×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

عمارت کا مجرم

مهر 11, 1392 1361

آپ لوگ مجھے اس طرح کیوں گھور رہے ہیں۔۔ آپ کو اپنے زخم کے بارے میں وضاحت کرنا ہو گی۔۔ انسپکٹر جمشید بولے۔۔ لیکن زخم کا چکر

کہاں سے ٹپک پڑا۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔ آپ لوگ مجھے اس طرح کیوں گھور رہے ہیں۔۔ آپ کو اپنے زخم کے بارے میں وضاحت کرنا ہو گی۔۔ انسپکٹر جمشید بولے۔۔ لیکن زخم کا چکر کہاں سے ٹپک پڑا۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔ محمود وضاحت کر دو۔۔ اوپر منڈیر پر شیشے کے ٹکڑے لگائے گئے ہیں زینے کا دروازہ اندر سے بند تھا۔۔ مجرم کو پوسٹر لگانے کے لیے اندر آنا تھا وہ درخت کے ذریعے چھت پر پہنچا اور درخت کی شاخ سے رسی باندھ کر صحن میں اترا ایسا کرتے وقت اس کے جسم کے کسی حصہ میں شیشے کا ایک ٹکڑا چبھ گیا۔ اوپر منڈیر پر خون صاف دیکھا جا سکتا ہے۔۔ اوہ۔۔۔ اوہ خان صاحب بولے پھر انہوں نے بھی نظریں طاؤس جان پر جما دیں۔۔ میری ران پر یہ زخم چند روز پہلے آیا تھا۔۔ میں نے اس پر اپنے فیملی ڈاکٹر سے پٹی کرائی تھی آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں۔۔ پوچھنے کی ضرورت بعد میں پیش آئے گی پہلے تو آپ یہ بتائیں۔۔ زخم کس طرح آیا تھا؟

سڑک پر دو آدمی لڑ پڑے تھے ان کے ہاتھوں میں خنجر تھے انہیں چھڑانے کے لیے کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھا میں نے سوچا اگر انہیں نہ روکا گیا تو کہیں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارا نہ جائے لہذا میں ان کے درمیان کود پڑا اور اس طرح ان میں سے ایک کا خنجر میری ران میں لگ گیا۔۔ جونہی خنجر میری ران میں لگا ان دونوں کو جیسے ہوش آ گیا وہ اپنی لڑائی بھول گئے اور مجھے سنبھالنے میں لگ گئے اب اگر میں ہسپتال جاتا تو پولیس کے چکر میں الجھنا پڑتا لہذا میں نے اپنے ڈاکٹر سے اس پر پٹی کرائی۔۔

اور وہ دونوں مجھے سنبھلتے دیکھ کر وہ دونوں رفو چکر ہو گئے۔۔کیونکہ کسی بھی وقت وہاں پولیس پہنچنے والی تھی۔۔ جس جگہ وہ لڑ رہے تھے ہاں ایک پبلک فون بوتھ بھی تھا۔۔ اس سے کسی نے پولیس کو فون کر دیا تھا۔۔ ہوں ٹھیک ہے آپ کے پاس اس واقعے کا کوئی گواہ ہے۔۔ اس وقت میں اپنی کار مین وہاں سے گذر رہا تھا کار خود چلا رہا تھا۔۔ لڑائی دیکھنے والوں نے مجھے چھڑاتے بھی ضرور دیکھا ہو گا۔۔ تب تو کام آسان ہو گیا۔۔ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔۔ جی وہ کیسے۔۔اس نے چونک کر کہا۔۔ یہ لڑائی کہاں ہوئی تھی۔۔ ڈوگر چوک میں۔۔ اس نے بتایا۔۔ آئیے میرے ساتھ انسپکٹر جمشید نے اٹھتے ہوئے کہا پھر وہ ان تینوں سے بولے۔۔ تم یہیں ٹھہرو گے کہیں مجرم ہماری عدم موجودگی میں وار نہ کر جائے خان رحمان اور پروفیسر داؤد تم بھی یہیں ٹھہرو۔۔ اوکے سر وہ مسکرائے۔۔ وہ طاؤس جان کے ساتھ اسی وقت ڈوگر چوک پہنچے۔۔ ایک دکان دار سے انہوں نے پوچھا۔۔ چند روز پہلے یہاں دو آدمی لڑ پڑے تھے وہ خنجروں سے لڑ رہے تھے آپ کو کچھ یاد ہے۔۔

