×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

جولا گری کی آدم خور

مهر 10, 1392 2118

وہ افراد جو استوائی اور جنگلی مقامات سے اچھی طرح واقف ہیں، بخوبی جانتے ہیں کہ پہاڑی پر چمکنے والی چاندنی، وادی میں پھیلا ہوا چاند کا نور،

درختوں اور گھاس سے ملنے والا سکون، گھنے درختوں کے سائے میں چھپے درندوں، چرندوں اور خزندوں کی موجودگی، سب کے سب ایک دوسرے سے لاتعلق مگر خوراک کی تلاش میں سر گرداں ہوتے ہیں۔

جولاگری کے جنگلات میں ہر چیز پرسکون ہوتی ہے لیکن خطرہ اور موت ہر قدم پر انتظار کرتی ہے۔ انہی جنگلوں میں چھپے غیر قانونی شکاریوں نے سوچا کہ اپنی مزل لوڈنگ بندوقوں سے کچھ گوشت فراہم کریں۔ انہوں نے پانی کے گڑھے کے کنارے بہت ہی خفیہ ٹھکانہ بنایا ہوا تھا۔ وہ سورج غروب ہوتے ہی آ کر چھپ گئے کہ جلد یا بدیر کوئی نہ کوئی ہرن اپنی پیاس بجھانے آئے گا۔

 گھنٹوں پر گھنٹے گزرتے گئے۔ چودھویں کا چاند پورے جوبن پر تھا اور پورا جنگل دن کی طرح روشن تھا۔ اچانک بائیں جانب کی جھاڑیوں سے پتے مسلنے اور دبی دبی سی غراہٹوں کی آوازیں آئیں۔ تینوں نے سوچا کہ یہ کیا ہو سکتا ہے۔ جنگلی سور؟ بلاشبہ۔ لذیذ گوشت اور وہ بھی اتنی مقدار میں کہ نہ صرف خود پیٹ بھر کر کھاتے بلکہ بیچ بھی سکتے تھے۔ شکاری منتظر رہے لیکن ان کے مطلوبہ جانور ظاہر نہ ہوئے۔ بے صبر ہوتے ایک شکاری "منیاپا" نے سوچا کہ اندازے سے ہی سہی، فائر کر دیا جائے۔ اس نے اپنی جگہ سے اٹھ کر جائزہ لیا اور جونہی اسے ایک سایہ سا دکھائی دیا، اس نے گولی چلا دی۔ گولی چلتے ہی دھاڑ سنائی دی اور اس کے بعد جھاڑیوں کی سرسراہٹ، کھانسی کی آوازیں اور اچانک خاموشی۔

 سور تو نہیں، یہ تو شیر تھا۔ دبکے ہوئے تینوں شکاریوں نے سر پر پیر رکھے اور گاؤں پہنچ کر ہی دم لیا اور رات بھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہے۔

 صبح ہوتے ہی پتہ چلا کہ ایک جوان شیر اس جگہ مرا پڑا تھا۔ بندوق کا فائر سیدھا اس کے دل کے پار ہوا تھا۔ اس دن "منیاپا" اور دیگر دو شکاری پورے گاؤں کے ہیرو بن گئے۔

 اگلی رات البتہ کچھ عجیب انداز میں ہوئی۔ سورج ڈوبتے ہی شیرنی کی اپنے ساتھی کی تلاش میں اور اسے بلانے کی آوازیں آئیں۔ یہ غصیلی آوازیں اس کے اس ساتھی کے لئے تھیں جو گذشتہ رات مارا گیا تھا۔ اب شیرنی اس کی غیر موجودگی پر ناراض تھی اور صاف لگ رہا تھا کہ شیرنی اپنے ساتھی کی گمشدگی کا سرا انسانی مداخلت سے ملا رہی ہے۔

 پورا ایک ہفتہ وہ دن بھر جنگل سے اور رات ہوتے ہی گاؤں کے سرے پر آ کر پوری قوت سے اپنے ساتھی کو بلانے کے لئے دھاڑتی رہی۔

 جیک لیونارڈ جو کہ ایک ابھرتا ہوا نوجوان شکاری تھا، کو مارنے کے لئے فوراً اس گاؤں بلایا گیا۔ وہ نر شیر کے مارے جانے کے آٹھویں دن گاؤں پہنچا۔ اس نے سب سے پہلے تو پورے واقعے کی تفصیلات جانیں۔ اس نے اندازہ لگایا کہ شیرنی کسی ایک جگہ نہیں رکتی۔ اس نے دیکھا کہ شیرنی ہر روز فارسٹ بنگلے کی طرف جانے والی سڑک سے گذرتی ہے۔ ٹھیک پانچ بجے وہ چیونٹیوں کی بمیٹھی کے پیچھے چھپ کر بے حس و حرکت کھڑا ہو گیا۔

 وقت گذرتا رہا اور سوا چھ بجے اندھیرا چھانے لگا۔ لیونارڈ نے اچانک ایک طرف سے پتھروں کے لڑھکنے اور پتوں کے کچلے جانے کی آواز سنی مگر کچھ دکھائی نہ دیا۔ وقت گزرتا رہا اور اچانک ہی اس نے دائیں طرف شیرنی کی جھلک دیکھی۔ اس نے تیزی سی اپنی جگہ بدلی اور اپنی پناہ گاہ سے باہر نکلا تاکہ شیرنی کو اچھی طرح دیکھ سکے۔ اس نے شیرنی کے سینے کا نشانہ لیا تاکہ وار مہلک ثابت ہو۔

 لیونارڈ کی گولی شیرنی کے دائیں شانے میں کافی گہرائی تک گئی۔ اس پر شیرنی نے دھاڑ لگائی اور جنگل کی طرف جست لگا کر یہ جا وہ جا۔ مایوس لیونارڈ نے صبح کا انتظار کیا تاکہ شیرنی کے پیچھے جا سکے۔ ہر طرف خون ہی خون تھا اور وہ حصہ اتنا دشوار اور پتھریلا تھا کہ وہ شیرنی کا سراغ کھو بیٹھا۔

