن واپسی تک وہاں سے فراہم کی گئی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے ۔کتاب و مطالعہ کے علاوہ علامہ نے وہاں دینی ذمہ داری کے پیش نظر اپنے اوپر واجب کرلیاتھا کہ منبروں سے وعظ و نصیحت اور مسلمانوں کی ہدایت کریں ، ان کو قرآن و سنت سے وابستگی کی دعوت دیںحالانکہ ان کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں نے تدریس کی سختی سے ممانعت کردی تھی اور ان کو خصوصی تاکید کی تھی کہ اپنی صحت و سلامتی کا خیال رکھیںاور اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالیں۔
پھر اسی مقصد کے حصول کے لئے علامہ ۱۳۸۴ھ؁ میں شام گئے ، وہاں چار مہینے مقیم رہے ، اس زمانے میں انہوںنے اس ملک کی فکری دولت اور وہاں کے کتب خانوں میں چھپے ہوئے تاریخی خزانے معلوم کئے، جن بعض کتب خانوں سے علامہ نے خطی نسخے حاصل کئے ان میںبعض یہ ہیں : دار الکتب الوطنیہ (دمشق ) ، کتب خانہ مجمع اللغۃ العربیۃ ( دمشق ) ، کتب خانہ الاوقاف الاحمدیۃ ( حلب ) ، المکتبۃ الوطنیہ  (حلب ) ۔ علامہ امینی ہر کتاب کی تفصیل لکھتے تھے ، ان کتب خانوں میں دستیاب ہونے والے مآخذ و مصادر کی تعداد ایکسو پچاس ( ۵۰ا) تھی ۔اس کے بعد قدیمی مآخذ و منابع کی معلومات حاصل کرنے کے لئے ۱۳۸۸؁ھ میں ترکی تشریف لے گئے اور بہت سی فکری میراث اور اسلامی مباحث پر مشتمل کتابوں پر دسترسی حاصل کی ، آپ یہاں بھی (بیماری کے باوجود ) صحت و سلامتی سے بے فکر، علمی جد و جہد میں مصروف رہے تاکہ ان کا اہم ترین ہدف یعنی کتاب الغدیر مکمل ہوسکے ، اسی لئے وہ استانبول میں پندرہ دن مقیم رہے ، پھر بورسیہ گئے اور دس دن وہاں مقیم رہے ، وہاں علامہ نے جن کتب خانوں کی چھان بین کی، ان کی تعداد نو تھی ، ان میں سے بعض یہ ہیں :کتب خانہ سلیمانیہ ، کتب خانہ جامع آیاصوفیا ، کتب خانہ جامع نو عثمانیہ ، کتب خانہ اوغلی ، کتب خانہ چلبی وغیرہ ۔صحت گرنے کی وجہ سے وہاں تمام کتب خانوں کی چھان بین نہ کرسکے اور مطبوعہ و خطی (۵۵) منابع کی جمع آوری پر ہی اکتفا کیا ؛ ان میں سے بعض کتابیں یہ ہیں : صحیح ابن حبان ، صحیح ابن خزیمہ ، مولف محمد بن اسحاق نیشاپوری ، الضعفاء ، مولف محمد بن اسماعیل بخاری ، مسند عبد بن حمید ، مولف امام ابو محمد عبد بن حمید کشی ، المعجم الکبیر طبرانی ، النجم الثاقب فی اشعاق المناقب ، مولف : حسن بن عمر بن حبیب حلبی ، الکامل مولف حافظ عبد اللہ ابن عدی جرجانی ، اللو اء المکنون تالیف : عبد الغنی نابلسی ۔۔۔۔۔وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کتب خانہ ٔ امیر المومنین پر ایک نظر  :  علامہ امینیؒ نے اپنے تبلیغی  ہدف کی راہ میں صرف تالیف و تحقیق ، خطابت اور لوگوں کی ہدایت و رہبری پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ عالم اسلام کے گہوارہ ’’نجف اشرف ‘‘ میں ایک کتب خانہ کی شدید ضرورت محسوس کی ؛ اسی لئے آپ نے ایک کتب خانہ بنانے اور اسے مرتب کرنے کا عزم بالجزم کیا تاکہ جویندگان علم وحقیقت وہاں جمع ہوں اور حتی الامکان کتابوں ، منابع اور خطی نسخوں سے استفادہ کرسکیں۔چنانچہ آپ نے سب سے پہلے نجف اشرف میں اپنے محلے کے بغل میں دو گھر خریدے ، وہ آہستہ آہستہ آس پاس کی زمینیں بھی خرید رہے تھے کہ ایک عظیم کتب خانہ بنانے کی مقدمہ سازی ہوسکے ، جو نجف اشرف کے لائق ہو اور تحقیق و تالیف کے لئے ایک علمی مرکز بھی فراہم ہو ۔
