Print this page

کیسی آگ

مهر 11, 1392 1330
Rate this item
(0 votes)

کمرہ دھوئیں سے بھر گیا اس قدر گہرے دھوئیں سے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہیں دے رہا تھا۔۔ اور پھر وہ بے ہوش ہوتے چلے گئےہوش آیا تو سب کے

سب بندھے ہوتے تھے البتہ مجرم ان کے سامنے کھڑ ا مسکرا رہا تھا اور وہ اسے دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔۔ انسپکٹر خادم حسین۔۔ یہ کیا پاگل پن ہے کیا دھوئیں کا بم آپ نے مارا ہے۔۔ یہ کام اور کوئی کر بھی کس طرح سکتا ہے۔۔ انسپکٹر جمشید اسے گھور کر رہ گئے وہ بھی بندھے ہوئے تھے۔۔ خادم حسین پھر بولا انسپکٹر جمشید اور یہ تینوں چالاک ترین بچے اگر یہاں نہ آ جاتے تو میں اپنا کام بخوبی کر گیا تھا لیکن ان لوگوں نے آ خر کار میرا کام خراب کر دیا۔۔

لیکن کیسے ان لوگوں نے تو تم پر کوئی الزام نہیں لگایا تھا پھر تم نے دھوئیں کا بم کیوں استعمال کیا۔۔ اس لیے کہ انسپکٹر جمشید بھانپ گئے تھے اور پھر میرے پاس وقت بالکل نہ بچتا کچھ کر گزرنے کے لیے خادم حسین نے کہا کیا کہا انسپکٹر جمشید سمجھ گئے تھے کیا سمجھ گئے تھے ؟ جب یہ ڈاکٹر کو لے کر اندر گئے تو واپسی پر بہت فکر مند تھے خاص طور پر انہوں نے مجھ پر نظر رکھی میں سمجھ گیا کہ ڈاکٹر نے میرا راز راز نہیں رکھا۔۔ راز راز نہیں رکھا انسپکٹر خادم حسین یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔۔ میں بتاتا ہوں ان حضرت کی ران زخمی ہے ہم نے اور تو سب کو چیک کرا لیا تھا لیکن انہیں چیک نہیں کرایا جا سکا تھا آخر اپنے ہی کہنے پریہ بھی ڈاکٹر کے ساتھ اندر چلے گئے واپسی پر میں نے ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں میں خوف دیکھا۔۔ یہ بات محسوس کر کے میں نے ڈاکٹر صاحب کو چیک کرنے کا اعلان کیا انہیں اندر لے جا کر میں نے دبی آواز میں ان کے خوف زدہ ہونے کی بات پوچھی۔ پہلے تو یہ کچھ بتانے ہی کے لیے تیار نہ ہوئے لیکن پھر یہ بات بتا دی کہ انسپکٹر خادم حسین زخمی ہے اور اس نے انہیں دھمکی دی ہے کہ اگر یہ بات باہر نکل کر بتائی تو یہ اسے گولی مار دے گا لہذا باہر نکل کر انہوں نے کچھ نہ بتایا صرف یہ کہا کہ ان کے جسم پر بھی زخم نہیں ہے لیکن میں نے ان کا جھوٹ صاف محسوس کر لیا تھا اسی لیے میں پھر انہیں لے کر اندر گیا۔۔ اور تمام بات معلوم کر لی۔۔ ادھر انسپکٹر خادم نے بھی بھانپ لیا کہ میں اس کے بارے میں جان چکا ہوں۔۔ اف مالک تو یہ ہیں وہ صاحب جو ہم میں سے چھے کو ہلاک کرنا چاہتے تھے لیکن آخر کیوں ہم نے ان کا کیا بگاڑا ہے یہ تو یہی بتائیں گے۔۔ ہم تو سب بندھے ہوئے ہیں فاروق نے بے چارگی کے عالم میں کہا۔۔ فاروق ٹھیک کہہ رہا ہے مجرم خود بتائے گا کہ وہ ایسا کیوں چاہتا تھا۔۔ ضرور بتاؤں گا تم سب کو موت کے گھاٹ اتارنے سے پہلے اس الجھن سے سب کو نجات دلوا دوں گا تاکہ تم لوگ سکون سے مر سکو۔۔ انسپکٹر جمشید اور ان کے ساتھی تو بلاوجہ درمیان میں آ کودے اور اس کی سزا نہیں یہ مل رہی ہے کہ باقی لوگوں کے ساتھ انہیں بھی مرنا پڑے گا۔۔

