×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

روزی کی تقسیم کے فرق میں پوشیدہ حکمت

آذر 26, 1393 599

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ خدا تعالی نے رزق اور روزی کو انسانوں کے درمیان تقسیم کیا ہوا ہے خواہ انسانوں میں سے کوئی خدا کا

شکرگزار ہو یا نہ ہو ، ان سب کو خدا روزی دے رہا ہے ۔ یہ خدا کی طرف سے بہت بڑی عنایت ہے جس سے مسلمان اور کافردونوں ہی مستفید ہو رہے ہیں ۔ لیکن یہ سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے روزی کو تمام انسانوں کے لئے یکساں تقسیم کیوں نہیں کیا ہے ؟
شروع میں ہمیں اس نکتہ پر توجہ کرنی چاہئے کہ خلقت میں جوکچھ بھی موجود ہے وہ" مختلف " ہے نہ کہ " تبعیض " ۔ تبعیض کا تعلق دینے والے سے ہے جبکہ تفاوت کا تعلق لینے والے سے ۔ تبعیض یہ ہے کہ ایک جیسی شرائط کے ساتھ اشیاء اور انسانوں کے درمیان فرق رکھا جائے جبکہ تفاوت یہ ہے کہ نامساوی شرائط کے ساتھ ایسا فرق موجود ہو ۔ اس بات میں ذرا بھی شک نہیں ہے کہ مادی یا آمدنی کے لحاظ سے انسانوں کے درمیان جو فرق موجود ہے اس کے سب سے اہم حصّے کا تعلق قابلیت سے ہے ۔ جسمانی اور روحانی قابلیت بالآخر اقتصادی کمیت اور کیفیت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے ۔
اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ معاشرے میں اتفاقی طور پر بعض افراد کے پاس زیادہ مواقع اور مال آ جاتا ہے لیکن ایسی تعداد کو ہم استثنائی طور پر شمار کر سکتے ہیں ، اس معاملے میں بنیادی نکتہ اور بنیاد اسی کمیمت یا کیفیت تلاش میں ہے ۔
بعض اوقات ہم بعض افراد کا سطحی طور پر مشاھدہ کرتےہیں اور انہیں معاشرے کے نالائق افراد تصور کرتےہیں اورجب ایسے افراد کے پاس مال و دولت کی کثرت دیکھتے ہیں تو ہم تعجب کرنے لگ جاتے ہیں۔ اگر ذرا غور سے ان کی جسمانی، روحانی اور اخلاقی صلاحیتوں کا بغور جائزہ لیں تب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ان افراد کے اندر ایسی خصوصیات موجود تھیں جن کی وجہ سے وہ آج اس مقام پر پہنچے ہیں ۔
بحرحال درآمد کا یہ فرق استعداد کے فرق کی بدولت ہے لیکن یہ سب بھی خدا کا کرم ہے جو اس شخص پر ہوتا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا ایک حصّہ اکتسابی ہو اور ایک حصّہ غیر اکتسابی ۔ یہاں تک کہ ایک سالم معاشرے میں اقتصادی لحاظ سےفرق غیر قابل انکار بات ہے ۔ ایک ہی شکل ، ہم رنگ اور ایک جیسی استعداد کے حامل افراد کو مہیّا کرنا کہ جن میں ذرا بھر بھی فرق موجود نہ ہو ، یہ ایک نہایت ہی مشکل کام ہے ۔
روزی کے فرق میں حکمت
1ـ امتحان الهی
امام علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ خدا تعالی نے روزی کو مقدر فرمایا اور اسے کم و زیادہ عادلانہ طور پر تقسیم کیا تاکہ اس طریقےسے توانگر کی سپاس گزار ہو اورتہی دست کو آزمایش سے گزارے ۔
پس رزق کے فرق میں پوشیدہ ایک حکمت یہ ہے کہ یہ آزمائش کا وسیلہ بنے ۔ اس طرح اس خیال کو بھی اپنے ذہن سے نکال دیں کہ اگر خدا تعالی نے کسی انسان کو زیادہ دیا ہے اور اسے بیماری اور آوارگی جیسی مشکلات سے بچائے رکھا ہے تو خدا اس کو زیادہ پسند کرتا ہے بلکہ انسان کواس بات پر یقین پیدا کرنا چاہئے کہ خدا کی ذات اپنے بندے کے لئے بہتر فیصلہ کرتی ہے اور خدا ہمیشہ اپنے بندے کے لئے بہتر فیصلہ کرتا ہے کہ خدا تعالی اپنے بندے کے لئے جو بھی فیصلہ کرتا ہے اس میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ۔
یہ فرق حتی ہم خدا کے پیغمبروں میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے پیغمبر علیہ السلام کو بہت بڑی سلطنت کی حکمرانی بخشی گئی جس میں جن و انسان اور پرندگان ان کی خدمت میں تھے ، ہوائیں ان کی تابع تھیں اور وہ جہاں چاہتے ، ہوائیں ان کے لے جایا کرتی تھیں ۔ جبکہ دوسری طرف حضرت ایوب علیہ السلام جیسے پیغمبر کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے جنہوں نے نہایت دشواری اور مشکلات میں عمر گزاری ۔ اس لئے یہ کوئی دلیل نہیں بنتی ہے کہ خدا تعالی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو حضرت ایوب علیہ السلام پر ترجیح دی ۔ بلکہ اس کی بہتر دلیل یہ ہے کہ خدا کے بندوں میں ہر ایک پر ایک خاص طرح کی آزمائش ہوتی ہے ۔

Login to post comments