×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ہوس درگا کا آدم خور

مهر 10, 1392 2259

ہولالکور چیتل درگ ضلع کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ میسور کی ریاست میں واقع ہے۔ یہ شہر ریاست کی انتہائی شمال کی جانب واقع ہے۔اس کی سرحدیں شمال

مشرق میں واقع بیلاری ڈویژن سے جا ملتی ہیں۔ اس علاقے میں آدم خوروں کی موجودگی کے بارے اکثر اطلاعات آتی رہتی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ان شیروں کو وراثت میں آدم خوری ملتی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔

آج سے دس سال قبل اس علاقے میں متواتر آدم خوری کی اطلاعات ملتی رہی تھیں۔ اس کے بارے میسور گزٹ میں عام اعلان تھا کہ کوئی بھی شخص بغیر شکار کے اجازت نامے کے ان شیروں کو مارنے کا مجاز تھا۔

ان دنوں بنگلور میں ایک بہت ہی ہنس مکھ اور کھلنڈرا جوڑا رہتا تھا۔ ان کے نام مسز اور مسٹر میکٹوش تھے۔ یہ دونوں شیروں بالخصوص آدم خوروں کے شکار کے بہت شائق تھے۔ انہوں نے مجھے تجویز دی کہ کیوں نہ ہم تینوں مل کر ان شیروں کا پیچھا کریں؟

اس طرح میں میکٹوش کی کار میں اس کے ساتھ بنگلور سے چیتل درگ روانہ ہوا۔ یہاں ہم محکمہ جنگلات کے ضلعی افسر سے ملے تاکہ ان شیروں کی بابت تازہ اطلاعات لے سکیں۔

یہ افسر بہت ہی دوستانہ قسم کا نکلا اور اس نے ہمیں تفصیل سے بتایا کہ موجودہ آدم خور کی سرگرمیاں چیتل درگ سے لے کر ہولالکور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ کل دس میل لمبی اور نو میل چوڑی پٹی تھی۔ آخری دو شکار ہوس درگا کی بستی سے ہوئے تھے جو کہ آدم خور کی آخری سرحد پر واقع تھی۔

اس درندے کی خون آشام سرگرمیاں مشرق میں واقع ایک بہت بڑے پانی کے ذخیرے سے شروع ہوتی تھیں جو یہاں سے کوئی پانچ میل دور تھا۔ اس ذخیرے میں بڑی بڑی مچھلیاں اور مگرمچھ بکثرت تھے۔ اس جھیل کے کناروں کے ساتھ ساتھ سے لے کر چیتل درگ تک آدم خور کی سرگرمیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ یہ آدم خور چیتل درگ سے جنوب کی طرف قریب ہی واقع ایک پرانے قلعے کے کھنڈرات میں بھی کئی بار دیکھا گیا تھا۔ اس قلعے کو مقامی طور پر "یوگی مت" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

میں یہ جانتا تھا کہ ان کھنڈرات میں اکثر ریچھ اور تیندوے بھی ملتے ہیں۔ شیر البتہ شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم ہولالکور سے ہوس درگا منتقل ہو جاتے ہیں کیونکہ اس طرف آدم خور کی حالیہ سرگرمیوں کا ثبوت مل چکا ہے۔ بعد میں اگر ضرورت پڑتی تو ہم اپنی جگہ بدل بھی سکتے تھے۔

اگلی صبح ہم لوگ جلدی ہی روانہ ہو گئے۔ ہولالکور پہنچنے تک ہمیں گھنٹہ لگا۔ یہاں کے ماحول سے صاف لگتا تھا کہ لوگ آدم خور کی قربت سے کتنے ڈرے ہوئے ہیں۔ ہمیں طرح طرح کی کہانیاں سننے کو ملیں۔ ان میں سے چند ایک کہانیاں تو ایک دوسرے سے بالکل متصادم تھیں۔ ان تمام تر باتوں سے ہم نے یہ اندازہ لگایا کہ آدم خور بہت طاقتور اور آوارہ گرد ہے۔ اس کے علاوہ بالکل ہی غیر متوقع طور پر کہیں بھی نمودار ہو سکتا ہے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ وہ کھجور کے باغات میں بہت بار دیکھا گیا ہے۔ یہ باغات سڑک کے کنارے تھے اور یہاں مختلف قسم کی بیلیں بہت تھیں۔ یہ باغات ہولالکور سے ذرا فاصلے پر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اس علاقے میں شیر کے روزانہ گذرنے کے نشانات بھی ملتے ہیں۔ یہ نشانات عام سڑک سے ہو کر گذرتے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہوس درگا اور ہولالکور کے درمیان نو میل کا فاصلہ ہے اس پر ہم گاڑی کی مدد سے چکر لگاتے رہیں۔ ہمیں اندازہ تھا کہ کھجور کے باغات سے گذرتے ہوئے جلد یا بدیر ہماری مڈبھیڑ آدم خور سے ہو سکتی ہے۔

رات کے سات بجے ہم لوگ نکلے۔ ہولالکور سے میل بھر دور پہنچ کر ہمیں کھجور کے درخت دکھائی دینا شروع ہو گئے۔ البتہ ان کے تنے ابھی بھی نظروں سے اوجھل تھے۔ یہاں سے ہم کینچوے کی رفتار سے چلنا شروع ہوئے اور ہر طرف ٹارچوں اور فلیش لائٹوں سے روشنی پھینکتے گئے۔ سڑک کا منظر تو گاڑی کی ہیڈ لائٹس سے صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اس طرح نصف میل مزید آگے جا کر ہم نے دیکھا کہ ایک کالا بھجنگ آدمی کھجور کے درخت پر کوئی پندرہ فٹ بلند چڑھا ہوا ادھ پکی کھجوریں کھا رہا ہے۔

مزید نزدیک پہنچ کر ہم نے کار روک دی۔ وہ شخص تیزی سے نیچے اترنے لگا۔ نصف راستے پر اس نے مڑ کر دیکھا تو میرے ساتھی یہ جان کر حیران رہ گئے کہ یہ ریچھ تھا۔ مجھے اندازہ تھا لیکن میں یہ چاہتا تھا کہ میرے دوست خود سے یہ محسوس کریں تو بہتر رہے گا۔ مسز میکٹوش نے اپنی تھرٹی بور سپرنگ فیلڈ رائفل اٹھائی اور کار میں بیٹھے بیٹھے ہی گولی چلا دی۔ گولی لگتے ہی ریچھ چھپکلی کی طرح پٹ سے نیچے گرا۔

اس کے بعد ہم ہوس درگا کی طرف چل پڑے۔ اسی طرح ہم نے دو مزید چکر لگائے۔ آخری چکر پر ریچھ کی لاش کے پاس ہمیں ایک لگڑبگڑ دکھائی دیا۔ اندیشہ پیدا ہوا کہ اگر ریچھ کی لاش اسی طرح رہنے دی جاتی تو کچھ دیر بعد ہی لگڑبگڑ اور دیگر جانور اسے کھا جاتے۔ ہم تیندوں نے مل کر اس بھاری لاش کو بمشکل تمام کار کے بونٹ پر رکھا۔ بمشکل اس لئے کہ ریچھ کے جسم پر بہت گھنے اور چکنے بال ہوتے ہیں کہ ہاتھ جمانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

اگلی صبح چائے کے ساتھ دلیا، گوشت کے تلے ہوئے پارچے اور انڈوں کا ناشتہ مسز میکٹوش نے تیار کیا۔ اس سے فارغ ہو کر ہم نے ریچھ کی کھال اتاری۔ اب ہم نے ہوس درگا جا کر ہونے والی ان سابقہ دو وارداتوں کے بارے پوچھ گچھ کرنے کی ٹھانی۔

کھجور کے باغات سے گذرتے ہوئے ہم نے دن کی روشنی میں دیکھا کہ ایک مخصوص بیل جو کہ امبل یعنی Lanta کہلاتی ہے، نے پورے باغ کو اس طرح لپیٹا ہوا ہے کہ کچھ بھی نہیں دکھائی دیتا۔ ہم یہ دیکھ کر بہت مایوس ہوئے کہ شیر اگر وہاں ہوتا بھی تو ہمیں دکھائی نہ دیتا۔