 کئی ماہ گذر گئے اور اب ہم جنگل کے کافی اندر ایک چھوٹے سے گاؤں کی طرف جاتے ہیں جہاں ایک قدیم مندر تھا۔ اس مندر کی زیارت کے لئے لوگ دور دراز سے آتے تھے۔ یہاں سے فارغ ہو کر تین افراد جو کہ میاں بیوی اور ایک سولہ سالہ بیٹا تھے، واپس جانے لگے۔ پون میل دور جا کر لڑکے نے اچانک کچھ جنگلی پھل توڑنے چاہے۔ والدین نے ایک غراہٹ اور پھر لڑکے کی چیخ سنی۔ مڑ کر دیکھا تو شیرنی ان کے بیٹے کو اٹھائے نالے میں کود رہی تھی۔ والدین نے انتہائی بہادری سے بھاگ کر شیرنی پر چیخنا چلانا شروع کیا لیکن جواب میں انہیں بیٹے کی مزید دو چیخیں سنائی دیں اور پھر خاموشی چھا گئی۔

 اس کے بعد اموات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ سلسلہ جولاگری سے گنڈالم تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ سارا علاقہ کوئی پینتالیس میل لمبا اور پچاس میل چوڑا ہے۔ جب مجھے اطلاع ملی تب تک شیرنی پندرہ افراد ہلاک کر چکی تھی۔ ان میں تین لڑکیاں بھی تھیں۔ ایک لڑکی تو بالکل نوبیاہتا تھی۔ مجھے یہ اطلاع اپنے دوست میسور کے کلکٹر سے ملی۔

 میرے دوست کے بقول جولاگری وہ جگہ تھی جہاں سے یہ آفت شروع ہوئی۔ یہاں پہنچ کر میں نے مزید شواہد اکٹھے کرنا شروع کئے۔ یہاں مجھے اندازہ ہوا کہ آدم خور شیر نہیں بلکہ شیرنی ہے۔ اور یہ کہ یہ وہی شیرنی ہے جس کے نر کو غیر قانونی شکاریوں نے سور کے دھوکے میں ہلاک کیا تھا اور بعد ازاں لیونارڈ کی گولی سے اس کا شانہ بیکار ہو گیا تھا۔ یہاں سے میں جولاگری سے سلیکنٹا کی طرف نکلا کہ کوئی تازہ نشان مل سکیں۔ بدقسمتی سے اس جگہ کوئی تازہ شکار نہیں ہوا تھا اور پرانے نشانات مویشیوں وغیرہ کی آمد و رفت کے باعث مٹ چکے تھے۔ گنڈالم جاتے ہوئے میں نے کیمپ لگایا کیونکہ آدم خور نے یہاں گذشتہ چار ماہ میں سات چرواہے مارے تھے۔

 تین فربہ نوعمر بھینسے میرے دوست نے میرے لئے مہیا کئے تھے اور میں نے انہیں مناسب جگہوں پر بندھوا دیا۔ پہلا بھینسا میں نے دریائے گنڈالم کے کنارے بندھوایا جہاں سے یہ دریا سیگی ہلا نامی جگہ سے گذرتا ہے۔ دوسرا بھینسا انچٹی کے مقام پر اور تیسرے کو پانی کے ایک تالاب کے کنارے بندھدوا دیا جہاں چرواہے اور مویشی روز پانی پیتے تھے۔

 اگلے دو دن میں نے جنگل کی گشت میں گذارے تاکہ کوئی تازہ پگ (شیر وغیرہ کے پنجوں کے نشانات کو پگ کہتے ہیں۔ انگریزی میں Pug marks) تلاش کر سکوں۔ میری اعشاریہ 405 بور کی ونچسٹر رائفل میرے پاس تھی۔ امید تھی کہ شاید آدم خور سے مڈبھیڑ بھی ہو جائے۔

 دوسری صبح میں نے دریائے گنڈالم کے کنارے شیرنی کے اترنے کے نشانات دیکھے جو کہ گذشتہ رات کے تھے۔ یہاں اس نے تالاب کے کنارے رک کر میرے بھینسے کا جائزہ لیا لیکن اسے کچھ کہے بغیر انچٹی کی طرف نکل گئی۔ یہاں زمین اتنی سخت تھی کہ پگ گم ہو گئے۔

 تیسری صبح جب میں مٹر گشت سے واپس کیمپ لوٹا تاکہ گرم پانی سے غسل کر کے اور قبل از وقت دوپہر کا کھانا کھا سکوں تو دیکھا کہ ایک جماعت آئی ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ انچٹی سے میل بھر دور آج صبح ایک آدمی کو شیرنی نے مار ڈالا تھا۔ بظاہر صبح کاذب کے وقت مویشیوں کی بے چین آوازیں سن کر باہر جانے والا آدمی واپس نہ لوٹا۔ کچھ دیر بعد اس کے بیٹے اور بھائی اس کو دیکھنے کے لئے نکلے تو انہوں نے متوفی کا کمبل اور دیگر اشیا دیکھیں۔ زمین سخت ہونے کے باوجود بھی حملہ کرتے وقت کے شیرنی کے پچھلے پنجوں کے نشانات واضح تھے۔ وہ بھاگ کر انچٹی پہنچے اور وہاں سے مزید آدمی اپنے ساتھ لے کر میرے پاس آئے۔

