×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

کیا !!!

مهر 11, 1392 1525

تینوں ملازم اور مالی دوڑ کر اندر داخل ہوئے تو ان کی جان میں جان آئی۔ یہ کیا بدتمیزی ہے۔ یہ آنے کا کون سا طریقہ ہے ؟وہ۔ جی ہم نے۔ شکار پکڑ

لیا ہے۔ ایک نے ہانپ کر کہا۔ شکار پکڑ لیا۔ یہ تم نے شکار کب سے کھیلنا شروع کر دیا۔ وہ۔ شکار سے مراد۔ پوسٹر لگانے والے۔ کیا !!! ساتوں اچھل کر کھڑے ہو گئے۔

تینوں ملازم اور مالی دوڑ کر اندر داخل ہوئے تو ان کی جان میں جان آئی۔ یہ کیا بدتمیزی ہے۔ یہ آنے کا کون سا طریقہ ہے ؟ وہ۔ جی ہم نے۔ شکار پکڑ لیا ہے۔ ایک نے ہانپ کر کہا۔ شکار پکڑ لیا۔ یہ تم نے شکار کب سے کھیلنا شروع کر دیا۔ وہ۔ شکار سے مراد۔ پوسٹر لگانے والے۔ کیا !!! ساتوں اچھل کر کھڑے ہو گئے۔

کیا کہا تم نے۔۔ تم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا ہے۔ جنہوں نے وہ پوسٹر لگا یا ہے۔

ہاں ! ہم نے انہیں جال میں قید کر دیا ہے۔

جال۔ کیا مطلب ؟ شاکان نے حیران ہو کر کہا۔ جی وہ۔۔ میں نے ہرن وغیرہ پکڑنے کے لیے ایک جال بنا رکھا ہے۔ کبھی کبھی ہرن سبزہ زار میں آ جات ہیں تو میں انہیں پکڑ کر اپنے سبزہ زار کے چڑیا گھر میں چھوڑ دیتا ہوں۔ اوہ۔ آؤ دیکھیں۔ وہ لوگ کون ہیں۔ جو ہمیں مت کی خبر سنا رہے تھے۔ وہ ان کے ساتھ باہر نکلے۔ دروازے پر ہی وہ جال میں کسے نظر آئے جال کا منہ اچھی طرح باندھ دیا گیا تھا۔

اگر ہم چاہتے تو اس جال سے کب کے نکل چکے ہوتے ، لیکن ہم جانتے ہیں چونکہ آ پ نے غلط فہمی کی بنا پر ہمیں پکڑا ہے۔ اس لیے ہم نے اس جال کو نقصان نہیں پہنچایا۔

بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کرو۔ اس جال سے نکلنا تم لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ اچھا یہ بات ہے۔۔ پھر اپنے جال کے نقصان کی شکایت نہ کرنا۔ نہیں کروں گا۔ نکل کر دکھا و میں تو تمہیں ایک سو روپے انعام بھی دوں گا۔ مالی نے خوش ہو کر کہا۔ اب یہ انعام بھی جیتنا پڑے گا۔ فاروق نے سرد آہ بھری۔ تم لوگ ہو کون۔ اور اس بے ہودہ مذاق کی کیا تک تھی۔ بے ہودہ مذاق کی بھی بھلا تک ہو سکتی ہے۔ پہلے تو تم لوگ اس جال کو کاٹ کر دکھاؤ۔ پھر ہم تم سے بات کریں گے۔ خان بدیع نے بھنا کر کہا۔ یہ کیا مشکل ہے۔ ابھی لیں۔ یہ کہہ کر محمود نے جوتے کی ایڑی میں سے اپنا چاقو نکالا اور جال کاٹ کر رکھ دیا دوسرے لمحے وہ جال سے باہر تھے۔ اور مالی کھڑا پلکیں جھپک رہا تھا۔ بہت خوب تو تم لوگوں کے پاس چاقو تھا۔ خیر جال کی بات چھوڑو۔ وہ تو اب کٹ چکا ہے۔۔ مالی خود اس کی مرمت کر لے گا۔ اب یہ بتا و کہ تم نے یہ پوسٹر یہاں کیوں لگایا تھا ؟