کوئی بات نہیں یہ ہمارا روز کا کام ہے۔۔ کون سا روز کا کام ہے۔۔ یہی مرنا اور کیا فاروق مسکرایا۔۔

یار چپ رہو۔۔ دماغ نہ چاٹو ہمارا روز کا کام اگر مرنا ہے تو ہم زندہ کس طرح ہیں محمود نے بھنا کر کہا۔۔ اللہ کی مہربانی سے

اچھا خاموش رہو خادم حسین کو بات پوری کرنے دو انسپکٹر جمشید نے ڈانٹا۔۔ اور وہ سہم گئے۔۔ ہاں مسٹر مجرم کچھ بتانا پسند کریں گے۔۔ یا نہیں انسپکٹر جمشید نے کہا۔۔ ضرور بتاؤں گا تم سننے کا حوصلہ رکھے ہو خان بدیع اپنے باپ کی ساری دولت پر قبضہ کر کے بیٹھا ہے اپنے بھائی کے بچوں کو بالکل محروم کر دیا تھا۔۔ انہوں نے ان کے بھائی کے بچے بہت چھوٹے تھے۔کہ ان کا چھوٹا بھائی ایک حادثے میں مارا گیا۔۔ انہوں نے ان کے بچوں کے سروں پر ہاتھ نہ رکھا۔۔حالانکہ وہ نصف دولت کے مالک تھے بچوں کی ماں کو دھمکی دی کہ وہ انہیں لے کر کہیں دور چلی جائے ورنہ مروا دیے جائیں گے وہ مصیبت کی ماری اپنے بچوں کو لے کر بہت دور چلی گئی اور وہیں اپنے بچوں کو پال پوس کر بڑا کیا دوسرے گھروں میں کام کر کر کے اس نے انہیں پالا میں بڑا ہوا تو یہ ساری کہانی اپنے سینے میں لے کر انتقام کی آگ لے کر اس سالانہ پروگرام کا مجھے علم تھا لہذا میں نے اس پروگرام کے دوران انہیں ختم کرنے کا ارادہ کیا پھر سوچا قتل اس طرح کروں کہ کوئی میرے بارے میں سوچ بھی نہ سکے لہذا پوسٹر لگایا تاکہ سب یہ خیال کریں کہ یہ تو ان کے آپس کا کوئی معاملہ ہے میں صرف خان بدیع کو مارتا اور اس کے بعد الگ ہو جاتا یہ لوگ خوف زدہ تو ہو ہی گئے تھے۔۔ خیال کرتے کہ باقی لوگوں کو بھی قاتل نہیں چھوڑے گا۔۔ لہذا یہاں سے فوراً نکل جاتے پولیس انہی میں سے قاتل کو تلاش کرتی رہتی اور تھک ہار کر کیس فائل ہو جاتا اور میرا انتقام پورا ہو جاتا۔۔ لیکن انسپکٹر جمشید اور ان کے بچوں کی آمد نے میرا کھیل خراب کر دیا۔۔ وہ کہتا چلا گیا۔۔ خراب نہیں کر دیا اچھا کر دیا تم قتل جیسے بڑے جرم سے بچ گئے۔۔ اب تو بہت معمولی سزا ہو گی۔۔ اپنا حق حاصل کرنے کا تم نے کوئی اچھا طریقہ اختیار نہیں کیا خان بدیع کو مار کر کیا تم اپنے حصے کی دولت حاصل کر لیتے۔۔ نہیں میں معلومات حاصل کر چکا ہوں خان صاحب نے اپنے وکیلوں کے ذریعے اپنا کام بہت پکا کر رکھا ہے۔۔ ہم عدالت کے ذریعے اپنا حق نہیں لے سکتے تھے۔۔ اور انتقام کی آگ چین نہیں لینے دے رہی تھی۔۔ ان حالات میں میں آ خر کیا کرتا ؟

