×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

نن۔۔۔ نہیں

مهر 11, 1392 1472

چند لمحے تک مکمل سکوت طاری رہا۔۔ پھر خان بدیع نے کہا۔ واقعی۔۔ ان کی حیرت انگیز صلاحیتیں دیکھ کر ہم حیران ہو رہے تھے۔۔

اب بات سمجھ میں آئی۔۔ یہ تو اس سے کہیں زیادہ صلاحیتوں کے لوگ ہیں۔۔ تب پھر میری اب یہاں کیا ضرورت۔۔ میں چلتا ہوں۔ آپ کا مسئلہ تو یہ چٹکی بجاتے میں حل کر دیں گے۔۔ خیر ہم اس قدر جلد باز بھی نہیں ہیں کہ چٹکی بجاتے میں کیس حل کر دیں۔۔ محمود نے شرما کر کہا۔۔

خیر خیر۔۔ چٹکی بجاتے تو میں نے ایسے ہی کہ دیا۔۔ مطلب یہ تھا کہ بہت جلد اور بہت آ سانی سے یہ یہاں کا مسئلہ حل کر دیں گے لہذا میں چلتا ہوں۔۔ آپ شاید ناراض ہو گئے ہیں حالانکہ انہیں ہم نے بلایا نہیں۔۔ یہ اتفاقی طور پر یہاں آئے ہیں۔۔

اور کیا۔ اور اگر آپ کو ہماری موجودگی گراں گزر رہی ہے تو لیجیے ہم چلے جاتے ہیں۔۔ محمود نے کہا۔۔ نہیں نہیں۔۔ آپ اس طرح نہیں جا سکتے اور نہ مسٹر خادم حسین جا سکتے ہیں۔۔ آپ چاروں مل کر ہمارا مسئلہ حل کریں۔۔ خان بدیع نے جلدی جلدی کہا۔۔ چلیے ٹھیک ہے۔۔ محمود نے فوراً کہا۔۔ اس پوسٹر کا چکر ہے کیا ؟ خادم حسین بولا۔۔ اب خان بدیع نے انہیں پوسٹر کے بارے میں بتایا۔۔ سب سے پہلے تو ہم اس پوسٹر کو محفوظ کرنے کی اجازت چاہیں گے۔۔ محمود نے کہا۔۔ مطلب یہ کہ دیوار پر لگا ہوا یہ غائب بھی ہو سکتا ہے۔ آخر اس پر قاتل کے ہاتھ کی تحریر ہے۔۔ یہ ضروری نہیں کہ تحریر اس نے خود لکھی ہو دوسری بات یہ کہ آپ ابھی اسے قاتل نہیں کہہ سکتے۔۔ اوہ ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے۔۔ یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں کاغذ پر لکھی تحریر ہمارے کام کی چیز ہے۔۔ اس کو محفوظ کر لینا چاہیے۔۔ خادم حسین نے کہا۔ وہ دیوار کے پاس آئے۔۔ خادم حسین پوسٹر اتارنے کے لیے آ گے بڑھا ہی تھا کہ محمود بول اٹھا ایک منٹ ٹھریں۔۔ اس طرح تو پوسٹر پر آپ کی انگلیوں کا نشان آ جائے گا اور قاتل کی انگلیوں کے نشانات مٹ سکتے ہیں۔۔ آخر اس کاغذ پر اس کی انگلیوں کے نشانات تو ہیں نا۔۔

ہاں بالکل۔۔ واقعی آپ اپنے اس میدان کے بہت ماہر کھلاڑی ہیں۔ ہر چھوٹی چھوٹی بات کی طرف دھیان دیتے ہیں۔ خادم حسین نے ان کی تعریف کی۔ شکریہ اب آپ کیا کریں گے ؟

میں میں کچھ نہیں کروں گا پوسٹر آپ لوگ دیوار سے اتاریں۔۔ اچھی بات ہے ہمارے پاس انگلیوں کے نشانات ابھارنے والا پاؤڈر موجود ہے ہم ابھی اس پر سے نشانات اتار لیتے ہیں۔۔ محمود نے کہا۔۔ پھر پوری احتیاط سے پوسٹر اتار لیا۔ اسے ایک میز پر رکھا اس پر پاؤڈر چھڑکا اور کیمرے سے اس کی تصاویر لے لیں۔۔

فاروق ان سب کی انگلیوں کے نشانات لے لو۔۔ اچھی بات ہے۔۔ یہ۔۔ یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔۔ ہماری انگلیوں کے نشانات کیا کریں گے آپ۔۔ خان بدیع نے گھبرا کر کہا۔۔

