×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

پانا پتی کا پاگل ہاتھی

مهر 10, 1392 2857

یہ ہاتھی، جس کے بارے میں یہ داستان لکھ رہا ہوں، دیگر ہاتھیوں کی مانند ایک چھوٹی جسامت کا نر ہاتھی تھا۔اس کی کل اونچائی ساڑھے سات فٹ تھی۔

عموماً ہندوستانی ہاتھی کے اگلے پیر کے نشان کی گولائی کا مربع اس کی اونچائی کے برابر ہوتا ہے۔ اتنی سی جسامت کے برعکس اس میں مکاری، کینہ پروری اور انسانوں سے دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

اس کا بیرونی صرف ایک دانت تھا۔ یہ کوئی ڈیڑھ فٹ لمبا ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا دوسرا دانت دریائے کاویری کے کنارے ایک لڑائی میں ٹوٹا تھا۔ یہ لڑائی غول کے بڑے نر سے ہوئی تھی۔ جب اس نوجوان نے غول کی ماداؤں پر بری نظر ڈالی تو غول کے بڑے نر اور سردار نے اسے غول سے نکال باہر کیا۔ اس نوجوان ہاتھی نے بدلے میں لڑائی کی ٹھانی۔

یہ اپنی نوعیت کی ایک عجیب لڑائی تھی۔ تجربہ، عمر اور طاقت میں اس سے کہیں بڑے ہاتھی نے اسے بری طرح مارا۔ اسے بہت بری طرح اور نہایت بے دردی سے کچلا اور نوچا گیا تھا۔ اس کے پہلو پر سردار کے دانتوں کے نشانات تھے۔ اس لڑائی کے باعث اسے غول چھوڑنا پڑا۔ چھوٹے موٹے زخموں کے علاوہ اسے دانت بھی گنوانا پڑا جو ظاہر ہے کہ بہت دن تک درد کی اذیت بھی جھیلنی پڑی ہوگی۔

اس حالت میں بھی وہ غول سے کچھ ہی فاصلے پر ان کے ساتھ ساتھ حرکت میں رہا۔ لیکن اسے گروہ میں شامل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ اس طرح آوارہ گردی کے دوران میں اسے ایک دن پگڈنڈی پر ایک بیل گاڑی آتی دکھائی دی جس پر کٹے ہوئے بانس لدے ہوئے تھے۔ اس ہاتھی پر اچانک ہی دورہ پڑا اور اس نے اپنی لڑائی کا غصہ بیل گاڑی پر نکالنے کی ٹھانی۔ اس نے فوراً ہی ہلہ بول دیا۔ گاڑی بان نے ہاتھی کو دیکھتے ہی چھلانگ لگا کر دوڑ لگائی اور اس طرح بچ گیا۔ بیچارے بیل گاڑی میں جتے ہوئے تھے اور ان پر کافی وزنی لکڑی لدی ہوئی تھی۔ بیچارے اپنی موت کو سامنے دیکھ کر وہ بھاگ بھی نہ سکے۔ یہ ہاتھی جو اب انتقام کی آگ میں پاگل اور اندھا ہو رہا تھا، نے گاڑی کو ماچس کی تیلیوں کی طرح توڑ موڑ کر رکھ دیا۔ پھر وہ بیلوں کی طرف مڑا۔ ایک بیل کو اس نے سینگ سے سونڈ میں پکڑ کر ہوا میں اچھالا۔ اگلے دن جب بیل کی لاش ملی تو اس کا سینگ جڑ سے غائب تھا اور ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ کر اور کھال کو پھاڑتی ہوئی زمین میں گھسی ہوئی تھی۔ اب ہاتھی نے دوسرے بیل کا رخ کیا۔ خوش قسمتی سے دوسرا بیل گاڑی کے ٹوٹنے اور دوسرے بیل کے مارے جانے پر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

اس دن سے اس ہاتھی کی ہوا بگڑتی چلی گئی۔ دور دراز کے کئی مسافر اس کے پیروں تلے کچل کر، دانت کی زد میں آ کر، سونڈ میں جکڑ کر زمین پر پٹخے جانے یا پھر درخت سے ٹکرائے جانے سے ہلاک ہوئے۔