ہوس درگا جا کر ہم نے سابقہ دو واقعات کی تفصیل سنی۔ پہلی واردات دو ہفتے قبل ہوئی تھی۔ گیارہ سال کی ایک کم عمر لڑکی جو تعلق کے عملدار کی دور پار کی رشتہ دار تھی، کو شیر اس کے گھر کے دروازے سے اٹھا کر لے گیا۔ یہ گھر بستی کے کنارے واقع تھا۔ رات کو آٹھ بجے وہ شاید رفع حاجت کے لئے باہر نکلی اور پھر واپس نہ آئی۔ کوئی شور یا چیخ وغیرہ بھی نہ سنائی دی۔ کچھ دیر تک جب وہ واپس نہ لوٹی تو اس کے والدین کو پریشانی ہوئی اور انہوں نے لالٹینیں جلا کر اس کی تلاش کی کوشش کی۔ وہاں زمین اتنی سخت تھی کہ کوئی نشان نہ مل سکا۔ انہوں نے فوراً ہی پورے گاؤں کو خبردار کر دیا۔ گھنٹے بعد ہی کوئی پچاس کے قریب افراد کی جماعت تلواروں، بھالوں اور دو مزل لوڈنگ بندوقوں سے مسلح ہو کر تلاش میں نکلے۔ رات بہت تاریک تھی۔ انہیں لڑکی نہ مل سکی۔ اگلی صبح جب وہ مزید دور تک تلاش کرتے نکلے تو نصف میل دور جھاڑیوں میں لڑکی کے زیر جامے کے ٹکڑے لٹکے ہوئے ملے۔ اس معصوم بچی کی باقیات کبھی نہ مل سکیں۔

دوسری واردات بارہ دن قبل ہوئی تھی۔ یہاں سے پانی کا بڑا ذخیرہ پانچ میل دور تھا۔ اس کے کنارے سے نصف میل پر ایک جگہ تالاب سا بنا ہوا تھا۔ اس تالاب کو گاؤں کے دو دھوبی بھائی استعمال کرتے تھے۔ ان کے پاس تین گدھے تھے جن پر وہ کپڑے لاد کر لاتے لے جاتے تھے۔ اس شام پانچ بجے کپڑوں کو دھو کر یہ بھائی گدھوں پر لاد کر گاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ چونکہ یہ گدھے ہی ان کی کمائی کا واحد ذریعہ تھے، اس لئے وہ ان کی بطور خاص حفاظت کرتے تھے۔ عموماً ایک بھائی آگے اور دوسرا پچھے چلتا تھا اور تینوں گدھے درمیان میں قطار بنا کر چلتے تھے۔ ابھی وہ ہوس درگا سے میل بھر ہی دور ہوں گے کہ اچانک جھاڑیوں سے شیر نکلا اور اگلے بھائی کو دبوچ کر اتنی سرعت سے غائب ہوا کہ وہ بیچارہ چیخ تک نہ مار سکا۔ دوسرا بھائی جو پیچھے تھا، یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ وہ فوراً الٹے قدموں بھاگا اور تالاب پر ہی جا کر دم لیا۔

آٹھ بجے تک نہ تو گدھے اور نہ ہی دونوں بھائی پلٹے تو ان کی بیویوں کو تشویش ہوئی۔ انہوں نے فوراً ہی پورا گاؤں اکٹھا کر لیا۔ دس بجے تک ساٹھ افراد کی جماعت جو کہ حسب معمول تلواروں، بھالوں اور دو مزل لوڈنگ بندوقوں سے مسلح تھی، لالٹینوں کی روشنی میں تلاش کرنے نکلی۔

جلد ہی انہوں نے ایک گدھے کو راستے کے عین درمیان آرام سے بیٹھے ہوئے پایا۔ دھلے ہوئے کپڑوں کی ایک گٹھڑی ابھی تک اس پر لدی ہوئی تھی۔ تالاب سے کچھ فاصلے پر انہیں دوسرا بھائی بھی ملا۔ وہ غشی کی حالت میں تھا۔ شاید بھائی کے ساتھ ہونے والے حادثے اور پھر جنگل میں تاریکی اور اکیلے ہونے کا احساس ہی اسے بے ہوش کرنے کے لئے کافی تھا۔ اس کے منہ سے کف بہہ رہا تھا اور آنکھیں الٹی پھری ہوئی تھیں۔ گھنٹے بعد اسے ہوش آیا تو اس نے اس جانکاہ حادثے کے بارے لوگوں کو بتایا۔ اس کے ساتھ یہ ساری جماعت جائے حادثہ پر پہنچی۔ نیم دلی سے انہوں نے تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ظاہر ہے کہ اس میں انہیں کوئی کامیابی نہ ملی۔ انہوں نے اگلے دن تک کے لئے تلاش ملتوی کر دی۔

اگلے روز وہ دن کی روشنی میں دوبارہ تلاش کے لئے نکلے ۔ اس بار انہوں نے فوراً ہی خون کے نشانات اور کپڑوں کی دھجیاں پا لیں۔ ان کا پیچھا کرتے کرتے وہ متوفی کی لاش تک پہنچ گئے۔ اسے تین چوتھائی کھایا جا چکا تھا۔ اس کے دو بازو، کھوپڑی، ایک ٹانگ اور ایک پاؤں ہی باقی بچے تھے۔ ان اعضاء کو رسومات کے لئے ہوس درگا واپس لایا گیا۔ دونوں گدھے بھی راستے سے فرلانگ بھر دور چرتے ہوئے مل گئے۔

اس کے علاوہ ایک اور واقعے کی بھی اطلاع ملی۔ چار دن قبل ہوس درگا سے ہولالکور جانے والی بیل گاڑی ہوس درگا سے تین میل دور شیر کے حملے کا شکار ہوئی۔ حملے کا وقت دن کے تین بجے تھا۔ اس بیل گاڑی میں تین بیل جتے ہوئے تھے۔ جونہی شیر نے حملہ کیا، گاڑی بان گاڑی چھوڑ کر بھاگ گیا اور لمبا چکر کاٹ کر ہوس درگا پہنچا۔

اگلی صبح ایک کھوجی جماعت بیل گاڑی کی تلاش میں نکلی۔ بیل گاڑی اسی جگہ موجود تھی اور ایک بیل ابھی تک گاڑی میں جتا ہوا تھا۔ اس سے پچاس گز دور دوسرے بیل کی ادھ کھائی لاش موجود تھی۔ شیر نے بیل کو اس کے ساتھی کی نظروں کے سامنے ہی کھایا تھا۔ شیر نے حملہ کر کے پہلے بیل کو مارا، پھر گاڑی توڑ کر بیل کو اس سے نکالا اور پھر اسے اٹھا کر پچاس گز دور لے گیا۔

ہمیں یہ بھی اطلاع ملی کہ دو اور شکاری بھی اس شیر کی تلاش میں مسافر بنگلے میں پانچ روز سے مقیم ہیں۔

اس اطلاع نے ہمارے سارے جوش پر ٹھنڈا پانی انڈیل دیا۔ یہ شکار کے اصولوں کے خلاف تھا کہ ہم بھی بیک وقت اسی شیر کی تلاش شروع کر دیتے جس کے پیچھے یہ لوگ تھے۔ زیادہ شکاری مل کر یا تو شکار کو بھگا دیتے ہیں یا پھر خود ہی ایک دوسرے کے لئے خطرہ ثابت ہوتے ہیں۔ دو ملاؤں میں مرغی حرام ہونے کا تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔

دس بج رہے تھے اور ہم یہ سب معلومات اکٹھی کرنے کے بعد یہ بحث کر رہے تھے کہ واپسی کب کی رکھی جائے۔ اتنی دیر میں وہ دونوں شکاری بھی آن پہنچے۔ یہ دونوں نوجوان اور بالکل ہی نا تجربہ کار تھے لیکن نہایت ہی پر جوش۔ متعارف ہوتے ہوتے انہوں نے وہ ساری باتیں دہرائیں جو ہم اب تک گاؤں والوں سے معلوم کر چکے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک نو عمر بھینسے کو انہوں نے بطور چارہ دھوبی کی لاش والی جگہ پر باندھا تھا۔ پہلی رات تو کچھ نہ ہوا تھا۔ ابھی دوسری صبح قلی وغیرہ یہ معلوم کرنے گئے ہوئے تھے کہ کیا شیر نے اسے مارا ہے یا نہیں۔

ہم نے ان نوجوانوں کے لئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور یہ بھی بتایا کہ ہم جلد ہی واپس لوٹ رہے ہیں کیونکہ ہم ان کے لئے کوئی مشکلات نہیں پیدا کرنا چاہتے۔ انہوں نے سختی سے اس تجویز کی مخالفت کی اور بتایا کہ وہ لوگ اگلی صبح واپس جا رہے ہیں۔

ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ قلیوں نے آ کر بتایا کہ شیر نے اس بھینسے کو مار ڈالا ہے اور اسے آدھا کھا بھی چکا ہے۔ ان نوجوانوں نے ہمیں دعوت دی کہ ہم لوگ بھی ان کے ساتھ مچان پر بیٹھ کر شیر کی آمد کا انتظار کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہم نے معذرت کر لی۔

ہم نے کھانا اکھٹے کھایا اور پھر اس طرف چل دئے جہاں بھینسا مارا گیا تھا تاکہ اگر ان نوجوانوں کو کسی مدد یا ماہرانہ رائے کی ضرورت ہو تو ہم انہیں مدد دے سکیں۔