 غسل کو بھلا کر میں نے جلدی جلدی چند لقمے نگلے اور ان کے ہمراہ نکل پڑا۔ یہاں سے جائے حادثہ پر جا کر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ متوفی نے شاید ہی کوئی آواز نکالی ہو۔ یہاں سخت زمین کے باعث شیرنی کے پگ بہت مدھم اور غیر واضح تھے۔ یہاں کانٹے دار جھاڑیاں بکثرت تھیں اور متوفی کے کپڑوں کی دھجیاں ان کانٹوں میں اٹکی ہوئی تھیں۔ موجودہ صورتحال سے قطع نظر یہ کافی اہم تھا کہ شیرنی ان کانٹوں سے کیسے بچ کر گذری ہوگی؟

 تین سو گز دور جا کر شیرنی نے شاید کھانے کی نیت سے متوفی کی لاش کو زمین پر رکھا لیکن پھر نامعلوم وجوہات کی بناء پر اسے پھر اٹھا کر چل دی۔ اس بار اس کا رخ ایک گہرے نالے کی طرف تھا۔

 یہاں سے تعاقب کرنا آسان ہو گیا کیونکہ شیرنی نے یہاں لاش کو گلے سے پکڑنے کی بجائے کمر سے پکڑا ہوا تھا اور یہاں سے خون کے نشانات دکھائی دینے لگے تھے۔ خون کے نشانات اب بکثرت تھے اور ہمیں تعاقب جاری رکھنے میں کوئی مشکل نہ پیش آئی۔ مزید سو گز دور جا کر متوفی کی دھوتی مل گئی جو ایک کانٹے دار جھاڑی سے الجھی ہوئی تھی۔ یہاں سے اب ہم نالے میں آ پہنچے اور یہاں نشانات اتنے واضح تھے کہ شیرنی کے پگ کے ساتھ ساتھ آدمی کا پاؤں بھی رگڑ کھاتا جا رہا تھا۔

 اب مجھے کھوجی کی ضرورت نہ تھی اور نہ ہی میں اتنے افراد کے ہمراہ غیر ضروری خطرہ مول لینا چاہتا تھا۔ میں نے یہاں سے تعاقب کو اکیلے ہی جاری رکھا اور باقی آدمیوں سے کہا کہ وہ وہیں رک کر میرا انتظار کریں۔ یہاں سے میری پیش قدمی بہت سست ہو گئی تھی کہ نالے کے دونوں کناروں پر اگے گھنے جنگلوں کو بھی دیکھنا پڑ رہا تھا مبادا کہ شیرنی نہ چھپی ہو۔ یہاں ایک جگہ میں نے ایک موڑ پر جھکی ہوئی چٹان دیکھی جو کافی جگہ گھیرے ہوئے تھی۔ دوسرے کنارے سے ممکنہ حد تک دور رہتے ہوئے میں نے پوری احتیاط سے جائزہ لیا۔ مجھے چٹان کے پیچھے ایک سایہ سا دکھائی دیا جو بعد ازاں متوفی کی لاش نکلی۔

 شیرنی نے اچھا خاصا کھایا تھا۔ ایک ران، ایک بازو مکمل طور پر کھا گئی تھی اور مجھے اندازہ تھا کہ شیرنی اب ادھر موجود نہیں۔ میں اپنے آدمیوں کی طرف پلٹا تاکہ انہیں لاش کے مقام پر لا کر ان کی مدد سے کوئی پناہ گاہ تلاش کروں۔ قوی امکان تھا کہ شیرنی مغرب سے قبل آئے گی۔

 اس جگہ سے زیادہ مشکل اور ناقابل بیان جگہ کوئی اور ہو۔ یہاں کوئی درخت نہیں تھا کہ جس پر مچان باندھی جا سکے۔ جلد ہی ہمیں اندازہ ہوا کہ صرف دو ہی امکانات ہیں۔ اول یہ کہ میں نالے کے دوسرے کنارے پر بیٹھوں جہاں سے لاش صاف دکھائی دے رہی تھی۔ دوم اس جگہ موجود چٹان کے اوپر بیٹھوں جو نیچے سے کوئی دس فٹ بلند تھی اور کنارے سے چار ایک فٹ۔ پہلی صورت بہت خطرناک تھی کہ مقابلہ آدم خور سے تھا۔ زمین پر بیٹھنا مہلک بھی ہو سکتا تھا۔ دوسری صورت قابل قبول تھی۔ یہاں چٹان کے اوپر سے میں نہ صرف لاش بلکہ نالے کے دونوں اطراف بیس بیس گز تک بخوبی دیکھ سکتا تھا جہاں وہ مڑتا تھا۔

 خاموشی سے میرے آدمیوں نے نالے کے کنارے دور جا کر کچھ اس قسم کی جھاڑیاں کاٹیں جو اس مذکورہ چٹان کے آس پاس بھی موجود تھیں۔ اس طرح انہوں نے چٹان کے چاروں طرف اس طرح جھاڑیاں بچھائیں کہ میں اب ہر طرف سے چھپ گیا۔ خوش قسمتی سے میرے پاس کمبل موجود تھا اور پانی کی بوتل اور ٹارچ بھی۔ ویسے چاندنی رات تھی اور ٹارچ کی شاید ہی ضرورت پڑتی۔ تین بجے میں اپنے اس ٹھکانے پر بیٹھ گیا اور باقی آدمی روانہ ہو گئے۔ انہیں یہ بھی ہدایت کر دی کہ اگلی صبح آتے وقت گرم چائے کا تھرماس اور چند سینڈوچ لیتے آئیں۔