اس ہاتھی سے میری پہلی مڈبھیڑ اتفاقاً ہوئی تھی۔ میں "ہگینی کال" نامی جگہ گیا ہوا تھا۔ یہ پانی پتی سے 4 میل دور اور دریائے کاویری کے کنارے واقع ہے۔ میرا ارادہ تھا کہ اختتام ہفتہ پر مہاشیر مچھلی کا شکار کھیلوں گا۔ اگر قسمت نے یاوری کی تو ایک آدھ مگرمچھ بھی ہاتھ لگ جائے گا۔ ان دنوں یہ مشہور ہو چلا تھا کہ یہ ہاتھی دریا عبور کر کے کسی دوسرے غول میں شامل ہو کر ادھر سے چلا گیا ہے۔

قیام کے دوسرے دن میں مچھلی کا شکار کھیل کر بنگلے کی طرف پلٹا۔ مجھے چائے کی طلب ہو رہی تھی۔ اچانک ساتھ ہی جنگل سے مور کی آواز آئی۔ میں چائے کو بھلا کر رات کے کھانے کے لئے مور کے سہانے خیال میں کھو گیا۔

میں نے دو عدد 1 نمبر کے کارتوس جیب میں ڈالے اور بندوق اٹھا کر اس طرف چل پڑا جہاں سے مور کی آواز سنائی دی تھی۔ یہاں آ کر میں ذرا رکا کہ مور کو تلاش کروں۔ میرا اندازہ تھا کہ مور اس وقت دریائے چنار کے خشک حصے میں ہوگا۔ دریائے چنار آگے چل کر دریائے کاویری سے جا ملتا ہے۔

ندی کی نرم ریت پر میرے ربر سول کے جوتے بالکل آواز پیدا نہ کر رہے تھے۔ یہاں مجھے مور کے پر پھڑپھڑانے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ مور دریا کے دوسرے کنارے پر تھا۔ ابھی میں دریا کا خشک پاٹ عبور کر ہی رہا تھا کہ میں نے ایک فلک شگاف چنگھاڑ سنی۔ مجھ سے محض 50گز دور ہاتھی نمودار ہوا۔ اس کا رخ میری طرف تھا۔

ہاتھی کے دوڑنے کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ ناممکن تھا کہ میں اس سے زیادہ تیز دوڑ پاتا۔ دوسرا ندی کے پاٹ کی ریت اتنی نرم اور بھربھری تھی کہ میں بھاگ بھی نہ سکتا۔ میں نے فوراً ہی ٹوٹے ہوئے ایک درخت کے تنے کی اوٹ لی اور باری باری بندوق کی دونوں نالیاں چلا دیں۔ اس وقت ہاتھی مجھ سے کوئی 30 گز دور ہوگا۔

کارتوسوں کے چلنے کا دھماکہ، بارود کا دھواں اور ننھے منے چھروں کی بوچھاڑ کا اتنا اثر ہوا کہ ہاتھی ذرا بھر رکا۔ میرے لئے اتنی مہلت کافی تھی۔ میں سر پر پیر رکھ کر دوڑا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ میں اتنا تیز کیسے دوڑا۔ خالی بندوق میرے ہاتھ میں تھی۔ بنگلے پر پہنچ کر میں نے رائفل اٹھائی اور واپس اسی طرف دوڑ پڑا۔ اب دریائے چنار کے دونوں کنارے خالی پڑے تھے۔ ہاتھی دریا کی دوسری طرف جا کر جنگل میں گم ہو گیا تھا۔ اب چونکہ اندھیرا چھانے والا تھا تو میں نے اس پر زیادہ توجہ نہ دی۔

اگلے دن مجھے واپس بنگلور لوٹنا تھا جس کی وجہ سے میں یہاں مزید قیام نہیں کر سکتا تھا۔ اس طرح اس ہاتھی پر پہلی گولی چلانے کا سنہری موقع میں نے گنوا دیا۔

اس ہاتھی کو سرکاری طور پر پاگل قرار دے کر عام اعلان کرا دیا گیا تھا کہ اس ہاتھی کو مارنے پر 500 روپے یعنی 34 پاؤنڈ کا انعام دیا جائے گا۔ یہ اعلان بذریعہ ڈھنڈورچی اور بذریعہ اشتہار، ہر طرح سے کیا گیا تھا۔