ہم نے دیکھا کہ انہوں نے حماقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھینسے کو اس جگہ باندھا جو ہر طرف سے بڑے بڑے پتھروں سے گھری ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے بھینسے کو مضبوطی سے بھی نہ باندھا تھا جس کی وجہ سے شیر اسے مار کر ایک بڑے پتھر کے پیچھے لے گیا۔ یہاں سے وہ درخت مکمل طور پر اوجھل تھا جہاں یہ دونوں مچان باندھنے کا سوچ رہے تھے۔

اس جگہ آدم خور کے آنے کے دو ہی ممکنہ راستے تھے۔ پہلا اس طرف سے جہاں دھوبی کو شیر نے مارا تھا اور دوسرا پہاڑی کی طرف سے جو چوتھائی میل دور تھی۔ اس جگہ دو کافی بڑے پتھر موجود تھے جہاں سے لاش بخوبی دکھائی دیتی تھی۔

انہوں نے ان پتھروں کے پیچھے چھپنے کا سوچا۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ ان کا مقابلہ آدم خور سے ہے۔ یہ ان کی زندگی کی آخری رات بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر وہ بیٹھنے پر ہی مصر ہیں تو انہیں پتھروں کے اوپر بیٹھنا چاہئے۔ انہوں نے میری بات نہ مانی اور کہا کہ وہ ان پتھروں کو ٹیک لگا کر زمین پر ہی بیٹھیں گے۔

انہیں چند جھاڑیوں سے چھپا کر ہم چار بجے بنگلے کافی متفکر ہو کر لوٹے۔ پہلے میں نے سوچا کہ میں ان کے نزدیک ہی کہیں چھپ کر ان کی مدد کے لئے تیار رہوں۔ پھر میں نے سوچا کہ شاید شیر میری موجودگی سے ڈر کر نہ آئے اور بعد میں یہ لڑکے میری نیت پر شک کریں۔ ہمیں اندازہ نہ تھا کہ یہ ہماری آخری گفتگو تھی۔

وہ شام ہم نے بنگلے میں چائے پینے، تمباکو نوشی اور گپ شپ میں گذاری۔ اس کے علاوہ ہم نے مزید مقامی لوگوں سے معلومات لینے کی کوشش بھی کی۔ شام ہی سے تیز ہوا چلنے لگی جس کا رخ جنوب سے مغرب کی طرف تھا۔ اس سے یہ نقصان ہوا کہ ہم لڑکوں کے فائر کی آواز نہ سن پاتے جو یہاں کوئی میل بھر دور تھے۔ ہم نے رات کا کھانا جلدی کھالیا اور پھر میک اور اس کی بیوی سونے چلے گئے۔ میں نے برآمدے میں بیٹھ کر سن گن لینے کا سوچا۔

گیارہ بجنے والے تھے کہ گاؤں کب کا خاموش ہو چکا تھا۔ اکتا کر میں نے بھی سونے کا سوچا۔ اسی وقت میں نے عجیب سی آواز سنی۔ ایسا لگا کہ جیسے کوئی بھاگ رہا ہو اور ٹھوکریں کھا رہا ہو۔ مجھے اپنے بدترین خدشات درست ہوتے معلوم ہوئے۔ میں نے فوراً ہی رائفل اٹھائی اور اس جانب لپکا۔

جلد ہی میں اس تک جا پہنچا۔ وہ انس تھا۔ دونوں میں سے بڑا۔ اس کے کپڑے لیر لیر تھے اور بدن پسینے سے بھیگا ہوا۔ اس کی چال شرابیوں سے مشابہ تھی۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتا اور اکثر ٹھوکر کھا کر گرتا پھر اٹھ کر بھاگتا۔ اسے کندھے سے پکڑ کر میں نے اس کے ساتھی کے بارے پوچھا۔ اس کا سانس اتنا پھولا ہوا تھا کہ بول نہ سکا۔ مجھے اپنے خدشات درست ہونے کا اب یقین ہو چلا۔ آخر کار کچھ دیر بعد جب اس کا سانس بحال ہوا تو اس نے بتایا کہ شیر اس کے ساتھی کو لے گیا ہے اور میرے شانے سے لگ کر بچوں کی طرح بلکنے لگا۔

میں اسے سہارا دیتا ہوا بنگلے تک لایا اور پھر میک اور اس کی بیوی کو جگا دیا۔ پھر ہم نے انس کو تھوڑی سی برانڈی پلائی اور پھر اسے لٹا کر دوہرا کمبل اوڑھا دیا۔ مسز میک نے اس کی ہتھیلیوں کی مالش کی اور ہم سب بے صبری سے اس کی کہانی سننے کا انتظار کرنے لگے۔

س نے بتایا کہ وہ راستے کے نزدیک والے پتھر کے پاس بیٹھا اور اس کا ساتھی ٹاڈ دوسرے پتھر کے پیچھے۔ اندھیرا چھانے سے ذرا قبل اس نے اپنے ساتھی ٹاڈ کے پیچھے جھاڑیوں میں کسی لال رنگ کے جانور کو ہلتے دیکھا۔ اس طرف زمین بہت ڈھلوان تھی۔ ظاہر ہے کہ انس ٹاڈ کو کچھ نہ کہہ سکتا تھا کہ خود یہ سارا منظر ٹاڈ کی نظروں سے اوجھل تھا۔ اس نے خود اس طرف نگاہیں جمائے رکھیں لیکن پھر کچھ نہ دکھائی دیا۔

اندھیرا چھانے کے بعد وقت آہستہ آہستہ گذرتا رہا۔ دس بجے تک سب کچھ معمول کے مطابق رہا۔ اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ تاروں کی روشنی میں بمشکل وہ چند فٹ دور تک دیکھ سکتا تھا۔ اچانک اس نے مدھم سی آواز سنی اور پھر اسے گھسٹنے کی آواز آئی۔ پھر ہڈیوں کے چبانے کی آواز آئی۔ اس نے اندازہ لگایا کہ شیر اپنے شکار پر واپس آ چکا ہے اور اب اسے کھا رہا ہے۔ اس نے کچھ دیر تک انتظار کیا کہ شاید ٹاڈ پہل کرے۔ یہاں سے ٹاڈ اور اس کا فاصلہ لاش سے یکساں ہی تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ٹاڈ بھی یہ آواز بخوبی سن رہا ہوگا۔

کافی وقت گذر گیا لیکن معلوم نہیں کیوں، ٹاڈ دم سادھے رہا۔

اچانک انس کو خیال آیا کہ شاید ٹاڈ سو چکا ہے۔ اس لئے اس نے خود ہی فائر کرنے کی ٹھانی۔ اس نے رائفل کی نال کو سیدھا کر کے ٹارچ روشن کی۔ طاقتور روشنی میں ایک بہت بڑا شیر اسے بھینسے کی لاش پر دکھائی دیا۔

اسی وقت ایک چیخ سنائی دی اور ساتھ ہی ایک دھاڑ۔ پھر ایک اور چیخ اور پھر ایک اور بار دھاڑ۔ انس نے فوراً ہی ٹارچ کو شیر سے ہٹا کر ٹاڈ کی طرف ڈالا۔ اس دوران شیر بھینسے کی لاش سے جست لگا کر جھاڑیوں میں گم ہو چکا تھا۔

اسے ٹاڈ کی جگہ خالی دکھائی دی۔ وہ اسے پکارتے ہوئے اس کی جگہ کی طرف بھاگا۔ ٹاڈ کی رائفل، اس کی پانی کی بوتل اور ادھ کھایا سینڈوچ وہیں پڑے تھے اور وہ خود غائب تھا۔ اب انس پاگلوں کی طرح دوست کی تلاش میں جنگل میں گھس گیا۔ اندھا دھند بھاگنے کی وجہ سے وہ راستہ بھول گیا۔ قسمت سے کچھ دیر بعد اس کا رخ بنگلے کی طرف ہو گیا۔

انس کی کہانی سے یہ واضح تھا کہ ہمارا سامنا اب دو مختلف شیروں سے تھا۔ پہلا شیر جو مویشی خور یعنی لاگو تھا اور دوسرا جو آدم خور۔ شاید وہ نر مادہ کا جوڑا تھے۔ میں نے زندگی بھر اتنا عجیب جوڑا نہ دیکھا تھا۔ یہ بھی ناممکن تھا کہ وہ ایک ہی شیرنی کے بچے ہوں جن میں سے ایک نے مویشی خوری اور دوسرے نے آدم خوری کو چنا ہو۔ انس نے دوسرے مویشی خور شیر کو بہت بڑا شیر کہا تھا۔ یہ کسی بھی طرح نوعمر نہیں ہو سکتا تھا۔ آدم خور کو آج تک کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا۔

پندرہ منٹ میں ہم نے پورے گاؤں کو جگا دیا۔ بیس افراد کو ساتھ لے کر ہم روانہ ہوئے۔ ان لوگوں کے پاس دو مزل لوڈنگ بندقیں، تلواریں اور بھالے تھے۔ انس اور مسز میک نے بھی ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔ جلد ہی ہم لوگ اس پتھر تک پہنچ گئے جہاں سے ٹاڈ کو آدم خور لے گیا تھا۔

