×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ماہ محرم

آذر 25, 1393 472

حسین پہ داڑا پریت دا،،سار یے سیرلا داخوایندے بالہ لہ دا،ترجمہ:۔ حسین تختہ دار پر لیٹا ہوا ہے اس کا سر کٹا ہوا ہے اور اس کی بہنیں اس کو پکار

رہی ہیںپشتو کا یہ مرثیہ آج بھی لاشعور کے کسی کونے میں بچپن کی یاد کی صورت میں موجود ہے۔ جب محرم کا مہینہ آتا ہے یہ مرثیہ پھر سے ذہن میں گونجنے لگتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب میری عمر پانچ سال تھی اس وقت محرم کے مہینے کی آمد کے ساتھ ہی شہر کے بچے مٹی کے زیور بنانا شروع کر دیتے تھے۔ یوں یہ سلسلہ دسویں تک جاری رہتا۔ دسویں محرم کو صبح سویرے سب بچے اٹھ جاتے اور قبرستان کا رخ کرتے وہاں سب یہ مرثیہ پڑھتے جاتے اور وہ مٹی کے زیورات قبرستان میں موجود بیری کے درختوں میں پھینکے جاتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس پورے عمل کا مقصد کیا تھا۔ مگر ہم چھوٹے بچوں کے لیے یہ ایک ایسا مشغلہ تھا جس کی ادائیگی میں سب پیش پیش رہتے تھے۔ اس کے بعد میرے دادا قبرستان جاتے ہر قبر پر پانی ڈالتے اور کجھور کی ایک شاخ وہاں چھوڑ آتے ۔ اسی محرم کی بدولت مجھے اپنے پردادا ، اور ان کے دادا کی قبروں کے متعلق معلوم ہوا۔ اس مہینے کا احترام اس قدر تھا کہ کسی بھی قسم کی موسیقی سننا گناہ کبیرہ تصور کی جاتی ۔
۔ بچپن میں جب بھی تعزیے کا جلوس میں ٹی وی پر دیکھتا تھا تو ڈر کے مارے اپنا منہ چادر میں چھپا لیتا تھا۔ مجھے اس وقت جلوس سے بہت خوف آتا تھا ۔ مگر یہاں شہر میں خود اپنے دوستوں کے ساتھ جلوس میں جاتا ۔ ہم سبیل کا شربت پیتے نیاز کے چاول اور زردہ بڑے شوق سے تناول کرتے۔ گول چکر سے نکلنے والا یہ جلوس شہر کے تمام مرکزی راستوں سے ہوتا ہوا ریلوے روڈ پر ختم ہو جاتا ۔ ہاں یہاں کی مقامی سنی آبادی بڑے جوش و خروش سے اس جلوس میں شریک ہوتی ۔ جگہ جگہ سبیلیں لگائی جاتیں۔ روضے پر خواتین منتیں مانگے آتیں اور یہ جلوس ایک جم غفیر کی صورت میں آگے بڑھتاا۔ یوں محرم کا مہینہ کسی خاص فرقے یا گروہ کے بجائے ایک اجتماعی تہذیبی رنگ لیے ہوئے تھا۔
مگر گذشتہ چند سالوں سے جیسے سب کچھ بدل گیا ہے۔ محرم کا مہینہ آتا ہے تو خوف کی ایک لہر پورے شہر میں پھیل جاتی ہے۔ شہر ویران ہوجاتا ہے مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد کم ہونے لگتی ہے۔ دس محرم کو پورا شہر سیل کر دیا جاتا ہے۔ یوں ایک مخصوص علاقے میں جلوس نکالا جاتا ہے جہاں عام شہریوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ دراصل فرقہ واریت کے زہر نے جس بے دردی سے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کیا ہے شاید ہی کسی دوسری برائی نے ہمیں اتنا نقصان پہنچایا ہو۔ آج بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہے۔ شاید ہم تہذیبی ، معاشرتی ، مذہبی ہر سطح پر تنزل کا شکار ہیں اور حالات مزید خراب سے خراب تر ہو تے جارہے ہیں۔

Last modified on سه شنبه, 25 آذر 1393 14:02
Login to post comments