 سہہ پہر بہت آہستگی سے ڈھلی اور دھوپ کے باعث میں پسینے میں شرابور ہوتا رہا۔ نالے کے دونوں اطراف کا جائزہ لیتا رہا اور دھوپ ہر ممکن طرف سے مجھے جلاتی رہی۔ چونکہ لاش ایسی جگہ پڑی تھی جو کہ کھلی فضاء سے دکھائی نہ دیتی تھی، اس لئے ابھی تک گدھوں سے محفوظ تھی۔ پانچ بجے ایک کوے نے لاش کو دیکھ لیا اور کائیں کائیں کر کے دوسرے ساتھی کو بھی بلا لیا۔ وہ دونوں کائیں کائیں کرتے رہے لیکن انسانی بو کی وجہ سے ان کی ہمت نہ ہوئی کہ لاش کو کھانا شروع کرتے۔ وقت گذرتا چلا گیا اور بالآخر سورج پہاڑوں کے پیچھے جا کر غروب ہو گیا۔ کوے بھی ایک ایک کر کے اڑ گئے۔ شاید وہ جب بھوک سے مجبور ہوئے تو لوٹ آئیں گے۔ سورج کے چھپتے ہی جنگلی مرغی کی آواز گونجی اور پھر مور کی "می آؤں می آؤں" کی آواز آئی۔ مجھے بہت حوصلہ ملا کیونکہ مور سے زیادہ چوکنا اور کوئی مخبر جنگل میں ملنا ممکن نہیں۔ اب مجھے اندازہ ہوا کہ شیرنی آنے والی ہے۔ لیکن روشنی ختم ہونے سے قبل ہی مور اس جگہ کو چھوڑ گیا۔ دن والے پرندے بھی اپنے گھونسلوں کو پلٹ گئے اور اب رات کے پرندے اڑنا شروع ہو گئے۔ الووں کی آواز سے جنگل گونج رہا تھا۔

 چاند نکل آیا اور اب میری بصارت کافی بحال ہو گئی۔ رات کے شکاری پرندے اپنے شکار کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ پھر کچھ وقت گذرا اور اچانک ہی سکوت چھا گیا۔ حتیٰ کہ جھینگر بھی چپ ہو گئے۔ اس طرح الو بھی شاید کہیں اور چلے گئے تھے۔ لاش کا ایک بازو اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا اور شکر ہے کہ چہرہ دوسری طرف تھا۔ ورنہ اس وقت اس نیم اندھیرے میں وہ بہت بھیانک لگتا۔

 اچانک سانبھر کی آواز یکے بعد دیگرے کئی بار آئی۔ میرا اندازہ تھا کہ نصف میل دور سے آئی ہیں۔ اس کے بعد نالے کے دوسرے کنارے سے چیتل کی اونچی آواز آئی۔ میں نے لمبا سانس لیا اور اپنے اعصاب اور پٹھوں کو آخری معرکے کے لئے تیار کیا۔ میرے ان دوست جانوروں نے مجھے آدم خور کی آمد سے بخوبی آگاہ کر دیا تھا۔

 آہستہ آہستہ آوازیں گم ہوتی چلی گئیں۔ اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ شیرنی ان جانوروں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ میں نے نالے کے دائیں موڑ کی جانب نگاہیں جما دیں۔ اس طرف سے مجھے شیرنی کی آمد کی توقع تھی۔ کچھ بھی نہ ہوا۔ نصف گھنٹہ گذرا، پھر پون گھنٹہ۔ مجھے حیرت ہونے لگی کہ شیر تو اس سے کہیں کم وقت میں یہ فاصلہ طے کر لیتے ہیں۔

 اچانک میرے پورے بدن میں دہشت کی ایک لہر دوڑتی چلی گئی۔ یہ وہ چھٹی حس تھی جو سب کے پاس ہوتی تو ہے لیکن کسی کسی کو اس سے کام لینا آتا ہے۔ اس حس نے میری مدد ہندوستان، برما اور افریقہ کے جنگلات میں کی ہے اور بروقت کی ہے۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ شیرنی میری تمام تر احتیاط کے باوجود مجھے دیکھ چکی ہے اور اب وہ کسی بھی وقت مجھ پر چھلانگ لگانے والی ہے۔

 جو افراد جنگل سے واقف ہوں وہ خطرے میں جلد فیصلہ کر سکتے ہیں۔ میں خود کو انتہائی خطرے میں محسوس کر رہا تھا اور ٹھنڈے پسینے کے قطرے میرے چہرے پر رینگ رہے تھے۔ مجھے بخوبی اندازہ تھا کہ شیرنی نالے میں نہیں ہو سکتی ورنہ میں اب تک اسے دیکھ چکا ہوتا۔ اس کی موجودگی کی دوسری ممکنہ جگہ نالے کا دوسرا کنارہ ہوتی۔ لیکن اس صورت میں میں اتنا شدید خطرہ نہ محسوس کر رہا ہوتا۔ اب واحد امکان یہی تھا کہ شیرنی میرے عقب میں اوپر کی جانب موجود ہوتی۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ میرے پیچھے چار فٹ بلند چٹان موجود ہے۔ اگر میں اس کے پیچھے دیکھنا بھی چاہوں تو مجھے اٹھنا پڑے گا اور اس حالت میں فائر کرنا بالکل ہی ناممکن ہوتا اور اس حالت میں دوسرے کنارے سے میرا دیکھ لیا جانا بھی عین ممکن تھا۔ میں نے خود کو دل ہی دل میں ملامت کی کہ اس خطرے کو پہلے کیوں نہ سمجھ لیا تھا۔ جونہی میں مزید ایک سیکنڈ رکا، ایک چھوٹی سی کنکری میرے اوپر سے آ کر عین رائفل کی نال پر گری۔ مجھے بخوبی علم تھا کہ اب وہ قاتل شیرنی میرے عین اوپر عقب میں موجود ہے۔

 مزید وقت ضائع کئے بنا میں گھٹنوں کے بل اٹھا اور اپنی رائفل کو شانے سے لگا کر فائر کے لئے تیار کیا اور مڑا۔

 ایک انتہائی خوفناک منظر میرے سامنے تھا۔ کوئی آٹھ فٹ کے فاصلے پر شیرنی جست لگانے کے لئے بالکل تیار حالت میں تھی۔ ہماری نظریں ایک ساتھ ملیں اور حیرت کے باوجود ہم دونوں نے اپنا اپنا رد عمل بیک وقت ظاہر کیا۔ شیرنی نے فلک شگاف دھاڑ لگا کر جست لگائی اور میں نے واپس بیٹھے ہوئے گولی چلائی۔