ہاں جناب یہ بھی کوئی بھولنے کی بات ہے۔۔ شکریہ پھر کیا ہوا تھا۔۔ کوئی ان کے درمیان بیچ بچاؤ کرانے کی ہمت نہیں کر رہا تھا پھر ایک کار والا رکا اور اس نے ان دونوں کے درمیان پڑ کر انہیں چھڑایا لیکن وہ خود زخمی ہو گیا تھا۔۔ اور ذرا انہیں دیکھیے جن صاحب نے چھڑوایا تھا۔ وہ یہی تو نہیں تھے۔۔ اس نے چونک کر ان کی طرف دیکھا اور پھر چلا اٹھا بالکل جناب وہ یہی تھے۔۔ شکریہ آئیے جناب چلیں۔۔ دکان دار حیرت بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھتا رہ گیا شاید اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی تھی کہ انہوں نے یہ بات اسے کیوں پوچھی۔۔ جب کہ بیچ بچاؤ کرانے والا خود ان کے ساتھ تھا۔۔ کار میں بیٹھتے ہوئے انسپکٹر جمشید بولے۔۔ اس میں شک نہیں کہ آپ کی بات کی تصدیق ہو گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اس عمارت کے مجرم نہیں ہو سکتے۔۔ کیونکہ ایک زخمی آدمی تو دوبارہ بھی زخمی ہو سکتا ہے۔۔ پھر یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی۔۔ طاؤس جان نے جل کر کہا۔۔ اگر آپ کے بیان کی تصدیق نہ ہو سکتے تو آپ کو اسی وقت گرفتار کر لیا جاتا۔۔ آپ تو مجھے مجرم بنانے پر تل گئے ہیں شاید۔۔ ایسی بات نہیں میں عمارت میں موجود ہر شخص کو مجرم بنانے پر تلا ہوا ہوں۔۔ وہ مسکرائے۔۔ عمارت میں پہنچ کر انہوں نے اعلان کرنے والے انداز میں کہا ان کی بات کی تصدیق ہو گئی ہے۔ یہ اس چوک میں زخمی ہوئے تھے۔۔ چلیے ایک پر سے تو آپ کا شک ختم ہوا۔۔ شک ابھی رفع نہیں ہوا بہر حال بہت حد تک کم ہو گیا ہے ان کے علاوہ کسی اور کے جسم پر زخم ہے نہیں اب یا تو مجرم طاؤس جان ہیں یا پھر کوئی باہر کا آدمی لیکن باہر کے آدمی والی بات بھی حلق سے نہیں اترتی۔۔ حلق سے کیوں نہیں اترتی بھلا کیا آپ کے خیال میں باہر کا کوئی آدمی مجرم نہیں ہو سکتا۔۔ ہو تو سکتا ہے لیکن پھر آپ کو ضرور معلوم ہوتا کہ وہ کون ہے اور کیوں ایسا کرنا چاہتا ہے جب کہ آپ لوگوں کو کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔۔ لیکن عمارت میں موجود اگر کوئی مہمان مجرم ہے یا میزبان مجرم ہے تو بھی باقی لوگوں کو کیا پتا کہ وہ کیوں ایسا کرنا چاہتا ہے۔۔ اس لیے کہ آپ سب لوگ یہ بات بار بار سوچ چکے ہیں کہ ہم سے کوئی بھلا کیوں باقی سب کو ہلاک کرے گا لیکن آپ یہ بات اب تک نہیں سمجھ پائے کہ میں غلط تو نہیں کہ رہا۔۔ نہیں آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔ اب لے دے کے ایک ہی طریقہ رہ جاتا ہے۔۔اور وہ کیا۔۔ چاروں ملازمین کو بھی چیک کر لیا جائے کیا مطلب ملازمین کو بھلا کسی ملازم کو کیا پڑی ہے ایسا خطرناک کام کرنے کی یہ تو ہم بعد میں سوچیں گے اگر کوئی ان میں سے زخمی ہوا تو۔۔ جیسے آپ کی مرضی کیوں بھئی تم میں سے تو کوئی زخمی نہیں ہے۔۔ نن۔۔۔ نہیں مالی نے گھبرا کر کہا۔۔ اور تم میں سے ؟ نہیں میں تو زخمی نہیں ہوں۔۔ وہ ایک ساتھ بولے۔۔ ڈاکٹر صاحب آپ کو ایک بار پھر زحمت کرنی پڑے گی۔۔ اچھی بات ہے ڈاکٹر صاحب ان کو ساتھ لے کر چلے گئے جلد ہی ان کی واپسی ہوئی یہ بالکل ٹھیک ہیں جسم پر کوئی خراش تک نہیں ہے شکریہ تب پھر اب میں رہ گیا ہوں اور یہ تینوں بھی اور میرے دونوں دوست بھی بہتر ہو گا کہ آپ ہمیں بھی چیک کر لیں۔۔ یہ۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بھلا آپ لوگ ایسا کام کیوں کرنے لگے۔۔ خان بدیع نے کہا۔۔ میرا خیال ہے اس میں کوئی حرج نہیں ڈاکٹر صاحب آپ باری باری ہمیں بھی چیک کر لیں۔۔ میرے خیال میں اس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ڈاکٹر صاحب بولے۔۔ اس کی ضرورت ہے آپ باری باری ہمیں بھی دیکھ ہی لیں تاکہ بات صاف ہو جائے۔۔ جیسے آپ کا حکم۔۔ ڈاکٹر صاحب نے کندھے اچکائے۔۔ انہوں نے باری باری ان سب کو بھی دیکھا اور بولے نہیں آپ میں سے کوئی زخمی نہیں ہے۔۔ چلیے اتنا تو ہوا میرے خیال ہے اب سب کو چیک کیا جا چکا ہے۔۔ نہیں جناب۔ میں ابھی رہتا ہوں آپ مجھے بھول گئے۔۔ انسپکٹر خادم حسین نے ہنس کر کہا۔۔ لیکن آپ کو تو یہاں بعد میں اس مجرم کو پکڑے کے لیے بلایا گیا تھا۔ آپ کا بھلا اس معاملے سے کیا تعلق۔۔ تعلق تو آپ کا بھی نہیں تھا۔۔ پھر آپ نے خود کو کیوں چیک کرایا۔۔ اچھی بات ہے ڈاکٹر صاحب آخری بار اور زحمت کریں انہوں نے کہا ضرور کیوں نہیں۔۔ اور پھر وہ انسپکٹر خادم حسین کے ساتھ اس کمرے میں چلے گئے دو منٹ بعد ان کی واپسی ہوئی انہوں نے کہا۔ نہیں ان کے جسم پر بھی کوئی زخم نہیں ہے تب پھر۔۔ انسپکٹر جمشید نے ڈرامائی انداز میں کہا۔۔ تب پھر کیا ؟ کئی آوازیں ابھریں۔۔ تب پھر اب صرف اور صرف ایک شخص ایسا رہتا ہے جسے چیک نہیں کیا جا سکا۔۔ جی کیا کہا آپ نے بھلا وہ کون ہے ؟ خان بدیع نے کہا وہ ہیں ڈاکٹر صاحب خود۔۔ یہ۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میرا بھلا اس معاملے سے کیا تعلق مجھے تو ابھی ابھی بلایا گیا ہے ڈاکٹر صاحب نے گھبرا کر کہا۔۔ حد ہو گئی بھئی راج دیو نے کہا۔ ڈاکٹر صاحب آپ کو خود کو بھی چیک کرانا ہو گا اور آپ کو چیک کروں گا میں۔۔ کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں۔ انسپکٹر جمشید نے کہا بھلا اس میں اعتراض کی کیا بات ہے کئی آوازیں ابھریں۔۔ میں اپنی یہ ذلت ہمیشہ یاد رکھوں گا انسپکٹر جمشید ڈاکٹر صاحب نے بھنا کر کہا۔۔

