×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حرم مطہر رضویہ کے محقق کے ساتھ گفتگو

مهر 14, 1392 1356

حضرت امام رضا (ع) کے حرم کا کتابخانہ عالم اسلام کاقدیم ترین کتب خانہ ہے جس میں 75 ہزار نادر قلمی نسخے موجود ہیں.حرم مطہر

رضویہ کے محقق کا کہنا ہے کہ امام رضا علیہ السلام کے حرم میں موجود کتابخانہ عالم اسلام کا قدیم ترین کتب خانہ ہے۔ اس کتابخانے کی ایک ہزار سالہ تاریخ ہے۔ اب تک اس میں پچہتر ہزار نادر قلمی نسخے جن میں اسلامی علوم عربی، فارسی، اردو اور دیگر زبانوں میں موجود ہے اکٹھے کئے گئے ہیں۔ ان کا محفوظ کیا جا رہا ہے، مائیکروفلم اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ان اسلام فن کے شہ پاروں کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر حیدر رضا ضابط کا تعلق حرم مطہر رضویہ سے ہے۔ آپ حرم مطہر امام رضا علیہ السلام کے تحت کام کرنے والے ادارے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن میں محقق کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ آرٹس کونسل راولپنڈی میں قرآنی نمائش کے موقع پر اسلام ٹائمز نے حرم امام رضا علیہ السلام سے تشریف لائے ہوئے ڈاکٹر حیدر رضا ضابط کا انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔

اپنے بنیادی تعارف سے قارئین کا آگاہ فرمائیں۔؟
ڈاکٹر حیدر رضا ضابط: میرا نام ڈاکٹر حیدر رضا ضابط ہے، میں اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن میں ریسرچ اسکالر ہوں۔ یہ امام رضا علیہ السلام کے حرم کی طرف سے قائم کردہ ریسرچ کا ادارہ ہے، جو امام رضا علیہ السلام کے حرم سے متصل ہے۔

حرم مطہر رضویہ میں قرآنی علوم کو پھیلانے کیلئے کیا سعی کی جا رہی ہے، اس پر روشنی ڈالیں۔؟
ڈاکٹر حیدر رضا ضابط: امام رضا علیہ السلام کے حرم کے تحقیقاتی مرکز کی جانب سے جو کہ اٹھائیس برس قبل قائم ہوا ہے۔ گذشتہ اٹھائیس برسوں میں بیس علماء کرام کی کوششوں سے چالیس جلدوں پر مشتمل قرآن پاک کا انسائیکلو پیڈیا تیار کیا گیا ہے۔ جو جامع ترین اور مکمل ترین اور علمی ترین انسائیکلوپیڈیا ہے، جو اسلام کی تاریخ میں اب تک شائع کیا گیا ہے۔ یہ چالیس جلدوں پر مشتمل ہے اور ہر ایک جلد ایک ہزار صفحے پر مشتمل ہے۔ یہ عالم اسلام کی تاریخ کی سب سے بڑی انسائیکلوپیڈیا ہے جو قرآن پاک پر لکھی گئی ہے۔ یہ عظیم اعزاز امام رضا علیہ السلام کے حرم کو حاصل ہوا ہے۔
 
اس کے علاوہ پینسٹھ کے قریب قرآنی علوم پر اسلامی مرکز نے کتب شائع کی ہیں۔ اس کے علاوہ رضویہ اسلامک یونیورسٹی جو امام رضا علیہ السلام کے حرم سے متصل ہے اور امام رضا (ع) کے حرم کی جانب سے اس کی نگرانی کی جاتی ہے، نے بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کے لیول پر قرآن مجید کے اسکالرز کو خدمات دی جاتی ہیں۔ قرآن مجید کے امور پر چار تحقیقاتی رسالے نشر کئے جاتے ہیں، جن میں سے دو عربی اور دو فارسی میں ہیں۔ ان رسالوں کو پورے ایران کے ساتھ ساتھ اہم اسلامی ممالک اور اہم اسلامی مراکز میں اہم مقام حاصل ہے۔