ہم نے لگایا تھا۔۔ خدا کا خوف کریں ، ہم کیوں لگاتے پوسٹر ہمیں کیا ضرورت تھی پوسٹر لگانے کی۔۔ ہمارا دماغ تو نہیں چل گیا کہ لگاتے یہاں پوسٹر۔ فاروق نے جھلائے ہوئے انداز میں کہا۔ یار کیا پوسٹر پوسٹر لگا رکھی ہے۔۔ کام کی بات کرنے دو پہلے مجھے۔ محمود نے جھلا کر کہا۔ اچھی بات ہے۔۔ وہ تم کر لو۔ فاروق نے فوراً کہا۔ دیکھیے جناب۔ اس پوسٹر سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہم تو دوسرے شہر سے چلے آ رہے تھے کہ ٹائر پھٹ گیا۔ ہمیں یہ عمارت نظر آئی۔ یہاں کچھ کاریں نظر آئیں تو سوچا شاید یہاں سے ایک عدد ٹائر مل جائے لیکن یہاں تو ہمیں لینے کے دینے پڑ گئے۔ حد ہو گئی یعنی کہ آپ ہمارے ساتھ چل کر ہماری کار دیکھ لیں ، کار کا پھٹا ہوا ٹائر دیکھ لیں آپ کو ہمارے بیان کی سچائی معلوم ہو جائے گی۔۔

ہوں ! ہو سکتا ہے۔ یہ سچ کہہ رہے ہوں۔۔ ویسے یہ مجھے ایسے لگتے نہیں۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔ دیکھیے خان بدیع۔۔ طاؤس جان نہ کچھ کہنا چاہا کہ فاروق نے بات کاٹ دی۔۔

آپ نے کیا نام لیا۔ خان بدی۔ یہ کیا نام ہوا ؟ اے خبردار۔ میں خان بدیع ہوں۔ ب د ی ع۔۔ اوہ اچھا۔۔ آپ وہ والے بدیع ہیں میں سمجھا تھا بدی والے بدی۔۔ فاروق نے گڑ بڑا کر کہا۔ یار کیا اوٹ پٹانگ باتیں کر رہے ہو۔۔ کبھی بدیع الزمان نام نہیں سنا کسی کا۔ ہاں ! کیوں نہیں سنا : فاروق بولا۔

آپ کیا کہہ رہے تھے طاؤس جان۔ خان بدیع ان کی طرف مڑے۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں کیا معلوم یہ کیسے ہیں جب تک ہمارا اطمینان نہیں ہو جاتا ہم انہیں نہیں چھوڑ سکتے۔ اب ہم خود بھی چھوڑا جانا پسند نہیں کریں گے۔ محمود مسکرایا۔ کیا مطلب۔ وہ چونکے۔۔ یہ بتائیں۔۔ پوسٹر کا چکر کیا ہے ؟ دیکھا۔۔ اب یہ انجان بن کر دکھائیں گے۔۔ طاؤس جان نے چمک کر کہا۔۔ اوہو! بات تو کرنے دیں ہم بھاگے تو نہیں جا رہے۔ ویسے ہم چاہیں تو ابھی اور اسی وقت آپ لوگوں کو آپ لوگوں کے سامنے بھاگ کر دکھا سکتے ہیں اور آپ لوگ ہمیں نہیں پکڑ سکیں گے۔۔ بلکہ آپ لوگ تو ہماری گرد کو بھی نہیں چھو سکیں گے اگر یقین نہیں تو ہاتھ کنگن کو آرسی کیا کر لیں تجربہ۔۔ ہو جائیں دو دو ہاتھ۔۔ کیا خیال ہے۔ دکھائیں بھاگ کر۔۔ میرا مطلب ہے دکھائیں آپ لوگوں کو دن میں تارے۔ فاروق نے بہت تیزی سے کہا۔