ضرور یاد رکھیے گا آئیے میرے ساتھ انہوں نے مسکرا کر کہا اور ڈاکٹر صاحب کو بازو سے پکڑ کر اس کمرے میں لے گئے اب باہر موجود سب لوگ بہت بے قراری کے عالم میں ان کا انتظار کر رہے تھے انہیں تین منٹ انتظار کرنا پڑا آخر دونوں باہر آ گئے انسپکٹر جمشید کافی فکر مند لگ رہے تھے۔۔ کیا رہا اپ نے تو بہت دیر لگا دی۔۔ ہاں ذرا دیر لگ گئی میں اپنا اطمینان پوری طرح کرنا چاہتا تھا۔۔ پھر ہو گیا آپ کا اطمینان خان بدیع نے برا سا منہ بنایا۔۔ جی ہاں ہو گیا۔۔ گویا ڈاکٹر صاحب کے جسم پر بھی کوئی زخم نہیں ہے خان بدیع بولے۔۔ جی ہاں نہیں ہے زخم وہ بولے بس تو پھر ثابت ہو گیا کہ گھر میں موجود کوئی فرد مجرم نہیں ہو سکتا باہر کا کوئی آدمی ہی مجرم ہے اب آپ اپنی تفتیش اس عمارت سے باہر لے جائیں۔۔اس میں شک نہیں کہ کسی کے جسم پر زخم ثابت نہیں ہو سکا سوائے طاؤس خان کے اور یہ اپنی بے گناہی ثابت کر چکے ہیں پھر بھی۔۔ وہ کہتے کہتے رک گئے۔۔

پھر بھی کیا ؟ پھر بھی۔۔ یا تو طاؤس جان مجرم ہیں یا کوئی اور لیکن ہیں عمارت میں ہی موجود مجرم باہر کا کوئی آدمی ہرگز نہیں ہے یہ۔۔ یہ آپ کیا کہ رہے ہیں ؟ خان بدیع نے حیرت زدہ انداز میں کہا۔۔ عین اس وقت وہاں ایک دھماکا ہوا۔۔

 

Last modified on پنج شنبه, 08 خرداد 1393 11:54
Login to post comments