×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

گملا پور کا آدم خور تیندوا

مهر 10, 1392 3366

عام استوائی جنگلات میں تیندوے کا وجود عام ہے جبکہ شیر صرف ہندوستان کے جنگلات تک محدود ہے۔ شیر کی ہندوستان آمد زیادہ پرانی نہیں۔ تاہم

تاریخی اعتبار سے تیندوے اور چیتے کی موجودگی ہندوستان میں بہت پرانی ہے۔

 اپنی چھوٹی جسامت، کم طاقت اور انسان سے فطری خوف کے باعث تیندوے کو شیر سے کم تر درجے کا درندہ سمجھا جاتا ہے۔ شیر کے شکاری بھی اکثر انہی وجوہات کی بنا پر تیندوے کا ذکر قدرے حقارت سے کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر تیندوے کو مجبور کیا جائے تو یہ محض کاٹنے، بھنبھوڑنے اور پنجے مارنے تک ہی محدود رہتا ہے۔ جبکہ شیر کے حملے کی داستان سنانے کے لئے چند ہی لوگ زندہ بچے ہیں۔

 تاہم یہ عمومی رائے اس وقت تک توجہ کے قابل رہتی ہے جب تیندوا آدم خور نہ ہو۔ آدم خور بننے کے بعد تیندوا ایک بالکل ہی مختلف جانور بن جاتا ہے اگرچہ تیندوے کی آدم خوری اتنی عام بات نہیں ہے۔ آدم خور بننے کے بعد تیندوا ایک ایسی ہلاکت خیز مشین بن جاتا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف نسل انسانی کی تباہی و بربادی رہ جاتا ہے۔ اس کی پھیلائی ہوئی تباہ کاری کسی بھی طرح آدم خور شیر سے کم نہیں ہوتی۔ اپنی چھوٹی جسامت کے باعث یہ شیر سے کہیں چھوٹی جگہ میں چھپ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مکار اور نڈر بھی ہوتا ہے اور اپنی حفاظت کے لئے انتہائی محتاط ہوتا ہے۔ اس کی کھال کا رنگ اسے ماحول میں اتنا چھپا دیتا ہے کہ اسے دیکھنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔

 گملا پور کا آدم خور ایک ایسا ہی جانور تھا۔ اس نے کل بیالیس افراد مارے۔ اس کی ذہانت ایک عام انسان کی ذہانت سے بڑھ کر تھی۔ اس کے بارے بہت سی پراسرار کہانیاں مشہور تھیں۔ خیر کچھ بھی ہو، اڑھائی سو مربع میل کے علاقے میں اس کی دہشت طاری تھی۔

 اس سارے علاقے کی تمام بستیوں میں سورج غروب ہونے سے قبل ہی دروازے بند کر دیئے جاتے تھے۔ اکثر جگہوں پر تو مزید حفاظت کے خیال سے دروازے کے ساتھ ڈبے، اضافی لکڑیاں وغیرہ بھی لگا دی جاتی تھیں۔ اکثر گھروں میں لیٹرین نہیں ہوتی۔ وہ لوگ گھر کے پاس موجود کوڑے کرکٹ کے انبار کو ہی لیٹرین کا متبادل سمجھ لیتے ہیں۔

 جوں جوں انسانی شکار مشکل ہوتا گیا، اس تیندوے کی مکاری اور چالاکی بڑھتی گئی۔ دو مختلف واقعات میں اس نے دیوار توڑ کر اپنے شکار کو اٹھا لیا جن کی چیخیں پورے گاؤں نے سنیں لیکن کسی کی مجال نہ تھی کہ مدد کو آتا۔ ایک بار جب وہ جھونپڑے کی دیوار کو نہ توڑ سکا تو وہ گھاس پھونس سے بنی چھت توڑ کر اندر گھس گیا۔ جب وہ اپنا شکار لے کر واپس چھت سے باہر نہ نکل سکا تو اس نے کمرے میں موجود بقیہ چار افراد کو بھی ہلاک کر دیا اور خود چھت کے سوراخ سے نکل کر فرار ہو گیا۔ یہ افراد میاں بیوی اور دو بچے تھے۔