یہ اندازہ لگانا ہے کہ آخر کون ہے جو اس گھر کی خوشیوں کو چھین لینا چاہتا ہے۔۔ فاروق مسکرایا۔

بالکل۔۔ آپ یہ نہ بھولیں کہ قاتل میرا مطلب ہے ہونے والا قاتل آپ میں سے ایک بھی ہو سکتا ہے۔۔ ہاں ! یہ بات آپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں۔۔ خیر ہمیں کیا۔۔ ہم نشانات دے دیتے ہیں۔۔ بالکل شاکان جاہ نے کہا۔۔ کم از کم میں نہیں دوں گا۔۔ نشانات۔۔ طاؤس جان بولا۔۔ کیا مطلب۔۔ میں جب تک اپنے وکیل سے مشورہ نہ کر لوں نشانات نہیں دوں گا۔۔ آپ کے وکیل کہیں نہ کہیں نشانات تو آپ کو دینے ہوں گے اس لیے کہ آپ تفتیش میں روڑے نہیں اٹکا سکتے۔۔ یہ چھے آدمیوں کے قتل کا معاملہ ہے۔۔ خادم حسین نے تیز لہجے میں کہا۔۔ ہاں بالکل۔۔ آپ نے ٹھیک کہا۔۔ فاروق بولا۔ اچھی بات ہے لے لیں پھر نشانات۔۔ فاروق نے ان سب کے نشانات لے لیے۔۔

اب آپ لوگ ایک کام اور کریں۔۔ اور وہ کیا ؟ وہ چونکے۔۔

اپنی اپنی تحریر بھی ذرا دے دیں۔۔ مہربانی فرما کر ہر شخص انہی الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر لکھ دیں اس طرح آسانی ہو جائے گی۔۔ یہ اتنے خوفناک الفاظ ہم کس طرح لکھ دیں۔۔ خان بدیع نے کانپ کر کہا۔۔ آپ کی تحریر کا نمونہ حاصل کرنے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔۔ اچھی بات ہے۔۔ طاؤس جان نے جھلا کر کہا اور سب نے ان الفاظ میں تحریر بھی لکھ دی ہم ذرا اپنا کام مکمل کر لیں۔۔ آپ ان سے جو سوالات وغیرہ کرنا چاہیں کریں۔۔ محمود نے خادم حسین سے کہا۔۔ خادم حسین سر ہلا کر رہ گیا اور وہ ایک کمرے میں آ گئے۔۔ انہوں نے دروازہ بند کر لیا۔۔ یہ انسپکٹر ہم سے آگے نکلنے کے چکر میں ہے لیکن ہم اسے نکلنے دیں گے نہیں۔۔ فرزانہ بولی۔۔

ایسی کیا بات ہے۔۔ ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ بے چارے بچ جائیں۔۔ نامعلوم قاتل ناکام ہو جائے۔۔ اور بس ہمیں اس سے کیا غرض کہ کون سے مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔۔ اچھا ٹھیک ہے۔۔ آؤ کام کریں۔۔ انہوں نے فلم نکال کر دھوئی۔۔ پوسٹر کی تحریر اب انہیں صاف نظر آنے لگی۔۔ لیکن پورے پوسٹر پر ایک انگلی کا نشان بھی نہیں تھا۔۔ اس کا مطلب ہے۔۔ ہمارا مجرم کچی گولیاں نہیں کھیلا ہوا۔۔ محمود بڑبڑایا۔۔ خیر کوئی بات نہیں۔۔ اب ذرا تحریر کی چھان بین کرو۔۔ انہوں نے سب کی تحریر اس پوسٹر کی تحریر سے ایک ایک لفظ کے حساب سے ملا کر دیکھی لیکن پوسٹر والی تحریر سے کوئی تحریر بالکل بھی ملتی جلتی نظر نہ آئی۔۔ اب تو وہ پریشان ہو گئے۔۔ کھیل آسان نہیں مجرم بہت ماہر لگتا ہے۔۔ دیکھا جائے گا۔۔ فرزانہ نے کندھے اچکائے۔۔