اس علاقے کے ایک مشہور مقامی بندے نے اس ہاتھی کو مارنے اور انعام پانے کی ٹھانی۔ اس کی المناک کہانی کچھ یوں رہی۔

اعشاریہ 500 بور کی دو نالی ایکسپریس رائفل اس کے پاس تھی جو کالے بارود سے چلتی تھی۔ یہ رائفل اس کے اچھے دنوں کی یادگار تھی۔ وہ رائفل کے ہمراہ پانا پتی پہنچا۔ یہاں اسے معلوم ہوا کہ ہاتھی ساتھ والے جنگل میں موجود ہے۔ دریائے چنار کے کنارے جہاں میں کچھ ہی دن قبل ہاتھی کا شکار ہوتے ہوتے بچا، یہاں سے نزدیک ہی تھا۔ اس دریا کے ایک کنارے پر "ووڈا پٹی" کا گیم ریزرو اور دوسرے پر پناگرام بلاک ہے۔

یہ آدمی بیچارہ دو دن تک ہاتھی کی تلاش میں سرگرداں مارا مارا پھرتا رہا۔ تیسری رات اس نے اپنا خیمہ دریا سے دو میل اندر جنگل میں لگایا تاکہ رات بسر کی جا سکے۔ ہاتھی کے متعلق اس کا اور اس کے ہمراہیوں کا اندازہ تھا کہ وہ دریا کی دوسری طرف ہے۔ پھر بھی انہوں نے احتیاطاً خیموں کے گرد آگ جلا لی۔ اس نے اپنے ہمراہیوں کو ہدایت کی کہ وہ ڈھیر ساری لکڑیاں اکٹھی کر لیں تاکہ رات بھر آگ جلتی رہے۔

اس وقت جنگل بالکل پر سکون تھا۔ باری باری تمام افراد نیند اور تھکن سے بے حال ہو کر سوتے چلے گئے۔

علی الصبح ہاتھی اتفاقاً ادھر سے گذرا۔ اس وقت تک آگ دھیمی پڑ چکی تھی۔ جا بجا انگارے ہی دہک رہے تھے۔ عموماً ہاتھی اور دیگر جانور آگ کے نزدیک نہیں جاتے۔ شاید اس ہاتھی نے جب خیمے دیکھے تو اس پر وحشت غالب آ گئی۔ اس نے وہ جگہ تلاش کی جہاں آگ اور انگارے بالکل نہ تھے۔ ایک طویل چنگھاڑ کے ساتھ وہ ایک خیمے پر ٹوٹ پڑا۔

دوسرے خیمے کے افراد کی آنکھ چنگھاڑ سن کر کھل گئی اور وہ لوگ بھاگ نکلے۔ دوسرے خیمے کے مالک کو جاگنے یا اپنی رائفل استعمال کرنے کا موقع تک نہ ملا۔ ہاتھی نے اس خیمے کو اکھاڑ کر اس پر اپنی سونڈ پھیرنی شروع کر دی۔ جونہی سونڈ سے بیچارہ شکاری مس ہوا، ہاتھی نے اسے پکڑ کر سر سے اونچا اٹھایا اور پھر زمین پر پٹخ دیا اور اس پر اپنا پیر رکھ کر اسے کچل دیا۔ چند منٹ بعد شکاری کی جگہ خون اور قیمے کی ٹکیا سی پڑی تھی۔ ہاتھی ایک بار پھر جنگل میں گھس کر غائب ہو گیا۔

اس واقعے کے بعد حکومت نے اس ہاتھی کے مارنے پر انعام دگنا کر کے 1000 روپے کر دیا۔ اس انعام سے مجھے بھی لالچ ہوا کہ میں اس ہاتھی کو شکار کروں۔

پانا پتی پہنچ کر میں نے اس حالیہ حادثے کے مقام کا معائنہ کیا۔ مجھے اس ہاتھی کی درندگی پر حیرت ہوئی کہ وہ کیسے آگ کے دائرے میں گھسا ہوگا۔ وہ جگہ بالکل پاس ہی تھی جہاں ہاتھی نے شکاری کو ہلاک کیا تھا۔ اس وقت تک بیچارے شکاری کی باقیات تک کو کوے ہڑپ کر گئے تھے۔