 دن کو ہی دیہاتی لوگ کچھ متحرک ہوتے تھے۔ لیکن دن میں بھی وہ جماعتوں اور مسلح صورت میں گھومتے تھے۔ تاہم ابھی تک تیندوے نے دن کے وقت کوئی بھی واردات نہیں کی تھی۔ صبح منہ اندھیرے اسے کئی مختلف مواقع پر دیکھا گیا تھا۔

 اس صورتحال میں میں گملا پور پہنچا۔ مجھے اس تیندوے کے بارے میرے دوست جیپسن نے بتایا تھا جو ضلعی مجسٹریٹ تھا۔ ابتدائی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ دیہاتی تیندوے سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ وہ کچھ بھی نہیں بتائیں گے۔ یہ لوگ قدیم مشرقی توہم پرستی کا شکار تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ تیندوا ایک مجسم شیطان ہے اور وہ اس کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ اگر وہ اپنے گھروں میں رک کر موت کا انتظار نہیں کر سکتے تو اس کا واحد حل علاقہ چھوڑ دینا ہے۔

 جلد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ ان لوگوں سے مدد کی توقع رکھنا فضول ہے۔ کئی لوگوں نے تو صاف کہہ دیا کہ اگر انہوں نے ایک لفظ بھی بتایا تو یہ شیطان سب سے پہلے انہی کو آن دبوچے گا۔ تاہم یہ افراد سرگوشیوں میں بات کرنے پر آمادہ تھے۔

 اس رات میں نے گاؤں کے درمیان میں کرسی ڈالی اور اس پر بیٹھ گیا۔ میرے عقب میں ایک بارہ فٹ بلند مکان تھا۔ احتیاطاً میں نے اس مکان کی چھت اور منڈیر پر کانٹوں اور گوکھروؤں کی ایک موٹی تہہ بچھوا دی تاکہ تیندوا چھت پر سے مجھ پر حملہ نہ کر سکے۔ راتیں تاریک تھیں اور چاند کا کوئی امکان نہ تھا۔ تاہم مجھے یقین تھا کہ ستاروں کی روشنی اتنی تو ضرور ہوتی کہ وہ مجھے تیندوے کی موجودگی سے آگاہ کر دیتی۔

 چھ بجے شام سے ہی تمام لوگوں نے گھروں میں گھس کر دروازے بند کر لئے اور میں کرسی پر اکیلا بیٹھا تھا۔ چائے کا تھرماس، کمبل اور کچھ بسکٹ میرے پاس تھے۔ بھری رائفل میری گود میں اور ٹارچ اور پائپ میرے ہاتھوں میں تھے۔ اضافی تمباکو اور ماچس بھی ہمراہ تھیں۔ دن نکلنے تک مجھے انہی کے ساتھ گزارا کرنا تھا۔

 سورج غروب ہوتے ہی میں کافی پریشان ہوا کیونکہ ابھی ستاروں کو نکلنے میں کافی دیر تھی۔ اس کے علاوہ گاؤں کے مغربی جانب موجود پہاڑیاں قبل از وقت اندھیرے کا سبب تھیں۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو ابھی سے اتنا اندھیرا نہ چھاتا۔

 میں رائفل ہاتھ میں تیار لئے اور مسلسل تاریکی میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ شاید تیندوا دکھائی دے جائے۔ مجھے اندازہ تھا کہ جنگلی جانور اور مویشی مجھے تیندوے کی موجودگی سے آگاہ کر دیں گے۔ پورے گاؤں پر موت کی سی خاموشی طاری تھی۔ صاف لگ رہا تھا کہ یہ سب لوگ میری آخری چیخیں سننے کے لئے بے تاب ہیں۔

 وقت گذرتا رہا اور یکے بعد دیگرے ستارے نمودار ہوتے رہے۔ ساڑھے سات بجے تک اتنی روشنی ہو چلی تھی کہ میں گلی کے دونوں سروں تک صاف دیکھ سکتا تھا۔ میری ہمت بڑھ گئی۔ آدم خور کو متوجہ کرنے کے لئے میں نے وقفے وقفے سے کھانسنے کی کوشش کی۔ پھر کچھ دیر بعد اپنے آپ سے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ مجھے امید تھی کہ اگر آدم خور نزدیک ہوا تو میری آواز سن کر لازماً ادھر کا رخ کرے گا۔