 رائفل کے بھاری دھماکے نے جو کہ میرے کان سے محض چند انچ دور ہوا تھا، نے شیرنی کی دھاڑ کے ساتھ مل کر نہایت عجیب تاثر پیدا کیا۔ یہ آج بھی میرے ذہن میں گونجتا ہے اور میرے اعصاب کو مفلوج سا کر دیتا ہے۔

 شیرنی ابھی اس چٹان کے پیچھے ہی تھی کہ فائر اس کے بالکل سر کے پاس ہوا۔ اس بھاری رائفل کے دھماکے اور بارود کے دھوئیں نے مل کر اس پر اتنا اثر ڈالا کہ وہ رکنے کی بجائے فرار ہو گئی۔ وہ میرے سر کے اوپر سے ہوتی ہوئی گذری اور اس کے عقبی پنجے میری رائفل کی نال پر پڑے۔ رائفل میرے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے لاش کے پاس نالے میں جا گری۔ رائفل کے نیچے گرنے سے قبل ہی شیرنی نالے کے دوسرے کنارے تک پہنچ چکی تھی اور دو ہی چھلانگوں میں یہ جا وہ جا۔

 اپنی موجودہ سنگین صورتحال سے میں اب آگاہ ہوا۔ میں غیر مسلح تھا اور اگر شیرنی لوٹتی تو میں اس کے رحم و کرم پر ہوتا۔ اسی طرح اگر شیرنی زخمی تھی تو میرے نیچے اترنے کی حالت میں مجھ پر حملہ آور ہو جاتی۔ میں نے پھر بھی یہی مناسب جانا کہ نیچے اتر کر رائفل اٹھا لوں۔ نیچے اترنے سے واپس اپنی جگہ لوٹنے تک میں ہر لحظہ یہی منتظر رہا کہ اب شیرنی کی دھاڑ کی آواز آئے گی۔ لیکن چند ہی سیکنڈ میں رائفل کے ساتھ میں اپنی جگہ بحفاظت لوٹ آیا۔

 بظاہر رائفل کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا اور نیچے گرنے کا جھٹکا اس کے کندے نے بخوبی برداشت کر لیا تھا۔ فائر شدہ کارتوس نکال کر میں نے دوسرا لگایا اور سوچنے لگا کہ کیا میرا فائر شیرنی کو لگا یا کہ خالی گیا۔ مجھ سے دو فٹ کے فاصلے پر کوئی کالی اور سفید چیز دکھائی دی۔ اٹھانے پر دیکھا کہ وہ شیرنی کے کان کا بڑا حصہ تھا۔ شاید اتنے نزدیک سے ہونے والے فائر نے اس کے کان کو کاٹ دیا تھا۔ یہ حصہ ابھی تک نرم و گرم تھا اور ابھی اس سے خون رسنا شروع ہوا ہی تھا۔

 اب یہ کہنا کہ میں کتنا مایوس اور نا امید ہوا، فضول ہے۔ اتنے نزدیک سے بھی میں شیرنی کو مارنا تو درکنار اسے معمولی سا زخمی بھی نہ کر سکا۔ کان کے کٹ جانے سے شاید اسے چند دن تک معمولی سا درد ہوتا اور بس۔ لیکن دوسری طرف وہ اب شکار کی لاش پر دوبارہ لوٹنے سے گریز بھی کر سکتی تھی۔ اس کی مکاری اور بھی بڑھ جاتی اور وہ بھوکی ہونے پر شکار کرتی اور کبھی اس پر لوٹ کر نہ آتی۔ ہو سکتا تھا کہ اس کی سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع ہو جاتا یا یہ بھی عین ممکن تھا کہ وہ اس جگہ سے بہت دور کسی اور جگہ چلی جاتی جہاں اس کی موجودگی کا کسی کو شبہ تک نہ ہوتا۔ میں نے خود کو پھر ملامت کی اور ساری رات منتظر رہا کہ شیرنی کب آتی ہے۔ اگلی صبح میرے آدمی واپس آئے اور مجھے مایوس اور ٹھٹھرتا ہوا پایا۔ گرم چائے کے ساتھ سینڈوچ اور پھر پائپ پی کر میں نے پوری صورتحال کا اچھی طرح سے دوبارہ جائزہ لیا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اگر میری چھٹی حس کام نہ کرتی تو اس وقت نالے میں نیچے ایک کی بجائے دو لاشیں موجود ہوتیں۔ کم از کم مجھے اس پر تو شکر گذار ہونا چاہئے۔

 جہاں سے شیرنی نے چھلانگ لگائی تھی، جا کر دیکھا کہ شاید خون کا کوئی نشان ہو۔ لیکن جیسا کہ میرا اندازہ تھا، خون کا کوئی بھی نشان نہ ملا۔ البتہ کہیں کہیں کسی کسی پتے پر خون کی بوند دکھائی دے جاتی۔ جلد ہی یہ بھی دکھائی دینا بند ہو گیا۔ انتہائی مایوسی کے عالم میں ہم لوگ واپس لوٹے۔

 میں نے گنڈالم میں مزید دس روز قیام کیا اور روز بھینسے باندھتا رہا۔ رات بھر بھینسوں کے پاس اور تالابوں کے کنارے بیٹھتا رہا اور دن کو جنگل میں تلاش جاری رکھتا۔ میرے آدمی گروہوں کی شکل میں ادھر ادھر جاتے کہ شاید کہیں شیرنی نے تازہ شکار کیا ہوا ہو۔ کچھ بھی تو نہ ہوا اور میں نے یقین کر لیا کہ شیرنی کسی زیادہ بہتر اور محفوظ جگہ کی طرف چلی گئی ہے۔

