Print this page

حاتم طائی ایک مثالی شخصیت

خرداد 09, 1393 861
Rate this item
(0 votes)

دور جاہلیت کا ایک شہسوار اور نامور شاعر، غیر معمولی شجاعت و سخاوت کی وجہ مشہور شخصیت حاتم طائی بن عبداللہ بن سعد

دنیا میں اپنا مقام الگ رکھتے ہیں۔ زمانہ زیست چھٹی صدی عیسوی کے نصف ثانی سے لے کر ساتویں صدی کے اوائل تک ان کا دور تھا۔ حاتم طائی ایک صاحب مروت شخص کے اوصاف او ر بہت زیادہ سخاوت اور مہمان نوازی کی وجہ مشہور تھے۔ عربی زبان میں کسی کی سخاوت و فیاضی بڑھا چڑھا کر بیان کرنی ہوتو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص حاتم طائی سے بھی سخی ہے۔ اسی طرح بلوچی، سندھی اور اردو میں بھی اپنی اپنی زبان میں ایسا کہاجاتا ہے۔ عام روایت کے مطابق جو اس کے بارے میں کی جاتی تھی وہ قبل از اسلام عربوں کا ایک بہترین نمونہ تھا۔ اس کی فیاضی ضرب المثل تھی اسی وجہ سے اسے جوادیا اجود کہتے تھے۔ بعض روایات میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ وہ اپنی وفات کے بعد بھی غالباََ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے نویں سال واقع ہوئی تھی وہ ان لوگوں کی حاجت روائی کیا کرتا تھا جو اس کے مزار پر جا کر مہمان نوازی کے طلب گار ہوتے تھے۔

اس کا مزار غالبا بلاد طئی کے ایک پہاڑ کے اوپر تھا جو تنغہ میں وادی حائل کے کنارے واقع تھا۔ اس کے مزار کے دائیں بائیں پتھر کی چار موتیاں تھیںجن کی شکل لڑکیوں کی سی تھی اور بال بھکیرے ہوئے اس کے مدفن پر نوحہ کر رہی تھیں اس کے مزار کے قریب اس بڑی دیگ کے باقی ماند ہ ٹکڑوں میں بھی نمائش کی گئی تھی۔ جس میں سے اپنے مہمانوں کو کھانا کھلایا کرتا تھا بقول پال گریو ’’ حاتم کا مزار اس علاقے میں اب تک مشہور و معروف ہے ’’۔ حاتم طائی عہد اسلام سے کچھ عرصہ پہلے وفات کر گیا۔ اس کی ایک بیٹی سفانہ عروج اسلام کے زمانے میں گرفتار ہو کر دربار نبوتصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش ہوئی۔ تو اس نے بنی اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے باب کی فیاضیوں اور جود و کرم کا تذکرہ کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رہا کرنے کا حکم دیا اور کہ حاتم طائی اسلامی اخلاق کا حامل تھا۔ حاتم کا دیوان پہلی بار رزق اللہ حسون نے لندن سے 1876ء￿  میں شائع ہوا۔ 1897ء￿  میں دیوان کا ترجمہ جرمن زبان میں چھپا۔ حاتم طائی کی ایک بیٹی نے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں اسلام قبول کر لیا تھا۔

کسی نے حاتم طائی سے پوچھا ’’ آپ نے اپنے دور میں خود سے بڑھ کر کوئی شخص خوددار اور دل کا غنی دیکھا ؟’’ حاتم طائی نے جواب دیا ’’ ہاں۔۔۔ ! ایک دن میرے ہاں 40 اونٹ زبح کیئے گئے ، ہر خاص و عام کو دعوت تھی کہ وہ میرے دستر خوان پر آ کر کھانا کھائے ، چنانچہ شہر کا شہر اس دعور ت پر اْمڈ آیا ، اسی دن اتفاق سے کسی ضرورت کے تحت میرا جنگل میں جانا ہوا تو میں نے ایک بوڑھے شخص کو پیٹھ پر لکڑیوں کا گھٹا اْٹھا ئے ہوئے دیکھ کر کہا۔ ’’ بڑے میاں ! تم حاتم طائی کی دعوت میں کیوں نہیں جاتے ، آج اْس کے دستر خوان پر ایک مخلوق جمع ہے ’’ بوڑھے نے بے نیازی سے جواب دیا۔ ’’ بیٹا ! جو خود کما سکتا ہو ، وہ حاتم کو محتاج کیو ہو ’’حاتم طائی نے کہا تھا ‘ میں نے چار علم اختیار کیے اور دنیا کے تمام عالموں سے چھوٹ گیا ‘ کسی نے پوچھا ‘ وہ چار علم کون کون سے ہیں ؟ ‘ تو حاتم طائی نے جواب دیا’ پہلا یہ کہ میں نے سمجھ لیا کہ جو رزق میری قسمت میں لکھا ہے وہ نہ زیادہ ہوتا ہے نہ کم۔ اس لیے میں زیادہ کی طلب سے مطمئن ہو گیا۔ دوسرا یہ کہ اللہ کا جو مجھ پر حق ہے وہ میرے سوا کوئی دوسرا ادا نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں اس میں مشغول ہو گیا۔

