×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اخلاقِ رسول اکرم ؐ؛آج کی ضرورت

دی 17, 1393 902

مطلع سخن:نگاہ تصور اٹھاکر آج سے چودہ سو سال پہلے کے عربستان کو غور سے دیکھئے جہاں کفر و جہالت کی تاریکی پورے معاشرے 

کواپنی لپیٹ میںلئے ہوئی تھی ،اس وقت دنیائے فانی آدم کی اولاد سے معمور تھی مگر یہ بھی سچ ہے کہ انسان نما حیوان اس کرۂ ارض پر بری طرح رینگ رہے تھے اور عریض و بسیط زمین پر چپکے ہوئے بد نما داغ بنے ہوئے تھے،چوری ،رہزنی ،قمار بازی ،قتل و غارت گری اور گمراہی و ضلالت جیسے بدترین افعال ان کا شیوہ تھے اور بت پرستی ان کا مذہب بنا ہوا تھا ،یہ حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا دین حق اور رہبرکامل سے بالکل خالی تھی۔ایسے میں رحمت کل کے دریائے لازوال کو جوش آیا اور اس نے اپنی بھرپور رحمت و عطوفت کے سایہ میں ان چوروں ،راہ زنوں،سرکشوں،بت پرستوںاور بے دینوں کی ہدایت و رہبری کے لئے ایک مکمل اور جامع ترین دین کا نفاذ کیا۔یہ دین وہی ہے جو اس کی نگاہ میںپسندیدہ اور محبوب ہے {ان الدین عنداللہ الاسلام }۔
اس دین کی تبلیغ واشاعت کے لئے خداوندعالم نے اپنے مقرب بندوں کو انبیاء اور اوصیاء کی صورت میں ارسال فرمایاتاکہ اس آفاقی دین کے معارف و حقائق کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلائیں؛آدم نے اس کی توسیع میں سرجوڑمحنت کی اور جنت کا لباس فاخرہ اتار کر میدان بشر میں کود پڑے ،اسی طرح نوح ، موسیٰ،عیسیٰ ۔۔۔۔غرض تمام انبیائے کرام نے اپنی بھر پور محنت کا مظاہرہ فرمایا۔
سب نے لمحہ بہ لمحہ ،قدم بہ قدم اورعہد بہ عہد اس دین کو منزل مقصود تک پہونچانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے اگر کامیاب رہتے تو {الیوم اکملت لکم دینکم ۔۔۔}کی تکمیلی سندرسول اسلام ؐکے دامن حیات میں نہ آتی ،چنانچہ رسول مقبول ؐکا دور آیا لیکن اس وقت حالات کتنے ناگفتہ بہ تھے ،ماحول میں کتنی پراگندگی تھی اسے قید تحریر میں نہیں لایاجاسکتا۔
جہالت و گمراہی کی اس تنگ و تاریک دنیا میں علم و عمل اور ہدایت و رہبری کا ضیا بار چراغ جلانا اور اس کی روشنی سرکشوں کے ہر گھرمیں پہونچاکر راہ مستقیم دکھانا ایک عام انسان کے بس کی بات نہیں تھی کہ ابتر کے تیز نشتر سہنے کے بعد ،کنکروں اور پتھروں سے بری طرح زخمی ہونے کے بعد اور جسم اطہر پر کوڑوں کی صعوبتیں سہنے کے بعد بھی ہدایت کے کاموں میں سرگرم عمل رہنا بڑا مشکل کام تھا لیکن یہ رسول اکرمؐ کی نازش آفریں شخصیت کا سحر انگیز زور و دبدبہ تھا جس نے اسلام کی سخت ترین مخالفت کرنے والے عرب بدوئوں کو اسلام کا موافق بنایا ۔
سوال یہ ہے کہ عرب ماحول میں اتنے بڑے انقلاب کا محور کیا تھا ،وہ کون ساعمل تھا جس نے عرب بدوئوں کی گمراہ آلود زندگی میں تبدیلی پیدا کر دی،وہ کون سا پیغام رسولؐ تھا جس کے صاف و شفاف آئینہ میںاپنے آبائی اور جاہلی رسومات پر مر مٹنے والے انسانوں کو اپنا تابناک مستقبل نظر آیا اور انہوں نے اپنی زندگی یکسر بدل ڈالی۔۔۔؟!
رسول خدؐاکی پوری زندگی کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات نصف النھار کی طرح واضح و آشکارہو جاتی ہے کہ آپ نے اسلامی آئین و معارف کی تبلیغ واشاعت میں جس چیز کو محور و مرکز قرار دیا وہ ہے ’’اخلاق ‘‘۔
’’دین اسلام اخلاق وکردار سے پھیلا ہے ‘‘یہ صرف ایک جملہ نہیں ہے بلکہ اس مختصر سی عبارت میں رسول خدؐاکی ترسٹھ سالہ زندگی سمٹی ہوئی ہے،آپ نے ان اخلاقی نقوش کو معیار تبلیغ قرار دیا جو عرب ماحول میں قطعی مفقود تھے اور اسی اخلاق کے آئینہ میںاسلام کے دوسرے معارف و حقائق کا عکس دکھاکرعرب بدوئوںکوانسانیت ساز اصولوںکاذخیرہ عطا فرمایا۔
آئیے آپ کی ترسٹھ سالہ زندگی کے ان اخلاقی نقوش کا تجزیہ کریں جو کل کے جاہل معاشرے کیلئے اہم درس اور آج کے ترقی یافتہ دور کی اہم ترین ضرورت ہیں۔
اخلاق ؛اہم ترین درس زندگی
ہر معاشرہ کی زندگی اور ہر قوم کے تکامل میں اخلاق اولین درس اور بنیادی شرط ہے ،انسان کی پیدائش کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کی بھی تخلیق ہوئی ہے ،دنیا کا کوئی عقلمند ایسانہیں جس کو انسانی روح کی آسائش و سلامتی کے لیے ا خلاقیات کے ضروری ہونے میں ذرہ برابر بھی شک ہو۔ بھلا کون ہے جسے صداقت و امانت سے تکلیف ہوتی ہو یا کذب و خیانت کے زیر سایہ سعادت کا متلاشی ہو۔۔۔ ؟
اخلاق کی اہمیت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ایک عام انسان بھی قوم و ملت کی ترقی کے لئے اخلاق و کردارکو انتہائی اہم اور ضروری سمجھتا ہے ۔ایک اچھی اور خوشگوار زندگی کے لئے اخلاق کی کتنی ضرورت ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صادق آل محمد ؐ فرماتے ہیں :{من حسنت خلیقتہ طابت عشرتہ}جس نے اپنے اخلاق کو اچھا بنا لیا اس کی زندگی پاکیزہ اور خوشگوار ہو جاتی ہے۔(۱)
اصل میں ایک خوشگوار زندگی کا راز اسی خوش اخلاقی اور مکارم اخلاق میں پوشیدہ ہے ،حضرت علی ؑنے زندگی کے میدان میں کامیابی کے لئے اخلاق کو اہم ترین درس قرار دیتے ہوئے فرمایا:{لو کنا لانرجو جنۃو لاتخشی ناراً و لاثوابا و لاعقابا لکان ینبغی لنا ان نطلب مکارم الاخلاق فانھا تدل علی سبیل النجاح}’’اگر ہم جنت کے امیدوار اور دوزخ سے خوف زدہ بھی نہ ہوتے اور ثواب و عقاب بھی نہ ہوتا پھر بھی ہمارے لئے ضروری تھا کہ ہم مکارم اخلاق کے حصول میں کوشاں رہیں اس لئے کہ کامیابی و کامرانی کاراستہ مکارم اخلاق میں پنہاںہے‘‘۔(۲)
رسول خدا فرماتے ہیں:{حسن الخلق یبلغ لصاحبہ درجۃ الصائم فقیل لہ ما افضل ما اعطی العبد ؟قال :حسن الخلق}’’خوش اخلاقی انسان کو شب زندہ دار روزہ دار کے ہم مرتبہ بنا دیتی ہے ،آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا :وہ بہترین شیٔ جو بندوں کو عطا کی گئی ہے ،کیا ہے ؟فرمایا:خوش اخلاقی‘‘۔(۳ )
ایک عام شخص بھی اس بات کا قائل ہے کہ کائنات کی اس دوڑتی بھاگتی زندگی میں اپنا وقار برقرار رکھنے کیلئے خوش اخلاقی کامظاہرہ کرنا ضروری ہے ،ایک انگریزدانشمند ’’ساموئیل اسمایلز ‘‘کہتاہے:’’اس کائنات کی محرک قوتوں میں سے ایک قوت کا نام ’’اخلاق ‘‘ ہے اور اس کے بہترین کارناموں میں انسانی طبیعت کو بلند ترین شکل میں مجسم کرنا ہے کیونکہ واقعی انسانیت کامعرف یہی اخلاق ہے، جو لو گ زندگی کے ہر شعبہ میں تفوق وامتیاز رکھتے ہیں ان کی پوری کوشش یہی رہتی ہے کہ نوع بشر کااحترام و اکرام اپنے لئے حاصل کریں‘‘۔( ۴ )
اس سلسلے میں رسول خداؐ فرماتے ہیں :{افاضلکم احسنکم اخلاقا ،الموطئون اکنافا ،الذین یالفون و یو لفون و توطا احالھم}’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق و کردار اچھا ہو یہ وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں اور دوسروںسے محبت سے پیش آتے ہیںاور دوسرے بھی ان سے محبت سے پیش آتے ہیں،اور وہ اپنے دروازے سب کے لئے کھلے رکھتے ہیں‘‘۔(۵ )
چونکہ انسان ایک اجتماعی مخلوق ہے اور اجتماعی زندگی کی اہم ترین ضرورت ’’حسن اخلاق ‘‘ہے لہذا انسان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اجتماعی زندگی سے بھرپور استفادہ کرنے اور معاشرے میںاپناوقار بنانے کے لئے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرے ۔