انہوں نے تمام تحریروں ، تصاویر اور پوسٹر کا ایک پیک بنایا اسے سیل کیا اور اپنے کمرے کی الماری میں رکھ دیا۔۔ اب ہمیں ذرا اس عمارت کا جائزہ لینا چاہیے۔۔ ہاں قاتل کے لیے تمام راستے بند کر دینے چاہییں تاکہ وہ اندر داخل ہو ہی نہ سکے۔۔ انہوں نے پوری عمارت کا جائزہ لیا عمارت میں کل پندرہ کمرے تھے۔۔ ہر کمرے کا دوسرے کمرے سے تعلق درمیانی دروازے سے تھا۔ پھر ہر دو کمروں کا باتھ روم ایک تھا گویا تمام کمرے ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے۔۔ اس صورت حال نے انہیں پریشان کر دیا۔۔

قاتل کے لیے تو بہت آسانی ہے۔۔ فرزانہ نے گھبرا کر کہا۔۔

ہم اس کا بندوبست کر لیتے ہیں۔ تم فکر نہ کرو پہلے جائزہ مکمل کر لو۔۔ محمود نے کہا۔۔ عمارت سے باہر نکلنے کا ایک راستہ پچھلی طرف سے بھی تھا اس راستے سے کوئی آسانی سے اندر آ بھی سکتا تھا۔۔ اور باہر جانا بھی بہت آسان تھا۔۔ کیونکہ پچھلی طرف گھنا جنگل تھا۔۔وہ اور بھی پریشان ہوئے اور اس کمرے میں آئے جہاں سب مہمان جمع تھے خادم حسین اس وقت وہاں نہیں تھا۔۔

یہ مسٹر خادم حسین کہاں گئے ؟

کافی دیر تک ہم سے سوالات کرتے رہے۔ اب انہوں نے سر میں درد محسوس کیا تو کچھ دیر آرام کرنے کے لیے اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔ اور ان کے کمرے کا نمبر ؟

بارہ وہ بولے۔۔ شکریہ آپ کی یہ عمارت بالکل غیر محفوظ ہے۔۔ کیا مطلب ؟ ایک تو اس میں پچھلی طرف جو دروازہ ہے وہ کسی مجرم کے بہت کام آ سکتا ہے۔۔ تو اس کو بند کروا لیتے ہیں۔۔ اندر کی طرف تالا لگوا دیتے ہیں۔۔ اس سے بھلا کیا ہو گا تالا کھولنا مشکل کام نہیں ہوتا خاص طور پر جرائم پیشہ افراد کے لیے۔۔ آپ نے دیکھا نہیں تھا ہم نے کار کا دروازہ کس تیزی سے کھول لیا تھا۔۔ محمود نے کہا۔۔ لل۔۔۔ لیکن آپ لوگ جرائم پیشہ تو نہیں ہیں۔۔ انہوں نے گھبرا کر کہا۔۔ جرائم پیشہ تو ہم سے بھی زیادہ ماہر ہوتے ہیں محمود بولا۔۔۔ تب پھر کیا کروں ؟ اس وقت تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔۔ ہاں ، ایک ترکیب ہے۔۔ آپ اس دروازے پر دو تالے لگوا دیں۔۔ ایک اندر کی طرف ایک باہر کی طرف۔۔ اور دونوں کی چابیاں ہمیں دے دیں۔۔ چلیے ٹھیک ہے۔ میں کرا دیتا ہوں۔ اب دوسری مصیبت جس کا کوئی حل نہیں۔۔ فاروق نے کہا۔۔۔ اور وہ کیا ؟

تمام کمرے چوکور حالت میں ہیں۔۔ یعنی مربع شکل میں اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اگر غسل خانوں کے دروازے بند نہ ہوں تو ایک کمرے سے چل کر اندر ہی اندر آخری کمرے تک پہنچا جا سکتا ہے۔۔ قاتل کے لیے یہ صورت حال بھی بہت سود مند ہے۔۔

آپ تو مجھے ڈرائے دے رہے ہیں۔۔ خان بدیع نے گھبرا کر کہا۔۔ اب فرض کریں۔۔ آپ لوگوں میں سے ہی کوئی شخص یہ جرم کرنا چاہتا ہے تو وہ ان کمروں میں آرام سے اپنا کام کرے گا اور واپس جا کر اپنے بستر پر سو جائے گا۔ صبح سب کے ساتھ اٹھے گا اور قتل کی خبر پر زور سے اچھلے گا۔۔ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔۔ خان بدیع اور بھی گھبرا گئے۔۔ باہر سے تو ہم کسی قاتل کو اندر آنے سے روک سکتے ہیں لیکن اندر موجود قاتل کا ہم کیا کریں۔ یہ آپ ہمیں بتائیں۔۔ محمود نے کہا۔۔