 گیارہویں دن میں نے گنڈالم چھوڑا اور انچٹی اور پھر ڈینکانی کوٹہ کا رخ کیا۔ یہاں میں ہوسور کے مقام پر رکا اور اپنے دوست کلکٹر کو ساری رپورٹ دے کر اس سے وعدہ لیا کہ وہ کسی بھی نئی اطلاع سے فوراً آگاہ کرے گا۔ اب میں بنگلور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔

 پانچ ماہ گذر گئے۔ اس دوران میرے دوست کلکٹر نے مجھے تین خطوط بھیجے کہ اسے دور دراز کے علاقوں سے شیر کے سبب ہلاکتوں کی افواہیں سنی گئی ہیں۔ ان میں سے دو دریائے کاویری کے دوسری جانب سے بھی تھیں۔ ایک میسور سے اور ایک اس سے بھی اور آگے سے۔

 اچانک ہی وہ بری خبر آئی جس کا میں منتظر تھا۔ شیرنی نے ایک بار پھر گنڈالم میں شکار کیا تھا۔

 یہاں یہ اس کا آٹھواں شکار تھا۔ گذشتہ دن صبح کے وقت اس نے مقامی مندر کے دروازے سے پجاری کو اٹھا لیا جو وہاں چالیس سال سے کام کر رہا تھا۔ اس خط میں مجھے جلد از جلد آنے کی تلقین کی گئی تھی۔

 یہ تلقین بے جا تھی کیونکہ میں مہینوں سے اس خبر کا منتظر تھا۔ دو ہی گھنٹے بعد میں وہاں سے روانہ ہو چکا تھا۔

 وہاں پہنچتے ہی خوش قسمتی سے سے مجھے چند ایک آدمی ایسے مل گئے جو پجاری کی ہلاکت کے وقت ادھر موجود تھے اور انہوں نے تقریباً یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ یہ لوگ مندر پہنچے ہی تھے کہ انہیں شیر کی دھاڑ سنائی دی اور فوراً ہی شیر تیس گز دور پیپل کے پرانے درخت کے پیچھے سے نکل کر جنگل کی طرف چلا گیا۔ یہ سب پناہ کی تلاش میں مندر کے اندر کی طرف بھاگے تو مندر کو خالی پایا۔ تلاش کرنے پر انہوں نے پجاری کی لاش کو اسی پیپل کے درخت کے نیچے پایا جہاں سے شیر برآمد ہوا تھا۔ بغور جائزہ لینے پر انہیں اندازہ ہوا کہ پجاری کو یا تو مندر کے اندر سے یا پھر بالکل قریب سے شیر نے پکڑا اور مار ڈالنے کے بعد اسے پیپل کے درخت کے نیچے لایا۔ ابھی شیر نے پجاری کے سوکھے سینے کا کچھ حصہ ہی کھایا تھا کہ یہ لوگ پہنچ گئے۔

 میں نے بار بار ان لوگوں سے پوچھا کہ کیا شیر کے دونوں کان سلامت تھے؟ مگر وہ لوگ حادثے کے وقت اتنے گھبرا گئے تھے کہ انہیں کچھ یاد ہی نہ رہا۔

 اندھیرا پھیلنے کے وقت میں ادھر پہنچا۔ مجھے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس سفر کے آخری دو میل بہت ہی تھکا دینے والے تھے۔ یہ حصہ دو بہت ہی ڈھلوان پہاڑوں سے نیچے اترتا ہے۔ یہاں ہر طرف بانس کے گھنے جھنڈ موجود ہیں۔ ہم نے نہ تو کچھ دیکھا اور نہ ہی کچھ سنا۔ ہم کل چار آدمی تھے۔ راستے میں صرف اس ہاتھی کو دیکھا جس نے کچھ عرصے سے اس علاقے میں قیام کیا ہوا تھا اور اکا دکا آدمی دیکھ کر ان کے پیچھے لگ جاتا تھا۔

 ہمارے پاس باقاعدہ خیمے لگانے کا وقت نہ تھا۔ اس لئے ہم نے مندر کے اندر ہی سونے کا فیصلہ کیا۔ میں بھری رائفل لے کر نگرانی کرتا رہا اور میرے تین آدمیوں نے ادھر ادھر سے آگ جلانے کے لئے خشک لکڑیاں اور چھوٹے موٹے درختوں کے سوکھے تنے اکٹھے کر لئے۔ یہاں اس طرح کی خشک لکڑیاں بے شمار تھیں۔ اس جگہ جہاں کچھ دن قبل آدم خور ایک بندہ مار چکا ہو، رہنا کافی عجیب سا لگتا تھا لیکن ہمارے پاس دوسرا کوئی چارہ بھی تو نہ تھا۔ ہم نے اندھیرا مکمل چھانے سے قبل ہی آگ جلا لی جس نے ہماری حفاظت کے ساتھ ساتھ ہمیں حرارت بھی پہنچائی۔ ان حالات میں بیٹھ کر یہ انتظار کرنا کہ شاید آدم خور ادھر سے گذرے، نہ صرف احمقانہ بلکہ مہلک بھی ہو سکتا تھا۔ جلد ہی آگ نے پوری طرح زور پکڑ لیا اور ہم اس کے اندر کی طرف بیٹھ گئے۔ یہاں تاریکی اتنی گہری تھی کہ آگ کے بغیر دو فٹ دور بھی کچھ نہ دکھائی دیتا تھا۔ سانبھر کی آواز ہم نے توجہ سے سنی پھر بارہ سنگھے کی آواز آئی لیکن پھر اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ آدھی رات کے بعد ہم نے جوڑوں کی شکل میں نگرانی کا سوچا تاکہ دوسرے افراد تین گھنٹے کی نیند لے سکیں۔ میں نے پہلی باری لینا پسند کی۔ جلد ہی دوسرے دو افراد سو گئے۔ پاگل ہاتھی بھی ادھر آن پہنچا اور اتنا قریب آن پہنچا آگ کی روشنی میں وہ بخوبی دکھائی دے رہا تھا۔ ایک بار اس نے ہلکی سی آواز نکالی اور پھر بھاگ گیا۔ دو بجے ایک کاکڑ یعنی بھونکنے والا ہرن چلایا اور پھر دوبارہ خاموشی چھا گئی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ شاید اس نے کسی تیندوے کو دیکھا ہوگا۔ دو بجے میں نے دیگر دو افراد کو جگایا اور خود سو گیا۔ سورج طلوع ہوتے وقت میری آنکھ کھل گئی۔