پانا پتی لوٹ کر میں نے اپنی مدد کے لئے ایک مقامی چرواہے کو تیار کیا۔ یہ چرواہا جنگل سے بخوبی واقف اور اچھا کھوجی تھا۔ یہاں پر جگہ جگہ ہاتھی کے پیروں کے نشانات تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ تازہ نشانات کیسے تلاش کریں جس کا پیچھا کیا جا سکے۔ یہ کام بظاہر ناممکن سا لگتا تھا کیونکہ ہاتھی اب دریا کے دوسرے کنارے جنگل میں یا پھر اس طرف کی پہاڑیوں کی طرف نکل گیا ہوگا جو بمشکل 4 میل دور تھیں۔

"وڈا پٹی" والا کنارا دو میل چوڑی پھولدار گھاس سے ڈھکا ہوا تھا۔ یہ گھاس تقریباً دس فٹ بلند تھی اور نہایت خوبصورت پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ یہ پھول صبح سویرے گرنے والی شبنم سے چمک رہے تھے۔ یہ گھاس اتنی گھنی تھی کہ یہاں گز بھر دور کی چیز بھی نہ دکھائی دیتی۔ ہاتھی کے گزرنے کے نشانات موجود تھے اور ہاتھی کے بوجھ تلے کچلے جانے والے پھولوں کے تنے اب آہستہ آہستہ دوبارہ اٹھ رہے تھے۔

اس گھاس کی پٹی کی چوڑائی 100 سے 200 گز تک تھی۔ یہاں پہاڑیاں بالکل متصل تھیں۔ ان میں گھسنا اور پھولدار گھاس میں گھسنا یکساں خطرناک تھا۔ اس جگہ ہر طرف بانس کے درخت گرے ہوئے تھے جن کے باعث قدم بڑھانا نا ممکن تھا۔

ہم نے اس علاقے میں چار روز تک ہاتھی کی تلاش جاری رکھی۔ ہماری یہ تلاش دریائے کاویری سے لے کر 35 میل دور ایک بند تک جاری رہی۔ ہمیں کہیں بھی ہاتھی کے نشانات نہ ملے۔

پانچویں دن دوپہر کو میں اور میرا ساتھی کھوجی دوبارہ دریائے کاویری کے کنارے تھے۔ اس بار میں نے فیصلہ کیا کہ اس بار ہم دریا سے اوپر کی طرف تلاش کرتے ہیں۔ تین میل کا فاصلہ ہم نے گرے ہوئے درختوں، گھنی گھاس اور پتوں سے بڑی مشکل سے طے کیا۔ یہاں ہمیں ہاتھی کے پیروں کے بالکل تازہ نشانات ملے۔ یہ نشانات آج صبح کے تھے اور ہاتھی دوسرے کنارے سے اس طرف پہنچا تھا۔ یہ نشانات پاگل ہاتھی کے نشانات سے مماثل تھے۔

اب پیچھا کرنا آسان ہو گیا۔ نشانات نہ صرف تازہ اور واضح تھے بلکہ ہاتھی کے گزرنے کے باعث راستہ سا بھی بنا ہوا تھا۔

یہاں ہم لوگ نشانات کا پیچھا کرتے کرتے پہاڑی تک آن پہنچے۔ یہاں ہمیں ہاتھی کی لید کا ڈھیر دکھائی دیا۔ یہ لید تازہ تھی لیکن اس میں حرارت باقی نہیں تھی۔ ہم مزید آگے بڑھے۔ وادی میں پہنچ کر ہم نے لید کا ایک اور ڈھیر دیکھا۔ یہ بھی سرد ہو چکا تھا۔ یعنی ہاتھی اب بھی ہم سے کافی آگے تھا۔

تھوڑا سا آگے چل کر ہم نے دیکھا کہ ہاتھی نے اچانک اپنا رخ بدلا ہے اور وہ اب دریائے کاویری کی طرف جا رہا ہے۔