امام رضا علیہ السلام کے حرم میں ہر برس اڑھائی کروڑ زائرین حرم مطہر رضوی کی زیارت سے شرف یاب ہوتے ہیں۔ ڈھائی کروڑ زائرین جب حرم میں تشریف لاتے ہیں تو ان میں اگر کسی کو قرآن پڑھنا نہیں آتا اور وہ ترتیل، تجوید سیکھنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے کلاسز رکھی جاتی ہیں۔ یہ خدمات چوبیس گھنٹے اور سال کے بارہ مہینے جاری رہتی ہیں۔ اس طرح ہزاروں کی تعداد میں زائرین قرآنی تعلیمات سے مستفید ہوتے ہیں۔

ماہ مبارک رمضان میں ایک ہی وقت میں لاکھوں کی تعداد میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے۔ اس تلاوت قرآن مجید کو ایران کے قومی ٹی وی سے لائیو نشر کیا جاتا ہے۔ خود ایران میں کروڑوں کی تعداد میں ایرانی عوام اس لائیو قرآن خوانی کے ساتھ گھروں میں بیٹھ کر تلاوت کرتے ہیں۔ یہ انتہائی خوبصورت منظر ہوتا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ رحل رکھ کر قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول ہیں۔ مرد و خواتیں الگ الگ بیٹھتے ہیں، عالمی شہرت یافتہ قراء حضرات ترتیل کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ یہ ایک ایمان افروز اور روح پرور منظر ہوتا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ حرم مطہر رضویہ میں سنی اور شیعہ دونوں مسالک کے قراء حضرات تلاوت کرتے ہیں، جو عالم اسلام کے اتحاد کی عملی مثال ہے، اس بارے میں فرمائیں۔؟
ڈاکٹر حیدر رضا ضابط: ہر سال امام رضا علیہ السلام کے حرم کی جانب سے عالمی شہرت یافتہ قراء حضرات کو حرم امام رضا علیہ السلام کی دعوت پر مشہد مقدس بلایا جاتا ہے اور حرم مقدس میں بڑے پیمانے پر قرات کے پروگرام رکھے جاتے ہیں، جن میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔ خصوصی طور پر نماز جماعت کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے۔ پانچ وقت نماز میں پانچ لاکھ سے زیادہ زائرین شرکت کرتے ہیں۔ یہ اوسطاً بات کی جا رہی ہے بعض مواقع پر یہ تعداد تیس لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے اور نماز باجماعت میں تیس لاکھ لوگ شرکت کرتے ہیں۔ خصوصاً عیدین کے موقع پر بیس لاکھ کا مجمع نماز میں شرکت کرتا ہے۔

امام رضا علیہ السلام کے حرم کی انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد چھ گنا توسیع کی گئی ہے۔ اتنی توسیع کے باوجود حرم میں زائرین کا اتنا اژدہام ہوتا ہے کہ جگہ ملنا مشکل ہوتی ہے۔ سال کے بارہ ماہ امام رضا علیہ السلام کی ضریح کے اطراف میں ہزاروں لوگ موجود پائے جاتے ہیں، ضریح کو ہاتھ لگانا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔

آستان قدس رضوی کے ادارہ رضوی آفرینشہائے ہنری کے اہتمام سے قرآن کی تذہیب کا کام جاری ہے، اسی سلسلہ میں قرآنی تذہیب کا دو سالہ فیسٹیول بھی منعقد کیا گیا، اس بارے میں فرمائیں۔؟
ڈاکٹر حیدر رضا ضابط: امام رضا علیہ السلام کے حرم میں موجود کتابخانہ عالم اسلام کا قدیم ترین کتب خانہ ہے۔ اس کتابخانے کی ایک ہزار سالہ تاریخ ہے۔ اب تک اس میں پچہتر ہزار نادر قلمی نسخے جن میں اسلامی علوم عربی، فارسی، اردو اور دیگر زبانوں میں موجود ہے اکٹھے کئے گئے ہیں۔ ان کو محفوظ کیا جا رہا ہے، مائیکروفلم اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ان اسلام فن کے شہ پاروں کو محفوظ کیا جا رہا ہے اور ان کے دوبارہ احیاء کے لئے ایک خاص ادارہ قائم کیا گیا ہے، جسے مرکز ہائے افرینشہائے ہنری کہا جاتا ہے۔ اس مرکز میں تذہیب اور ہنر کے ان شہ پاروں کو کہ جن کی اسلامی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی، ان کا جدید اسلامی خطوط کے مطابق احیاء کیا جا رہا ہے۔ اس طرح ہزاروں کی تعداد میں مرکز ہنری نئے قرآن مجید کی کتابت و تذہیب ہوئی ہے۔ اس کام کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام سات آٹھ سو سال پرانا کام ہے لیکن یہ کام آج کے دور میں مشہد مقدس کے مرکز ہنری میں ہوا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد حرم مطہر رضوی میں رواق دار الحجہ کی دیدہ زیب تعمیر ہوئی جو اسلامی ہنر کی پرشکوہ تجلی ہے، اس حوالہ سے ہمارے قارئین کو بتائیں۔؟
ڈاکٹر حیدر رضا ضابط: انقلاب اسلامی ایران سے قبل امام رضا (ع) کے حرم میں چھ رواق (یعنی سر پوشیدہ ہال اور صحن جس پر چھت نہ ہو) تھے۔ لیکن آج رواق کی تعداد اٹھائیس ہوچکی ہے۔ پہلے ہمارے پاس دو صحن تھے، آج صحنوں کی تعداد بارہ ہوچکی ہے۔ یعنی امام رضا (ع) کے حرم مبارک میں چھ گنا توسیع ہوئی ہے۔ اعلٰی پیمانے پر کام ہوا ہے، دار العجابہ، دارالحجہ، دارلولایۃ اور رواق امام خمینی (رہ) یہ عظیم الشان رواق ہیں، جہاں لاکھوں کی تعداد میں زائرین بیٹھ کر اپنی عبادات سرانجام دیتے ہیں۔ ہر نماز جمعہ کے دوران پانچ لاکھ زائرین شرکت کرتے ہیں۔ اسی طرح عیدین کی نمازوں میں صفیں کئی کلومیٹر تک چلی جاتی ہیں۔ جن کی اگر آپ فضائی تصویر لیں تو یہ ایک عظیم الشان منظر پیش کرے گا۔

حرم مطہر رضوی کی کوششوں سے قرآن و عترت کے فرامین و احکام میں متنوع تعلیمی کورس کا انعقاد کیا جاتا ہے، اس بارے میں آگاہ فرمائیں۔؟
ڈاکٹر حیدر رضا ضابط: خود امام رضا (ع) کے حرم کا ایک چین آف سکولز ہے۔ جن میں اٹھائیس ماڈل اسکولز شامل ہیں۔ لڑکیوں لڑکوں کے الگ الگ اسکولز ہیں۔ چھ جونیئر کالجز ہیں۔ اسی طرح امام رضا (ع) کے حرم میں دو یونیورسٹیز ہیں۔ ان اداروں میں قرآنی تعلیم کو لازم قرار دیا گیا ہے اور یہ تعلیم جدید طریقوں سے دی جاتی ہے۔ یہ اسکول ایران کے اعلٰی ترین سکولوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں بچوں کو قرآن و حدیث کی اعلٰی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ ان سکولوں کے فارغ التحصیل کو اعلٰی یونیورسٹیوں میں داخلہ ملتا ہے اور امتیازی پوزیشنز حاصل کرتے ہیں۔

آخر میں ہندوستان، پاکستان اور دنیا بھر سے حرم امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے جانے والوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
ڈاکٹر حیدر رضا ضابط: چونکہ امام رضا علیہ السلام جگر گوشہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اس اعتبار سے پوری دنیا سے مسلمان آپ کی زیارت کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ لیکن خصوصی طور پر پاکستانی زائرین جب مشہد مقدس تشریف لاتے ہیں تو ان کی طرف سے جس عقیدت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ وہ ایرانی عوام کو اور خود حرم مقدس کے عہدیداروں اور خدام کو متاثر کرتے ہیں۔ جس عشق و محبت کا مظاہرہ پاکستانی زائرین کرتے ہیں، اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسی عشق و محبت کا صلہ دینے کے لئے ہم امام رضا علیہ السلام کے حرم کی جانب سے یہاں پاکستان پہنچے ہیں، امام رضا (ع) کے حرم کے تبرکات اور امام (ع) کے حرم پر لہرانے والا پرچم لائے ہیں۔

Last modified on پنج شنبه, 08 خرداد 1393 12:42
Login to post comments