 مجھے علم نہیں کہ آپ میں سے کسی نے خود کلامی اور بھی با آواز بلند کرنے کی کوشش کی ہو؟ چاہے وہ کسی آدم خور کو متوجہ کرنے کے لئے ہو یا پھر کسی اور وجہ سے۔ مجھے اندازہ تھا کہ میری خود کلامی سے دیہاتی لوگ کیا کچھ نہیں سوچ رہے ہوں گے۔ لیکن یقین جانیں کہ خود کلامی بلند آواز سے کرنا بہت مشکل کام ہے۔ خصوصاً جب آپ آدم خور کا بھی انتظار کر رہے ہوں۔

 نو بجے رات تک میں نے سوچا کہ کیوں نہ گاؤں کا ایک چکر لگا لیا جائے۔ کسی قدر ہچکچاہٹ کے ساتھ میں نے خود کلامی جاری رکھتے ہوئے اپنی جگہ چھوڑی اور گلی کے دونوں سروں تک باری باری چکر لگایا۔ وقتاً فوقتاً اپنے عقب میں بھی دیکھ لیتا۔ جلد ہی مجھے اپنی حماقت کا بخوبی اندازہ ہو گیا۔ آدم خور کسی بھی مکان کی چھت، کوڑے کے ڈھیر یا پھر کسی بھی موڑ پر چھپا میرا انتظار کر رہا ہوگا۔ فوراً ہی میں نے اپنی چہل قدمی روک دی اور واپسی کا رخ کیا۔ جب اپنی کرسی پر بیٹھنے لگا تو اپنی بحفاظت واپسی پر خدا کا شکر ادا کیا۔

 وقت بہت آہستگی سے گذرتا رہا۔ گھنٹے صدیوں کی طرح بیتتے رہے۔ اس وقت تک موسم کافی سرد ہو چلا تھا اور پہاڑیوں کی طرف سے کافی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ میں نے کمبل اوڑھا اور چند بسکٹ کھا کر ڈھیر سارا تمباکو بھی استعمال پی ڈالا۔ دو بجے تک مجھے نیند آنے لگی۔ میں پھر چائے اور بسکٹ سے فارغ ہو کر یخ بستہ پانی سے اپنے منہ پر ہلکے ہلکے چھینٹے مارے اور تھوڑی دیر تک اٹھک بیٹھک کی۔ اب میں پھر سے ہوشیار ہو گیا۔ ساڑھے تین بجے اچانک بادل گھر آئے اور اتنی تاریکی چھا گئی کہ گز بھر دور کی چیز بھی دکھائی نہ دیتی۔ اب میں بالکل تیندوے کے رحم و کرم پر تھا۔ میں نے ہر نصف منٹ کے بعد ٹارچ جلا کر ادھر ادھر ڈالنا شروع کر دی۔ مجھے اندازہ تھا کہ اس طرح میں تیندوے خبردار ہو سکتا ہے۔ مجھے اپنی جان بچانا زیادہ اہم لگا۔ یہ بھی امکان تھا کہ روشنی دیکھ کر تیندوا بھاگنے کی بجائے اسی طرف ہی آتا اور اس طرح مجھے اس پر فائر کرنے کا موقع مل جاتا۔ صبح تک یہی سلسلہ جاری رہا۔

 چند گھنٹے میں نے اب سو کر گذارے اور پھر دوپہر کو دیہاتیوں سے سوال جواب شروع کئے۔ اس بار انہوں نے نسبتاً دوستانہ انداز میں جوابات دیئے۔ شاید اس کی وجہ میرا کل رات زندہ بچ جانا رہی ہو یا پھر میری خود کلامی کو وہ روحوں اور جن بھوتوں سے گفتگو سمجھ رہے ہوں۔ اب انہوں نے آدم خور کے بارے مزید معلومات مہیا کیں۔ آدم خور ایک بڑے علاقے میں سرگرم تھا اور وہ کسی جگہ شکار کر کے گم ہو جاتا اور پھر کہیں دور جا کر دوسرا شکار کرتا۔ اس نے کبھی بھی دو شکار ایک ہی جگہ مسلسل نہیں کیئے تھے۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ گملا پور کو ہی مستقل ٹھکانہ بنائے رکھنا بہتر ہے کہ یہاں تین ہفتوں سے کوئی واردات نہیں ہوئی تھی۔ اس طرح مجھے ادھر ادھر بھاگنا بھی نہ پڑتا۔ دوسرا یہ بھی اہم تھا کہ چیتا دن میں کبھی بھی نہیں دکھائی دیتا اس لئے جگہ جگہ مارے پھرنے سے ایک ہی جگہ ٹک کر اس کا انتظار کرتا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ آدم خور کے اگلے دائیں پنجے میں کوئی نقص ہے جس کے باعث وہ زمین پر پاؤں پوری طرح نہیں رکھ سکتا۔ اس اطلاع کے باعث میں نے آگے چل کر آدم خور کے پنجوں کے نشانات بھی کامیابی سے پہچانے۔