اس طاقت فرسا کام کے سات سال گذرنے کے بعد کتب خانہ کی بنیاد کا پہلا مرحلہ ختم ہوا اور غدیر خم کے دن، اس دن کے تاجدار کے نام کی برکت کے پیش نظر ’’ کتب خانہ امیر المومنین ‘‘ کے نام سے اس کا افتتاح ہوا ۔کتب خانہ کی افتتاح اور اس کے لئے عراق کے سرکاری مراحل انجام دینے کے بعد علامہ امینی اپنے فرزند’’شیخ رضا ‘‘ کے ہمراہ ہندوستان روانہ ہوئے تاکہ وہاں دسیوں ہزار کتابوں سے بھرپورعظیم کتب خانوں اور یونیورسٹیوں کا مشاہدہ کرسکیں، خاص طور سے علی گڑھ کا جامع کتب خانہ ۔وہاں آپ چار مہینے تک وقیع منابع و مآخذ کی فیلم بنا کر واپس آگئے ۔اسی مقصد کے پیش نظر آپ نے ایران اور شام کا بھی سفر کیا ۔علامہ امینی نے تقریباًایک ہزار آٹھ سو ( ۱۸۰۰)  بڑے صفحا ت پر ان کتابوں سے نسخہ برداری کی جو تاریخی منابع میں اہمیت کی حامل ہیں اور جن سے بہت زیادہ استناد کیا جاتاہے ۔ علامہ نے تمام خطی کتابوں کو میکروفیلم کے ذریعہ سی ڈیوں میں تصویر برداری کی پھر انہیں ایک واضح صفحہ پر ظاہر کیا تاکہ اس پر اصل کا گمان ہو۔۔۔۔۔آثار اور کارنامے: علامہ امینی ؒ نے بہت سے علمی آثار یادگار کے طور پر چھوڑے ہیں جو اسلامی فرہنگ و ثقافت میں بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔ یہ علمی آثار ، تالیف و تحقیق اور تعلیق جیسے مختلف میدانوں میں دیکھے جاسکتے ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:
۱۔شہد اء الفضیلۃ:  یہ کتاب ۱۳۵۵ ؁ ھ میں نجف اشرف میں شائع ہوئی ۔یہ تاریخی کتاب ہے جس میں چوتھی صدی سے لے کر عہد حاضر تک کے اسلام کے شہید علماء کے حالات زندگی مذکور ہیں،علامہ نے ایک سو تیس ان شہیدوں کے نام گنائے ہیں جنہوںنے حمایت دین اور دفاع اسلام کی خاطر اپنی جان قربان کردی ہے ۔علامہ نے اس کتاب میں ان شہداء کو شمار کیاہے : چوتھی صدی کے چار شہداء ، پانچویں صدی کے پانچ شہداء ، چھٹی صدی کے پندرہ شہداء ، ساتویں صدی کے چار شہداء ، آٹھویں صدی کے بارہ شہداء ، نویں صدی کے ایک شہید ، دسویں صدی کے سترہ شہداء ، پندرہویں صدی کے سات شہداء ، بارہویں صدی کے بائیس شہداء ، تیرہویں صدی کے انیس شہداء ، چودہویں صدی کے تیرہ شہداء ۔ جن مشہور علماء کے حالات زندگی کو علامہ امینی ؒ نے اس کتاب میں بیان کیا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں :علامہ ادیب ابو الحسن تہامی معروف بہ علی بن محمد حسن عاملی شامی ، امام ابو المحاسن رویانی طبری ، ابو علی فتال نیشاپوری ، ابن راوندی ، طغرائی ، علامہ طبرسی جن کی شہادت مشہور نہیں تھی اس لئے کہ ان کی شہادت زہر سے واقع ہوئی تھی ۔ شہید اول محمد بن مکی عاملی نبطی جزینی ، یہ سب سے پہلے شیعوں میں اس لقب سے مشہور ہوئے ، علی بن ابو الفضل حلبی ، سید الحکماء ابو المعالی ، سید فاضل امیر غیاث الدین ، علامہ محقق کرکی ، شہید ثانی زین الدین بن علی عاملی ، شہید ثالث شہاب الدین بن محمود بن سعید تستری خراسانی ، شیخ جلیل ملا احمد ، علامہ قاضی تستری مرعشی ، علامہ سید محمد مومن ، علامہ مدرس ابو الفتح ، فقیہ شیخ محمد ، علامہ شیخ محمد حسین اعسم ، علامہ شیخ فضل اللہ ابن ملا عباس نوری ، اور ایسے ہی دسیوں افراد جنہوںنے درخت اسلام کی آبیاری کی اور اپنا خون ،دین اور اہل دین کی راہ میں پیش کیا ۔۔۔۲۔ سیرتنا وسنتنا : یہ کتاب نجف اشرف میں ۱۳۸۳ھ؁میں اور تہران میں ۱۳۸۶؁ میں شائع ہوئی ۔یہ کتاب علامہ امینی ؒکے ان دروس کا مجموعہ ہے جوانہوں نے شام میں ۱۳۸۴ ؁ کو بیان کیا تھا۔