آپ کو آپ کی والدہ نے بھی نہیں روکا؟

وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ ورنہ ضرور روکتیں۔

لیکن اب کیا فائدہ میری ماں تو ایڑیاں رگڑ کر مر گئی۔

انسپکٹر صاحب۔ صبر سے کام لیں اس وقت اس سے بہتر صورت حال کوئی نہیں ہو سکتی انسپکٹر جمشید نے خشک لہجے میں کہا۔۔ افسوس انتقام کی آگ اس طرح نہیں بھجے گی اور میں تمام زندگی اس آگ میں جلتا رہوں گا۔۔

ان الفاظ کے ساتھ ہی اس نے جیب سے خنجر نکال لیا۔۔

نن۔۔ نہیں۔ نہیں انسپکٹر جمشید یہ آپ کی موجودگی میں کیا ہو رہا ہے۔

آپ دیکھ رہے ہیں ہم بندھے ہوئے ہیں۔

ہاں یہ تو خیر ہے۔

آپ خود سوچیں ہم کیا کریں۔

کچھ نہ کچھ تو آپ کو کرنا ہی ہو گا ورنہ میں تو مارا جاؤں گا بے موت

بے موت تو خیر کوئی بھی نہیں مرتا۔ انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر کہا۔

آپ مسکرا رہے ہیں اور وہ خنجر لیے میری طرف بڑھ رہا ہے۔۔ اور میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔۔ ٹھہریں میں ایک بار پھر اس سے بات کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ اس کی طرف مڑتے ہوئے بولے۔یار انسپکٹر خادم حسین میری بات مان جاؤ سکھی رہو گے۔

بھاڑ میں گیا سکھ۔ اس نے جھلا کر کہا۔ اگر تم باز نہ آئے تو مجھے حرکت میں آنا پڑے گا۔ انسپکٹر جمشید نے جھلا کر کہا۔ آپ کس طرح حرکت میں آ سکتے ہیں آپ کے ہاتھ پیر تو بندھے ہوئے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ خان بدیع کی طرف بڑھا۔ آخری وارننگ۔ پھر میں کوئی لحاظ نہیں کروں گا انسپکٹر جمشید گرجے۔

آپ کیا کر لیں گے آپ کر کیا سکتے ہیں اس نے ہنس کر کہا

محمود ذرا اسے دکھا دو ہم کیا کر سکتے ہیں محمود فوراً اٹھ کھڑا ہو گیا۔

یہ۔ یہ۔ یہ کیا۔ اس نے ہاتھ پیر کس طرح کھول لیے۔

جس طرح میں نے کھول لیے۔ یہ کہہ کر فاروق بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

ارے خان بدیع کے منہ سے نکلا

بلکہ جس طرح میں نے کھول لیے۔ فرزانہ نے بھی اٹھتے ہوئے کہا۔

اف میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں آپ لوگ جادوگر تو نہیں ہیں۔ ڈابر شاہ نے حیرت زدہ انداز میں کہا۔

جی نہیں جادو حرام ہے۔ انسپکٹر جمشید بولے پھر آخر کس طرح ممکن ہے۔

ہم ایسے کاموں کے عادی ہیں۔ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان چاروں کے ہاتھوں اور پیروں پر بندھی رسیاں اب فرش پر پڑی نظر آئیں۔

اب آپ کا کیا پروگرام ہے۔ محمود نے انسپکٹر کی طرف دیکھا۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا دم بخود کھڑا تھا۔ کچھ نہ کہ سکا۔ اگر آپ خان صاحب پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کی صرف اور صرف ایک ترکیب ہے۔ فاروق نے شوخ لہجے میں کہا۔

اور۔ اور وہ کیا ہے۔

یہ کہ پہلے آپ ہم لوگوں کو ختم کر دیں۔ نن۔ نہیں۔ آپ لوگوں کا جرم کیا ہے۔

بس تو پھر خنجر پھینک دیں۔ ہم آپ کو آپ کا حق دلوائیں گے۔

وہ سوچ میں ڈوبا رہا۔ پھر خنجر اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گرا۔ محمود نے فوراً خنجر اٹھا لیا۔ انہیں گرفتار کرنے کی ضرورت نہیں۔ خان بدیع شرمندہ انداز میں بولے۔