 دوپہر کا کھانا کھا کر میں نے رات کے لئے نیا منصوبہ بنایا۔ اس سے یقیناً مجھے کافی آرام ملتا اور کم خطرناک بھی ہوتی۔ اس کے مطابق ہم انسانی پتلا بنا کر اسے ایک کمرے میں رکھ دیتے اور کمرے کا دروازہ آدھا کھلا چھوڑ دیا جاتا۔ اسی کمرے میں دوسرے سرے پر لکڑی کے ڈبوں کے پیچھے میں چھپ جاتا۔ اگر آدم خور اندر آتا تو میں اسے آسانی سے نشانہ بنا سکتا تھا۔

 میں نے یہ منصوبہ مقامی لوگوں کو بتایا تو یہ دیکھ کر میری حیرانی کی کوئی حد نہ رہی کہ وہ نہ صرف اس سے متفق ہوئے بلکہ کافی پرجوش بھی ہو گئے۔ جس مکان میں آدم خور نے چار افراد کو ہلاک کیا تھا، وہ میرے لئے مختص کر دیا گیا۔ انسانی پتلا بھی بنا دیا گیا جو تنکوں، ساڑھی، تکیئے اور صدری کی مدد سے بنایا گیا تھا۔ اسے دروازے کے سامنے نیم دراز حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ اس کے پیچھے میں لکڑیوں کے کریٹوں کے پیچھے چھپ گیا۔ کمرہ دس فٹ لمبا اور بارہ فٹ چوڑا تھا۔ اتنے چھوٹے سے کمرے میں میری ناکامی کے امکانات بہت کم تھے۔ اسی طرح اگر آدم خور چھت سے داخل ہونے کی کوشش کرتا یا دیوار سے راستہ بناتا تو بھی میرے پاس اس سے نمٹنے کے لئے کافی وقت ہوتا۔ اس ڈرامے کو مزید حقیقت کا رنگ دینے کے لئے میں نے دونوں اطراف کے جھونپڑیوں کے مکینوں سے کہا کہ وہ رات بھر جتنی دیر ممکن ہو سکے مدھم آواز سے باتیں کرتے رہیں۔

 اس تجویز پر یہ اعتراض ہوا کہ اس طرح آدم خور بازو والے کسی جھونپڑے میں داخل ہو تو کیا ہوگا۔ میں نے اس طرح کی صورتحال میں فوراً ان کی مدد کو پہنچنے کا وعدہ کیا۔ اس صورت میں میں نے انہیں عام انداز میں شور مچانے کو کہا تاکہ آدم خور خبردار نہ ہو۔ عام شور آدم خور نے بہت بار سنا ہوا تھا اور وہ اسے بالکل بھی اہمیت نہ دیتا تھا۔ اس طرح دونوں اطراف کے مکین بھی جاگتے رہتے۔

 چھ بجے تک ہر چیز اپنی جگہ پر تیار تھی۔ سارے گاؤں کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں دروازے مقفل کر کے پناہ لے چکے تھے۔ میرے والے جھونپڑے کا دروازہ ادھ کھلا تھا۔ سورج غروب ہوتے ہی تاریکی چھائی اور پھر کچھ دیر بعد تاروں کی روشنی میں وہ منظر صاف دکھائی دینے لگا جو دروازے کے کھلے حصے کے سامنے تھا۔ میرے بالکل سامنے ہی پتلا موجود تھا۔ وقتاً فوقتاً مجھے ساتھ والے گھروں سے لوگوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

 گھنٹوں پر گھنٹے گزرتے رہے۔ اچانک چھت سے کھڑکھڑاہٹ کی آواز سنائی دی۔ میں فوراً ہی چوکنا ہو گیا۔ لیکن یہ آواز کسی چوہے کی تھی۔ چوہا اچانک چھت سے فرش پر گرا اور پھر بھاگ کر میری طرف آیا اور میرے اوپر سے ہوتا ہوا دوبارہ چھت میں غائب ہو گیا۔ اب ہمسایوں کی آواز بند ہو چکی تھی جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ لوگ اس بات سے قطع نظر کہ آدم خور ان کے قریب بھی موجود ہو سکتا ہے، سو چکے ہیں۔

