Print this page

موت کا پیغام

مهر 11, 1392 1312
Rate this item
(0 votes)

عمارت میں سات آدمی موجود تھے ان ساتوں کے چہروں پر موت کا خوف طاری تھا یوں لگتا تھا جیسے موت کے خوف نے ان کا سارا خون نچوڑ لیا

ہو رنگ بالکل سفید نظر آہے تھے۔ آنکھوں میں ویرانیاں ہی ویرانیاں تھیں۔ بولتے بھی تو یوں لگتا جیسے دور کسی اندھے کنویں سے ان کی آواز آ رہی ہو۔

عمارت میں کوئی چیز گر پڑتی تو انہیں یوں لگتا جیسے کوئی خنجر ان کی طرف کھینچ مارا گیا ہو وہ بھڑک اٹھتے ان کی چیخیں نکل جاتیں عمارت کا نام تھا خان ولا۔ عمارت کے مالک کا نام خان بدیع خان تھا وہ ان سات میں سے ایک تھا عمارت میں کوئی بچہ یا عورت نہیں تھی یہ عمارت انہوں نے آپس میں جمع ہو کر کھانے پینے دوستی کی یادیں تازہ کرنے کے لیے چن رکھی تھی۔وہ ہر سال دسمبر کی چھے تاریخ کو یہاں جمع ہوتے تھے پورا ایک ہفتہ یہاں گزارتے تھے خوب کھاتے تھے پیتے تھے گپیں ہانکتے تھے کھیلتے تھے کودتے تھے۔

یہ عمارت صرف ایک عمارت نہیں تھی پوری ایک تفریح گاہ تھی اس کے ارد گرد لمبی چوڑی سبزہ گاہ تھی اس سبزہ گاہ میں دنیا بھر سے لا کر پودے لگائے گئے تھے سیکڑوں قسم کے پھول اپنی بہار دکھاتے تھے۔ موسم کوئی بھی و پھول ضرور کھلا کرتے تھے۔ دسمبر میں بھی یہاں موسم بہار نظر آتا تھا۔

ہر سال ساتوں دوست چھے دسمبر کی شام تک یہاں پہنچ جاتے تھے وہ بہت گرم جوشی سے ایک دوسرے سے ملتے اپنے گھر بار کی خیریت بال بچوں کی خبریں ایک دوسرے کو سناتے اور سات دن اس طرح گزر جاتے کہ ان کا پتا بھی نہ چلتا کب گزر گئے سات دن بعد جب وہ رخصت ہوتے تو اگلے سال کی چھے تاریخ کو ملنے کا وعدہ کر کے

لیکن اس بار ان کے چہروں پر کوئی خوشی نہیں تھی آج ابھی چھے تاریخ تھی کل سے ان کے پروگرام شروع ہونے والے تھے لیکن ان حالات میں کیا خاک پروگرام ہوتے اس وقت بھی وہ عمارت کے ہال میں بچھی گول میز کے گرد بیٹھے چائے پی رہے تھے عمارت کے تین ملازم غلاموں کی طرح ساکت کھڑے تھے۔ وہ اس انتظار میں تھے کہ کب چائے ختم ہو اور وہ برتن اٹھا کر ہال سے باہر نکل جائیں۔

تھوڑی دیر پہلے جب خان بدیع خان نے آ کر عمارت کا تالا اپنے ملازموں کے ذریعے کھلوایا تھا تو سامنے ہی دیوار پر انہیں ایک پوسٹر لگا نظر آیا تھا پوسٹر ہاتھ سے لکھا گیا تھا اور وہ بھی سرخ روشنائی سے وہ اس پوسٹر کی تحریر پڑھ کر چونک اٹھے۔ ان کے قدم رک گئے وہ اندر کی طرف بڑھ نہ سکے ملازمین کو بھی وہ اپنی شہری رہائش گاہ سے ساتھ لائے تھے تالا اپنی آنکھوں کے سامنے کھلوایا تھا اس لیے اس پوسٹر کے بارے میں ملازمین سے تو پوچھ بھی نہیں سکتے تھے۔