 نزدیکی کنویں سے پانی لے کر ہم نے چائے بنائی اور پھر کچھ کھانا زہر مار کر کے ہم باہر نکلے اور پجاری کی باقیات کا جائزہ لیا۔ دن کو گدھوں اور رات کو لگڑبگھوں نے خوب پیٹ بھرا تھا۔ یہاں چند ہڈیاں ہی باقی بچی تھیں۔ بیچارہ پجاری۔ چالیس سال سے اس مندر میں رہا اور آخر یہی اس کا دم نکلا۔ اس بیچارے نے چالیس سال تک یہی جنگل دیکھا ہوگا جو ابھی ہم دیکھ رہے تھے۔ یہی آوازیں اور یہی سب کچھ۔ اب صرف چند ہڈیاں باقی تھیں۔

 پھر اگلا گھنٹہ ہم نے ادھر ادھر جائزہ لے کر گذارا تاکہ شیر کے پگ (پنجوں کے نشانات) مل سکیں۔ چند پرانے اور مدہم نشانات دکھائی دیئے لیکن میں ان کو مطلوبہ شیرنی کے پگوں سے نہ ملا سکا۔

 سات بجے ہم گنڈالم کی طرف روانہ ہوئے جو تئیس میل دور تھا۔ پانچ بجے شام کو ہم پہنچے۔ یہاں میری ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی۔ اس نے واضح طور پر شیرنی کو دیکھا تھا کیونکہ اس کے ساتھی کو شیرنی اس کے پاس سے لے گئی تھی۔ اس کا ساتھی راستے میں پیشاب کرنے بیٹھا ہی تھا کہ جھاڑی سے شیرنی کا سر نمودار ہوا۔ اس کا ایک کان غائب تھا۔ اس کے بعد شیرنی کا پورا جسم باہر نکلا۔ جونہی شیرنی نے اسے گلے سے پکڑا، ایک چیخ کی آواز آئی اور اگل ہی لمحے شیرنی اور اس کا شکار، دونوں جنگل میں گم ہو گئے۔

 یہ وہ اطلاع تھی جس کا مجھے انتظار تھا۔ آخر کار یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ وہی آدم خور شیرنی تھی جو اب واپس اس علاقے میں لوٹ آئی تھی۔

 مجھے کسی بھی طرف سے جنگلی یا پالتو جانور کے مارے جانے کی اطلاع نہ ملی۔ میں نے اس بار بھینسا باندھنے سے گریز ہی کیا۔ مجھے اندازہ تھا کہ آمنے سامنے ہی شیرنی کو مارا جا سکتا ہے۔

 اگلے دو دن تک میں جنگل میں پھرتا رہا۔ ہر لمحہ یہی لگتا تھا کہ شیرنی نے اب حملہ کیا کہ اب حملہ کیا۔ راستے میں بے شمار جگہوں پر شیرنی کے پگ ملے اور خصوصاً دریائے گنڈالم میں تو نرم زمین پر یہ بہت واضح تھے اور میں نے فوراً ہی پہچان لئے کہ یہ وہی شیرنی ہے۔ میں خود کو اب گذشتہ پانچ ماہ میں ہونے والی اموات کا ذمہ دار سمجھ رہا تھا۔

 تیسرے دن ایک جماعت میرے پاس تیس میل دور جولاگری سے آئی کہ وہاں کے فارسٹ بنگلے کے چوکیدار کو شیرنی نے مار ڈالا ہے اور بنگلے سے سو گز کے اند رہی بیٹھ کر آدھا ہڑپ کر گئی ہے۔ یہ گذشتہ روز کا واقعہ تھا۔

 شیرنی کے بارے یہ معلوم تھا کہ وہ ایک شکار کر کے اسی جگہ دوسرا دن نہیں گذارتی۔ میں نے سوچا کہ شاید شیرنی کے واپسی کے سفر میں اس سے ملاقات ہو جائے۔ میرے ساتھ میرے تینوں ساتھی اور نو وارد افراد بھی شامل ہو گئے کہ وہ اکیلے جانے سے میری ہمراہی میں جانا بہتر سمجھ رہے تھے۔ یہ افراد دوڑ کر تیس میل کا سفر طے کر کے آئے تھے۔

 ہم دوبارہ سولے کنتا پہنچے۔ سورج کی روشنی بالکل مدھم ہو چلی تھی اور آج کل راتیں کافی تاریک تھیں۔ ہم نے دوبارہ کیمپ فائر کو ہی ترجیح دی اور اب چونکہ ہماری تعداد بارہ ہو چکی تھی، ہم کافی محفوظ محسوس کر رہے تھے۔

 ساری رات بے چین گذری کہ سانبھر اور کاکڑ مسلسل بولتے رہے۔ نصف میل دور سے شیرنی کی آواز بھی میں نے سنی۔ گھنٹہ بھر بعد یہ آواز کافی نزدیک پہنچ گئی۔ ہم نے واضح طور پر محسوس کیا کہ یہ شیرنی کی اپنے ساتھی کی تلاش میں نکلی ہوئی حالت کی آواز ہے۔ شیرنی نے کیمپ فائر کو بھی دیکھ لیا اور ہماری موجودگی سے آگاہ ہو گئی تھی۔ نئے شکار کی تلاش اور ساتھی کی امید میں وہ دو تین بار مندر کے گرد بھی گھومی۔ پھر اس کی آوازیں نسبتاً زیادہ دور ہو گئیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ زور زور سے بولتے رہیں اور آگ کو زیادہ روشن نہ کریں۔ مجھے اندازہ تھا کہ شیرنی ساتھی کی تلاش اور بھوک کی وجہ سے زیادہ دور نہ جائے گی۔ اس دوران میں نے دو بار نر شیر کی آواز بھی نکالی۔