 ساری رات میں جاگتا رہا۔ کبھی کبھار پائپ کا اکا دکا کش لگا لیتا یا پھر چائے کی چسکی سے گزارا کرتا۔ ساری رات چوہوں کی بھاگ دوڑ جاری رہی۔ صبح کی روشنی ہوتے ہی مٰں بے سدھ سو گیا۔

 اگلی صبح بہتر نتائج کے لئے اور یہ سوچ کر کہ شاید آدم خور اس بار ادھر آئے، میں نے کل والی حرکت پھر دہرائی۔ اس بار رات کافی چونکا دینے والی نکلی۔ مجھے آج تک اس کی یاد نہیں بھولی۔

 چھ بجے تک میں پھر اپنی جگہ پر تھا۔ آدھی رات تک سابقہ رات والی روٹین چلتی رہی۔ وہی ہمسایوں کی آوازیں، وہی چوہوں کی بھاگ دوڑ وغیرہ۔ دس بجے کے فوراً بعد تیز ہوا چل پڑی اور رفتہ رفتہ طوفان میں بدل گئی۔ آسمان پر طوفانی بادل چھا گئے اور کمرے کے دروازے سے اب مجھے کچھ بھی دکھائی نہ دیتا تھا۔ پھر جلد ہی بارش شروع ہو گئی۔ مجھے اندازہ تھا کہ تیندوے عموماً پانی کو پسند نہیں کرتے۔ اس لئے یہ تیندوا بھی کہیں دبکا ہوا بارش تھمنے کا انتظار کر رہا ہوگا۔ میں نے جھپکی لینے کی ٹھانی۔

 بارش کے باعث مجھے ہمسایہ گھروں کی آوازیں سنائی دینا بند ہو گئیں۔ انسانی پتلے کو گھورتے گھورتے مجھے نیند آ گئی۔

 میں کتنی دیر سویا رہا، کہنا مشکل ہے۔ لیکن بہرحال کچھ نہ کچھ تو وقت گذرا ہی ہوگا۔ اچانک ہی میری آنکھ کھل گئی اور فوراً ہی اندازہ ہو گیا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ ایک عام بندہ جب نیند سے بیدار ہو تو اسے سنبھلنے میں کچھ نہ کچھ وقت لگتا ہے۔ میری جنگل کی تربیت کچھ اس طرح کی ہوئی تھی کہ بیدار ہوتے ہی مجھے صورتحال کا فوراً ادراک ہو جاتا ہے۔ بارش تھم چکی تھی اور کسی حد تک بادل بھی چھٹ چکے تھے۔ دروازے سے آنے والی روشنی اب کچھ دکھائی دینے لگی تھی۔ پتلا ویسے ہی نیم دراز حالت میں تھا۔ اچانک مجھے ایسا لگا کہ کچھ عجیب سی بات ہوئی ہے۔ پتلے نے حرکت کی اور اچانک نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ فوراً ہی چیتے کی غراہٹ سنائی دی۔ مجھے اب جا کر اندازہ ہوا کہ تیندوا نہ صرف کمرے میں داخل ہو چکا ہے بلکہ اسے پتلے کے جعلی ہونے کا بھی علم ہو چکا ہے۔ کمرہ اتنا تاریک تھا کہ تیندوے کا سایہ سا بھی تک نہ دکھائی دے رہا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ زمین پر اتنا جھکا ہوا ہو کہ دکھائی نے دیا ہو۔