ترویج معارف میںرسول ؐکا اخلاقی سفر
کسی کے ساتھ زندگی گزارے کے لئے بہت سی چیزوں کا پہلے سیکھنا ضروری ہے تاکہ اسکے مطابق عمل کرے۔ اور ان چیزوں سے اجتناب کرنا ضروری ہے جو معاشرے کے صحیح رسم و رواج کے مخالف ہوں کیوں کہ ان چیزوں پرجب تک عمل نہ کیا جائے صحیح معاشرے کی تشکیل نہیں ہوسکتی اور نہ عمومی اخلاق کی تکمیل ہو سکتی ہے،معاشرے میں کامیابی کی پہلی شرط ’’حسن اخلاق ‘‘ہے۔انسان میں حسن خلق کی صفت بہت ہی عمدہ اور لوگوں کواپنی طرف جذب کرنے والی ہے ،انسان کی شخصیت کو بلند کرنے میں اس صفت کاکافی دخل ہے یہ انسان کے تمام حیاتی طاقتوںکوابھار دیتی ہے، حسن خلق کے علاوہ کسی بھی صفت کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے جذبات کو ابھار کر زندگی کی تکلیفوںمیںکمی کر سکے ۔
رسول خدا ؐفرماتے ہیں :{حسن الخلق یثبت المودۃ }خوش اخلاقی دوستی و محبت استوار کرتی ہے۔ (۶)
آپ نے بھی معاشرتی زندگی کے اس اہم رکن کو پیش نظر رکھتے ہوئے ترویج معارف کا آغاز فرمایا چنانچہ آپ کے اخلاقی نقوش ہی تھے جس کی وجہ سے لوگ آپ کے گرویدہ ہوئے اور کسب معارف و حقائق میں اپنی پیش قدمی کا مظاہرہ کیا۔خدا وندعالم نے بھی اسلام کی ترویج و اشاعت میں رسول کے اخلاق و کردار کواہم رکن قرار دیتے ہوئے فرمایا:{فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم ولو کنت فظا غلیظ القلب لا نفضوا من حولک } اے پیغمبر !یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم دل ہو ورنہ اگر تم بد مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے ۔(۷)
یہاں ترویج معارف میں آپ کے اخلاقی سفر کو تین حصوں میں تقسیم کیاجارہاہے :