ان کے پیچھے ملازم بھی رک گئے وہ بھی ان پڑھ تو نہیں تھے کہ پوسٹر کے الفاظ نہ پڑھ سکیں اس پر بھدے الفاظ میں یہ تحریر نظر آ رہی تھی

اس بار یہاں خون کی ہولی کھیلی جائے گی تم سات میں سے چھے کو قتل کر دیا جائے گا۔ خوب جان لو سات میں سے چھے کو۔

نیچے کسی کا نام نہیں تھا۔ سرخ الفاظ سے خون ٹپکتا محسوس ہو رہا تھا ان کے جسم میں سنسنی کی لہر دوڑ گئی۔

انہوں نے فوراً گھوم کر اپنے ملازمین کی طرف دیکھا۔

یہ۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے ؟

کک۔۔ کون سی بدتمیزی سر ؟ ایک نے کانپ کر کہا۔

یہ پوسٹر

ہم تو آپ کے ساتھ آئے ہیں سر عمارت کی چابی سارا سال آپ کے سیف میں رہتی ہے سر ہمیں کیا معلوم یہ کس کی شرارت ہے۔۔ دوسرا بولا۔

شرارت۔۔ تم اس کو شرارت کہہ رہے ہو۔۔ وہ گرجے۔۔

اور کیا کہیں سر۔۔ یہ شرارت نہیں تو کیا ہے۔۔ آخر کسی کو کیا پڑی ہے کہ آپ میں سے چھے کو قتل کر دے۔۔

اسے پڑی ہے۔۔ تبھی لکھا ہے نا۔۔ ارے بھئی۔ وہ ساتویں کو بطور قاتل پھنسوانا چاہتا ہے۔۔ جب کہ وہ ہے کوئی اور۔

اوہ تینوں ملازموں نے ایک ساتھ کہا اب ان پر بھی سکتہ طاری تھا۔ خیر باقی دوست آ لیں۔۔ پھر مشورہ ہو گا۔۔

ایک ایک کر کے تمام دوست آ گئے ان سب نے یہ تحریر پڑھ لی نہ جانے کیوں کوئی بھی اس تحریر کو مذاق سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔۔ نہیں خان بدیع یہ مذاق نہیں ہو سکتا ان کے ایک دوست ڈابر شاہ نے کہا

بالکل آ ج سے پہلے یہاں ہم سے کبھی کسی نے کوئی مذاق کیا ہے دوسرے دوست شاکان جاہ نے کہا۔۔

مذاق ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سوال تو یہ ہے کہ پوسٹر لگانے والا اندر کس طرح داخل ہوا؟آج یہاں آنے سے پہلے جب آپ نے تجوری میں سے چابی نکالی تو یہ اپنی جگہ پر تھی ؟ تیسرے دوست شوبی تارا نے کہا۔۔ بالکل اپنی جگہ پر تھی۔۔ اور تجوری کی چابی صرف اور صرف آپ کے پاس رہتی ہے ؟ چوتھے دوست طاؤس جان نے کہا۔۔ بالکل ویسے تو کسی ضرورت کے تحت گھر کے افراد کو بھی دے دی جاتی ہے اس چابی کی ویسے خاص حفاظت کی ضرورت بھی نہیں ہے اس عمارت میں کوئی ایسی قیمتی چیزیں تو ہوتی نہیں ہیں۔۔

ہو سکتا ہے۔۔ کسی نے عمارت پر قبضہ کرنے کے لیے یہ پوسٹر لگا دیا ہو۔ تاکہ ہم خوف زدہ ہو کر یہاں سے چلے جائیں پانچواں دوست جالوت شاہی بولا۔۔