تلاش کرتے کرتے ہم نے ایک عجیب سے ربڑ کا جوتا دیکھا جو شاید ٹاڈ کے بائیں پاؤں سے گرا تھا۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ شیر کا رخ چھوٹی پہاڑی کی طرف ہے۔ اس طرف ہر ممکن تیز رفتاری سے بھاگتے ہوئے ہم اس جگہ پہنچے جہاں آدم خور نے ٹاڈ کو پہلی بار زمین پر ڈالا تھا۔ یہاں سے وہ پھر شاید انس کے شور و غل سے گھبرا کر پھر ٹاڈ کے ہمراہ آگے چل پڑا۔ یہاں سے اب خون کی لکیر ہماری رہنمائی کر رہی تھی۔ اس لکیر کی مدد سے ہم پہاڑی کے دامن تک پہنچ گئے۔

میری اور میک کی نگرانی میں کھوجی پارٹی اب پوری طرح محتاط ہو کر ٹاڈ کی لاش تلاش کر رہی تھی۔ ساڑھے تین پر ہم نے لاش کو پا لیا۔ اسے آدم خور نے آدھا کھا لیا تھا۔ اس کو دیکھ کر انس کا عجیب حال ہوا۔ پہلے تو وہ خوب رویا پھر بیہوش ہو گیا۔ صبح کے چھ بجے ہم لوگ ٹاڈ کی باقیات لے کر گاؤں پلٹے۔ انس اب بالکل ہی بیکار ہو چکا تھا۔

ہم نے ٹاڈ کی باقیات کو میک کی کار میں رکھا۔ میں نے انس کو کار میں بٹھایا اور ہم لوگ چیتل درگ کی طرف چل پڑے۔ یہاں انس کو ہم نے مقامی ہسپتال میں داخل کرا دیا۔ باقی کا پورا دن رسمی اور بیکار دفتری کاروائیوں میں گذرا جو اس طرح کے حادثوں کے بعد ہوتی ہیں۔ سورج ڈوبتے ڈوبتے ہم ہوس درگا واپس پہنچے۔ ہم بہت افسردہ اور انتقامی جذبے سے بھرے ہوئے تھے۔ رات ہم نے سو کر گذاری۔ مسز میک نے ان تمام واقعات کا نہایت پامردی سے مقابلہ کیا تھا۔ ان کی موجودگی سے ہمیں ناقابل بیان مدد ملتی رہی۔

اگلی صبح ہم لوگ پھر سے جائے حادثہ پر موجود تھے۔ یہاں اگلے تین چار گھنٹوں میں ہم نے مختلف شواہد اکھٹے کئے۔ زمیں سخت اور خشک تھی۔ یہاں آدم خور کے نشانات کا ملنا ناممکن سی بات تھی۔ انس کی زبانی مویشی خور شیر کا نر ہونا معلوم ہو چکا تھا۔ ہمارا اندازہ تھا کہ آدم خور مادہ شیرنی ہی ہو سکتی ہے۔

جب اس جگہ کچھ نہ ملا تو ہم نے آدم خور کے راستے کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ آدم خور کے آنے اور جانے کے راستے بھی چھان مارے۔ سخت زمین ہونے کے باعث ایک بھی پگ نہ مل سکا۔ آدم خور کی جسامت اور جنس کے بارے ابھی تک ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔

ہوس درگا سے ہم چیتل درگ گئے تو دیکھا کہ گدھوں بھینسے کی لاش کو مکمل طور پر صاف کر دیا ہے۔ اب ہمیں یہ کام بھی نئے سرے سے شروع کرنا تھا۔

صلاح مشورے کے بعد ہم نے ایک اور بھینسا خریدا اور اس راستے کے نزدیک باندھا جو دھوبی کی جائے ہلاکت سے نزدیک تھا۔ میک اس پر بیٹھ کر انتظار کرتا اور میں وہاں موجود ایک بڑے پتھر پر بیٹھتا جو ٹاڈ والے مقام کے نزدیک تھا۔ ہمارا منصوبہ یہ تھا کہ چونکہ دونوں شیر، مویشی خور اور آدم خور ایک ساتھ ہی شکار کو نکلتے ہیں تو مویشی خور کی طرف سے بھینسے کو مار لینے کے بعد ممکن تھا کہ آدم خور بھی اسے کھانے لگ جاتا۔ اس طرح میک کو گولی چلانے کا موقع ملتا۔ اگر وہ بچھڑے کو نہ بھی کھاتا اور پاس ہی رک کر انتظار کرتا تو میں اس کے استقبال کو موجود تھا۔ میرا پتھر اس جگہ تھا جو پہاڑی کی بالکل سیدھ میں تھی۔ اس کے علاوہ یہاں سے راستے کے دونوں اطراف دیکھنا بھی ممکن تھا۔ شیر کی موجودگی یا آمد کی اطلاع اس کے سانس لینے کی بھاری آواز سے پتہ چل سکتی تھی۔

چونکہ میک کے بیٹھنے کے لئے کوئی جگہ نہ تھی اور نہ ہی کوئی درخت پاس موجود تھا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ زمین میں ایک گڑھا کھود کر اس میں میک کو بٹھا دیا جائے۔ حفاظت کے خیال سے ہم نے یہ بھی طے کیا کہ ایک بڑی کڑاہی کو الٹا کر کے میک کے سر پر رکھ دی جائے۔ یہ کڑاہی گڑ بنانے کے لئے عام استعمال ہوتی تھی اور کافی بڑی تھی۔ اس کی موٹائی کوئی چوتھائی انچ کے برابر تھی اور ہم نے ایسی کئی کڑاہیاں ہوس درگا میں دیکھی تھیں۔

جلد ہی ہم گاؤں سے پلٹے۔ ہمارے ساتھ چھ بندوں نے یہ کڑاہی اٹھائی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ میک کی کار پر ڈنڈے بھی لدے ہوئے تھے جو اس کڑاہی کو چھپانے کے لئے استعمال ہونے تھے۔ شب بیداری کے دیگر لوازمات بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے اس کڑاہی کو الٹ کر رکھ دیا اور اس کے نیچے چار چھوٹے چھوٹے پتھر رکھ دئے۔ اب کڑاہی زمین سے چھ انچ جتنی بلند تھی۔ اس خلا سے نہ صرف ہوا کی آمد و رفت ممکن تھی بلکہ اس سے میک شیر کو دیکھ کر اس پر گولی بھی چلا سکتا تھا۔ کڑاہی رکھنے کے بعد ہم نے اس پر ڈنڈوں کی مدد سے جھاڑیاں لگا دیں۔ اس پر ہم نے گڑھے سے نکلی ہوئی مٹی بھی ڈال دی۔ کچھ فاصلے سے یہ کڑاہی اب محض ابھری ہوئی زمین محسوس ہو رہی تھی۔

جب میک بیٹھنے لگا تو ایک مسئلہ پیدا ہوا۔ میک کی بیوی نے بھی اس کے ساتھ بیٹھنے کی ضد کی۔ ہم نے اسے باز رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہایت ضدی ثابت ہوئی۔ بالآخر ہم نے گڑھے پر سے کڑاہی ہٹائی اور میک اور اس کی بیوی اندر گھس گئے۔ اس کے بعد پھر ہم نے سارا کچھ نئے سرے سے ترتیب دے کر رکھا۔ میرے خیال سے وہ دونوں بالکل محفوظ تھے۔ ان کے سروں پر موٹی آہنی کڑاہی موجود تھی۔

شام پانچ بجے میں چٹان پر چڑھا اور لیٹ کر شیر کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔ سارا دن دھوپ میں ہونے سے یہ پتھر ابھی تک سخت گرم تھا۔

گھنٹے گذرتے گئے لیکن پورا جنگل چپ تھا۔ حتیٰ کہ الو تک نہ تھے۔ مکمل گہرا سکوت طاری تھا۔ ستارے جھلملا رہے تھے۔ میں نے فریڈ ٹاڈ کے انجام کے بارے کافی دیر تک سوچا۔

آدھی رات گذر گئی کہ میں نے اچانک دو بار سیٹی کی آواز سنی۔ یہ ہمارا طے شدہ سگنل تھا۔ میں فوراً پتھر سے نیچے اترا اور ٹارچ جلا کر نہایت احتیاط سے ان تک پہنچا۔ وہ دونوں بھینسے کے پاس ہی موجود تھے۔ بھینسا ابھی تک زندہ سلامت تھا۔ کڑاہی ایک طرف الٹی پڑی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ نصف شب تک انہوں نے نہ کچھ دیکھا نہ سنا۔ میک بھینسے کی طرف منہ کئے بیٹھا تھا اور اس کی بیوی اس کی پشت کی جانب نگران تھی۔ اچانک اس نے اپنی ایک طرف ہلکی سی آواز سنی۔ اس نے جھک کر زمین اور کڑاہی کے درمیانی خلا سے جھانکا تو پہلے پہل کچھ نہ دکھائی دیا۔ پھر اسے ایک لمبا سا پتھر دکھائی دیا جو ان سے چھ فٹ دور تھی۔ اس کا حجم باتھ ٹب جتنا تھا۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ شام تک یہاں ایسی کوئی چیز نہیں تھی۔ اس نے مزید آگے جھک کر دیکھا تو وہ شیر نکلا۔ وہ خوف سے کانپ گئی۔ اس نے اپنے شوہر کو ٹہوکا دیا۔ شیر اسی کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔ اس نے بار بار شوہر کو ٹہوکے دئے۔ جس جگہ میک دیکھ رہا تھا، شیر اس سے دوسری طرف تھا۔ یہ گڑھا چونکہ ایک آدمی کے لئے تھا، دو آدمیوں کی موجودگی سے اس میں رخ بدلنا آسان نہیں تھا۔