الف :اعلان رسالت سے پہلے
اعلان رسالت سے پہلے آپ کی زندگی انتہائی سخت ،گھٹن آلود اور مصائب و آلام سے بھرپور تھی ،طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلا رسول اسلامؐ کی سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ آپ کے مخاطب افراد بے پناہ گمراہیوں اور جاہلی رسومات میں گرفتارتھے ،حضرت علی ؑ نے اس وقت کے حالات کی منظر کشی کرتے ہوئے فرمایا:’’اللہ نے اپنے پیغمبرؐ کو اس وقت بھیجا جب رسولوں کا سلسلہ رکا ہوا تھا اور ساری امتیں مدت سے پڑی سو رہی تھیں ،فتنے سر اٹھارہے تھے ، سب چیزوں کا شیرازہ بکھرا ہوا تھا ،جنگ کے شعلے بھڑک رہے تھے ،دنیا بے رونق و بے نور تھی اور پھلوںسے ناامیدی تھی ،پانی زمین میں تہہ نشین ہو چکا تھا ،ہدایت کے مینار مٹ گئے تھے اور ہلاکت وگمراہی کے پر چم کھلے ہوئے تھے‘‘ ۔(۸)
ایسے پر آشوب اور سخت ترین ماحول میں اگر رسول اسلامؐ سرے سے ان کے آبائی رسم و رواج کی تکذیب کرکے اپنا ابدی اور جاودانی مذہب پیش کرتے تو اس ضدی ماحول میں ایسا کوئی نہیں تھا جو آپ کی حمایت میں آگے بڑھتا۔اسی لئے عقل اول اور دلوں کے نباض رسولؐ نے تبلیغ کے واقعی اصول کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے پہلے اپنے پاکیزہ کردار کا صاف و شفاف آئینہ دکھایا ،ان کے دردوں کا درمان کرنے کیلئے پہلے ان کے دلوں میں اپنا مقام و مرتبہ بنایا اور جہاں کی فضا میںجاہلی رسومات کی بدبو رچی بسی تھی وہاں اخلاقی قدروں کی خوشبو پھیلائی ۔چنانچہ رسول اکرمؐ کے اخلاق سے پھوٹنے والی وہ انسانیت ساز خوشبو سب نے محسوس کی ، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ لوگ آپ کو صادق وامین کا لقب نہ دیتے ۔رسول اکرم ؐکے دین کی مخالفت کرنے والے افراد کا صادق و امین کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا اخلاق و کردار ہراعتبار سے قابل اعتماد ہے ۔
صداقت و امانت کتاب اخلاق کاسب سے اہم درس ہے جس پر تمام اجتماعی اور معاشرتی زندگی کادارومدارہے ،جس طرح صداقت کے وسیع دامن میں تمام اخلاقی صفات و کمالات موجود ہیں اسی طرح اس کے برعکس کذب وافترااور جھوٹ میں وہ تمام رذائل اخلاقی پنہاںہیں جو انسان کے وقار کو ختم کر دیتی ہیں،انسان کی پستیوں کاپہلا اور آخری زینہ یہی جھوٹ ہے،حضرت امام حسن عسکری ؑفرماتے ہیں:تمام خبائث اوربرائیوں کو ایک مکان میںبند کردیا گیاہے اور اس کی کنجی جھوٹ کو قرار دیا گیا ہے ۔ (۹)
خیانت بھی تمام برائیوں کی جڑہے فرق صرف اتنا ہے کہ جھوٹ انسان کے فردی اخلاق کو خاک کاڈھیڑ بنادیتی ہے اور خیانت انسان کے اجتماعی اور معاشرتی اخلاق وکردار کی عما ر ت کو ملبے میں تبدیل کر دیتی ہے ، خائن شخص خیانت کے ذریعہ اپنی اقتصادی حالت تو بہتر بنا سکتاہے لیکن لوگوں کے دلوں میں اپنا مرتبہ بنانے سے قاصر رہتاہے ۔
رسول اسلام ؐنے اچھی زندگی کی شناخت میںانہیں دونوں کو معیار قرار دیتے ہوئے فرمایا:{لاتنظروا الی کثرۃ صلاتھم و صومھم و کثرۃ الحج و المعروف و طتنتظھم بالیل و لکن الی صدق الحدیث و اداء الامانۃ }’’لوگوں کے نماز،روزہ ،حج ،احسانات اور شبانہ روزمناجات کی زیادتی پر نگاہ نہ کروبلکہ ان کی راست گوئی اور امانت داری پر توجہ کرو‘‘ ۔(۱۰)
اسی لئے آپ نے فردی اور اجتماعی اخلاق میں کلیدی حیثیت رکھنے والے انہیں دونوںارکان کو اپنی زندگی کانصب العین بنایا ۔صداقت رسول ؐکا عالم یہ تھا کہ عرب اپنی آنکھوں دیکھی باتوں کا انکار کرنے کی جرأت کر سکتے تھے لیکن رسولؐ کی صادق زبان سے نکلی ہوئی بات قابل انکار نہیں تھی ۔صداقت زبان کی طرح آپ کی امانت داری بھی شہرۂ آفاق تھی ،ہزاروں مخالفت کے باوجود عرب آپ کو امین کے لقب سے یاد کرتے اور بے خوف و خطر اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھوا تے تھے ،آپ بھی اپنی زندگی کے حساس لمحوں میں جب آپ کی زندگی کو بہت سے خطرات لاحق تھے لوگوں کی امانت کے متعلق فکرمند رہے ۔
ہجرت کے وقت حضرت علی ؐسے کی گی وصیتوں میں آپ کی یہ وصیت ہر انسان کولمحۂ فکریہ دے رہی ہے: اے علی !مکہ کے باشندوںکے درمیان یہ آواز بلند کرو کہ{ من کان لہ قبل محمد امانۃ او ودیعۃفلیات فلنود الیہ امانۃ }’’جس نے بھی رسول ؐکے پاس امانت رکھوائی ہے، آئے اور امانت لے جائے‘‘۔(۱۱)
آپ نے ان دونوں رکن حیات اور درس زندگی کے ذریعہ جہاں اپنے کردار کی پاکیزگی اور صداقت زبان کا اقرار کروایاوہیں ان دونوں کو ترویج معارف اور تبلیغ دین و شریعت کامقدمہ قرار دیتے ہوئے آنے والی ہر نسل بشر کویہ باور کرایاکہ کسی بھی شعبۂ حیات میں آگے بڑھنے کے لئے درس اخلاق کو فراموش نہ کرنا اس لئے کہ درس اخلاق ہی بشر ی ز ندگی کے تکامل و ترقی میں خشت اول کی حیثیت رکھتاہے۔