 ٹارچ روشن کرتے ہی میں نے جست لگائی اور اپنی کمین گاہ سے نکلا۔ کمرہ خالی تھا۔ میں نے فوراً باہر نکل کر دونوں اطراف میں روشنی ڈالی لیکن موڑ تک گلی کے دونوں سرے خالی تھے۔ میں نے سوچا کہ تیندوا ابھی کہیں نزدیک ہی چھپا ہوا ہوگا اس لئے میں نے گلی کے ایک سرے تک چلنا شروع کر دیا۔ ہر موڑ، گھر یا کوڑے کے ڈھیر کے پاس سے بڑی احتیاط سے گذرتا۔ اگرچہ ٹارچ کی روشنی میں میں نے ہر ممکن جگہ چھان ماری لیکن وہ گم ہو چکا تھا۔ اب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ درندہ کتنا مکار ہے۔ جونہی میری چھٹی حس نے مجھے نیند سے بیدار کیا، ویسے ہی تیندوے کی چھٹی حس نے اسے میری موجودگی کے بارے بھی نہ صرف خبردار کر دیا بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ مقابلہ کسی عام انسان سے نہیں بلکہ ایسے شخص سے ہے جو اس کے خاتمے پر کمر بستہ ہے۔ شاید وہ میری ٹارچ کی روشنی نے اسے فرار ہونے پر مجبور کیا تھا اور وہ خاموشی اور آہستگی سے فرار ہو گیا۔ اس رات میں نے گملا پور کی تمام گلیاں چھان ماریں لیکن آدم خور جیسے آیا تھا ویسے ہی غائب ہو گیا۔

 میں دل ہی دل میں اپنی غفلت پر سخت شرمندہ تھا کہ کیوں سو گیا اور ساتھ ہی ساتھ میں اس درندے کے خلاف اپنے آپ کو مزید تیار کر رہا تھا۔

 اگلی صبح میں نے تیندوے کے پنجوں کے نشانات دیکھے جہاں سے وہ گاؤں میں داخل ہوا تھا۔ نرم کیچڑ میں یہ نشانات بالکل واضح تھے۔ پہلی بار ان کا معائنہ کرتے ہوئے میں نے اس کے اگلے دائیں پنجے کے نشانات کو بغور دیکھا۔ تیندوا اسے اس طرح رکھتا تھا کہ وہ محض ہلکا سا ہی زمین سے لگتا تھا اور اس نشان کو بطور پنجہ نہیں پہچانا جا سکتا تھا۔ یہ بات صاف ہو گئی کہ ماضی میں کسی حادثے کے باعث تیندوے کو آدم خوری پر مائل ہونا پڑا۔ آگے چل کر جب میں نے آدم خور کے پنجے کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ جانور ان دنوں پھیلی ہوئی ایک وبائی بیماری سے ہلاک شدگان کی لاشوں کو کھانے کا عادی تھا۔ پنجہ زخمی ہونے کے بعد اسے موقع مل گیا اور وہ آدم خوری کرنے لگا۔

 مجھے اب تک یہ بھی اندازہ ہو چکا تھا کہ اس درندے میں کم و بیش ایک عام انسان جتنی سوجھ بوجھ کی صلاحیت پائی جاتی ہے اور وہ شاید ہی سابقہ رات کے تجربے کے بعد گملا پور کا رخ کرے۔

 مجھے اب اپنا ٹھکانہ تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس بار میں نے اچھی طرح سوچ سمجھ کر دیوار بٹہ نامی گاؤں کا رخ کیا۔ یہ یہاں سے اٹھارہ میل دور اور پہاڑیوں کی دوسری طرف تھا۔ راستے میں پانی کی ایک نالی تھی جس کے کنارے ایک بڑے نر شیر کے پنجوں کے نشانات ظاہر تھے۔ یہ نشانات اتنے تازہ تھے کہ ان میں سے پانی ابھی بھرنا شروع ہوا تھا۔ خیر ابھی تو مجھے تیندوے کا پیچھا کرنا تھا۔ میں دیوار بٹہ شام پانچ بجے پہنچا۔

 یہاں کے باشندے اپنے گھروں کے دروازے مقفل کرنے ہی والے تھے کہ میں پہنچا۔ بمشکل ہی ان سے میں مختصر بات کر سکا۔ ان کا خیال تھا کہ آدم خور کا اس طرف چکر اب کسی بھی وقت متوقع تھا کہ وہ یہاں کافی دنوں سے نہیں آیا تھا۔ اس کا پچھلا چکر مہینے بھر پہلے لگا تھا۔ آدم خور آج تک کسی جگہ ایک ماہ تک گم نہیں رہا تھا۔

 میں نے فوراً ہی گاؤں کے سب سے بلند مکان کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائی اور اس سے قبل چھت پر کافی سارے کانٹے بچھا دیئے تاکہ عقب اور اوپر سے حملے سے بچ سکوں۔ یہ کانٹے دیہاتیوں نے قریب ہی کے کھیت سے اٹھائے تھے اور میں رائفل تانے ان کی نگرانی کرتا رہا۔