آخر آپ اس بات پر کیوں تل گئے ہیں کہ قاتل اندر کا ہی آدمی ہے۔۔ کیا اس پوسٹر کی تحریر کسی کی تحریر سے مل گئی ہے۔۔ افسوس یہ نہیں ہو سکا اگر ہو گیا ہوتا تو ہم کیوں پریشان ہوتے۔۔ پھر آپ بتائیں۔۔ میں کیا کروں۔۔ پہلی بات پچھلے دروازے میں اندر اور باہر تالا لگوا دیں۔۔ صدر دروازے پر بھی ایسا ہی کریں۔۔ چلیے یہ ہو جائے گا۔۔ اور کچھ۔۔ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ تالوں کی چابیاں ہمیں دے دیں اور ایک بار اور ہر مہمان اپنے کمرے میں اپنی طرف سے دروازے بند کر کے رکھے۔۔

اس طرح باتھ روم کس طرح استعمال ہو سکیں گے۔۔ انہوں نے گھبرا کر کہا۔ کوئی باتھ روم استعمال کرنا پڑے تو اس کے لیے پہلے ہمیں خبر کی جائے ہم دوسری طرف جائیں گے تب باتھ روم استعمال کیا جا سکے گا۔۔

ہوں ! آپ لوگ واقعی عقلمند ہیں۔ ان ترکیبوں پر عمل کر کے واقعی قاتل سے بچا جا سکتا ہے۔۔

اور آپ کے سراغ رساں کہاں ہیں انہوں نے اب تک کیا کیا ہے۔۔

وہ قاتل کا کھوج لگانے کی فکر میں ہیں انہوں نے ہم سے سوالات کیے ہیں ادھر ادھر کا جائزہ لیا ہے آپ کی طرح انہوں نے بتایا۔۔ تو کیا انہوں نے بھی کمروں اور دروازوں کے بارے میں یہی باتیں بتائی ہیں ؟

ابھی تک تو انہوں نے ہمیں کچھ نہیں بتایا۔۔ اچھا خیر ایک سوال ہم بھی آپ سے کرنا چاہتے ہیں۔۔ کہیے وہ بولے آپ ساتوں میں سے کون سا شخص ایسا ہو سکتا ہے جسے باقی چھے کو ہلاک کرنے سے کوئی خاص قسم کا فائدہ پہنچتا ہو۔۔ کوئی نہیں ہم اس پہلو پر بھی سوچ چکے ہیں۔۔ وہ بولے۔۔ لیکن ایک بات آپ بھی سن لیں۔۔ بغیر وجہ کے کبھی کوئی کسی کو قتل نہیں کرتا قتل کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے اور جب کوئی وجہ نہیں ہوتی تو پھر قاتل جنونی ہوتا ہے لیکن اس تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ وہ کسی جنونی آدمی کی نہیں ہے ویسے بھی آپ میں اور آپ کے دوستوں میں جنون کی کوئی علامت نظر نہیں آئی۔۔ نہیں۔۔ یہ ٹھیک ہے ہم میں سے کوئی بھی جنونی نہیں ہے وہ بولے۔۔ تب پھر قتل کی وجہ۔۔ ضرور ہو گی۔۔ اور میں کہتا ہوں کہ یہ ضرور کسی کا مذاق ہے یہاں کوئی قتل نہیں ہونے والا۔۔

یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔۔ ہمیں اپنی طرف سے بچاؤ کی کوشش تو کرنا ہی ہو گی نا۔

ہاں کیوں نہیں۔۔ یہ تو ہمارا فرض ہے آپ کو ایک خاص بات بتائیں جناب محمود مسکرایا۔۔

ضرور بتائیے وہ فوراً بولے۔۔

پوسٹر جو لگا ہوا آپ کو نظر آیا تھا نا اس پر کسی کی بھی انگلی کا کوئی نشان نہیں ملا۔۔

کیا مطلب وہ چونکے۔۔؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ قاتل بہت چالاک ہے ہر بات کو بخوبی جانتا ہے۔۔ وہ اپنے جرم کا کائی نشان تک نہیں چھوڑنا چاہتا۔ اور وہ واردات ہر حال میں کرے گا۔۔

نن۔۔۔ نہیں۔۔

خان بدیع نے خوف زدہ آواز میں کہا۔۔ ان کی آنکھیں پوری طرح پھیل گئیں۔۔۔

 

Last modified on پنج شنبه, 08 خرداد 1393 11:58
Login to post comments