ب : اعلان رسالت کے بعد
رسول اسلامؐ نے جن اخلاق وکردار کی بنیاد اعلان رسالت سے پہلے رکھی تھی آپ نے انہیںاخلاقی فضائل کو اعلان رسالت کے بعد اعلیٰ پیمانے پر پیش فرمایا،خداوندعالم نے بھی رسول اسلامؐ کی بعثت کاواقعی ہدف ، اخلاقی فضائل کی ترویج و تکمیل قرار دیتے ہوئے فرمایا:{ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم آیاتہ و یزکیھم }اس خدا نے مکہ والوں میں ایک رسول بھیجا جو انہیںمیں سے تھا کہ ان کے سامنے آیات کی تلاوت کرے اور ان کے نفو س کوپاکیزہ بنائے ۔(۱۲)
خداوندعالم نے اس آیت میںصراحت کے ساتھ رسول اسلامؐ کی بعثت کا مقصدبیان فرمایاہے کہ رسول کی بعثت کے جہاںبہت سے اہداف ومقاصد ہیںوہیںاہم ترین ہدف تزکیۂ نفس کے ذریعہ لوگوںکی زندگی کو اعلی درس اخلاق سے مزین کرنا تھا ۔خود رسول اسلام ؐنے اپنی بعثت کااصلی ہدف مکارم اخلاق کی تکمیل قرار دیاہے ، آپ فرماتے ہیں:{انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق}۔ (۱۳)
اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ رسول اسلامؐ کے مقدس وجود میں تمام صفات و کمالات اور اخلاقی فضائل جمع تھے اس لئے کہ آپ گلدستۂ انسانیت کے حسین پھول اور جہان ہستی کے کامل ترین انسان تھے،شجاعت ، عدالت ،صداقت ،امانت ،عطوفت ،مہر ومحبت ،حسن اخلاق اور دوسرے تمام صفات آپ کے مقدس وجود میں بدرجۂ اتم موجود تھے۔ آپ نے ان تمام صفات کو ہدف بعثت قرار دیتے ہوئے ان صفات کو لوگوں میں رائج کرنے کی بھرپور کوشش کی ،اعلان بعثت ورسالت کے بعد آپ کے اخلاقی فضائل کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے :
۱۔گھر میں ۲۔معاشرے اور سماج میں
۳۔میدان جنگ میں
اس مختصر سے مقالہ میں اتنی وسعت نہیں ہے کہ اجمالی طور پر بھی رسول ؐکے اخلاقی فضائل کوجمع کیا جا سکے ارباب فکر و نظر اس موضوع سے متعلق کتابوں کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔

ج :مدینہ میں رسول اسلام ؐکے اخلاقی نقوش
رسول اسلامؐ نے مدینہ میںاپنی زندگی کاآغاز کرنے سے پہلے جوبنیادی قدم اٹھایا وہ تھا ’’اخوت و اتحاد کی بنیاد ‘‘۔آپ نے سب سے پہلے مسلمانوںکے درمیان الفت و محبت اور بھائی چارگی کو فروغ دینے کے لئے انصار و مہاجرین میں سے ہر ایک کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام قبیلوں کے درمیان مدتوں پڑی رنجش اور خون خرابہ کا خود بخود خاتمہ ہوگیا اور اس کی جگہ بھائی چارگی اور پیارومحبت نے لے لی اور سب کے سب ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ ایک جان ہو کر رسول اسلام ؐکے اشاروں پردین کے لئے اپنی جان نچھاور کرنے لگے ۔
اخوت وبرادری کے سلسلے میں آپ کے زریں اقوال بھی آنے والی تمام نسل بشر کے لئے درس عبرت کی حیثیت رکھتے ہیں ،آپ نے اخوت کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:{من آخی اخا فی اللہ رفع اللہ لہ درجۃ فی الجنۃ لا ینالھا بشیٔ من عملہ} ’’اگر کوئی شخص کسی برادر مومن کو خداوندعالم کیلئے اپنا بھائی قرار دے تو خداوندعالم اس کیلئے جنت میں ایک ایسا درجہ قرار دے گا جس تک اس کا کوئی اور عمل نہیںپہونچ سکتا‘‘ ۔(۱۴)
آپ نے صدر اسلام میںاتحاد و اخوت کابہترین رشتہ قائم کرکے ان تمام رنگ و نسل اور مال ودولت کے امتیازات کاخاتمہ کردیا جوبہت سے اختلافات کی جڑ ہوتے ہیں،آپ نے انہیںبے بنیاد امتیازات کاخاتمہ کرنے کے لئے غلاموں کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا نوش فرمایا ۔
ایک دن وہ تھا جب عرب صرف اپنے اونٹ ،اولاد اور اموال کی کثرت پر ہی نہیں بلکہ اپنے مردوں اور قبروں کی کثرت پر بھی فخرو مباہات کیا کرتے تھے اور عرب کو غیر عرب اور گورے کوکالے پر فوقیت دیتے تھے لیکن رسول اسلام ؐنے جاہلیت کے ان تمام اقدارپر خط بطلان کھینچ دیا اور بلال حبشی،صہیب رومی اور سلمان فارسی کواپنے اصحاب میں شامل کرلیا اور بتایاکہ کالے ،گورے،عرب و عجم اور مال ودولت معیار تفوق وبرتری نہیں ہیں بلکہ تقویٰ ،ایمان اور عمل صالح برتری کااصل معیار ہیں۔

رسول اکرم ؐاسوۂ کامل
یہ بات طیٔ ہے کہ انسان کی اجتماعی اور فردی زندگی میںسیرت کوایک خاص اہمیت حاصل ہے ،اس کی نگاہ میں سیرت وہ واحد رکن حیات ہے جو تباہ حال انسانیت کومنزل مقصود دکھانے کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی کو واقعی اہداف و مقاصد سے ہمکنار کرتی ہے ۔
خداوندعالم نے انسان کی زندگی کی ترقی اور تکامل میں اسوہ کو کافی اہمیت دی ہے ،اس نے اپنی محبوب کتاب قرآن میں بہت سی سیرتوں کی معرفی کرتے ہوئے انسانوںکواپنی زندگی کیلئے اسوہ اور نمونہ قراردینے کی تاکید کی ہے ،کبھی حضرت ابراہیم ؑکی زندگی پرروشنی ڈال کر ان کی زندگی کو یکتا پرستوں کے لئے اسوہ قرار دیا ہے :{قد کانت لکم اسوۃ حسنہ فی ابراہیم والذین معہ}۔(۱۵)
لیکن قرآن نے جتنی سیرتوں کی معرفی کی ہے وہ تمام کے تمام ایک خاص شعبۂ حیات سے مخصوص ہیں ، پوری تاریخ بشریت میں صرف ایک سیرت ایسی ہے جسے انسان اپنی زندگی کے ہر شعبہ کے لئے اسوہ اورنمونہ بنا سکتاہے اور وہ ہے حضرت رسول اکرم کی سیرت۔خدا وندعالم کا ارشادہے :{لقد کا ن لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ}۔(۱۶)
آیت کا خطاب عام ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کی سیرت ہر شعبۂ حیات میں کا ر آمد ہے چاہے وہ فردی زندگی ہو یامعاشرتی واجتماعی زندگی ۔۔۔۔چاہے وہ کل کے سرچڑھے اور ضدی عرب ہوںیا آج کا تعصب پسند انسان۔
’’اخلاق‘‘ آپ کی سیرت کانمایاںپہلو ہے جسے آپ کی زندگی سے حاصل کیا گیا عظیم درس کہا جائے تو بے جانہ ہوگا ،خدا وند عالم نے بھی اخلاق رسول کیؐ جامعیت پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے فرمایا:{انک لعلی خلق عظیم }’’اے رسول !آپ اخلاق عظیم پر فائز ہیں‘‘ ۔(۱۷)
صادق آل محمد ؐفرماتے ہیں :{ان اللہ تعالی خص رسولہ بمکارم الاخلاق فامتحنو اانفسکم فان کانت فیکم فاحمدوا اللہ عزوجل وارغبوا الیہ فی الزیادۃ فیھا }خداوندعالم نے اپنے رسولؐ کو پسندیدہ اخلاق سے مخصوص و مزین فرمایا ،پس تم اپنا امتحان کرو اگر تم آنحضرت کے نیک اور پسندیدہ اخلاق اپنے اندر دیکھوتوخداوندعالم کی حمد و ثنا بجا لائو اور خدا سے درخواست کرو کہ مزید اضافہ فرمائے۔(۱۸)