ایک چیز مجھے ڈھونڈتی ہے اور وہ ہے موت، میں اس سے بھاگ نہیں سکتا اور اس کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا۔ چھوتا یہ کہ میرا اللہ ایک ہے جو مجھ سے باخبر رہتا ہے۔ میں نے اس سے شرم رکھی اور برے کاموں سے ہاتھ اٹھا لیا۔ یہ چار علم زندگی کے لیے اصول اور ایسی مشعل راہ ہیںجس نے انہیں اپنا لیا زندگی اس کے لیے اتنی آسان مطمئن ہو گی شاید دنیا میں کسی اور کو نہ ہو۔ پہلے عمل سے مراد یہ ہے کہ جو رزق میری قسمت میں لکھا ہے وہ نہ زیادہ ہوتا ہے نہ کم۔اس لیے میں زیادہ کی طلب سے مطمئن ہو گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ رزق دینے والا اللہ کی زات ِ واحد و لاشریک ہے۔ اس دنیا میں وادی پنجر اور پہاڑوں میں رہنے والے چرند و پرند کو بھی اللہ پاک رزق و پانی دیتا ہے تو ہمیں اس بات کا فکر نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارا رزق بند ہوگا ہم بھوک و پیاس سے مر جائیں گے۔

البتہ جو طریقہ اللہ نے رزق حاصل کرنے کا بتایا ہے اسی پر عمل کر کے ہمیں رزق حاصل کرنا ہے۔ لیکن بعض لوگ رزق کی لالچ میں حد سے گزر جاتے ہیں اور یہی خواہش رکھتے ہیں کہ دنیا بھر کی رزق اس کے پاس جمع ہو باقی دنیا بھوکی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی مثال ایسے لوگ ہیں جو اربوں و کھربوں روپیہ کی ملکیت و بینک بیلنس جمع کرنے کی غرض سے بے ایمان ہو جاتے ہیں ایمان بھی بیچتے ہیں اور جسم بھی۔ تو ایسے لوگوں کو اس بات سے کچھ سیکھنا ضروری ہے کہ جو تمھارے نصیب میں لکھا ہے وہ نہ کم ہونے والا ہے نہ ہی زیادہ تو بہتر ہے لالچ کو دفن کر کے اپنی ضرورت کے مطابق حاصل کرو اور اس حصول رزق کے لئے خدارا ا پنا ایمان نہ بیچنا کیوں کہ رزق تو اللہ نے دینا ہی ہے۔

دوسرا یہ کہ اللہ کا جو مجھ پر حق ہے وہ میرے سوا کوئی دوسرا ادا نہیں کر سکتا سے یہی مراد ہے کہ اللہ تعالی ٰ کے تمام حقوق جو مجھ پر فرض ہیں جس میں عبادت ، حمد و ثنا اور اس کی توحید و لاشریک پر یقین رکھنا اور خود کواللہ کا محتاج تصور کرنا وغیرہ وغیرہ۔ مجھے ہی ادا کرنے ہیں میرے سوا کوئی دوسرا نہیں ادا کر سکتا۔ اسی لیے جو کرنا ہے اس نے ہی اپنے لئے خود کرنا ہے۔ یہ نہ سوچناکہ میری جگہ کوئی اور عبادت کریگا تو مجھے بھی اجر و ثواب ملے گا۔ ایسا سوچ کر انسان غافل ہی ہو جاتا ہے۔

تیسرا یہ کہ ایک چیز مجھے ڈھونڈتی ہے اور وہ ہے موت، میں اس سے بھاگ نہیں سکتا اور اس کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا سے مراد یہی ہے کہ موت برحق ہے ہر انسان کو اس کا مزا ہرحال میں ہی چکھنا ہے موت سے بھاگنا بے وقوفی ہے بلکہ موت مانگنا بھی غلط ہے وقت مقرر پر موت آجائیگا اور اسے گہری نیند سلا ہی دیگا۔

بے شک یہ موت سے ڈر رہے ہیں لیکن موت نے آنا ہے کسی نے ٹالنا ہی نہیں ہے۔ اس سے بہتر ہے سادگی سے اپنی زندگی گزاری جائے تو اچھا ہو گا۔ اور چھوتا یہ کہ میرا اللہ ایک ہے جو مجھ سے باخبر رہتا ہے۔ میں نے اس سے شرم رکھی اور برے کاموں سے ہاتھ اٹھا لیا سے مراد ہے کہ اللہ تعالی ٰ ہمیں ہر وقت دیکھ رہا ہے اور ہمیں پتہ بھی ہے کہ اللہ روز قیامت ہم سے احتساب لے گا تو بہتر یہی ہو گا کہ انسان اچھے سے اچھا کام کریں تاکہ روز قیامت اللہ کے سامنے شرمندگی سے انسان بچ جائے۔
 
تحریر: آصف لانگو

Login to post comments