میک نے بار بار کے ٹہوکوں سے محسوس کیا کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔ اس نے آہستگی سے مڑنے کی کوشش کی۔ اس کی رائفل کی نال جو کہ باہر کی طرف نکلی ہوئی تھی، کڑاہی سے ٹکرائی اور ہلکی سی آواز پیدا ہوئی۔ شیر نے "ووف" کی آواز نکالی اور جست لگا کر غائب ہو گیا۔ انہیں اندازہ تھا کہ شیر ان کی موجودگی سے آگاہ ہو گیا ہے اور اب واپس نہ آئے گا۔

اب چونکہ مزید رکنا بیکار تھا، ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اب ہوس درگا بنگلے کو واپس لوٹ جائیں۔ بھینسے کو ادھر ہی چھوڑ دیا کہ ہمارے آدمی اگلے دن آ کر لے جائیں گے۔

اگلی صبح ہم نے بندے بھیجے تاکہ وہ بھینسے کو لے آئیں۔ فوراً ہی انہوں نے آ کر اطلاع دی کہ شیر بھینسے کو مار کر مکمل ہڑپ کر چکا ہے۔ بعجلت ہم اس جگہ تک پہنچے اور اصل صورتحال کا جائزہ لیا۔ بھینسے کے سر اور کھروں کے سوا سب کچھ چٹ ہو چکا تھا۔ یہاں ہم نے دیکھا کہ دو مختلف شیروں نے پیٹ بھرا تھا۔ ساتھ ہی پڑی کڑاہی اور جھاڑیاں وغیرہ بھی انہیں نہ ڈرا سکیں۔

ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آدم خور شیر موقع ملنے پر مویشی کھانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اسی طرح یہ بھی ممکن تھا کہ یہ ایک دوسرا مویشی خور ہوتا۔ یعنی ایک آدم خور اور دو مویشی خور۔

اگلی رات ہم نے وہی ترکیب دوہرائی۔ اس بار ہم نے بھینسا چوتھائی میل دور باندھا۔ اس بار ہم نے اتنا بڑا گڑھا بنایا کہ وہ دو آدمیوں کے لئے کافی ہو۔ اس بار میک اور میں اس میں بیٹھے۔ خوش قسمتی سے مسز میک نے دوبارہ بیٹھنے سے سختی سے انکار کیا۔ میک کا رخ بھینسے کی طرف اور میں اس کی مخالف سمت نگران تھا۔ ہماری کمریں ملی ہوئی تھیں۔ اس بار ہم نے نسبتاً بڑے پتھروں سے کڑاہی کو بلند کیا تاکہ باہر کا بہتر جائزہ لے سکیں۔

تین راتیں ہم نے اسی طرح گذاریں، کچھ بھی نہ ہوا۔ چوتھے دن صبح دس بجے جب ہم سو رہے تھے تو ہمیں جگا کر اطلاع دی گئی کہ کھجوروں کے باغ میں ایک اور آدمی مارا گیا ہے۔ یہ واقعہ تقریباً اسی مقام پر ہوا تھا جہاں ہم نے کچھ دن قبل ریچھ مارا تھا۔

کار پر سوار ہو کر ہم لوگ بعجلت ادھر پہنچے تو ہمیں کچھ نہ ملا۔ متوفی کے رشتہ دار اس کی لاش کو لے گئے تھے۔ بظاہر ہمارے پاس اب یہاں کچھ اور کرنے کو نہیں تھا۔

اب ہم نے ہولالکور سے ایک اور بھینسا خریدا اور اس جگہ باندھا جہاں یہ واردات ہوئی تھی۔ اس جگہ بالکل ساتھ ہی ایک درخت موجود تھا جہاں میں نے مچان بندھوائی۔ میک گذشتہ چار راتوں کی بیداری سے تھکا ہوا تھا۔ اس نے معذرت کر لی۔

اگلی صبح میں بہت تھکا ہوا اور مایوس پلٹا۔ میں نے اپنے آدمیوں کو بھیجا کہ وہ جا کر بھینسا کھول لائیں۔ نصف گھنٹے بعد وہ بھاگتے ہوئے آئے کہ جونہی انہوں نے بھینسا کھولا ہی تھا کہ شیر نے نزدیکی جھاڑی سے نکل کر بھبکی دی۔ وہ سر پر پیر رکھ کر بھاگے اور میرے پاس ہی آ کر دم لیا۔

فوراً ہی کار میں بیٹھتے ہوئے ہم اس جگہ پہنچے۔ وہاں جا کر دیکھا کہ بھینسا زندہ سلامت ہے۔ ہمارا دل چاہا کہ اپنی بوٹیاں نوچ لیں۔ ہمارے اندازے کے مطابق تو بھینسے کا کام تمام ہو چکا ہوتا۔ میں نے مچان پر بیٹھتے ہوئے میک کو واپس بھیج دیا۔ میرا اندازہ تھا کہ شیر شاید دوبارہ ادھر آئے۔

ایک بجے تک کچھ نہ ہوا۔ بھوک اور نیند کی شدت سے تنگ آ کر مجھے واپسی کا رخ کرنا پڑا۔ میں نے واپسی پر بھینسا کھول کر ساتھ لے لیا۔

اس رات ہم نے اسی جگہ دوبارہ بھینسا باندھا اور میں اس پر بیٹھا۔ میک اور اس کی بیوی پھر دوسری طرف جا کر کڑاہی کے نیچے بیٹھے۔ ان کے پاس ہی دوسرا بچھڑا بندھا ہوا تھا۔ ہم نے مسلسل تین راتیں اسی طرح گذاریں۔

اگلی صبح ساڑھے چھ تک کچھ نہ ہوا۔ وہ کار پر سوار ہو کر ہوس درگا سے آئے اور مجھے ساتھ لے گئے۔ وہاں ہم نے دوپہر کا کھانا کھا کر اپنی نیند پوری کی۔

چار بجے ہماری نیند شور و غل سے اکھڑی۔ باہر نکل کر دیکھا کہ کافی سارے لوگ جمع ہیں۔ ان سے استفسار پر معلوم ہوا کہ یہ درجن بھر آدمی مل کر ہولالکور سے چیتل درگ کی طرف مویشی منڈی لے جانے کی نیت سے لا رہے تھے تاکہ مغرب سے قبل ہی وہ منزل پر پہنچ جائیں۔ ہولالکور سے تین میل دور ان کے مویشیوں میں سے ایک رک گیا۔ اگلے مویشی کوئی پچیس گز دور پہنچ چکے تھے۔ ان میں ایک آدمی اس جانور کو واپس لانے کے لئے گیا ہی تھا کہ اس پر شیر نے حملہ کر دیا۔ اندازہ یہ تھا کہ شیر کافی دور سے ان کا پیچھا کر رہا تھا اور سڑک کے بالکل ہی کنارے چھپا ہوا تھا۔ جس آدمی پر شیر حملہ آور ہوا، وہ فوراً ہی دوڑا اور ساتھ موجود چٹان پر چڑھا۔ یہ سارا واقعہ باقی پوری جماعت دیکھتی رہی لیکن خوف کے مارے کچھ نہ کر سکے۔

شیر نے چھلانگ لگا کر اس بندے پر اپنا اگلا پنجہ جمایا تاکہ اسے نیچے گھسیٹ سکے۔ وہ بیچارہ مدد کے لئے چلاتا رہا اور دونوں ہاتھوں سے اس نے درخت کی ٹہنیاں پکڑ لیں جو اس چٹان پر جھکا ہوا تھا۔

پہلی کوشش میں ناکام ہو کر شیر نے دوسرا حملہ کیا۔ پہلی کوشش میں وہ اس بندے کی ران ادھیڑ چکا تھا۔ اس کی ران سے گوشت اور کھال لٹک رہے تھے۔

دوسرے حملے میں اس نے اگلے دونوں پنجے اس شخص پر جمائے اور اسے گھسیٹ لیا۔ وہ بیچارہ شیر کا وزن نہ سہار سکا اور نیچے گرا۔ اب شیر نے اسے گردن سے دبوچا اور یہ جا وہ جا۔

