×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

آیہ بلغ کے سلسلہ میں ایک نئی تحقیق

آذر 25, 1393 578

اگر ہم مذکورہ آیت کی شان نزول کے بارے میں بیان ہونے والی احادیث اور واقعہ غدیر سے متعلق تمام روایات سے قطع نظر کریں اور صرف اور صرف

خود آیہ بلغ اور اس کے بعد والی آیتوں پر غور کریں تو ان آیات سے امامت اور پیغمبر اکرم (ص) کی خلافت کا مسئلہ واضح و روشن ہوجائے گا۔
کیونکہ مذکورہ آیت میں بیان ہونے والے مختلف الفاظ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس مسئلہ کی تین اہم خصوصیت ہیں:
1۔ اسلامی نقطہ نظر سے اس مسئلہ کی ایک خاص اہمیت ہے ، کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) کو حکم دیا گیا ہے کہ اس پیغام کو پہنچادو، اور اگر اس کام کو انجام نہ دیا تو گویا اپنے پروردگار کی رسالت کو نہیں پہنچایا! دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ ولایت کا مسئلہ نبوت کی طرح تھا ، کہ اگر اس کو انجام نہ دیا تو پیغمبر اکرم کی رسالت ناتمام رہ جاتی ہے:وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ۔
واضح رہے کہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ یہ خدا کا کوئی معمولی حکم تھا، اور اگرخدا کے کسی حکم کونہ پہنچایا جائے تو رسالت خطرہ میں پڑجاتی ہے، کیونکہ یہ بات بالکل واضح ہے اور اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے، حالانکہ آیت کا ظاہر یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے جو رسالت و نبوت سے خاص ربط رکھتا ہے۔
2۔ یہ مسئلہ اسلامی تعلیمات جیسے نماز، روزہ، حج، جہاد اور زکوٰة وغیرہ سے متعلق نہیں تھا کیونکہ یہ آیت سورہ مائدہ کی ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سورہ پیغمبر اکرم (ص) پر سب سے آخر میں نازل ہوا ہے، (یا آخری سوروں میں سے ہے) یعنی پیغمبر اکرم (ص) کی عمر بابرکت کے آخری دنوں میں یہ سورہ نازل ہوا ہے جس وقت اسلام کے تمام اہم ارکان بیان ہوچکے تھے۔(3)
3۔ آیت کے الفاظ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ ایک ایسا عظیم تھاجس کے مقابلہ میں بعض لوگ سخت قدم اٹھانے والے تھے، یہاں تک کہ پیغمبر اکرم (ص) کی جان کو بھی خطرہ تھا، اسی وجہ سے خداوندعالم نے اپنی خاص حمایت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ ”‌اور خداوندعالم تم کولوگوں کے (احتمالی) خطرے سے محفوظ رکھے گا“۔
آیت کے آخر میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے: ”‌خداوندعالم کافروں کی ہدایت نہیں فرماتا اِنَّ اللهَ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ >۔
آیت کا یہ حصہ خود اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بعض مخالف آنحضرت (ص) کے خلاف کوئی منفی قدم اٹھانے والے تھے۔
ہماری مذکورہ باتوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اس آیت کا مقصد پیغمبر اکرم (ص) کی جانشینی اور خلافت کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔
جی ہاں پیغمبر اکرم (ص) کی آخری عمر میں صرف یہی چیز مورد بحث واقع ہوسکتی ہے نہ کہ اسلام کے دوسرے ارکان ، کیونکہ دوسرے ارکان تو اس وقت تک بیان ہوچکے تھے، صرف یہی مسئلہ رسالت کے ہم وزن ہوسکتا ہے، اور اسی مسئلہ پر بہت سی مخالفت ہوسکتی تھی اور اسی خلافت کے مسئلہ میں پیغمبر اکرم (ص) کی جان کو خطرہ ہوسکتا تھا۔
اگر مذکورہ آیت کے لئے ولایت، امامت اور خلافت کے علاوہ کوئی دوسری تفسیر کی جائے تو وہ آیت سے ہم آہنگ نہ ہوگی۔
آپ حضرات ان تمام مفسرین کی باتوں کو دیکھیں جنھوں نے اس مسئلہ کو چھوڑ کر دوسری تاویلیں کی ہیں، ان کی تفسیر آیت سے بےگانہ دکھائی دیتی ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ آیت کی تفسیر نہیں کرپائے ہیں۔

Login to post comments