ہمیں خطرہ ہوا کہ کہیں ہاتھی دریائے کاویری عبور کر کے ہم سے بچ نکلنے میں کامیاب نہ ہو جائے۔ ہر ممکن تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے آگے ہم نے ایک جگہ ہاتھی کی بالکل تازہ اور گرم لید دیکھی۔ پیشاب ابھی بھی زمین میں پوری طرح جذب نہ ہوا تھا۔ آخر کار ہم ہاتھی کے بہت نزدیک پہنچ گئے تھے۔

اب ہم نے باقاعدہ دوڑ شروع کر دی کہ ہم ہاتھی سے قبل یا پھر اس کے ساتھ ہی دریائے کاویری تک پہنچیں۔ یہاں ٹوٹے ہوئے درختوں کی شاخوں سے پانی رس رہا تھا جو ظاہر کرتا تھا کہ ہاتھی ابھی ابھی یہاں سے گزرا ہے۔

آخر کار ایک ڈھلوان عبور کرتے ہی پانی بہنے کی آواز آئی۔ موڑ مڑتے ہی دریائے کاویری ہمارے سامنے تھا۔ خاموشی اور احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے ہم نرم ریت تک پہنچے۔ یہاں ہمارے اندازے کے برعکس ہاتھی نے دریا عبور کرنے کی بجائے دریا کے ساتھ ساتھ ہی چلتے رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔

150 گز مزید دور جا کر ہمیں ایک چھوٹا سا گڑھا دکھائی دیا جس میں پانی جمع تھا اور ہاتھی کے کلیلیں کرنے کی آوازیں بھی آ رہی تھیں۔ ہاتھی نہا رہا تھا۔

خوش قسمتی سے ہوا ہاتھی سے ہماری طرف چل رہی تھی۔ ہم احتیاط سے اور جھک کر بڑھے تو ہاتھی دکھائی دیا۔ اس کا منہ دوسری طرف تھا۔

یہاں اس زاویے سے یہ کہنا بالکل نا ممکن تھا کہ یہ ہاتھی وہی پاگل ہاتھی ہی ہے۔ ہم نے انتظار کی ٹھانی کہ کب ہاتھی اپنا رخ بدلتا ہے۔

5 منٹ مزید نہانے کے بعد اچانک ہاتھی اٹھا اور گڑھے سے باہر نکلا۔ اس وقت تک بھی اس کا رخ مخالف سمت تھا اور ہم اس کے دانت نہ دیکھ سکے تھے۔

اب ہم نے بعجلت فیصلہ کرنا تھا کہ کیا کریں۔ اگر ہاتھی ایک بار دریا کے کنارے پہنچ جاتا تو پھر گم ہو جاتا۔ میں اچانک دو بار چٹکی بجائی۔ یہ آواز ہاتھی کے حساس کانوں تک فوراً پہنچی اور وہ رک گیا۔ پھر وہ مڑا۔ یہ وہی پاگل ہاتھی تھا جس کا صرف ایک بیرونی دانت تھا۔ اس کا یہ دانت دائیاں تھا، بائیں جانب والا دانت غائب تھا۔ اس کی سونڈ وحشیانہ انداز میں اٹھی ہوئی تھی۔ اس نے سیکنڈ سے بھی کم وقت میں ہمیں تلاش کر لیا۔ سونڈ لہراتے ہوئے وہ ہماری جانب بڑھا۔

اسی لمحے میری اعشاریہ 405 بور کی رائفل بول پڑی۔ یہ گولی اس کی سونڈ سے ہوتی ہوئی اس کے حلق سے گذری اور اس کی شہ رگ میں سوراخ کر گئی۔ ہاتھی وہیں رک گیا۔ اس کے حلق سے خون فوارے کی مانند نکل رہا تھا۔ اس نے مڑنے کی کوشش کی۔ اتنے میں میں نے مزید دو گولیاں اس کے ماتھے اور کان کے پیچھے اتار دیں۔ یہ دونوں گولیاں مہلک ثابت ہوئیں اور ہاتھی گر گیا۔

اس کے سارے بدن پر کپکپی طاری تھی اور گڑھے کا پانی سرخ ہو چلا تھا۔ چند منٹ ہی میں اس کی روح نکل گئی۔

 

Last modified on پنج شنبه, 08 خرداد 1393 12:29
Login to post comments