 صبح کاذب کے وقت وہ پھر بولی۔ میں نے خود کو شاباش دی کہ شیرنی کو دور نہ جانے دیا تھا۔ روشنی ابھی پھیلنا شروع ہی ہوئی تھی کہ میں نے یہاں سے چوتھائی میل دور ایک بڑے درخت کا رخ کیا۔ اس درخت کے پاس ہی پچھلے سال ایک لڑکا مارا گیا تھا۔ یہ جگہ شکار کے لئے ہر لحاظ سے بہت مناسب تھی اور یہاں مچان کی بھی ضرورت نہ تھی۔

 درخت تک میں آرام سے پہنچ گیا اور پھر بارہ فٹ کی بلندی پر میں ایک دو شاخے پر جم گیا۔ یہاں سے میں میں دونوں اطراف میں بخوبی دور تک دیکھ سکتا تھا۔ اب میں نے اپنی پوری قوت سے زور لگا کر نر شیر کی آواز نکالی۔ خاموشی نے میرا استقبال کیا۔ میں تذبذب میں پڑ گیا کہ شیرنی کہیں دور تو نہیں نکل گئی۔ اب ایک اور نئی فکر لاحق ہو گئی کہ شیرنی شاید مندر کے آس پاس تازہ شکار کے لئے منڈلا رہی ہو۔

 نکلنے سے قبل میں نے اپنے ساتھیوں کو سختی سے سمجھا دیا تھا کہ میری واپسی تک باہر نہ نکلیں۔ لیکن شاید کوئی میری ہدایت سے روگردانی کرے۔ حوائج ضروریہ پوری کرنے یا پھر کنویں سے پانی لینے ہی باہر نکلے۔ کنواں دروازے سے چند قدم ہی تو دور تھا۔

 میں نے دوبارہ نر شیر کی آواز نکالی۔ خاموشی۔ چند لمحے رک کر میں نے پھر پوری قوت کے ساتھ آواز نکالی۔ اس بار فوراً ہی مندر کی طرف سے جواب ملا۔ میرا اندازہ درست تھا کہ شیرنی شکار کی تلاش میں ادھر ہی تھی۔

 میں نے دو بار مزید آواز نکالی۔ دوسری آواز کا جواب اندازاً سو گز دور سے ملا۔ میں نے فوراً رائفل تانی اور پچیس گز دور موڑ کی طرف نشانہ لے لیا۔ میرا اندازہ تھا کہ وہ نصف منٹ سے قبل ہی ادھر پہنچ جائے گی۔ ابھی میں نے ستائیس تک ہی گنا تھا کہ شیرنی نمودار ہوئی۔ وہ چاروں طرف دیکھ رہی تھی کہ نر کہاں ہے۔ اس بلندی سے شیرنی کا ایک کان بخوبی دکھائی دے رہا تھا۔ بالآخر اتنی مشقتوں کے بعد شیرنی ایک بار پھر میرے سامنے تھی۔ اس بار میں کوئی غلطی نہ کی۔ اسے روکنے کے لئے میں نے بہت مدھم سی آواز نکالی۔ وہ اچانک ہی رکی اور استعجاب کی حالت میں اوپر درخت کو دیکھنے ہی لگی تھی کہ میری اعشاریہ 405 بور کی رائفل گرجی اور گولی سیدھی شیرنی کی آنکھوں کے بیچ جا کر لگی۔ شیرنی اپنی جگہ پر ڈھے سی گئی اور اس پر لرزہ طاری ہو گیا۔ میں نے فوراً ہی دوسری گولی بھی اس کی کھوپڑی میں اتار دی۔ یہ گولی فضول ثابت ہوئی کیونکہ شیرنی کی کھوپڑی بری طرح خراب ہو گئی اور اسے محفوظ کرنے میں بہت دشواری پیش آئی۔

 بالآخر جولاگری کی قاتل، آدم خور شیرنی اپنے انجام کو پہنچی۔ اگرچہ وہ قاتل، بے رحم اور سنگدل تھی، میں نے اس طرح دھوکہ دے کر اس کے شکار پر کچھ ندامت سی محسوس کی۔

 مزید کچھ کہنا بیکار ہے۔ میرے ساتھیوں نے فوراً ہی بانس کے درخت کاٹے اور گھاس سے رسیاں بنا کر شیرنی کو اس پر لادا۔ ہم سات میل دور جولاگری کی طرف روانہ ہو گئے۔ آدم خور کی دہشت کے باعث گاؤں میں داخل ہوتے وقت تک کوئی شخص نہ دکھائی دیا۔ لیکن ہمارے پہنچتے ہی گاؤں میں غل مچ گیا اور لوگوں نے ہمیں گھیر لیا۔ ان کی آنکھوں اور رویئے سے شیرنی کے لئے بے پناہ نفرت ظاہر ہو رہی تھی۔ یہاں کھانا کھا کر اور چائے اور تمباکو پی کر لوگوں کی مدد سے شیرنی کو اپنی سٹوڈ بیکر کی عقبی سیٹ پر باندھ دیا۔ اب میرا واپسی کا سفر شروع ہوا اور بے پناہ خوش تھا کہ میں نے اتنے آدمیوں کی قاتل سے آخر کار بدلہ لے ہی لیا۔

 

Last modified on پنج شنبه, 08 خرداد 1393 12:25
Login to post comments