×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

وہ عمل جو گناہوں کی زنجیریں توڑ دیتا ہے

آذر 26, 1393 518

اللہ تعالی کے احکامات کی پیروی انسان کو سعادت و کمالات کی بلندیوں اور بالاخر قرب الہی کے حصول میں مدد فراہم کرتی ہے ۔ اللہ تعالی نے

اپنے بندوں کی رہنمائی اور اپنے احکامات کو اپنے بندوں تک پہنچانے کے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کا سلسلہ شروع کیا جو ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ کر ختم ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس زمانے کے انسانوں کو بڑے منظم انداز میں غلط رسومات، خرافات، شرک ، ظلم وزیادتی سے آگاہ کرتے لئے جہالت کے اندھیروں سے نکالا اور انہیں گناہوں کی زنجیروں سے آزاد کروایا ۔
ان احکامات میں سے ایک حکم نماز کا ہے ۔ نماز دین کا ستون ہے اور نمازکی قبولیت سے باقی اعمال بھی قبول ہو جاتے ہیں اور اگر نماز کی قبولیت نہ ہو تو باقی اعمال بھی بے نتیجہ ثابت ہوتے ہیں ۔
نماز سے انسان کا خدا سے رابطہ برقرار رہتا ہے اور انسان کو ایک طرح کا ذہنی سکون میّسر آتا ہے ۔ نماز اگر مکمل توجہ اور اپنی تمام شرائط کے ساتھ انجام دی جائے تو نہ فقط نماز گزار کے قلب و روح کو بلکہ اس کے آس پاس سارے ماحول کو نورانیت بخشتی ہے ۔ خدا کی طرف سے انسان پر عائد کردہ وظائف اور عبادات میں سے نماز کو قرآن کریم نے سر فہرست قرار دیا ہے ۔ ’’ الذین ان مکناھم فی الارض اقاموا الصلاۃ ‘‘۔ اگر نماز میں سے اہداف نظام اسلامی کی مہک نہ آ رہی ہوتی تو ایک اہم مقام نہ رکھتی اور اس کے متعدد و مختلف بنیادی فائدے نہ ہوتے تو قطعاً اسلام میں نماز سے متعلق اس حد تک تاکیدات موجود نہ ہوتیں ۔ ہمارےلئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو نماز کی اہمیت سے آگاہ کریں اور ان میں نماز سے وابستگی پیدا کرنے کےلئے انہیں نماز کے فوائد سے آگاہ رکھیں ۔
1۔ نماز کی دلکشی کا خاکہ
جب انسان نماز جیسی عبادت کی اہمیت اور جذابیت سے آشنا ہوتا ہے ، جسے دین میں ستون کی سی حیثیت حاصل ہے تو اس کی طرف انسان کی توجہ بڑھ جاتی ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ نماز کو احسن انداز میں انجام دے ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ " نماز کی مثال ایک نہر کی سی ہے کہ جس میں انسان دن میں پانچ مرتبہ نہاتا ہے اور اس کے بدن پر کوئی میل باقی نہیں رہتی ہے "
یعنی انسان کے سارے گناہ دھل جاتے ہیں ۔ (1) ایک دوسری حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ
" میری آنکھوں کا نور و روشنی نماز میں ہے " (2)
امام علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ
" لوگو! نماز کی ذمہ داری اپنے سر لو اور اس کی حفاظت کرو ، نماز ادا کرو اور نماز کے ذریعے خود کو خدا کے قریب کرو ، یہی نماز گناہوں کو خزاں کے پتوں کی طرح جھاڑ دیتی ہے اور گناہوں کے طوق و زنجیروں کو گردنوں سے کھول دیتی ہے " (3)
نماز سے بڑھ کر ایسا کوئی ذریعہ یا وسیلہ نہیں ہے جو انسان و خدا کے درمیان رابطے کو مستحکم تر یا قوی تر کر سکے ۔ ایک عام انسان بھی اگر خدا کے ساتھ اپنے رابطے کو استوار کرنا چاہتا ہے تو نماز ہی سے شروعات کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ خدا کا ایک مقرب ترین بندہ بھی اس نماز کے ذریعے ہی تنہائیوں اور خلوتوں میں اپنے خدا ، اپنے محبوب سے راز و نیاز کر کے دل کی دنیا کو روشن و جاودانی بناتا ہے ۔ یہ ذکر و نماز ایک ایسا خزانہ ہے جس کا کوئی خاتمہ نہیں ہے ۔ جس قدر اس سے انسیت و قربت بڑھتی جائے گی اتنی ہی اس کی نور افشانیوں میں اضافہ ہوتا جائے گا ۔
امام صادق علیہ السلام کے ایک فرمان کا مفہوم یہ کہ جو بھی پانچ وقت کی نمازوں کو ادا کرے اور نماز کے اوقات کا خیال رکھے گا ، روز قیامت وہ خدا کا ایسی حالت میں سامنا کرے گا کہ خدا کی طرف سے اسے وعدہ ہو گا اور اس وعدے کے مطابق وہ جنت میں جائے گا اورجو کوئی نماز کےلئے اپنا وقت صرف نہیں کرے گا تو اس کی حالت ایسی ہو گی کہ خدا چاہے تو اسے عذاب دے گا اور اگر چاہے تو بخش دے گا ۔ (4)