کار پر سوار ہو کر ہم اس جگہ چند ہی منٹ میں پہنچے۔ وہاں جا کر اس واقعے کی تفصیلات واضح ہوئیں۔ اس شخص کے ہتھیلیوں کی کھال اور ناخن درخت کی اس شاخ پر موجود تھے۔ ہر طرف خون ہی خون تھا۔

ہم نے ان نشانات کا پیچھا کیا جو اب گھنے جنگل کی طرف جا رہے تھے۔ اس وقت پانچ بج رہے تھے اور ہمارے پاس صرف ایک گھنٹہ ہی باقی تھا۔ اس کے بعد سورج غروب ہو جاتا۔ جلد ہی ہمیں پھٹے کپڑے، خون کا بڑا سا نشان بھی دکھائی دیا۔ شاید یہاں شیر نے متوفی کو پہلی بار نیچے ڈالا تھا۔

اس طرح فرلانگ بھر بعد ہمیں ایک جھاڑیوں سے ڈھکی چٹان دکھائی دی۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ اس جگہ بھی شیر اسے کھانے کو نہ رکا تھا۔ ابھی میں نے یہ سوچا ہی تھا کہ چٹان کے دوسرے سرے سے ہلکی سی غراہٹ آئی۔ اس کے فوراً بعد پتھر لڑھکنے کی آواز آئی۔ موڑ مڑتے ہوئے ہم نے لاش کو دیکھا جو اپنے ہی خون میں نہائی اور تہائی کھائی جا چکی تھی۔

وقت تیزی سے گذر رہا تھا اور یہاں کوئی مناسب درخت بھی نہ تھا۔ واحد جگہ ان چٹانوں میں سے کسی ایک پر چڑھ کر بیٹھنا ہی ہو سکتی تھی۔ یہ ایک چٹان بارہ فٹ بلند تھی۔ اس کی تین اطراف انتہائی ڈھلوان تھیں جہاں سے آدم خور کے حملے کا کوئی امکان نہ تھا۔ چوتھی طرف سے چڑھنا کافی آسان تھا۔ بدقسمتی یہ کہ وہ چوتھی طرف شکار کے سامنے نہ تھی بلکہ نوے درجے کے زاویے پر تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں چٹان پر لیٹ جاتا تو مجھے نہ صرف لاش کی طرف بلکہ چوتھی طرف بھی نگاہ رکھنی پڑتی ورنہ شیر مجھے با آسانی لے جاتا۔ میرے پیچھے کی طرف ایسی تھی کہ اس طرف سے شیر کے آنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس طرف سے شیر کو مجھ تک پہنچنے کے لئے بارہ فٹ بلند چھلانگ لگانی ہوتی۔ اگر وہ ناکام رہتا تو میرے پاس اتنا موقع ہوتا کہ دوسری چھلانگ سے قبل گولی چلا سکوں۔ میرے اندازے میں کوئی بھی شیر اتنی غیر یقینی حالت میں چھلانگ نہ لگائے گا۔

چوتھی طرف کو پتھروں اور جھاڑیوں سے چھپا کر میں اس پتھر پر لیٹ گیا۔ میں نے میک سے یہ بھی کہہ دیا کہ رات کا کچھ حصہ وہ ہوس درگا اور ہولالکور کے درمیان چکر لگاتا رہے۔ اس طرح یہ بھی ممکن تھا کہ اس کی مڈبھیڑ شیر سے ہوتی۔

میرے دوست اور دیہاتیوں کی روانگی کے بعد میں اکیلا رہ گیا۔ میرے سامنے ہی زمین پر متوفی کی لاش موجود تھی جو مکمل نہ تھی۔ وقت گذرتا رہا اور میں دائیں جانب سے بھی نگران رہا۔ اس سے ذرا دور موجود جنگل اتنا دھندلا ہو گیا تھا کہ وہاں شاید ہاتھی بھی نہ دکھائی دیتا۔

دس بجے میل بھر دور سے سانبھر کی آواز آئی۔ اس کے کچھ دیر بعد شیر کی آواز آئی جس کا جواب فوراً ہی سڑک کی جانب سے دوسرے شیر نے دیا۔

اب پوری صورتحال واضح ہوئی۔ اب ہمارا مقابلہ دو یا یوں کہہ لیں کہ تین ممکنہ شیروں سے تھا۔ ان میں سے ایک آدم خور، کمینہ خصلت اور مکار تھا۔ دوسرا مویشی خور اور اتنا ہی نڈر اور کمینہ تھا۔ لیکن یہ بھی ناممکن نہیں تھا کہ دونوں مفت کے چارے یا مویشی پر ہاتھ نہ صاف کرتے۔ اس طرح ایک تیسرے شیر کی موجودگی کا امکان بھی پیدا ہو چلا تھا۔ یہ تیسرا شیر ممکن تھا کہ مویشی خور ہوتا یا آدم خور یا دونوں ہی عادتیں اس میں پائی جاتیں۔ اب تک خشک اور سخت زمین کے باعث ہمیں کہیں بھی شیروں کے پگ نہیں مل سکے۔ اس طرح ہمیں کچھ بھی اندازہ نہ تھا کہ یہ جانور کتنے اور کس جنس سے تعلق رکھتے ہیں۔

شیروں کی آواز بند ہو چکی تھی۔ جھینگروں کی جھائیں جھائیں کے سوا اور کچھ نہ سنائی دیتا تھا۔ کبھی کبھار اُلو کی آواز آ جاتی تھی۔ تیز ہوا سے جب درختوں کی چوٹیاں جھکتیں تو ایسے لگتا جیسے سمندر کی بے قرار موجیں ٹکرا رہی ہیں۔

اچانک ہی بغیر کسی آواز یا اندازے کے بغیر میرے عقب سے پتھروں کے لڑھکنے کی آواز آئی۔ پھر اچانک ایک دھاڑ اور پھر شیر کے پتھر سے ناخن کھرچنے اور پھر کسی بھاری جسم کے نیچے گرنے کی آواز آئی۔ جب تک میں مڑ کر چٹان کے سرے تک پہنچتا آدم خور جا چکا تھا۔ آدم خور نے وہ کام کیا تھا جو میرے وہم و گمان سے باہر تھا۔ کسی طرح وہ میری موجودگی سے باخبر ہو گیا تھا۔ اس نے عقب سے گھات لگائی اور اس جگہ پہنچنے کے لئے بارہ فٹ اونچی چھلانگ لگائی جہاں میں لیٹا ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے شیر کی یہ چھلانگ چند ہی انچ نیچے رہی۔

رات کا بقیہ حصہ میں نے بہت محتاط ہو کر اور اس پتھر پر بیٹھ کر گذارا۔ اگلے دن سورج اچھی طرح جب چڑھ گیا تو میں نیچے اترا۔ میرا اندازہ تھا کہ آدم خور پھر گھات لگانے کی کوشش کرے گا۔ لیکن خوش قسمتی سے میں سڑک تک بخیریت پہنچ گیا۔ چند منٹ بعد ہی میک کار پر مجھے لینے آ گیا۔ اسے بھی ساری رات ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

بنگلے پر پہنچنے کے بعد ہم نے ایک جماعت کو اس لئے بھیجا کہ وہ اس لاش کو اچھی طرح جھاڑیوں سے ڈھانپ دیں تاکہ گدھ وغیرہ اس کو نہ کھا سکیں۔ میں اس پر اگلی رات بھی بیٹھنے کا سوچ رہا تھا۔ ابھی وہ آدمی روانہ ہی ہونے والے تھے کہ متوفی کے رشتہ دار بھی پہنچ گئے۔ انہوں نے مجھ سے باقیات کو رسومات کے لئے لے جانے کی اجازت مانگی۔ میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تاکہ میں اگلی رات پھر بیٹھ سکوں۔ لیکن وہ نہ مانے۔ اس رات آدم خور کو ٹھکانے لگانے کے سنہری موقع ہاتھ سے نکل گیا جس کا سارا ذمہ متوفی کے رشتہ داروں پر تھا۔

دو گھنٹے بعد ہمیں اطلاع ملی کہ پچھلے ہفتے ہم نے ہوس درگا کے نزدیک جو بھینسا بندھوایا تھا وہ مارا جا چکا ہے۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں ہم نے کڑاہی نے نیچے چھپ کر شیر کا انتظار کیا تھا۔

اس رات میک اور میں اس کڑاہی کے نیچے پھر بیٹھے۔ آدھی رات کو ہمیں شیر کی موجودگی کا علم ہوا جو ہمارے اردگرد کی جھاڑیوں میں پھر رہا تھا۔ بار بار وہ آوازیں نکالتا۔ ہم نے بے چینی سے اس کا انتظار جاری رکھا۔ پینتالیس منٹ تک وہ ایسے ہی پھرتا رہا۔ ظاہر ہے کہ اسے بھینسے کی لاش کے پاس ہماری موجودگی کا علم ہو چکا تھا۔ اس وقت میک کو ایک بہت ہی نڈر لیکن احمقانہ خیال سوجھا۔ اس نے سرگوشی کی کہ وہ گڑھے سے نکل کر واپس جاتا ہے۔ اس طرح شیر بے فکر ہو کر لاش پر آئے گا اور میں اسے آسانی سے مار سکوں گا۔