سب نے ان کی طرف دیکھا۔

مجرم میں ہوں ہتھکڑیاں مجھے لگائیں میں نے واقعی اس کا حق غصب کیا تھا۔ آج اس مقام پر آ کر میری آنکھیں کھلی ہیں۔ مجھ سے بہت عظیم ظلم سرزد ہوا ہے۔ ہمیں بھی ان حالات میں زندگی گزارنا چاہیے۔ جن حالات میں بیس سال ان لوگوں نے گزارے ہیں۔اگر میں انہیں نصف دولت دے دیتا ہوں تو یہ انصاف نہیں ہو گا۔ ہرگز نہیں ہو گا۔ اور اس کے سوا میں کوئی دوسری بات سنوں گا بھی نہیں خان بدیع نے جذباتی آواز میں کہا۔ میرا ذہن بھی یہی کہتا ہے۔ یہی ہونا چاہیے۔ جمشید بولے۔

بلکہ آپ پر کیس بھی چلنا چاہیے۔ نہیں۔ کم از کم میں کیس چلانا پسند نہیں کروں گا۔ اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہو گا۔ تمام ثبوت تو ان کے حق میں ہوں گے۔

اب وہ ثبوت میرے حق میں نہیں جائینگے۔ جب میں خود عدالت میں بیان دونگا کہ تمام ثبوت جعلی ہیں۔ خان بدیع نے کہا کچھ بھی ہو میں یہ معاملہ عدالت میں نہیں لے جاؤں گا اگر انہوں نے جرم کیا ہے تو میں نے بھی تو قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کی ہے لہذا یہ حساب تو ہو گیا برابر۔ خادم حسین نے کہا

اور دوسرا حساب میں برابر کر رہا ہوں میں اپنے بیوی بچوں کو لے کر ابھی اور اسی وقت یہاں سے کہیں دور جا رہا ہوں۔ ہم جاتے وقت بھی ساتھ کچھ نہیں لے جائیں گے اور میں یہ تحریر لکھ جاؤں گا کہ اب یہ دولت خادم کے گھرانے کی ہے۔

میں اب بھی تیار ہوں آپ مجھے میری نصف جائیداد دے دیں۔

نہیں۔ یہ نہیں ہو گا۔ نہیں ہو گا۔

خان بدیع نے پر زور انداز میں کہا پھر تیزی سے مڑے اور عمارت سے باہر نکل گئے۔ وہ انہیں جاتا ہوا دیکھتے رہے۔

اف مالک یہ کیا سے کیا ہو گا۔ بیٹھے بٹھائے کایا پلٹ گئی۔

اس کیس میں ایک بات سمجھ میں نہیں آئی۔ مسٹر خادم آپ کو کیسے معلوم تھا کہ پولیس کمشنر آپ کو ہی بھیجیں گے۔ میں ساری کہانی انہیں پہلے ہی سنا چکا تھا۔ وہ میری امی کے دور کے رشتہ دار ہیں۔ اس کا مطلب ہے وہ بھی تمہارے جرم میں شریک تھے۔ ہاں وہ بھی انتقام میں میری مد د کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس لیے انہوں نے جان لیا تھا کہ اگر میں نے انتقام نہ لیا تو میں خود زندہ نہیں رہوں گا۔ خیر انہیں بھی معافی مل جائیگی۔ ویسے انہیں آپ کو اس قسم کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔ذرا سوچیں آپ کی ساری زندگی جیل میں گزرتی۔

لیکن جیل کے باہر میں انتقام لیے بغیر بھی تو خود کو جیل میں ہی محسوس کرتا رہا ہوں۔ اور تن بدن میں ہر وقت آ گ لگی رہتی تھی۔

اچھا بابا اب چلیں۔ انہوں نے کہا۔

یہ کہانی اس رخ سے مکمل ہو گی۔ یہ تو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ محمود نے حیرت سے کہا۔ تو اب سوچ لو منع کس نے کیا ہے۔

فاروق نے شوخ انداز میں کہا۔ محمود اسے گھورنے لگا۔ باقی لوگ مسکرانے لگے۔

 

Last modified on پنج شنبه, 08 خرداد 1393 11:52
Login to post comments