توبہ ہے تم سے۔۔ آپ لوگ اور محاورات کے پیچھے اپنے اس پیرے میں ہاتھ دھو کر پڑ گئے اف مالک۔۔ محمود نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا۔۔

تو اپنے پیرے میں پڑ گیا۔ تمہارے پیرے میں تو نہیں پڑا۔۔ جب تمہارے پیرے میں دخل اندازی کروں گا۔۔ پھر بات کرنا۔۔

یہ تو بہت بڑ ھ بڑھ کر باتیں بنا رہے ہیں حالانکہ یہ یہاں سے ہماری مرضی کے بغیر بھاگ کر بھی نہیں دکھا سکیں گے۔۔ کیونکہ میں بھی دوڑ کے ان گنت مقابلے جیت رکھے ہیں۔ شوبی تارا نے کہا۔۔ بہت خوب مسٹر شوبی تارا خان بدیع نے خوش ہو کر کہا۔۔ شوبی تارا یہ نام بھی کچھ کم عجیب نہیں ہے خیر جیسا بھی ہے ہاں تو مسٹر تارا اگر آپ کا دعوی ہے تو پھر آپ ہمیں پکڑ کر دکھا دیں۔۔

ضرور کیوں نہیں۔۔

آؤ بھئی۔۔ ذرا انہیں فرار ہو کر دکھائیں۔۔

تینوں نے ان الفاظ کے ساتھ دوڑ لگا دی۔۔ شوبی تارا نے فوراً ان کے پیچھے دوڑ لگا دی۔۔ اور باقی لوگ بے تحاشہ ان کے پیچھے دوڑ پڑے لیکن بہت جلد ان لوگوں نے محسوس کر لیا کہ وہ تینوں شوبی تارا کے ہاتھ آنے والے نہیں ہیں۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے تینوں نظروں سے اوجھل ہو گئے۔۔

افسوس شوبی تارا کی بے وقوفی سے وہ لوگ فرار ہو گئے۔۔ مجھے بھی بہت افسوس ہے۔ میں سے سکول اور کالج کے زمانے میں ضرور دوڑ کے مقابلے جیتے تھے۔۔ لیکن اب میں بچہ نہیں ہوں۔۔ کہ ان کے مقابلے میں دوڑ سکتا۔۔ یہ تینوں تو چھلاوے لگتے ہیں خیر۔۔ کمشنر صاحب کا بھیجا ہوا سراغ رساں ان کا خود ہی سراغ لگا لے گا۔ ہم اسے ان کے بارے میں بتا دیں گے۔۔ چلیے ٹھیک ہے اب وہیں چل کر بیٹھے ہیں اب تو ہمیں سراغ رساں کا انتظار کرنا ہی پڑے گا۔۔ وہ اندر جانے کے لیے مڑے ہی تھی کہ دوڑتے قدموں کی آوازیں سنائی دیں۔۔ اور پھر ان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔ وہ تینوں دوڑتے ہوئے چلے آ رہے تھے آخر وہ ان کے نزدیک آ کر رک گے

آپ لوگ ہمیں نہیں پکڑ سکے نا۔۔ ہم نے پہلے ہی کہ دیا تھا۔

کمال۔۔ ہم نے تو خیال کیا تھا کہ تم لوگوں نے فرار ہونے کے لیے دوڑ کے مقابلے کا ڈراما رچایا تھا۔۔ خان بدیع نے حیران ہو کر کہا۔

آپ کا خیال سو فیصد غلط ہے۔۔ ہم اگر فرار ہونا چاہیں تو یہ کام ہمارے لیے چنداں مشکل نہیں تھا۔ بلکہ ہم تو آپ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آپ میں سے کسی کی کار لے کر فرار ہو سکتے تھی۔