اس میں ان سوالوں کا مکمل اورجامع جواب ہے جو اہل بیت کی محبت کے سلسلے میں شیعوں کے غلو آمیز رویہ اور امام حسین ؑ کی عزاداری کے متعلق ان سے کئے گئے تھے ۔علامہ نے ان تہمتوں کا جواب دیاہے جیسے یہ کہ شیعہ کربلا کی مٹی کو سجدہ گاہ قرار دیتے ہیں ، انہوںنے اس کا جواب دیا : ’’شیعہ کربلا کی تربت پر سجدہ کو واجب نہیں سمجھتے بلکہ جائز جانتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح تمام زمین پر سجدہ کو جائز سمجھتے ہیں،نئی بات صرف یہ ہے کہ شیعہ حضرات امام حسین ؑکی تربت پر سجدہ اس لئے کرتے ہیں تاکہ وہ رسول خدا ؐ کی بیٹی کے فرزند سے محبت کریں اور یہ اعلان کریں کہ شیعہ امام حسینکی سیرت کے مطابق زندگی گذارتے ہیں ۔ علامہ امینی ؒ کے مطابق :شیعہ یہ کہنا چاہتے ہیںکہ یہ ہماری محبت ہے ،یہ ہمارے حسین ؑہیں اور یہ ہے ان کی عزاداری ، یہ ہے ان کی تربت جو ہماری سجدہ گاہ ہے ، خدا ہمارا خالق ہے اور رسول خدا ؐ کی سنت و سیرت ہی ہماری سنت و سیرت ہے ‘‘۔۔۔۳۔ تصحیح کامل الزیارات :یہ شیخ الطائفۃ ابو القاسم جعفر بن محمد بن قولویہ ( متوفی ۳۷۶ھ؁ ) کی کتاب ہے ، اس کی سند صحیح اور روایتیں متواتر ہیں ، جنہیں موثق علماء نے نقل کیاہے ، مختلف طرق سے ائمہ طاہرین ؑکی طرف نسبت دی گئی ہے ، اس کے راوی چھ سو سے زائد ہیں جو سب کے سب موثق ہیں ۔علامہ امینی نے اس کتاب کی تحقیق کی ہے اور اس کی تصحیح میں کتاب میں مذکور قابل اعتماد تمام مآخذ (وسائل الشیعہ ، مستدرک الشیعہ ، بحار الانوار ، اور دوسری معتبر رجالی کتابوں) کی طرف رجوع کیاہے ۔۔۔۔۴۔ تفسیر فاتحۃ الکتاب :۱۳۵۹ھ؁ میں تہران سے شائع ہوئی ۔یہ کتاب علامہ کی پہلی تالیف اور تالیف و تحقیق کے میدان میں ان کا پہلا قدم ہے ، اس سورہ کی آیات پر مشتمل ان کی تفسیر میں واضح اور اہم ترین مطالب ،توحید ، قضاو قدر ، جبر و تفویض جیسے مسائل مذکور ہیں ، یہ تمام مطالب رسول خدا ؐ اور اہل بیت کرام کی روایتوں سے مستفاد ہیں ، علامہ امینی نے اس تفسیر میں چند مسائل کی طرف اشارہ کیاہے : صفا ت یعنی صفات ذاتی و صفات فعلی ، علم اجمالی و تفصیلی ، مشیت ازلی و محدثہ ، ارادۂ تکوینی و تشریعی ، اور بھی دوسرے کلام اور فلسفہ کے پیچیدہ مسائل ۔ جن میں سے بعض کا مکمل اور مناسب جواب دیاگیا ہے ۔۔۔۔۵۔ ادب الزائر لمن یمم الحائز:۱۳۶۲؁میں نجف اشرف سے شائع ہوئی ۔امام حسین کے زائر کے لئے جو اعمال ضروری ہیں ، ان اعمال پر مشتمل یہ مختصر رسالہ ہے ، اس میں امام حسین کے حرم میں دعا کے آداب کو بیان کیاگیاہے ، اس میں دعائے علقمہ کی شرح بھی موجودہے ۔۔۔۶۔ تعالیق فی اصول الفقہ علی کتاب الرسائل ، تالیف شیخ انصاری : یہ خطی کتاب ہے ۔۔۷۔ المقاصد العلیۃ فی المطالب السنیۃ: قرآن مجید کی بعض آیات کی تفسیر پر مشتمل یہ خطی کتاب ہے ۔۔۔۸۔ ریاض الانس : دو جلدوں میں خطی نسخہ ہے ۔۹۔ رجال آذربایجان : خطی ہے ۔۔۔۱۰۔ ثمرات الاسفار : خطی ہے ۔۔۱۱۔ العترۃ الطاھرۃ فی الکتاب العزیز : ۔۔۱۲۔ موسوعۃ الغدیر : سجو علامہ کی نصف صدی کی تلاش و کوشش کا ثمرہ ہے  ۔
                     [زیر نظر:سید شمع محمد رضوی،مدیر قرآن و عترت فائونڈیشن :]  
      ۔۔۔۔۔۔سلسلہ جاری۔۔۔۔۔۔   [ رابطہ کیجئے: ۱۱ جلدی الغدیر بہ زبان اردو: قرآن و عترت فاونڈیشن: ایران 00989191600338     
         ہندوستان [07352758474] [09833105026.mumbai.].[08521260415.houza.elmia.aytullah.khamnai.bhikpur]

Last modified on دوشنبه, 21 مهر 1393 11:15
Login to post comments