اس سکیم پر عمل کرتے تو کامیابی یقینی تھی کیونکہ پچھلی بار ہمارے جانے کے بعد شیر آیا تھا اور اس نے لاش کر ہڑپ کیا تھا۔ لیکن ایسا کرتے وقت میک کے لئے خطرات بڑھ جاتے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ شیر وہی آدم خور ہوتا یا اس کے ساتھ آدم خور بھی موجود ہوتا۔ مجھے کوئی نصف گھنٹہ لگا پھر جا کہیں میں میک کے دماغ سے یہ خیال نکال سکا۔ واقعی اتنی تاریکی میں باہر نکلنا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے برابر ہوتا۔

شیر مسلسل گھومتا رہا اور علی الصبح چلا گیا۔ دن نکلنے پر ہم مایوس اور تھکے ہارے واپس لوٹے۔

اگلے دو دن بغیر کسی خاص واقعے کے گذرے۔ رات بھر ہم لوگ چیتل درگ، ہوس درگا اور ہولالکور کے چکر کاٹتے رہے کہ شاید کہیں شیر کی آنکھیں دکھائی دے جائیں۔ ہم طاقتور برقی ٹارچیں استعمال کر رہے تھے۔

تیسری صبح لمبانی لکڑہاروں کی ایک جماعت آئی۔ یہ لوگ جنگل میں چار ایک میل اندر کیمپ لگائے ہوئے تھے۔ رات کو انہوں نے کیمپ کے گرد آگ جلائی ہوئی تھی۔ رات کے پچھلے پہر جب ہر کوئی سو رہا تھا تو شاید آگ ایک جگہ سے کچھ مدھم پڑ گئی۔ شیر نے کسی نہ کسی طرح اسے عبور کیا اور ایک بیل کی گردن پکڑ لی۔ باقی کے بیلوں نے اچھل کود مچائی تو یہ سب جاگ گئے۔ انہوں نے شیر پر جلتی لکڑیاں پھینکیں اور شور مچایا تو وہ بھاگ گیا۔ بیل کے گلے پر شیر کے دانتوں کے گہرے نشانات تھے۔ اگلی صبح یہ سب لوگ چار بیل گاڑیوں پر واپس گاؤں آئے کہ پانچویں گاڑی کا بیل بہت زخمی تھا۔

ان لمبانیوں میں سے ایک ایسا بھی تھا جو اس علاقے میں پلا بڑھا تھا۔ یہ پورا علاقہ اسے زبانی یاد تھا۔ اس نے بتایا کہ جنگل میں چھ میل دور ایک چھوٹی سی ندی ایک تالاب سے جا ملتی ہے۔ اس تالاب کا پانی نہایت سرد اور شفاف ہے۔ تالاب کے کنارے گھنے درخت اگے ہوئے ہیں اور چاروں طرف ایسے پھسلوان پتھر ہیں کہ ان پر قدم جمانا ممکن نہیں۔ اس کا خیال تھا کہ وہ جگہ شیروں کی رہائش گاہ ہے۔ چونکہ یہ گرمیوں کے دن تھے اور دن بہت گرم۔ ہمارا اندازہ تھا کہ یا تو دن کو شکار سے پیٹ بھر کر جلد یا بدیر شیر اس طرف لازماً پیاس بجھانے آئے ہوں گے۔

یہ شخص بخوبی جانتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس نے تسلیم کیا کہ وہ غیر قانونی شکاری کے طور پر اکثر شکار کھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ببول سے شراب بھی کشید کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس جگہ کے بارے شاید ہی کوئی جانتا ہوگا۔

تین بجے ہم اس جگہ پہنچے۔ اس سے بہتر شیر کی رہائش میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ یہ تالاب چاروں طرف سے پتھروں سے گھرا ہوا تھا اور ایک جانب جہاں سے ندی آتی تھی، قابل گذر تھی۔ یہاں نرم مٹی پر شیر کے بے شمار پگ دکھائی دئے۔ ان سے پتہ چلا کہ ایک نر اور ایک مادہ شیرنی ادھر آتے ہیں۔ سابقہ اطلاعات کی روشنی میں بڑا شیر جو کہ نر تھا، لاگو شیر تھا اور دوسری آدم خور شیرنی۔

ایک بڑا اور گھنا آم کا درخت بالکل اسی جگہ کے نزدیک تھا جہاں سے ندی تالاب میں داخل ہوتی تھی۔ اس کی نچلی شاخیں پندرہ فٹ کی بلندی پر تھیں۔ ہم نے اس پر مچان باندھی جو لمبانی لکڑہارا ساتھ لایا تھا۔ ساڑھے چار بجے ہم اس پر بیٹھ گئے کیونکہ اس وقت لمبانی کو اکیلا بھیجنا نادانی ہوتی۔

گھنے درختوں کے سائے کے باعث تالاب پر سات بجے تک بالکل گھپ اندھیرا چھا گیا۔ اس وقت تک کسی بھی جانور نے ادھر کا چکر نہ لگایا تھا۔ ظاہر ہے کہ جنگل کے بادشاہ کی قربت کا خوف رہا ہوگا۔ گھنٹوں پر گھنٹے خاموشی سے گذرتے رہے۔ اکا دکا سانبھر اور کاکڑ کے بولنے کی آوازیں آتی رہیں۔

چار بجے ہم نے شیر کے سانس لینے اور بانس کے خشک پتوں پر چلنے کی آواز سنی۔ یہ آواز ہماری مخالف سمت سے آئی تھی۔ کئی منٹ گذرے لیکن ہمیں کچھ دکھائی نہ دیا۔ پھر دائیں طرف سے ہمیں شیر کے پانی پینے کی آواز سنائی دی۔

آخر وہ وقت آ ہی گیا۔ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق میں نے میک کو ٹہوکا دیا۔ اس نے آواز کی سمت رائفل سیدھی کی اور ٹارچ جلائی۔ تیز روشنی میں شیر پانی پر جھکا ہوا دکھائی دیا۔

اس نے فوراً ہی سر اٹھا کر ہماری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ میک نے گولی چلائی۔ شیر گولی لگتے ہی دھاڑ کر اچھلا، قلابازی کھائی اور پھر نیچے گرا۔ اس کی دم تیزی سے ہل رہی تھی۔ غراہٹوں کے ساتھ بلبلے نکل رہے تھے۔ میک نے دو مزید گولیاں چلائیں اور شیر پانی میں الٹا ہو گیا۔

صبح ہوتے ہی ہم نیچے اترے۔ میک نے نر لاگو شیر ہلاک کیا تھا۔ یہ بہت خوبصورت نر شیر تھا۔ ہمیں یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ آدم خور پھر بچ گئی ہے۔ میک کی پہلی گولی شیر کی ناک پر لگی اور اوپر والا جبڑا اور حلق توڑتے ہوئے گلے سے گذری۔ اسی سوراخ سے بلبلے نکل رہے تھے۔ دوسری گول دائیں شانے سے گذر کر جسم میں اندر تک دھنس گئی۔ تیسری گولی خالی گئی۔

چار دن گذر گئے۔ مقامی لوگوں نے ہمیں مبارکبادیں دینا شروع کر دیا کہ ہم نے آدم خور کو ٹھکانے لگا دیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ آدم خور اور لاگو دونوں ایک ہی شیر تھے۔ ہمیں بخوبی علم تھا کہ اگر آدم خور شیرنی اپنے ساتھی کی موت کے بعد یہ علاقہ نہ چھوڑ گئی تو جلد ہی ہمیں اس کی سرگرمی کی پھر سے اطلاع ملے گی۔ یہ چار دن ہم نے راتوں کو سڑکوں پر گشت میں گذاریں۔

پانچویں دن دوپہر کو وہ خبر ملی جس کا ہمیں خدشہ تھا۔ چیتل درگ کے عملدار کے بھیجے ہوئے ہرکاروں نے آ کر بتایا کہ گذشتہ شام کو آدم خور یوگی مت کی پہاڑی کے دامن میں واقع گاؤں سے ایک چودہ سالہ لڑکے کو لے گئی ہے۔

ہم کار پر سوار ہو کر فوراً ادھر پہنچے۔ جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ یہ بستی پہاڑی کے دامن میں تھی اور اس لڑکے کا گھر گاؤں کے آخری سرے پر تھا۔ آدم خور نے اسے دروازے سے ہی دبوچا تھا۔ ہمارا اندازہ تھا کہ آدم خور کی کمین گاہ یوگی مت کی پہاڑی ہی ہے۔

لڑکے کی تلاش کی کوئی منظم کوشش نہ ہوئی تھی۔ ہم نے چھ بندے اکٹھے کئے اور اب ہمارے پاس صرف چار گھنٹے باقی تھے۔ اس کے بعد تاریکی چھا جاتی۔ ہم نے مل کر پہاڑی پر چڑھنا شروع کیا۔