 گملا پاور کی نسبت یہ بہت چھوٹا سا گاؤں تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ جنگلی پرندوں اور جانوروں نے مجھے تیندوے کی آمد سے قبل بخوبی آگاہ کر دینا ہے۔ میرا کام صرف ان آوازوں کو پوری توجہ سے سننا ہے۔

 وقت بہت تیزی سے گزرتا رہا اور جلد ہی ہلال افق پر دکھائی دینے لگا۔ جنگلی مرغ کی آواز کبھی کبھار سنائی دے جاتی۔ مور بھی بولتے رہے۔ گاؤں کی یہ گلی غلاظت اور گندگی سے بھری ہوئی تھی۔ تاروں کی مدھم روشنی میں بمشکل ہی گلی دکھائی دے رہی تھی۔ ساڑھے آٹھ بجے ایک سانبھر بولا اور پھر بولتا ہی چلا گیا۔ لازماً اس نے کسی درندے کو دیکھا ہوگا۔ اب وہ درندہ تیندوا ہے یا پھر شیر، اس کے بارے تو وقت ہی بتاتا۔

 اب سانبھر چپ ہو گیا۔ پندرہ منٹ بعد مجھے شیر کی ہلکی سی غراہٹ سنائی دی اور پھر خاموشی چھا گئی۔ یہ شکار کی تلاش میں نکلے ہوئے شیر کی عام بولی تھی۔ اس میں جنگل کے جانوروں کے تنبیہ پوشیدہ تھی کہ جنگل کا بادشاہ شکار پر نکلا ہوا ہے۔

 وقت گزرتا رہا۔ اچانک میں نے گلی کے سرے پر حرکت محسوس کی۔ بھری ہوئی رائفل کو اٹھا کر میں نے نشانہ لیا اور قریب آنے کا انتظار کرتا رہا۔ کیا یہ تیندوا ہی ہے؟ کیا آدم خور تیندوا اس طرح کھلے عام گلی میں بیچوں بیچ عام رفتار سے چلتا ہوا میرے پاس آتا؟ یہ جانور کافی چھوٹا اور کمزور دکھائی دیتا تھا۔ بیس گز کے فاصلے سے میں نے ٹارچ روشن کی جو رائفل کی نال پر فٹ تھی۔

 طاقتور ٹارچ کی روشنی نے پوری گلی کو روشن کر دیا۔ یہ جانور ایک عام کتا نکلا جو سردی اور بھوک سے سکڑا ہوا اور ٹھٹھرتا ہوا میری طرف آ رہا تھا۔ روشنی ہوتے ہی اس نے رک کر اس کی طرف دیکھا اور اپنی دم ہلانے لگا۔

 اس تنہائی میں کتے کی آمد کو میں نے تہہ دل سے خوش آمدید کہا۔ اسے بلانے کے لئے میں نے دو بار چٹکی بجائی۔ دم ہلاتا ہوا وہ میرے پاس پہنچا۔ میں نے اسے چند بسکٹ دیئے جو اس نے فوراً کھا لئے اور ممنونیت سے میری طرف دیکھنے لگا۔ شاید وہ کئی دن کا بھوکا تھا۔ پھر وہ میرے قدموں میں دبک کر سو گیا۔

 وقت گذرتا رہا اور نصف شب آ پہنچی۔ ایک بڑے الو کی آواز جنگل کے سرے سے آئی اور ماحول خاصا پراسرار ہو گیا۔

 ایک بجا، دو بجے اور پھر تین۔ میں بار بار ادھر ادھر گھورتا رہا۔ خوش قسمتی سے آسمان بالکل صاف تھا اور تاروں کی مدھم روشنی بھی کافی دور تک منظر دکھا رہی تھی۔

 اچانک ایک نامعلوم پرندے کی آواز آئی۔ صاف لگ رہا تھا کہ اس نے تیندوے کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ کتا بھی میرے قدموں میں بیدار ہو کر اچانک ہوشیار ہو گیا۔ منٹ پر منٹ گذرتے رہے اور اچانک کتا اب پوری طرح کھڑا ہو گیا۔ اس کے کان کھڑے تھے اور پورے بدن پر کپکپی طاری تھی۔ اس کے حلق سے ہلکی سے غراہٹ کی آواز نکلی۔ میں نے اس کی نظروں کا پیچھا کیا۔ وہ گاؤں کے درمیان سے آنے والی طرف گلی کے موڑ کو دیکھ رہا تھا۔