انسانیت سازپیغام
زندگی کاکوئی ایسا شعبہ یاپہلو نہیں جس میں رسول اسلام ؐکے اخلاق و کردار کے نقوش موجود نہ ہوں ،آپ نے ہر شعبۂ حیات میں اپنے اخلاق و کردار کا چراغ جلایا ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ آپ کے اخلاق و کردار کے نقوش کسی ایک دور حیات سے مخصوص نہیںہیںبلکہ آپ کے اخلاق زندگی کے ہر دور میں مشعل ہدایت کی حیثیت رکھتے ہیں ،آپ کا اخلاق جہاںکل کے عرب کے بگڑے ہوئے تاریک ماحول میں روشنی بانٹ رہاتھا اور لوگوں کو صراط مستقیم دکھانے کا ذریعہ تھا وہیں آج کے مادی ترقی یافتہ زمانے کی تزئین و آرائش کاذریعہ بھی ہے ۔
اصل میں آپ کی بعثت کاہدف کائنات فنا میں اخلاقی فضائل و محاسن کی ترویج و تکمیل تھا {بعثت بمکارم الاخلاق و محاسنھا }اسی لئے جب تک کائنات کا وجود ہوگا آپ کے اخلاق و کردار روح کائنات بن کراسے زندگی سے ہمکنار کرتے رہیں گے ۔(۱۹)
صادق آل محمد ؐ فرماتے ہیں :{انی اکرہ للرجل ان یموت و قد بقیت علیہ خلہ من خلال رسول اللہ لم یاتھا }میں پسند نہیں کرتاکہ کوئی مسلمان مرجائے مگر یہ کہ وہ رسول اسلام ؐکے آداب و سنن کو (حتی ایک ہی بار )انجام دے ۔یعنی اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں رسول اکرمؐ کے تمام اخلاق کی رعایت نہ کرتے ہوئے مرجائے تو وہ امام صادقؐ کی نظر میں مبغوض اور ناپسندیدہ ہے۔(۲۰)
اس سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اسلامؐ کے اخلاق کسی ایک دور حیات سے مخصوص نہیں،اس میں اتنی آفاقیت اور ابدیت پائی جاتی ہے کہ ہر دور کا انسان اپنی زندگی میں ان اخلاق کومشعل راہ بناسکتاہے ۔
یوں تو رسول اسلام ؐکے انسانیت ساز اخلاقی پیغامات بہت زیادہ ہیں ،یہاں اختصار کے پیش نظر صرف ایک واقعہ قلمبند کیا جارہا ہے ۔
’’امام صادق فرماتے ہیں :ایک دن ایک شخص رسول اسلامؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اورکہنے لگا:یا رسول اللہ ؐ!کوئی ایسا درس دیں جس سے میںسعادتمند ہوسکوں ،آپ نے فرمایا:جائو اور غصہ سے پرہیز کرو۔اس نے کہا :یہی درس میری زندگی کے لئے کافی ہے،اس کے بعد وہ اپنے قبیلہ میں واپس ہوا ،جب اپنے قبیلہ میں پہونچا تو معلوم ہوا کہ اسکے قبیلہ کے افراددوسرے قبیلہ سے نبردآزماہیں ،اس نے عجلت میں جنگی لباس پہنا اوراسلحہ لے کر جنگ کے لئے آمادہ ہوا اسی وقت اسے رسول کی بات یاد آئی،اس نے جلدی سے اپنا اسلحہ دور پھینکا اور مخالف گروہ میں جاکر کہنے لگا :اے بھائیو!جتنا خون خرابہ ہوا ہے وہ سب میرے ذمہ ہے میں اس کی دیت ادا کرنے کے لئے آمادہ ہوں ۔وہ لوگ اس کی بات سن کر پر سکون ہوئے اور آپس میں صلح کرلی اور کینہ و کدورت بھی ان کے دلوں سے جاتارہا ‘‘۔(۲۱)
یہ تھا تلاطم انگیز دریائے اخلاق کا ایک ادنی قطرہ ۔۔۔۔۔جس نے انسانیت ساز کردار ادا کرتے ہوئے انسانوں کو انسان دوستی کاسلیقہ عطا کیا ،اس کے علاوہ سمندر اخلاق کا ہر قطرہ اگر کل کے افراد کے لئے درس عبرت تھا تو آج کے بگڑے ہوئے ماحول کی اہم ترین ضرورت ہے ۔

عہد حاضر پر ایک نظر
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا آج کا معاشرہ مختلف قسم کی روحانی بیماریوں میںمبتلا ہو کر مفاسد کے گہرے سمندر میں غوطہ زن ہے، مادی زندگی کے اسباب و وسائل میں جتنی ترقی ہے اسی اعتبار سے معاشرہ اخلاقی فضائل میں پیچھے ہٹ چکا ہے بلکہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ زندگی مزید مسموم اور دردناک ہوتی جارہی ہے ،جن لوگوں نے تکالیف سے بچنے کیلئے مسلسل کوششیں کی ہیں وہ کثافت وپلیدگی کے آغوش میں جا پڑے اور اندرونی اضطرابات اور باطنی رنج وغم کو بھلانے کے لئے برائیوں کے دلدل میں جا گرے۔
ایسا لگتا ہے جیسے معاشرہ کے افراد نے اپنے کو ہر قید و بند اور ہر شرط سے آزاد کر کے انحطاط کے میدان میں آگے بڑھنے کی بازی لگا رکھی ہے ،اگر آپ غور سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ترقی کے روز افزوں و سائل سے برعکس استفادہ کیا جا رہا ہے مختصریہ کہ مادی لبھانے والی چیزیں امید و آرزو کامحور بن گئی ہیں ،ضلالت و گمراہی اور گناہ اپنا منحوس سایہ معاشرہ پر ڈال کر وحشت ناک طریقہ سے نمایاںہوگئے ہیں۔
اس دگرگوں ماحول کو دیکھ کرایک فرانسیسی دانشمند’’ڈاکٹر کارل ‘‘چیخ اٹھتاہے:’’ہم کو ایک ایسی دنیا کی شدیدضرورت ہے جس میں ہر شخص اپنے لئے اپنی زندگی میں ایک مناسب مکان تلاش کر سکے جس میں مادیت و معنویت کا چولی دامن کا ساتھ ہو تاکہ ہم یہ معلوم کر سکیں کہ زندگی کس طرح بسر کریں ،کیونکہ یہ بات تو ہم سب ہی جان چکے ہیں کہ زندگی کی گلیوں میں قطب نما اور راہبر کے بغیر چلنا بہت ہی خطرناک ہے‘‘۔(۲۲)
حالات حاضرہ کودیکھ کر اس انگریز دانشمند کاچیخنا اور فریاد کرنا بجا ہے اس لئے کہ آبادیوں کے ساتھ ساتھ برائیوں میں بھی دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے ،ایک طرف اختلاف کے کالے بادل چھائے ہوئے ہیں تو دوسری طرف رذائل اخلاقی کازہریلا سانپ اپنا پھن پھیلائے ڈسنے کو تیارہے ،اس مسموم اور تاریک ماحول میںانسان کرے تو کیا کرے۔۔۔؟؟