جلد ہی ہمیں اندازہ ہوا کہ شیر اپنے شکار کو عام راستے سے لے کر نہیں گیا کیونکہ آدھے راستے تک ہمیں کوئی نشان وغیرہ نہ دکھائی دیا۔ آگے بڑھتے ہوئے میں نے آدمیوں کو ہدایت کی کہ وہ ہر طرف اچھی طرح دیکھ بھال کر گذریں۔ ہم نے کل تین چوتھائی فاصلہ طے کیا ہوگا کہ ایک آدمی نے دائیں طرف چوتھائی میل کے فاصلے پر ایک درخت پر گدھ بیٹھے دیکھے۔ جھاڑیوں میں پھنستے اور پتھروں سے ٹھوکریں کھاتے ہم اس جگہ پہنچے جہاں لڑکے کی لاش موجود تھی۔ شیر کے بعد گدھوں نے بھی اپنا پیٹ بھرا تھا۔ اب صرف بڑی ہڈیاں ہی باقی بچی تھیں۔

ان ہڈیوں پر بیٹھنا بے وقوفی ہوتی۔ مزید برآں آدم خور کی واپسی کے امکانات کم ہی تھی۔ پھر بھی میک نے مچان باندھ کر دو آدمیوں سمیت ادھر بیٹھنے کا سوچا اور نے سوچا کہ میں جلد ہی قلعے کا چکر لگا کر واپس آ جاؤں گا۔

تیز چلتے ہوئے میں قلعے میں پانچ بجے پہنچا۔ قلعے کی دیواریں بوسیدہ ہو چکی تھیں اور یہ سارا علاقہ کانٹے دار جھاڑیوں اور لاجونتی کی بیلوں کے سمندر میں چھپا ہوا تھا۔ میرے چاروں ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ادھر ہی ایک درخت پر چڑھ کر میری واپسی کا انتظار کریں گے۔ یہ درخت قلعے کی دیوار کی جڑ میں اگا ہوا تھا۔

میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ میں قلعے کی دیوار پر چلتا ہوا گذروں کیونکہ جھاڑیوں سے گذرنا ناممکن اور نہایت خطرناک تھا۔ وہاں گز بھر دور آدم خور بھی مجھے دکھائی نہ دیتا۔

جلد ہی میں قلعے کی دوسری طرف پہنچ گیا۔ میرا سانس اب بری طرح پھولا ہوا اور میں پسینے میں نہایا ہوا تھا۔ یہاں میں نے مغربی افق پر سورج کو دیکھا جو ایک سنہری گیند کی مانند دکھائی دے رہا تھا۔

میں اس قلعے میں پہلے بھی کئی بار آ چکا تھا۔ اس جگہ سے قلعے کی دیوار بالکل ٹوٹ چکی تھی۔ میں نے سوچا کہ اب جھاڑیوں میں گھس کر مزید سو گز دور موجود دیوار تک جاؤں۔ دوسرا امکان یہ تھا کہ میں واپس جاؤں۔ تاخیر سے بچنے کے لئے میں نے جھاڑیوں سے ہو کر گذرنے کا سوچا۔ جلد ہی مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کتنا مشکل سفر ہے۔ ہر قدم پر کانٹے اور جھاڑیاں کپڑوں میں پھنس جاتیں ۔ آگے بڑھتے ہوئے کافی شور بھی پیدا ہوتا۔

مجھے اچھی طرح اندازہ تھا کہ آدم خور یہیں کہیں نزدیک ہی چھپا ہوا ہو سکتا ہے کیونکہ یہ سارا علاقہ انسانوں کے لئے ناقابل رسائی تھا۔ آگے بڑھتے ہوئے میرے اعصاب پر خطرے کا احساس بری طرح سوار ہوتا چلا گیا۔ میری چھٹی حس نے مجھے خبردار کیا کہ شیر کہیں نزدیک ہی ہے اور میرا پیچھا کر رہا ہے۔ اسے شاید حملے کے لئے مناسب موقع کا انتظار ہے۔ اگر میں جلد ہی ان جھاڑیوں سے نہ نکلا تو شیر کا حملہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ میری چھٹی حس ہمیشہ میری مدد بروقت کرتی ہے۔ میں چاروں طرف دیکھتا اور خوف سے کانپتا ہوا تیزی سے آگے بڑھا۔

تیس گز دور، بیس گز، پندرہ گز دور۔ اچانک جھاڑیوں سے شیرنی کا سر نکلا۔ اس کے کان پیچھے جھکے ہوئے تھے جو حملے کی علامت ہے۔ منہ کھلا ہوا اور دانت چمک رہے تھے۔

میری گولی اس کے کھلے منہ کے بالکل درمیان میں لگی۔ آگے بھاگنے کی کوشش میں جونہی میں نے نظریں ہٹائیں، شیرنی غائب ہو گئی۔ کانٹے میری کھال اور کپڑوں کو چیر رہے تھے اور آدم خور میرے پیچھے تھی۔

پندرہ گز طے کر کے جونہی میں کھلی زمین پر پہنچا اور مڑا تو دیکھا کہ شیرنی باوجود اس کے کہ میری گولی سے اس کی کھوپڑی کی ہڈی پشت سے اڑ چکی ہے، مجھ سے صرف دو گز دور تھی۔ اس کی کھوپڑی کا پچھلا حصہ بالکل غائب تھا۔ دہشت سے مرنے کے قریب میں نے دوسری، تیسری اور چوتھی گولی اس کے جسم میں اتار دی۔ شیرنی پہلو کے بل گری۔ میں کانپتا ہوا پتھر پر بیٹھ گیا۔ مجھ پر غشی سی طاری ہو رہی تھی۔

دس منٹ بعد میں اٹھا اور شیرنی سے بچتے ہوئے اس درخت کو پلٹا جہاں میرے بقیہ چار ساتھی موجود تھے۔ چار گولیوں اور شیرنی کی غراہٹیں سن کر وہ یہ فرض کر چکے تھے کہ میں مارا گیا ہوں۔ اب وہ یہ بحث کر رہے تھے کہ آیا ابھی اتر کر جانا بہتر ہے یا پھر اگلی صبح دن کی روشنی میں؟ ظاہر ہے کہ وہ مجھے زندہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔

انہیں ساتھ لے کر ابھی میں بمشکل نصف فرلانگ ہی پلٹا ہوں گا کہ میک بقیہ دو آدمیوں کے ساتھ اس طرف بھاگتا ہوا دکھائی دیا۔ اس نے گولیوں کی آوازیں سنی تھیں اور وہ ادھر یہ سوچ کر لپکا کہ شاید مجھے اس کی مدد کی ضرورت ہو۔ مجھے کانٹوں سے لہولہان دیکھ کر اس کا چہرہ دہشت سے سفید پڑ گیا کہ شاید مجھے شیرنی گھائل کر چکی ہے۔

اس جگہ بیٹھتے ہوئے اور پائپ پیتے ہوئے میں نے اسے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ مجھے اعتراف ہے کہ جو سرور مجھے اس پائپ سے ملا وہ عمر بھر یاد رہے گا۔ بالکل اسی طرح جس طرح آدم خور کا کھلا منہ مجھ سے دو گز دور تھا، نہ بھول پائے گا۔

اس رات ہم شیر کو لاد کر کار تک اور پھر چیتل دروگ پہنچے۔ جیسا کہ ہمارا اندازہ تھا یہ آدم خور شیرنی ہی تھی۔ مجھ پر حملہ بھی اس بات کی علامت تھا۔ اگلی صبح کھال اتارتے وقت عملدار نے ادھر کا چکر لگایا جو اپنی رشتہ دار کے قاتل کو دیکھنا چاہتا تھا۔ فارسٹ افسر اور دیگر افسران بھی آئے۔ اس کے علاوہ سینکڑوں مقامی افراد نے بھی اسے دیکھا تھا۔ شام ڈھلے ہم لوگ دونوں شیروں کی کھالیں لے کر واپس بنگلور پلٹے۔

شیرنی کی کھال اتارتے وقت ہمیں کسی زخم یا معذوری کا نشان نہ ملا۔ ہمارا اندازہ یہی تھا کہ وہ اس علاقے کی کسی دوسری آدم خور شیرنی کی اولاد ہوگی جسے بچپن سے آدم خوری کی لت لگ گئی ہوگی۔

خوش قسمتی سے نر شیر کو ابھی تک انسانی گوشت کی لت نہ لگی تھی ورنہ یہ جوڑی بے حد خطرناک ہو جاتی۔ کسی بھی تیسرے شیر کی موجودگی کے شک کی وجہ سے ہم نے کئی ماہ تک خبروں کا جائزہ لیا اور پھر مطمئن ہو گئے۔

 

Last modified on پنج شنبه, 08 خرداد 1393 12:23
Login to post comments