×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

واقعہ غدیر کیا ہے ؟

آذر 25, 1393 504

< یَااَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اُنزِلَ الَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ اِنَّ اللهَ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ >(1)”‌اے پیغمبر !

آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اور اگر یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا“۔
اہل سنت کی متعدد کتابوں نیز تفسیر و حدیث اور تاریخ کی (تمام شیعہ مشہور کتابوں میں) بیان ہوا ہے کہ مذکورہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
ان احادیث کو بہت سے اصحاب نے نقل کیا ہے، منجملہ: ”‌ابوسعید خدری“، ”‌زید بن ارقم“، ”‌جابر بن عبد اللہ انصاری“، ”‌ابن عباس“، ”‌براء بن عازب“، ”‌حذیفہ“، ”‌ابوہریرہ“، ”‌ابن مسعود“اور ”‌عامر بن لیلی“، اور ان تمام روایات میں بیان ہوا کہ یہ آیت واقعہ غدیر سے متعلق ہے اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض روایات متعدد طریقوں سے نقل ہوئی ہیں، منجملہ:
حدیث ابوسعید خدری 11/طریقوں سے۔
حدیث ابن عباس بھی 11/ طریقوں سے۔
اور حدیث براء بن عازب تین طریقوں سے نقل ہوئی ہے۔
جن افراد نے ان احادیث کو (مختصر یا تفصیلی طور پر ) اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ان کے اسما درج ذیل ہیں:
حافظ ابو نعیم اصفہانی نے اپنی کتاب ”‌ما نُزِّل من القرآن فی علیّ“ میں (الخصائص سے نقل کیا ہے، صفحہ29)
ابو الحسن واحدی نیشاپوری ”‌اسباب النزول“ صفحہ150۔
ابن عساکر شافعی ( الدر المنثور سے نقل کیا ہے، جلد دوم، صفحہ298)
فخر الدین رازی نے اپنی ”‌تفسیر کبیر“ ، جلد 3، صفحہ 636 ۔
ابو اسحاق حموینی نے ”‌فرائد السمطین“ (خطی)
ابن صباغ مالکی نے ”‌فصول المہمہ“ صفحہ 27 ۔
جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر الدر المنثور ، جلد 2، صفحہ 298 ۔
قاضی شوکانی نے ”‌فتح القدیر“ ، جلد سوم صفحہ 57 ۔
شہاب الدین آلوسی شافعی نے ”‌روح المعانی“ ، جلد 6، صفحہ 172 ۔
شیخ سلیمان قندوزی حنفی نے اپنی کتاب ”‌ینابیع المودة“ صفحہ 120 ۔
بد ر الدین حنفی نے ”‌عمدة القاری فی شرح صحیح البخاری“ ، جلد 8، صفحہ 584 ۔
شیخ محمد عبدہ مصری ”‌تفسیر المنار“ ، جلد 6، صفحہ 463۔
حافظ بن مردویہ (متوفی 418ئھ) (الدر المنثور سیوطی سے نقل کیا ہے) اور ان کے علاوہ بہت سے دیگرعلمانے اس حدیث کو بیان کیا ہے ۔
البتہ اس بات کو نہیں بھولنا چاہئے کہ بہت سے مذکورہ علمانے حالانکہ شان نزول کی روایت کو نقل کیا ہے لیکن بعض وجوہات کی بنا پر (جیسا کہ بعد میں اشارہ ہوگا) سرسری طور سے گزر گئے ہیں یا ان پر تنقید کی ہے، ہم ان کے بارے میں آئندہ بحث میں مکمل طور پر تحقیق و تنقیدکریں گے۔
حوالہ جات:
(1) سورہ مائدہ ، آیت 67
مذکورہ بحث سے یہ بات اجمالاً معلوم ہوجاتی ہے کہ یہ آیہ شریفہ بے شمار شواہد کی بنا پر امام علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے، اور اس سلسلہ میں (شیعہ کتابوں کے علاوہ) خود اہل سنت کی مشہور کتابوں میں وارد ہونے والی روایات اتنی زیادہ ہیں کہ کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔
ان مذکورہ روایات کے علاوہ بھی متعددروایات ہیں جن میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ یہ آیت غدیر خم میں اس وقت نازل ہوئی کہ جب پیغمبر اکرم (ص) نے خطبہ دیا اور حضرت علی علیہ السلام کو اپنا وصی و خلیفہ بنایا، ان کی تعداد گزشتہ روایات کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے، یہاں تک محقق بزرگوار علامہ امینی غ؛ نے کتابِ ”‌الغدیر“ میں 110/ اصحاب پیغمبر سے زندہ اسناد اور مدارک کے ساتھ نقل کیا ہے، اسی طرح 84/ تابعین اور مشہور و معروف360/ علماو دانشوروں سے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
اگر کوئی خالی الذہن انسان ان اسناد و مدارک پر ایک نظر ڈالے تو اس کو یقین ہوجائے گا کہ حدیث غدیر یقینا متواتر احادیث میں سے ہے بلکہ متواتر احادیث کا بہترین مصداق ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان احادیث کے تواتر میں شک کرے تو پھر اس کی نظر میں کوئی بھی حدیث متواتر نہیں ہوسکتی۔
ہم یہاں اس حدیث کے بارے میں بحث مفصل طور پر بحث نہیں کرسکتے ، حدیث کی سند اور آیت کی شان نزول کے سلسلہ میں اسی مقدار پر اکتفاء کرتے ہیں، اور اب حدیث کے معنی کی بحث کرتے ہیں، جو حضرات حدیث غدیر کی سند کے سلسلہ میں مزید مطالعہ کرنا چاہتے ہیںوہ درج ذیل کتابوں میں رجوع کرسکتے ہیں:
1۔ عظیم الشان کتاب الغدیر جلد اول تالیف ،علامہ امینی علیہ الرحمہ۔
2۔ احقاق الحق، تالیف ،علامہ بزرگوار قاضی نور اللہ شوستری، مفصل شرح کے ساتھ آیت اللہ نجفی، دوسری جلد ، تیسری جلد، چودھویں جلد، اور بیسوی جلد۔
3۔ المراجعات ،تا لیف ،مرحوم سید شرف الدین عاملی۔
4۔ عبقات الانوار ، تالیف عالم بزرگوار میر سید حامد حسین ہندی (لکھنوی) ۔
5۔ دلائل الصدق ، جلد دوم، تالیف ،عالم بزرگوار مرحوم مظفر۔ (ختم شد)

Login to post comments