اخلاق رسول ؐکی ضرورت
ڈاکٹر ژول رومان کاکہناہے:’’اس زمانے میں علوم نے تو کافی ترقی کی ہے لیکن ہمارے اخلاقیات اور جذبات و احساسات اپنے ابتدائی مراحل میں ہیں ،اگر ہمارے اخلاقیات بھی عقل ودانش کے شانہ بہ شانہ ترقی کرتے تو ہم کو یہ کہنے کا حق تھا کہ انسان کی مدنیت ’’جو فکر و نیک ارادوں کی زائیدہ ہے‘‘بھی ترقی کرگئی ہے۔(۲۳)
اس کی باتوں میں یقینا حقائق کے موتی موجود ہیں ،آج کی بگڑتی ہوئی حالت کا اہم ترین سبب اخلاقیات کی بے پناہ کمی ہے اور یہ تو طے ہے کہ جس تمدن و معاشرے پر مکارم اخلاق کی حکمرانی نہیں ہوتی وہ توازن و تعادل کے بہ موجب تباہ و برباد ہوجاتاہے ،معاشروں اور تمدنوںکے اندر موجود شقاوت و بدبختی ، ضلالت و گمراہی آج بھی لوگوں کو یہ احساس دلانے کے لئے کافی ہیں کہ وہ اس زمانے میں بھی اخلاقی اقدارکے ویسے ہی محتاج ہیں جیسے پہلے تھے ۔
رسول اسلام ؐکے اخلاق و کردار کا صاف و شفاف آئینہ عہد حاضر میںزندگی گذارے والے ہر انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے تاکہ وہ اس آئینہ میں اپنی زندگی کاحقیقی چہرہ دیکھے اور اسکے مطابق اپنی تباہ حال اور پریشان کن زندگی کوبدلنے کی کوشش کرے ۔
آپ کی زندگی ہی ہمارے لئے اسوہ اور نمونہ ہے،{انک لعلی خلق عظیم } کے کلی خطاب سے جس طرح ہر انسان سمجھ سکتاہے کہ اخلاق رسول ؐکسی ایک شعبہ ٔ حیات سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ ہر شعبۂ حیات میں اخلاق رسول ؐحرف آخر کی حیثیت رکھتاہے،اسی طرح {لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ }کا عمومی خطاب ہر انسان کوباور کرارہاہے کہ آپ کے اخلاق کسی ایک دور حیات سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ ہر دور کے افراد کے لئے رسولؐ کی زندگی اسوہ اور نمونہ ہے ۔
جس اخلاق رسول ؐکی ضوفشانی نے کل کے ضلالت و گمراہی سے بھرپور تاریک ماحول میں روشنی عطا کی اسی مکارم اخلاق میں آج بھی اتنی قوت و طاقت موجود ہے جو اس مردہ معاشرے کے جسم میں نئی روح پھونک دے۔

آج کی اہم ترین ضرورتیں
۱۔صداقت
صداقت اس زمانے کی اہم ترین ضرورت ہے ،اسلامی آئین اور انسانی نقطۂ نگاہ سے یہ جتنی اچھی صفت ہے اور جس کے لئے بے پناہ تاکید کی گئی ہے،عہد حاضر میں وہی صفت مفقود یاانتہائی کم ہے،لوگ اپنے مادی مفادات میں صداقت کوسب سے بڑی رکاوت سمجھتے ہوئے جھوٹ کے بڑے بڑے پل باندھتے ہیں۔حالانکہ’’ سچ‘‘ ترقی کی راہوں میں رکاوٹ نہیں ہے بلکہ انسان کو ترقی سے ہمکنار کرنے کا پہلا زینہ ہے۔حضرت علی ؑکا ارشادہے :{الصدق نور متشعشع فی عالمہ کالشمس یستضیٔ بھا کل شئی بمعناہ من غیر نقصان }’’سچ کائنات میں چمکتا ہوا نور ہے اس آفتاب کی طرح جس سے ہر شئی روشنی حاصل کرتی ہے اس اعتبار سے کہ وہ کسی کونقصان نہیں پہونچاتا‘‘ ۔(۲۴)
رسول اسلامؐ نے سچ کو زندگی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے فرمایا:{الزموا الصدق فانہ منجاۃ }’’تم پر سچ بولنا ضروری ہے اس لئے کہ اسی میں کامیابی و کامرانی ہے‘‘۔(۲۵)
صداقت کے متعلق قابل قدربات یہ ہے کہ رسول اسلام ؐنے عرب بدوئوں کو ضلالت وگمراہی کی تنگ وتاریک دنیا سے نکالنے کے لئے جس چیز کو وسیلہ قرار دیا وہ ’’صداقت‘‘ہے،آپ نے پہلے صداقت کی اہمیت ذہنوںمیں راسخ کرنے کے لئے اپنی صداقت کااقرار کروایا تاکہ وہ معاشرتی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت سے آشناہوں اور اپنے اس اقدام سے ہر دور کے انسانوں کو باور کرایا کہ سچ ترقی کی راہوں میںرکاوٹ نہیں بلکہ ترقیوںکی طرف آگے بڑھنے کا پہلا زینہ اور اہم ترین وسیلہ ہے ۔