اگر کوئی یہاں خفیہ طور پر سارا سال رہنے کے چکر میں ہے تب تو اسے اس قسم کی کوئی حرکت نہیں کرنی چاہیے۔۔ کیونکہ ہم تو صرف سات دن کے لیے یہاں آتے ہیں باقی سارا سال تو مالی یہاں رہتا ہے مالی سے وہ ساز باز کر سکتا تھا۔ اور سات دن کے لیے ادھر ادھر ہو سکتا تھا۔ نہیں بھئی ایسی کوئی بات نہیں ہو سکتی آپ مالی کو بلا کر معلوم تو کر لیں ویسے وہ خود کہاں رہتا ہے ؟ ان کے آخری دوست راج دیو نے کہا۔۔

پچھلی طرف اس کا کوارٹر ہے۔۔ یہ کہہ کر انہوں نے ایک ملازم سے کہا۔

تم جا کر مالی کو یہاں بلا لاؤ۔۔ وہ ضرور سویا پڑا ہے۔۔ ورنہ اس وقت یہاں ہوتا۔۔ ملازم گیا اور مالی کو لے آیا۔۔

ایک آدھ گھنٹا پہلے اس طرف کوئی آیا تو نہیں۔۔

تم نے اندر کسی کو داخل ہوتے دیکھا تو نہیں ؟ وہ بولے۔۔

بھلا کوئی اندر کس طرح داخل ہو سکتا تھا جناب۔۔ وہ بولا باہر سے تو تالا لگا ہوا تھا سارا سال میں خود اندر نہیں جا سکتا تو کوئی اور کس طرح جا سکتا ہے۔۔

ہوں۔۔ یہ دیکھو۔۔ کوئی اندر داخل ہوا تھا۔۔ وہ یہ پوسٹر لگا کر چلا گیا۔۔

مالی کی نظریں پوسٹر پر جم گئیں اور پھر ان میں خوف دوڑ گیا۔۔ وہ بری طرح کانپنے لگا۔۔

نن۔۔ نہیں۔نہیں صاحب مجھے کچھ معلوم نہیں۔۔

دیکھتے ہیں۔۔ یہ کیا چکر ہے ؟

اور اس وقت وہ میز کے گرد موجود تھے۔ آخر ہم اس کو کسی کا مذاق سمجھنے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں۔۔ ڈابر شاہ نے منہ بنایا۔ آپ خود بتائیں ڈابر شاہ۔ کیا آپ اس کو مذاق سمجھنے کے لیے تیار ہیں ؟ خان بدیع نے کہا۔

نن۔ نہیں۔ یہی تو عجیب بات ہے میں خود بھی اس کو مذاق نہیں سمجھتا۔۔ یہ ہماری موت کا پیغام ہے۔

لیکن ہم میں سے چھے کی ساتواں تو محفوظ رہے گا۔گویا کوئی نامعلوم آدمی ہم میں سے چھے کو ہلاک کر کے چھے کے چھے قتل ساتویں کے سر لگانا چاہتا ہے۔۔

تاکہ کوئی اس کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔ ہاں بالکل یہی بات ہے۔ شاکان جاہ نے کہا۔ آخر وہ کون ہے۔ کیوں ہمیں ہلاک کرنا چاہتا ہے ؟

ہم بھلا کیا بتا سکتے ہیں۔ شوبی تارا نے کہا۔

تو پھر اس کی بہترین ترکیب یہ ہے کہ ہم اس سال یہاں پروگرام کینسل کر دیتے ہیں۔ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ طاؤس جان نے تجویز پیش کی۔

اس سے کیا فائدہ ہو گا۔

قاتل اپنا کام نہیں کر سکے گا۔

کیوں۔ اگر اسے یہ کام ضرور ہی کرنا ہے تو وہ ہمارے گھروں میں ہم پر وار کرے گا اس سے بچنے کا یہ حل نہیں ہے۔ جالوت شاہی نے کہا۔۔