 میں نے اب اپنی پوری توجہ ادھر مرکوز کر دی۔ اچانک میں نے گلی کے سرے پر ایک سائے کو حرکت کرتے دیکھا جو اپنی جگہ سے ہٹ کر میری جانب والے کنارے پر آ گیا تھا۔ چند لمحے بعد پھر حرکت ہوئی، اس بار نزدیک تر۔

 میں نے ٹارچ کے بٹن پر انگوٹھا رکھ دیا۔ چند منٹ مزید گزرے اور میں نے اسے کو ایک مکان کی چھت کی طرف جست لگاتے دیکھا۔ اس بار فاصلہ کوئی بیس گز رہا ہوگا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ تیندوے نے براہ راست سامنے سے آنے کی بجائے میرے اوپر چھت سے حملہ کرنے کی ٹھانی ہے۔ گلی کے تمام مکانات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

 میں فوراً کھڑا ہو کر دیوار کے ساتھ لگ گیا۔ یہاں منڈیر تقریباً ڈیڑھ فٹ آگے نکلی ہوئی تھی۔ میری انگلی رائفل کے ٹریگر پر تھی اور انگوٹھا ٹارچ پر۔

 چند سیکنڈ بعد مجھے اندازہ ہوا کہ تیندوا چھت پر موجود کانٹوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ناکام ہو کر وہ بالکل خاموش ہو گیا۔ مجھے اب اس کے نئے مقام کا اندازہ نہ تھا۔

 مزید پندرہ منٹ شدید پریشانی میں گزرے اور میں بار بار ہر طرف دیکھتا رہا کہ شاید تیندوا کسی اور جانب سے حملہ نہ کر دے۔ کتا ایک بار پھر میرے قدموں سے نکل کر گلی کے درمیان کی طرف بھاگا اور پھر منہ اٹھا کر میرے پیچھے والے مکان کے کنارے کی طرف بھونکنے لگا۔

 اس کی اس حرکت نے میری جان بچا لی۔ پانچ سیکنڈ بعد ہی چیتا اس کنارے سے نکل کر میری طرف جھپٹا۔ ٹارچ روشن کرتے ہوئے میں نے رائفل بمشکل کولہے تک اٹھائی اور فائر کر دیا۔ اعشاریہ 405 بور کی گولی تیندوے کو لگی لیکن چونکہ وہ جست لگا چکا تھا، میں نے فوراً ہی ایک جانب چھلانگ لگائی۔ تیندوا مکان سے ٹکرا کر گر گیا۔ اس دوران میں نے مزید دو گولیاں اس کے جسم میں اتار دیں۔

 تیندوا اپنی جگہ پر ہی پڑا رہا اور اس کے جسم پر لرزہ طاری تھا۔ اس کے جبڑے کھلتے بند ہوتے رہے۔ میرے نئے دوست یعنی اس کتے نے فوراً بھاگ کر تیندوے کے گلے پر اپنے دانت جما دیئے۔

 اس طرح وہ مکار تیندوا اپنے انجام کو پہنچا جس کی مکاری کو شاید ہی کوئی دوسرا درندہ پہنچ سکے۔

 اگلی صبح کھال اتارتے ہوئے اس کے اگلے دائیں پنجے سے گولی کی بجائے سیہہ کے دو کانٹے نکلے۔ دو انچ بھر اندر دھنسے ہوئے تھے اور پھر ٹوٹ گئے تھے۔ یہ کافی پرانے لگتے تھے کہ ان کے گرد ہڈی پھر سے اپنی جگہ پیدا ہو گئی تھی۔ اس سے آدم خور اپنے پنجے کو زمین پر نہ لگا سکتا تھا اور چلتے وقت لنگڑاتا تھا۔

 اس کتے کو میں گھر لایا اور نہلا دھلا کر کھانا دیا اور اس کا نام "نیپر" رکھا۔ کئی سال سے یہ میرا قابل اعتماد رفیق ہے۔ اس نے چند بسکٹوں کے بدلے میری جان بچائی تھی۔

Last modified on پنج شنبه, 08 خرداد 1393 12:27
Login to post comments