۲۔امانت
امانت ایک انتہائی ممدوح اور پسندیدہ صفت ہے جوانسان کی شخصیت کو لوگوں کی نظر میں ارزشمند بناتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ معاشرہ میں آپسی ارتباط اور اعتماد کودوبالا کرتی ہے، خداوندعالم کاارشادہے:{ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامانات الی اھلھا } بے شک اللہ تمہیں حکم دیتاہے کہ امانتوںکو ان کے اہل تک پہنچادو۔(۲۶)
اصل میں اسلام نے اپنے حیات بخش پروگراموںاوربلند قوانین کے ذریعہ لوگوں کوبطور عموم ایک خوش گواراور سعادت بخش زندگی کی طرف اپنی ذمہ داریوں کوپورا کر کے بلایا ہے ،رسول اسلام ؐنے بھی اسلام کے قوانین سے آشنا کرنے سے پہلے لوگوں کوامانت و صداقت سے آشنا کرایا اور اس کی اہمیت لوگوں کے ذہنوںمیں راسخ کی تاکہ کل جب اسلام کی دولت سے آشنا ہوں توامانت کانور ان کی مذہبی زندگی میں مزید روشنی عطا کر سکے۔
آپ کا ارشاد ہے:{ لا تزال امتی بخیر ماتجابوا وتھادو ا والامانۃ }میری امت جب تک ایک دوسرے سے محبت و دوستی سے پیش آئے گی،ایک دوسرے کوہدیہ دے گی اورامانتداری کی بھر پور رعایت کرے گی وہ نیکیوں اور بلندیوں سے وابستہ رہے گی ۔(۲۷)
آج کے معاشرہ میں فسادات و انحرافات کے رائج ہونے اور اس میں مختلف بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کے افکار و عقول اور تمام شعبہ ہائے حیات پر ’’خیانت ‘‘کاغالب آجانا ہے،معاشرے کے اندر خیانت کی عمومیت اور بتدریج معاشرے کی معنویت کو ختم کر دینے والا خطرہ تمام خطروںسے زیادہ اہم ہے ، خیانت آئینہ روح کو تاریک بنا کر افکار انسانی کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتی ہے ۔
معاشرے کے فسادات و انحرافات اور انسانی افکار کو گمراہ کن راستہ سے ہٹانے کے لئے ضروری ہے کہ اس عہد میں امانت کو اسی طرح رائج کیا جائے جس طرح رسول اکرم ؐنے عرب کے جاہل ماحول میں رائج کیا اور لوگوں کو حقیقی اور واقعی زندگی سے آشنا کرایا۔

۳۔اتحاد
اتحاد کائنات کی سب سے مضبوط رسی ہے ،جس سے انسان کی اجتماعی اور معاشرتی زندگی کی سلامتی وابستہ ہے ،ایک سالم معاشرہ کے لئے بنیادی طور پر باہمی اعتماد اور اتحاد کا ہونا ضروری ہے اسی لئے صرف اسی معاشرے کو خوش بخت اور سعادت مند سمجھنا چاہیئے جس کے افراد کے درمیان مکمل رشتۂ اتحاد اور اطمینان پایا جاتاہے ،خدا کا ارشاد ہے :{واعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لاتفرقوا }اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ پیدا نہ کرو ۔(۲۸)
رسول اسلام ؐنے بھی معارف اسلام کی ترویج کے لئے پہلے باہمی اتحاد و اتفاق کی بنیاد ڈالی اور جن عربوں میں قبیلہ گرائی کی وجہ سے بے پناہ اختلاف تھا وہاںاتحاد کا چراغ روشن کیا اور پھر جب لوگوں نے اس اتحاد کی روشنی سے کسب فیض کرلیا تو خدا نے اتحاد و اختلاف کی حد بندی کرتے ہوئے فرمایا :{یا ایھا الذین آمنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء }ایمان والوخبردار!میرے اور اپنے دشمنوںکو دوست نہ بنائو ۔(۲۹)
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کلمہ گو افراد باہم متحد ہو کر اپنے اور خدا کے دشمن سے نبرد آزما ہوں گے تو کامیابی و کامرانی نصیب ہو گی ،چنانچہ رسول اسلام ؐنے اسی اتحاد کی مضبوط رسی کا سہارا لے کر مختلف جنگوں میں دشمنوں کے گلے میں پھانسی کا پھندا لگا یا اورانہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ۔
اس تناظر میں آپ آج کے مسلم معاشرے کا تجزیہ کریں ،کتنا افسوس ہوتاہے اس وقت جب انسان کے دامن حیات میں اصول معاشرت کے در نایاب موجود ہوںاور پھر بھی وہ افلاس کا شکار نظر آئے ۔آج کے مسلم معاشرے کے لئے سب سے زیادہ افسوسناک اور شرمناک بات یہ ہے کہ جس امت کے پیشوااور رہبر نے جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دی تھی وہی آہستہ آہستہ مفقود ہوتی جارہی ہے،آج مسلمان سب سے زیادہ کمزور ہیں اس کی سب سے بڑی علت یہ ہے کہ آپس میں اتحاد و اتفاق نہیں ہے ،آج کے مسلمانوں کے پاس {واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقوا }کا حیات بخش اور مستحکم نسخہ تو ہے لیکن اس پر فکر کرنے اور عمل کرنے کا موقع نہیں ہے۔آج کے مسلم معاشروں کو کل کا اسلامی اور اتحاد سے بھرپور معاشرہ لمحۂ فکریہ دے رہا ہے کہ وہ باہم متحد ہوکر اسی طرح اپنے دشمنوں سے نبردآزما ہوں جس طرح رسول اسلام ؐنے مسلمانوں کو اتحاد کا زریں اور مستحکم لباس پہناکا دشمنوں سے مقا بلہ کیا ۔