تب پھر۔ ہم کیا کریں ؟ راج دیو نے کہا۔

میرا خیال ہے۔ ہم سراغ رساں کو بلا لیتے ہیں۔ کسی پرائیویٹ سراغ رساں کو خان بدیع نے کہا۔

پرائیویٹ سراغ رساں عام طور پر بلیک میل کرتے ہیں۔ میں تو یہ مشورہ نہیں دوں گا جالوت نے کہا۔

تب پھر۔ کسے بلائیں ؟

انسپکٹر جمشید کو۔ طاؤس نے فوراً کہا۔

انسپکٹر جمشید۔ ان کے منہ سے ایک ساتھ نکلا پھر خان بدیع نے کہا۔

وہ بھلا یہاں کیوں آنے لگے۔ ایک سرکاری آفیسر ہیں۔تو ہم ان کے آفیسر سے بات کر لیتے ہیں اور ان سے درخواست کر لیتے ہیں آخر یہ چھے انسانوں کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے شوبی تارا نے کہا۔

ٹھیک ہے تو پھر کریں رابطہ۔ میری تو کسی ایسے آفیسر سے واقفیت نہیں جو انسپکٹر جمشید پر زور ڈال سکتا ہو۔

وہ لوگ تو زور ڈالے بغیر بھی آ جائیں گے۔ وہ اور قسم کے لوگ ہیں طاؤس جان نے کہا

تو پھر تم ہی ان سے رابطہ کیوں نہیں کرتے۔ میں نے ان کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا ہے انہیں آج تک دیکھا نہیں۔ طاؤس جان نے کہا۔ چلو آج دیکھ لیں گے کرو فون۔ طاؤس جان نے انکوائری سے ان کے نمبر معلوم کیے پھر گھر فون کیا۔ دفتر فون کیا۔ اور رسیور رکھ دیا۔ لو کر لو بات۔ وہ تو کسی مہم کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں۔

یہ ایک اور رہی اب کیا کیا جائے ؟

شہر چلتے ہیں کسی ہوٹل میں یہ سات دن گزار لیتے ہیں۔ خان بدیع نے کہا۔ ہوٹل میں کیا خاک مزا آئے گا۔

تمہیں مزے کی پڑی ہے۔ یہاں جان کے لالے پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ تب پھر۔ میں پولیس کمشنر صاحب سے بات کرتا ہوں۔ وہ کسی اور کو بھیج دیں گے۔ جالوت شاہی نے کہا۔

پولیس کمشنر سے تمہارے تعلقات ہیں ؟

وہ تو میرا لنگوٹیا ہے۔

تو کرو بھائی فون کچھ تو ہونا چاہیے۔

جالوت شاہی نے فون پر رابطے کی کوشش شروع کر دی اور آخر پندرہ منٹ بعد سلسلہ مل کسا

ہیلو کمشنر صاحب جالوت بات کر رہا ہوں ہاں ہاں بالکل وہ دراصل بات یہ ہے کہ میں اس وقت خان بدیع کی عمارت میں موجود ہوں جس میں ہم ہر سال جمع ہوتے ہیں آپ کو تو یہ بات معلوم ہو گی میں نے آپ کو بتائی تھی نا۔ ٹھیک اس بار ہم یہاں پہنچے تو ہمارا استقبال ایک پوسٹر نے کیا۔۔ جی۔ جی ہاں۔ پوسٹر نے اب اس کے الفاظ بھی سن لیں۔

انہوں نے الفاظ دہرا دیے۔ پھر بات مکمل کی۔ اور آخر کمشنر کی بات سن کر رسیور رکھ دیا۔ پھر ان کی طرف مڑ ے۔

وہ ایک بہت ماہر سراغ رساں کو بھیج رہے ہیں۔

اسی وقت دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی۔ وہ اس طرح اچھلے جیسے موت دوڑ کر ان کی طرف آ رہی ہو۔

Last modified on پنج شنبه, 08 خرداد 1393 12:04
Login to post comments