در حقیقت ابھی تک ہمارے سامنے نماز کی اہمیت و منزلت کو صحیح و حقیقی طور پر بیان ہی نہیں کیا جا سکا ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں نماز کو جو مقام ملنا چاہئے تھا، نہیں مل سکا۔ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ مخصوصاً جوانوں کے سامنے نماز کے اسرار و رموز کو بیان کریں۔ انہیں نماز کی منزلت و فوائد بتائیں۔ یہ نماز ہی کا خاصہ ہے کہ ایک بچے سے لے کر ایک عالم تک نماز کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ حتی عرفاء بھی نماز کی ضرورت کا احساس کرتے ہیں۔ تب ہی تو ’’اسرار الصلوۃ‘‘ جیسی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ نماز ایک ایسا سمندر ہے جسکی گہرائی کا اندازہ ابھی تک نہیں لگایا جا سکا ہے۔ اگرچہ نماز کے بارے میں آئمہ طاہرین سے متعدد روایات اور علمائے دین کے بے شمار اقوال موجود ہیں لیکن اس کے باوجود نماز کی منزلت بہت سے افراد سے ابھی تک پوشیدہ ہے حتی کہ وہ لوگ بھی جو نماز کو واجب سمجھ کر انجام دیتے ہیں، ان کے لئے بھی ابھی تک نماز صحیح طور پر بیان نہیں ہو سکی ہے۔
2۔ مسجد میں آنے جانے کا اجر اور نماز کی فضیلت
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو مدینہ میں پہنچنے کے بعد جو پہلا کام انجام دیا وہ مسجد کی تعمیر تھا ۔ یہ مسجد نہ صرف خدا کا گھر اور عبادت کی جگہ تھی بلکہ تعلیم و تربیت کی جگہ اور سیاسی اور عدالت کی جگہ بھی قرار پائی ۔
مسجد کی تعمیر سے مسلمانوں میں وحدت کا احساس پیدا ہوا ۔ جب تمام مسلمان مسجد میں ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر اللہ کے سامنے سربسجود ہوتے ہیں تو ان میں وحدت و یکپارچگی کا احساس بیدار ہوتا ہے ۔ اخوت و بھائی چارے کا جذبہ ابھرتا ہے ۔ اللہ کی عبادت کرنے کے ساتھ اسی مسجد میں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے رہنمائی بھی حاصل کرتے ۔ (5)
امام صادق علیہ السلام نے اپنے بزرگوں سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ حدیث نبوی ہے کہ " جس کا گفتار قرآن ہو اور گھر مسجد ہو ، خدا اس کےلئے جنّت میں گھر بنا دے گا " (6)
باجماعت نماز ادا کرنے کے درجات بہت زیادہ ہیں ۔ اسلئے ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ باجماعت نماز ادا کرے ۔
امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ " سچ میں ، نماز با جماعت ، اکیلے نماز پڑھنے سے تیئیس درجے افضل ہے اور پچیس نمازیں حساب ہوتی ہے " (7)
اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب پہلی نماز کی ادائیگی ہوئی تو اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت میں ادا کیا گیا تھا ۔ یعقوبی اس بارے میں لکھتا ہے کہ :
" جب پہلی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر واجب ہوئی تو وہ نماز ظہر تھی ، حضرت جبرائیل آۓ اور انہیں وضو کرنے کا طریقہ سکھایا ، جب حضرت جبرائیل نے وضو کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی وضو فرمایا ، پھر اس کے بعد نماز پڑھی تاکہ نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا جا سکے ، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی نماز ادا کی ۔ "
نماز خدا کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ اسلام کے ابتدائی ادوار اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت بلال سے فرمایا کرتے کہ اذان کے ذریعے میری روح کے اطمینان و سکون کا انتظام کرو۔ ہماری خدا سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہر مسلمان کو نماز سے محبت پیدا کرنے کی توفیق دے ۔ آمین۔
حوالہ جات :
1۔ حر عاملى، وسائل الشیعه، ج 3 ، ص 7، نهج البلاغه، خطبه 199، ص 307۔
2۔ مجلسى، بحارالانوار، ج 77، ص 77۔
3. نهج البلاغه، خطبه 199، ص 307۔
4۔ شیخ صدوق ، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص 79۔
5۔ بنگرید به مقاله نگارنده (سید حسین حرّ) در مجله آینه پژوهش شماره 87، ص 9۔
6۔همان، ص 75۔
7۔ شیخ صدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص 99۔

Login to post comments