۴۔اخوت
بھائی چارگی اور اخوت نہ صرف گھریلو زندگی کی اہم ترین ضرورت ہے بلکہ افراد معاشرہ سے وابستہ رہنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے، اسی لئے قرآن نے صرف مادری اور پدری بھائیوں کو آپس میں متحد رہنے کاحکم نہیں دیا ہے بلکہ معاشرتی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ایک مومن کو دوسرے مومن کا بھائی قرار دیاہے،خدا کا ارشادہے:{انما المومنوںاخوۃ فاصلحوا بین اخویکم واتقوا اللہ لعکم ترحمون}مومنین آپس میںبھائی بھائی ہیں لہذا اپنے دو بھائیوں میںصلح کرادو اور اللہ سے ڈرو شاید تم پر رحم کیا جائے ۔(۳۰)
رسول اسلام ؐنے دائرۂ اخوت کومزید وسعت دیتے ہوئے فرمایا :{المسلم اخوالمسلم لا یظلمہ و لایخذلہ و لا یسلمہ }مسلمان ،مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتاہے اور نہ اس کا ساتھ چھوڑتاہے اور نہ اسے حوادث کے حوالے کرتاہے۔(۳۱)
لیکن آج کی معاشرتی زندگی کاعالم یہ ہے کہ انسان جیسے جیسے مادی امور کی طرف آگے بڑھ رہا ہے اس کے اندر سے اخوت ،بھائی چارگی ،دوستی اور مہر و محبت آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے ۔اسلامی ا خوت تو دور کی بات ہے خود حقیقی بھائیوں میں اخوت مفقودہے ،آج دو بھائیوں کے درمیان چند مادی چیزوں کے لئے اختلاف ہے اور کبھی کبھی تو یہ اختلاف اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں ،اور بالآخر اپنے منحوس مقصد میں کامیاب ہو کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ان چند لمحوں کی خو شی صرف اس کے لئے نقصان دہ ثابت نہیں ہوتی بلکہ وہ معاشرہ بھی اس کے منفی اور نقصان دہ اثرات سے محفوظ نہیں رہ پاتا جس میں وہ زندگی گذار رہا ہوتاہے ۔
کہاںگیا رسول اسلامؐ کاوہ درس اخوت جس نے کل کے ضدی عرب بدوئوںکوایک اچھی زندگی کی نوید دی تھی،جس نے عربوں کے خون میںوہ حرارت پیدا کردی تھی کہ مٹھی بھر آدمیوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ،آدھی دنیا کومسخر کر کے اپنے خاک نشین کملی والے تاج دارکے قدموں میںلا کر ڈال دیا تھا ۔۔۔۔۔۔؟؟
کیا ہم رسول اسلام ؐکے پیرو اور مطیع ہیں ؟ان معاشرتی بے راہ رویوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کوئی یہ کہہ سکتاہے کہ ہم نے رسول اسلام ؐکی زندگی کو اپنی زندگی کے لئے نمونہ اور اسوہ قراردیاہے ؟اگر آج کا انسان اپنی زندگی میںسیرت رسولؐ کو اسوہ قرار دیتاتو حالت اتنی پست نہ ہوتی۔یقیناہم نے تسلیم کیا ہے کہ سیرت رسول ؐآنے والی ہر نسل بشرکے لئے اسوہ ہے لیکن یہ اسوہ صرف ہمارے زبان و دل تک محدود ہوکر رہ گیا اور اسے عملی جامہ پہنا کر اپنے عمل کے ذریعہ اسوۂ حسنہ کی نشان دہی کرنے کاوقت نہیں اور نہ ہی مادی امور میں بے پناہ مصروف انسان وقت نکال پارہاہے ۔
جب کہ قرآن نے ہر دور کے انسان کومتوجہ کیا :{یا ایھا الذین آمنوااستجیبوا للہ و للرسول اذدعاکم لما یحییکم }اے ایمان والو! اللہ و رسول کی آواز پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے ۔(۳۲)
آج رسول اسلام ؐکے اخلاقی دروس چیخ چیخ کر آواز دے رہے ہیں کہ آج کی معاشرتی آلودگیوں سے اپنے آپ کو نجات دینے کیلئے ان دروس کوزندہ کرو جس میں تمہاری اورتم سے مربوط تمام افرادمعاشرہ کی زندگی وابستہ ہے ،وہی کل کا درس تمہاری آج کی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔

حرف دعا
آئیے اس قدسی صفات رسول کے عظیم بارگاہ میں اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کریں اور دعا کریں:
’’اے غلاموں کو مقام فرزندی تک لانے والے ،اے قاتلوں کو مسیحائی کے سلیقے سکھانے والے ،اے انگاروں پر پھول کھلانے والے،اے وحشیوں کو بربادی سے نجات دینے والے،اے عزائم انسانی کو آفاقیت عطا کرنے والے ،اور اے خلق عظیم پر فائز رسول ۔۔۔۔۔۔آج کے اس تباہ حال اور برباد معاشرے کو راہ مستقیم پر لانے کے لئے اپنے نور اخلاق کی روشنی کا تھوڑا ساحصہ بھیک کی صورت میں عطا فرمائیے تاکہ انسانوں کا وقار ،اس کی گرتی ہوئی انسانیت پھر سے واپس مل جائے اور وہ ان اخلاقی قدروں سے آشنا ہو جائے جو اس کی زندگی اور معاشرے کی ترقی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ۔
والسلام
سید شاہد جمال رضوی
حوالے جات
۱۔غرر الحکم ۵؍۲۳۸ ح؍۸۱۵۲ ۲۔مستدر ک الوسائل ۱ ؍ ۱۹۳ ح ۱۲۷۲۱
۳۔تحف العقول ص۷۴ ۴۔اخلاقی و نفسیاتی مسائل کاحل ص۴۱
۵۔اصول کافی ج۲؍ص۱۰۳ باب حسن خلق ۶۔تحف العقول ص؍۷۴
۷۔آل عمران ؍۱۵۹ ۸۔نہج البلاغہ خطبہ ؍۸۷
۹۔جامع السعادات ۲؍۳۱۸ ۱۰۔بحار الانوارج ۵ ؍ص۱۱۴
۱۱۔امالی شیخ طوسی ص؍۴۶۸ ،الدرجات الرفیعہ ص۴۱۱نقل از ویژگیھای پیامبر اعظم ص۷۵
۱۲۔جمعہ ؍۳ ۱۳۔مستدر ک الوسائل ۱۱؍۱۸۷
۱۴۔حقائق ؍ص۳۱۸ ،نقل از آداب اسلامی؍۳۷ ۱۵۔ممتحنہ ؍۴
۱۶۔احزاب ؍۳۱ ۱۷۔ قلم ؍۱۸
۱۸۔فقہ الرضا ؑ؍۳۵۳ ۱۹۔سنن النبی ؍۲۱،نقل از ویژگیہای پیامبر اعظم ؍۵۲
۲۰۔من لا یحضرہ الفقیہ ۳؍۴۶۷ ۲۱۔اصول کافی باب الغضب ح؍۱۱
۲۲۔اخلاقی و نفسیاتی مسائل کا حل ؍۶۶ ۲۳۔اخلاقی و نفسیاتی مسائل کاحل؍۴۴
۲۴۔مستدر ک الوسائل ۸؍۴۵۴ ۲۵۔بحار الانوار ۱۰؍۹۲
۲۶۔نساء ؍۵۸ ۲۷۔عیون اخبار رضا ؑ۱؍۳۲نقل از یک ہزار حدیث ؍۱۴۳
۲۸۔آل عمران ؍۱۰۳ ۲۹۔حجرات ؍۱۰
۳۱۔ مہجۃ البیضاء ج۱ ص ۳۳۱ ۳۲۔انفال ؍۲۴

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری
حوزہ ٔ علمیہ قم (ایران )

Last modified on چهارشنبه, 17 دی 1393 14:55
Login to post comments