×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اسرائیل(Israel)

آبان 10, 1393 481

۲۹ نومبر ۱۹۴۷ کو یو این او نے قدیم فلسطین کو دو حصوں میں بانٹ دیا اور ایک حصہ عربوں کو اور دوسرا حصہ یہودیوں کو دے دیا تھا۔ ۱۵

مئی ۱۹۴۸ کو یہودیوں نے اسی حصہ کا نام اسرائیل رکھا۔ ۱۹۴۹ کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد یہودیوں نے عرب حصہ کے آدھی زمین پر قبضہ کر لیا۔ ۱۹۵۶ میں سوئز تنازہ اور ۱۹۶۷ میں ۶ دنوں کی مصر اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل کی سرحدیں غازہ پٹی، جارڈن ندی کے مغربی کنارے اور سنائی تک بڑھ چکی تھیں یہ اکیلا ملک ہے جسے یو این او نے بنایا اور وہ اسی کی تجاویز کی سب سے زیادہ ان دیکھی کرتا ہے اور دنیا خاموش تماشائی کی طرح اسرائیل کو دیکھتی ہے۔ 
اسرائیل نے اپنی چھوٹی سی زمین پر بڑی اقتصادی ترقی کی ہے ۔ ملک میں اجتماعی کھیتی اور اعلیٰ سنچائی انتظامات کی وجہ سے ریگستان میں کافی پیداوار ہوتی ہے۔ اسرائیل پھلوں کو برآمد کرتا ہے اسکے علاوہ دنیا میں بیلجیم کے بعد ہیرے تراشنے کا کام اسرائیل میںسب سے زیادہ ہوتا ہے۔ بڑے ہتھیاروں کے علاوہ جارڈن کی وادی اور بحرِ مردار سے نمک، گندھک اور پوٹاش ملتا ہے۔

ملک کا نام : اسٹیٹ آ ف اسرائیل
دارالسلطنت : یروشلم
رقبہ : 20,772 مربع کلو میٹر
آبادی : 6,276,833
زبانیں : عبرانی اور عربی
خواندگی : 95.4 فیصد(یہودی) ۹۶ فیصد (عرب)
مذہب : جوڈا اور اسلام
سکہ : نیا شیکیل (۱ امریکی ڈالر =۵۵ء۴ شیکیل)
فی کس آمدنی : 23,510 ڈالر
آزادی : 14مئی1948ء

Login to post comments