کیا کہا۔۔ کار لے کر۔۔ ناممکن۔۔ سب کاریں لاک ہیں۔ تم لوگ دروازے کس طرح کھولو گے۔۔ جب تک تم کھولنے کی کوشش کرو گے۔۔ اس وقت تک ہم تم لوگوں تک پہنچ چکے ہوں گے۔۔ آؤ بھئی۔۔ ذرا انہیں یہ کھیل بھی دکھا دیں۔۔ فاروق نے کہا۔۔ چلو۔

انہوں نے اس قدر تیز دوڑ لگائی کہ وہ دھک سے رہ گئے اور جب وہ دوڑتے ہوئے کاروں کے پاس پہنچے وہ ایک کار کے دروازے میں چابی لگا کر اسے کھول چکے تھے ان میں سے ایک ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر انجن سٹارٹ کر چکا تھا۔ اور پھر جب وہ اس کار کی طرف دوڑے تو کار یہ جا وہ جا۔

افسوس ہم ان کے جال میں آ گئے۔۔ یہ تو لٹیرے اور اٹھائی گیرے قسم کے بچے ہیں۔۔ اب ہم کار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔۔ دراصل ان کی اسکیم یہی تھی۔۔ طاؤس جان نے فوراً کہا۔ اگر ان کی یہ سکیم ہوتی تو انہیں ہم سے آ کر ملنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔ وہ تو خاموشی سے کار لے جا سکتے تھے اور ہم ہرگز انہیں نہ پکڑ سکتے۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔

میرا خیال ہے۔۔ خان صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ یہ لوگ چور ہرگز نہیں ہیں میرا خیال ہے ان کے ساتھ چل کر ان کی بات کی تصدیق کر لیتے ہیں اور انہیں ایک عدد ٹائر دے دیتے ہیں۔ شاکان جاہ نے کہا دے تو ہم اس صورت میں دیں گے نا جب وہ واپس آئیں گے۔۔ مجھے تو وہ واپس آتے نظر نہیں آ تے طاؤس جان نے کہا اسی وقت کار واپس آ تی نظر آ گئی۔۔

لیجیے وہ آ گے واپس۔۔ خان بدیع نے مسکرا کر کہا۔ طاؤس جان کا منہ لٹک گیا اسی وقت کار اسی جگہ آ کھڑی ہوئی اور تینوں اس سے اتر کر ان کے سامنے آ گئے۔۔ محمود نے کہا۔ اب آ پ لوگ ہمارے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ آپ لوگوں کی کار کہاں ہے۔۔ اس طرف کچھ فاصلے پر۔۔ آئیے دیکھتے ہیں۔ دو کاروں میں سوار ہو کر وہ ان کی کار تک پہنچے پھر واپس آ کر خان بدیع نے کہا۔ آپ ٹائر لے سکتے ہیں۔۔ افسوس اب ہم ٹائر لے کر اس وقت نہیں جا سکتے۔۔ کیا مطلب اب کیا بات ہو گئی۔ خان بدیع نے حیران ہو کر کہا۔ پہلے ہم اس پوسٹر کا معاملہ صاف کریں گے۔۔ ارے تو یہ تم لوگوں نے ہی لگایا ہے۔۔ خان بدیع چونکے۔۔ نہیں ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کیا چکر ہے۔ پوسٹر کس نے لگایا ہے۔۔ اس نے مذاق کیا ہے یا واقعی وہ آ پ لوگوں میں سے چھے کو قتل کرنا چاہتا ہے۔۔ اور اگر وہ واقعی قتل کرنا چاہتا ہے تو چھ کو کیوں ساتویں کو کیوں چھوڑ دینا چاہتا ہے۔۔

تاکہ ساتواں ان چھے کے قتل کے جرم میں پکڑا جائے اور اس کی طرف کسی کا دھیان بھی نہ جائے۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔

ہوں ! اس بات میں وزن ہے۔۔ لیکن زبردست امکان اس بات کاہے کہ وہ آپ میں سے ہی ہے اور آخر میں خود کو بے گناہ ظاہر کرنے کے لیے اس نے یہ پوسٹر لگایا ہے۔۔

ارے باپ رے۔۔ اس پہلو سے تو ہم نے اب تک نہیں سوچا۔۔ تو اب سوچ لیں۔۔ آپ فکر نہ کریں۔۔ ہمارے اس مسئلے کے لیے پولیس کمشنر صاحب کی طرف سے ایک عدد سراغ رساں یہاں آنے ہی والے ہیں۔۔ اوہ تب تو ٹھیک ہے اب ہم یہاں رک کر کیا کریں گے۔۔ فاروق نے خوش ہو کر کہا۔۔ لیکن سراغ رساں کے آ نے تک تو ہمیں یہاں رکنا ہی چاہیے کہیں قاتل وار نہ کر جائے۔۔ فرزانہ نے کہا۔ فرزانہ نے بے چین ہو کر کہا۔۔

رکنے کو آپ ان کے آنے کے بعد بھی رک سکتے ہیں۔۔ اس عمارت میں بہت جگہ ہے۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔ شکریہ ہم نے اگر ضرورت محسوس کی تو ضرور رکیں گے۔۔ آپ لوگ دارالحکومت جا رہے تھے ؟ خان بدیع نے پوچھا۔۔ جی ہاں ! ہم وہیں رہتے ہیں۔۔ آئیے اندر چل کر بیٹھتے ہیں خان بدیع نے عمارت کی طرف مڑتے ہوئے کہا۔ وہ ابھی اندر جا کر اطمینان سے بیٹھے بھی نہیں تھے کہ ایک ملازم نے آ کر بتایا۔ کمشنر صاحب کا بھیجا ہوا آدمی آ گیا ہے۔۔ انہیں یہیں لے آ و۔ خان بدیع نے کہا۔ ملازم فوراً چلا گیا۔۔ کمال ہے اس قدر جلد بھیج دیا انہوں نے آدمی فارغ ہو گا۔ اسی وقت روانہ کر دیا ہو گا۔

جلد ہی لمبے قدر کا دبلا پتلا اور خوب صورت آدمی تیز تیز قدم چلتا ہوا ان کے پاس آ پہنچا۔۔

السلام علیکم حاضرین۔۔ مجھے کمشنر صاحب نے بھیجا ہے۔۔ اور میرا نام خادم حسین راہی ہے۔ اس نے ایک ایک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا پھر جونہی اس کی نظر ان تینوں پر پڑی وہ زور سے اچھلا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت دوڑ گئی بلکہ پل بھر کے لیے تو انہیں یوں لگا جیسے وہ پریشان ہو گیا ہو۔۔ پھر اس نے خود کو پرسکون کرتے ہوئے کہا۔۔ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔۔ آپ لوگ اور یہاں۔۔ پھر میری یہاں کیا ضرورت تھی ؟ اب اس کا لہجہ نا خوش گوار ہو گیا تھا۔۔ کیا مطلب یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ خان بدیع نے کہا۔

ہائیں آپ انہیں نہیں جانتے ؟ اس نے اور بھی حیران ہو کر کہا۔۔ نہیں یہ لوگ دوسرے شہر سے اپنی کار پر آ رہے تھے کہ ان کا ٹائر پھٹ گیا یہاں انہیں کاریں نظر آئیں تو یہ ٹائر کی امید میں چلے آئے۔۔لیکن آ پ انہیں کس طرح جانتے ہیں ؟ میں انہیں کیوں نہ جانوں گا۔۔ یہ انسپکٹر جمشید کے بچے ہیں۔

کیا !!! اس بار حاضرین ایک ساتھ چلائے۔۔

 

Last modified on پنج شنبه, 08 خرداد 1393 12:00
Login to post comments